حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیدا کونسلر بنا تو حلف لینے کے اگلے دن نائی کی دکان پر بیٹھا کہ رہا تھا، ”دوستو، حکومت کرنا بہت مشکل کام ہے۔ لیکن تم لوگ نہیں سمجھ سکتے کیونکہ تم تو عوام ہو۔ اب دیکھو کل حلف لیتے ہوئے جج صاحب نے کہا، میں۔ ۔ ۔ اور خاموش ہوگئے۔ اب سب نے اپنا نام لینا تھا۔ اچانک سرکاری کاغذوں میں لکھا نام عبدالرشید ولد محمد یعقوب کہاں ذہن میں آتا ہے۔ میں نے فورا کہا جی، شیدا ولد قوبا تیلی۔ جب جج اور ان کے ساتھ بیٹھے ڈی ایس پی صاحب نے قہقہ لگایا تو مجھے احساس ہوا کہ حکومت کرناواقعی بہت مشکل کام ہے۔ “

حکومت پھولوں کا بستر نہیں اس لئے اس میں کسی بھی لمحے عزت خاک میں مل سکتی ہے۔ اب بندہ غلطی سے وزیر بن گیا۔ بھلا اس نے یہ سیاپا خوشی سے تھوڑی اپنے گلے میں ڈالا۔ پہلے الیکشن کے دوران وہ بے چارہ گلا پھاڑ پھاڑ کر بولتا رہا، تقریریں کرتا رہاتا کہ لوگ اندازہ لگا لیں کے وہ کیسا شخص ہے۔ جب حلقے کے لوگ اس کی قابلیت کا اندازہ نہیں لگا سکے تو وہ ٹی وی تک پر آکر بونگیاں مارتا رہا۔ عوام نے پھر بھی اس پر اعتماد کا اظہار کیا تو اس میں اس کا کیا قصور؟

الیکشن جیتنے کے بعد ایک تقریب میں پارٹی صدر سے ملاقات ہوئی۔ پارٹی صدر نے چھینک ماری تو اس نے دوڑ کر انہیں ٹشو دیتے ہوئے انتہائی پریشانی کے عالم میں کہا، ”یا اللہ یہ چھینک آپ کے بجائے مجھے کیوں نہیں آگئی، قوم کو آپ کی سخت ضرورت ہے“۔ پارٹی صدر کو یہ ادا بھا گئی۔ وزیر بنا دیا گیا۔ وہی وزیر غلطی سے سرکاری خرچ پر حج کیا ادا کرنے چلا گیا، عوام کو شک ہو گیا کہ ضرور اس نے کوئی گناہ کیے ہوں گے جو بخشوانے حج پر گیا ہے۔ مجبورا بے عزت ہوکر استعفیٰ دینا پڑا۔ اتنے شکی عوام کے ہوتے ہوئے حکومت کرنا کوئی آسان کام ہے؟

عزت تو پھر آنی جانی شے ہے انسان میں مصیبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ مضبوط قوت ارادی حکومت کرنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اتنی لگن کے اگر کسی کھانے پینے والی جگہ سے نکالا جائے تو اس جگہ کے اتنے چکر لگانے چاہئیں کہ تنگ آکر کہا جائے کہ اچھا یار تم بھی ادھر ہی بیٹھ جاؤ۔ جیل میں بھی وہی سیاست دان جاتا ہے جو کبھی حکومت میں رہا ہو۔ سیانے کہتے ہیں پرانی یا جیل کی دوستی ہی اصل دوستی ہوتی ہے۔

اسی لئے اکثر سیاست دان جب دوبارہ حکومت میں آتے ہیں تو اپنے جیل کے دوستوں کو پر کشش عہدوں سے نوازتے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت ختم ہوتے ہی سب دوست اکٹھے جیل جاتے ہیں اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حکمرانی کی رنگین زندگی گزارنے کے بعد جیل میں تاش کی ”رنگ“ کی بازی کھیلنے کے لئے نیا ساتھی نہیں ڈھونڈنا پڑتا۔

حکومت کرنا اتنا مشکل کام ہے کہ قومی اسمبلی نہ صرف جانا پڑتا ہے بلکہ اپوزیشن کے سوالوں کے جوابات بھی دینے پڑتے ہیں۔ ایک وزیر کو جب اسپیکر نے کہا کہ آپ سے آپ کی وزارت کے متعلق دس سوالات پوچھے گئے لیکن آپ نے صرف چار کے جوابات دیے۔ وزیر بولے، ”میں جس سکول میں پڑھا ہوں اس میں پاس ہونے کے نمبر تینتیس فیصد ہوا کرتے تھے۔ میں وہاں بھی پرچوں میں اتنے سوالات کے جوابات ہی دیا کرتا تھا۔ اور تو اور ایک دفعہ رات تین بجے گھر آیا تو مرحوم والد صاحب سخت غصے میں تھے۔ مجھے دیکھتے ہی چلا اٹھے، آج پھر دیر سے گھر آرہے ہو؟ شرم نہیں آتی؟ جوا کھیلا ہوگا؟ چلو کھیل لیاخیر ہے، لیکن ہار گئے ہوگے؟ باپ دادا کی ناک کٹواؤ گے؟ اور تب میں صرف پہلے سوال کا جواب دے پایا تھا۔ “

حکومت کرنے میں ایک مشکل پریس کانفرنس کرنا بھی ہے۔ صحافی ایسے ایسے سوالات پوچھتے ہیں جن کے جواب انہیں خود بھی معلوم نہیں ہوتے۔ ایک وزیر بتا رہے تھے کہ ایک دفعہ انہوں نے صحافیوں سے پوچھا، ”خود تم لوگوں نے کبھی سکول کا منہ بھی دیکھا ہے؟ اگر تم لوگوں نے چار جماعتیں پڑھی ہوتیں تومعلوم ہوتا کہ وہاں پہلے جواب بتایا جاتا ہے اور پھر سوال پوچھا جاتا ہے۔

جیسے ایک کہانی ہے، لالچی کتا۔ پہلے بتایا گیا کہ ایک لالچی کتے کو قصاب کی دکان سے ایک ہڈی ملی۔ پھر کہانی کے آخر میں سوال پوچھتے ہیں کہ بتاؤ لالچی کتے کو ہڈی کہاں سے ملی؟ اس لئے تم لوگ بھی پہلے جواب بتایا کرو اور پھر سوال پوچھا کرو۔ یہ سنتے ہی ایک جاہل صحافی نے سوال کردیا، چلیں پھر اب آپ سچ سچ بتا دیں کہ لالچی کتے کو ہڈی کہاں سے ملی؟ انتہائی فضول بات “۔

پریس کانفرس اس لئے بھی مشکل ہوتی ہے کہ اچانک بی بی سی یا سی این این کا نمائندہ کھڑا ہوکر انگریزی میں سوال کر دے گا۔ بھئی ٹھیک ہے تم انگریزوں کے چینل سے ہو، خود بھی گورے انگریز ہو لیکن اس وقت تم پاکستان میں ہو۔ لہذا سوال تو اردو میں کرو۔ کوئی پاکستانی صحافی اگر ٹرمپ سے اردو میں سوال کرے تو تم گوروں کا پیٹ کا درد ہی ختم نہ ہو۔ تو اے گورے صحافیو! کان کھول کر سن لو۔ اگراپنے پیٹ کے درد سے بچنا چاہتے ہو تو ہمارے سیاست دانوں کے سر میں درد کرنا چھوڑ دو۔ شکریہ

حکومت کرنا اتنا مشکل کام ہے کہ اسمبلی میں وزیر اعظم تقریر کر رہا ہو تو زور زور سے ڈیسک بجانا پڑتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ اسمبلی میں نہیں کسی قوال پارٹی کے ساتھ ہیں۔ اپوزیشن بجٹ پیش ہوتے وقت اتنا شور مچاتی ہے کہ حکومتی ممبر ان کو جواب میں مجبورا اس سے زیادہ شور ڈالنا پڑتا ہے۔ دماغ پہلے منہ اور ہاتھوں کو کہتا ہے کہ شور کرو، پھر پیٹ، ٹانگوں اور آخر میں انتڑیوں تک کو کہتا ہے تم بھی شامل ہو جاؤ۔ اس شور سے حکمران اندر باہر سے ہل جاتا ہے۔

پھر بجٹ ایک ایسا گورکھ دھندہ ہے کہ وزیر خزانہ کی تقریر کی کچھ سمجھ نہیں آتی لیکن داد پھر بھی دینی پڑھتی ہے۔ ایک دفعہ وزیر خزانہ بولے، ”انفلیشن بڑھنے کی وجہ سے اسٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا دی تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جاسکے“۔ ایک ممبر نے دوسرے کے کان میں پوچھا یہ انفلیشن کیا ہوتی ہے؟ دوسرے نے جواب دیا تم نے سنا نہیں کہ انفلیشن بڑھنا ضروری ہے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔ تالیاں۔ اپوزیشن کا ایک رکن جو یہ مکالمہ سن رہا تھا فورا بول اٹھا آپ سے بہتر تو پچھلی حکومت تھی جس میں انفلیشن اور مہنگائی دونوں کی شرح پورے پانچ سال برابر رہی تھی۔ پھر تالیاں۔

وزیر بے چارے کو ہر وقت ایک گھٹن زدہ ماحول میں زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ ہر طرف پروٹوکول کی گاڑیاں دوڑتی ہیں جبکہ وزیر صاحب کو گاڑی کے اندر دبک کر بیٹھنا پڑتا ہے۔ گاڑی کسی اشارے پر نہیں رکتی اس لئے سفر انتہائی بورگزرتاہے۔ اشارے پر رکے تو چلو بندہ کچھ اور نہ بھی کرے یہ اندازہ لگا کر دل بہلا لیتا ہے کہ ساتھ کھڑی گاڑی میں بیٹھے شخص نے اپنے ساتھ اپنی بیگم ہی بٹھائی ہوئی ہے نا؟ خواتین وزرا تو اتنی بے چاری ہوتی ہیں کہ اگر ڈرائیور گاڑی تیز چلائے تو اپنے رتبے کی وجہ سے سکون سے چیخ بھی نہیں مار سکتیں۔ دل میں ہی جیسی تیسی آیت الکرسی آتی ہے پڑھنی پڑتی ہے۔ ایک دفعہ ایک خاتون وزیر نے اپنے ڈرائیور کو کہا گاڑی آہستہ چلایا کرو۔ ڈرائیور بولا، ”اگر مرسڈیز کو بھی آہستہ ہی چلانا ہے تو پھر اس میں اور مہران میں کیا فرق؟ “ آج کل وہ ڈرائیور نوکری سے معطل ہو کر مہران ٹیکسی چلاتا ہے۔

حکومت کرنا اس لئے بھی مشکل کام ہے کہ حکمرانوں کی زندگیاں مصنوعی بن جاتی ہیں۔ بڑے بڑے افسر ایسے مشینی انداز میں حرکات کرتے ہیں کہ کافی غور کرنا پڑتا ہے کہ یہ انسان ہی ہے یا حکومت نے پچھلے سال جاپان سے درآمد کیا تھا۔ پھر عوام تو خوش ہوتے ہی نہیں۔ کسی چوک پر انڈر پاس بنا دیں تو افسوس کرنے لگتے ہیں کہ نہ گاڑی کھڑی ہو گی نہ بھکاریوں کو بھیک ملے گی۔ بے چارے بھوکے مر جائیں گے۔ نہ بنائیں تو انتہائی وثوق سے کہیں گے حکومت بھکاریوں تک سے کمیشن لیتی ہے اس لئے انڈر پاس نہیں بنا رہی۔

اسکول بنادیں تو شور مچاتے ہیں ہسپتال تو ہے نہیں۔ اسکول میں تو بچہ پانچ سال کا داخل ہوتا ہے۔ تب تک پیچش رکیں گے تو زندہ رہے گا۔ مرنے کے بعد تو اسکول نہیں جاسکتا۔ ہسپتال بنادیں توکہتے ہیں اسکول تو ہے نہیں۔ ہسپتال سے علاج کرا گر زندہ بچ بھی گیا تو کون سا ان پڑھ غریب کی زندگی میں عیاشی چل رہی ہے۔ اس سے تو بہتر ہے مر جائے۔ ہو سکتا ہے یہاں کولڈ ڈرنک نہ ملنے کے اجر میں آخرت میں غریب کو کوئی اچھا سا مشروب پینے کو مل جائے۔

روٹی کی قیمت بڑھ جائے تو عوام واویلا مچا دیتے ہیں کہ حکومت غریبوں کو بھوکا مارنا چاہتی ہے اور امیروں کو کچھ نہیں کہتی۔ ڈبل روٹی کی قیمت بڑھ جائے تو شور مچاتے ہیں اس طرح تو امیر ڈبل روٹی چھوڑ کر ہماری روٹی کھانا شروع کردیں گے۔ ریل کا ٹکٹ مہنگا ہوجائے تو پوچھتے ہیں جہاز کا ٹکٹ کیوں مہنگانہیں ہوا؟ جہاز کا کرو تو کہتے ہیں حکومت کو خبر ہوگئی ہوگی کہ میں نے بیٹے کو دبئی بھجوانے کے لئے ایجنٹ کو پیسے دے دیے ہیں۔

پولیس چور نہ پکڑسکے توکمال تیقن سے کہیں گے کہ پولیس خود چوریاں کرواتی ہے۔ پکڑ لے تو اندازے لگاتے ہیں پولیس اسے چھوڑ دے گی۔ چور جیل چلا جائے تو شرطیں لگاتے ہیں دیکھنا ضمانت ہوجائے گی۔ سزا ہو جائے تو افسوس کرتے ہیں کہ بے چارے غریب نے پیٹ کی خاطر چوری کی تھی، اب جیل سے بڑا ڈاکو بن کر نکلے گا۔
حکومت کرنا مشکل کام ہے اور ایسے عوام پر حکومت کرنا تو انتہائی مشکل کام ہے۔ پھر آئی سمجھ؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •