گاندھی کا قاتل جیت گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت میں جاری جنونیت کہاں جا کر ٹھہرے گی اور بھارت اور اس خطے میں کیا قہر سامانی قائم کرے گی اس کے متعلق سمجھنے کے لیے اس تصور کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ جس کے زیر اثر معاملہ یہاں تک آپہنچا ہے کہ بھارت میں متواتر یہ دوسرا مرحلہ ہے کہ وہاں بسنے والی دوسری بڑی قوم مسلمانوں کا کوئی ایک نمائندہ بھی حکمران جماعت کی پارلیمانی پارٹی میں شامل نہیں ہوگا۔ یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ جب ہم انتہا پسند سوچ کا تجزیہ کرنے لگتے ہیں تو اس سے ہماری مراد بھارت میں بسنے والی اقوام اور ان کی سیاسی حرکیات سے ہو کر نہ کہ پاکستان میں بسنے والے محب وطن ہندوؤں سے ہو گی۔

یہ فرق مستقل سامنے رہنا چاہیے بہرحال اس وضاحت کے بعد یہ واضح رہنا چاہیے کہ موجودہ صورتحال کی جڑیں تاریخی ہیں برطانوی ہندوستان میں آزادی کی تحریک اس وجہ سے بار بار لڑکھڑا جاتی تھی کہ یہاں بسنے والی دونوں اقوام کسی ایک آئینی طریقہ کار پار متفق نہیں ہو پاتے اور اس متفق نہ ہونے کی وجہ مسلم لیگ کے اکابرین نہ تھے بلکہ کانگرس کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ ہندو مہا سبھا اور اس کے رہنما سیوا کار کی مرضی کے برخلاف کوئی دستوری طریقہ کار طے کر لیں۔

ان دنوں میں سیوا کار نے خود انڈیا میں بسنے میں و الی اقوام کے درمیان ایک لکیر کھنچ دی تھی کہ ہندوستان پر حکم اور برتر قوم رہنے کا حق صرف ہندو قوم کا ہے اور ان کے بقول ہندو ہر ایسا شخص ہے ”جو اپنی بھارت بھومی کی قدر کرتا ہے اور اسے اپنا سمجھ کر اس زمین کو جو دریائے سندھ کی ہے اسے مقدس اور اپنا آبائی وطن سمجھتا ہے جو کہ اس کے عقیدے کی بنیاد ہے اور اس کے مہذب ہونے کی اساس ہے“

سیوا کار کے اس نظریے کی تشریح انڈیا کے آئین کے خالق ڈاکٹر امبید کر نے اپنی کتابReprint of Pakistan or the partition of India میں نہایت اچھی طرح سے کی ہے کہ ”ہندواصلاح کی یہ تعریف نہایت احتیاط اور توجہ سے کی گئی ہے جسے دو مقاصد حاصل کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا ہے جو سیوا کار صاحب کے ذہن میں تھے۔

اول یہ کہ اس میں سے مسلمانوں، عیسائیوں، پارسیوں اور یہودیوں کو خارج کیا جائے اور اس لیے اس میں ہندو ہونے کی بنیاد شرط اس زمین کو مقدس تسلیم کیا جانا رکھی گئی۔ دوئم یہ کہ بدھوں، جینیوں اور سکھوں کو خود میں شامل کرنے کے لیے ان کے اعتقادات پر کسی اصرار کے بغیر اور مقدس وید کو ایک معیار بنائے بغیر قبول کیا گیا ہے“ یہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں سکھوں کے ساتھ بھی سیکولر ہونے کی دعویدار ریاست نے وہ سلوک کیا ان کے سب سے متبرک مقام کو بارود کی بُو اور خون میں رنگ دیا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انتہاء پسندانہ نظریات اور تنہا بالا دست حکمران بننے کا تصور آزادی سے قبل ہی شدو مد سے پیش کیا جارہا تھا۔

حالانکہ ڈاکٹر امبید کر جیسے ہندو اس کے خطرناک نتائج سے بھی باخبر کرتے چلے آرہے تھے۔ مگر اب ہوا یہ ہے کہ وہ نام نہاد سیکولر ازم جو کبھی آزادی کے وقت ایک لالی پاپ کی حیثیت رکھتا تھا اپناذائقہ فی الوقت بالکل ہی کھو بیٹھا ہے۔ اور سیوا کا ر کے جانشین پوری طاقت سے برسر اقتدار آگئے وہ اس حد تک اپنے نظریات میں دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے آرہے ہیں کہ بی جے پی کے لیڈران کرام اعلانیہ گاندھی جی کے قاتل نتھورام گوڈسے کی تعریف کرتے نظر آرہے ہیں اور جو لوگ اپنے باپو کے قاتل کے مداح ہوں ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ جیتنے کے بعد اپنے ملک میں موجود دیگر اقوام اور ہمسایوں سے اچھے تعلقات کی طرف جاسکتے ہیں یا کشمیر پر ایسا طرز فکر اختیار کر سکتے ہیں کہ جس سے دو ایٹمی طاقت کے حامل ممالک میں تصادم کے امکان کو ہمیشہ کے لیے رد کیا جا سکے، ناپختہ سیاسی ذہن کے خیالات کے سوا اور کچھ نہیں۔

بی جے پی کی حالیہ کامیابی ایک مخصوص ذہن سازی کے ذریعے وقوع پذیر ہوئی ہے اور بی جے پی اپنی اس مخصوص نظریاتی ساکھ کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ بی جے پی کے مقابلے میں کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتیں وہ کارکردگی کیوں نہیں دکھا سکیں کہ جیسی کارکردگی وہ ماضی میں دکھاتی رہی ہیں حالانکہ مودی سرکار اپنے معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور معاشی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے صرف جذبات بھڑکانے کا کام کرتی رہی تو جہاں پر مقامی سیاست کے داؤ پیچ میں غلطیاں نظر آتی ہیں وہیں پر سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے پراپگینڈے سے ڈرکر ان جماعتوں نے یہ ثابت کرنا شروع کر دیا ہے کہ ان کے لیے بھی دیگر اقوام کی اہمیت برابر نہیں ہے اور وہ بھی انتہا پسندانہ نظریات کے قریب ہے۔

اس کو ثابت کرنے کی غرض سے مسلمان امیدواروں کو کانگریس نے بھی گزشتہ انتخابات کی مانند محدود تعداد میں ہی ٹکٹ جاری کیے انتہا پسندوں کے خوف سے متعدد جگہوں پر مسلمان اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری ہی نہیں کیا گیا۔ شکیل احمد بہار سے دو بار کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے، جونیئر وزیر رہے ان کے والد اور دادا بھی نمایاں کانگریسی اور بہار اسمبلی کے رکن رہے مگر اس بار مسلمان ہونے کی وجہ سے ٹکٹ سے محروم کر دیے گئے۔

دہلی سے کانگریس کے اہم رہنما شعیب اقبال، حسن احمد اور آصف خان نے راہول گاندھی کو خط لکھا کہ دہلی سے کم از کم ایک مسلمان امیدوار ہونا چاہیے مگر ان کا یہ مطالبہ مسلمان رائے دہندگان کی معقول تعداد ہونے کے باوجود پذیرائی حاصل نہ کرسکا جب ووٹروں کے سامنے ایک گروہ کھلم کھلا جب کہ دوسرا ڈھکے چھپے ایک ہی نظریے پر تھا معاشی پروگرام میں کوئی کشش نہیں تھی تو ایسی صورت میں رائے دہندگان نے کھلم کھلا کے ساتھ ہی جانا تھا، کانگریس کے پاس اگلی بار بھی کامیابی کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنا پرانا تشخص بحال کرے کیونکہ مودی سرکار اگلی بار بھی معاشی اہداف کے حصول میں ناکام ہو گی۔ نتیجتاً اس کا سہارا انتہا پسندی ہی ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •