ڈگری بے وقعت کیوں ہو رہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب یہ بات سنتے ہیں کہ ہمارے دادا کے زمانے میں بی اے پاس کرنا کتنا بڑا فخر تھا اور جھٹ سے افسری مل جاتی تھی اور اب ہمارے دور میں تو ایم اے پاس اور اب ایچ ای سی کے زمانے میں تو پی ایچ ڈی بھی دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ ڈگریوں کی بے وقعتی کی وجہ تو ڈگریوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ پہلے بی اے پاس خال خال ہی ملتے تھے، اب کوئی بھی اس سے پہلے جاب مارکیٹ کا رخ نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو ڈگری ہولڈر کی افراط کے باعث نوکری نہیں لے پاتا۔

کیا پینسٹھ اور اکہتر کی جنگ میں سپاہی کی ڈیوٹی اب سے مختلف ہوتی تھی کہ پہلے اس کے لئے میٹرک پاس ہونا ضروری نہ تھا جو کہ اب ہو گیا ہے؟ کسی فوجی افسر سے پوچھیں تو زیادہ تر سپاہیوں کی ڈیوٹی میں شاید جواب نفی میں ہی ہو گا کیونکہ اس میں غالب یا رابرٹ فراسٹ کی شاعری کو سمجھنے سے کوئی تعلق نہیں۔ آج کی دسویں جماعت میں بیس سال پہلے کی نسبت سے کہیں زیادہ پڑھایا جاتا ہے لیکن یہ پہلے سے کہیں زیادہ بے وقعت ہے۔ ایسا کیوں ہوا کو سمجھنے کے لئے ہمیں پہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ ڈگری درحقیقت ہے کیا؟

سوشل سائنسز کے ماہرین ڈگری کے دو نظریات بیان کرتے ہیں اور اس بات میں ان میں اختلاف ہے کہ کس کا پلڑا بھاری ہے۔ بعض تو دونوں کو 50 / 50 بیان کرتے ہیں اور کچھ تو دوسرے کا کردار اسی فیصد تک بتاتے ہیں۔ پہلا نظریہ تو یہ ہے کہ تعلیم انسانی سرمایہ یا ہیومن کیپیٹل پیدا کرتی ہے اور ڈگری اس چیز کی تصدیق ہے کہ اس کے حامل نے تعلیم سے کچھ صلاحیتیں حاصل کر لی ہیں جو اسے ایک کارآمد شخص بنا چکی ہیں۔ ڈگری کی وجہ سے اسے روزی حاصل ہو گی جو اس سرمایہ کاری کا منافع ہے۔

یہ نظریہ بہت حد تک ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم پر پورا اترتا ہے جیسا کہ انجینئرنگ یا ڈاکٹر وغیرہ۔ لیکن ہر شعبہ ہائے زندگی ٹیکنیکل نہیں ہوتا خاص کر کہ مینجمنٹ اور بیوروکریسی سے منسلک شعبے۔ ان شعبوں کے لئے اس نظریہ کے مطابق ڈگری کا مقصد سوچنے، سمجھنے اور منصوبہ بندی کی صلاحیت پیدا کرنا ہوتا ہے اور انہیں شعبوں میں ہی ڈگری کی زیادہ بے وقعتی ہوئی ہے۔ آج سے پچاس سال پہلے بھی انجینئرنگ یا ڈاکٹر اتنے ہی سالوں کی تعلیم پر بنتے تھے (گو آج کل بیروزگاری کی وجہ سے انجینئرنگ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کا رواج بڑھ گیا ہے اور کچھ حد تک افراط ہوا ہے ) ۔

اب یہاں آپ سب محسوس کرتے ہوں گے کہ بمثل سرائیکی محاورہ، ’اگوں دوڑ، پچھوں چوڑ‘ ، (آگے دوڑتے گئے اور پچھے چھوڑتے گئے) کہ مصداق ہم امتحانات پاس کرتے ہی سب کچھ بھولتے جاتے ہیں تو کون سی ایسی صلاحیتیں حاصل کر لیتے ہیں جن کا ہیومن ریسورس کیپیٹل والے دعویٰ کرتے ہیں۔ اس اعتراض کا جواب ہیومن کیپیٹل والے اس طرح دیتے ہیں کہ ڈگریوں کا ورزش سے تقابلہ کریں کہ جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ دماغ کو اسی طرح عملی زندگی میں آنے والے چیلنجز کے لئے تیار کرتا ہے جیسے ورزش، پٹھوں کو جسمانی مشقت کے لئے مضبوط بناتی ہے۔ ورزش کے اوزار تو ان بھولے ہوئے مضامین کی طرح آپ جم میں چھوڑ جاتے ہیں لیکن طاقتور پٹھے آپ ساتھ لے کر جاتے ہیں۔

ڈگری کا دوسرا اور بعض ماہرین کے نزدیک زیادہ بڑا مقصد نوکری کے امیدوار کی ایسی صلاحیتوں کی طرف اشارہ ہے جس کا دعویٰ تو ہر امیدوار کرتا ہے لیکن ڈگری ان کی تصدیق کرتی ہے۔ اسے سگنلنگ تھیوری آف ڈگری، یا ڈگری بحیثیت اشارہ کہا جاتا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق ڈگری کا مکمل کر لینا، امیدوار کی ذہانت، جانفشانی، اور مرضی کے خلاف کام کو تکمیل کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے (ورنہ کون چار سال تک ڈگری کرنے اور امتحانات دینے کو پسند کرتا ہے۔

اس نظریے کے مطابق میٹرک میں الجبرا پڑھانے کا فائدہ صرف آپ پر جبر کر کے آپ کے صبر کا امتحان لینا ہے۔ ابن انشا درست کہتے تھے کہ الجبرا پڑھانے کا واحد مقصد سٹوڈنٹس کو فیل کرنا ہے ) ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ صلاحیتیں ڈگری سے پہلے بھی آپ میں موجود ہوں لیکن اگر آپ کمپنی کے پاس بغیر ڈگری کے ان صلاحیتوں کا دعویٰ کریں تو ان کے اعلیٰ عہدیدار کس طرح آپ کا دعویٰ مان لیں اور آپ کو اپنی کمپنی میں اہم عہدہ دے دیں جہاں آپ اپنے دعوے کے برعکس ثابت ہوتے ہوتے کافی نقصان کروا بیٹھیں گے۔

اس کی درستی کا ثبوت یہ بھی ہے کہ کیریئر کے دوران ملازمت تبدیل کرنے کے لئے ریفرنس کی اہمیت ڈگری سے زیادہ ہو جاتی ہے کیونکہ اب آپ کا ایک ریکارڈ بن چکا ہے جو ریفرنس کی صورت میں آپ کا انتخاب کرنے والوں کو حاصل ہو جاتا ہے۔ اس نظریہ کے حامی یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو ڈگری میں حاصل ہونے والے علم کی بنیاد پر ملازمت دی جا رہی ہے نہ کے اشارہ کے طور پر تو آپ دو چیزوں کا جائزہ لیں۔ ایک تو یہ دیکھیں کہ پڑھائے جانے والے مضامین کا عملی زندگی میں کتنا استعمال ہے؟ جو ہم سب کو پتا ہے کہ بہت کم ہوتا ہے۔

دوسرا ڈگری مکمل کرنے والوں اور مکمل نہ کرنے والوں کی آمدن کا تقابلی جائزہ لیں۔ اگر پچیس میں سے صرف ایک مضمون رہ گیا ہے اور باقی پاس کر لیے ہیں تو ایسا کیا قیمتی علم بچ گیا ہے کہ آپ اس عہدے کے لئے اہل نہیں۔ ویسے کون سا اس بچے ہوئے مضمون کا عملی زندگی میں استعمال ہونا ہے۔ مکمل پاس کر لینے والوں اور جو صرف نزدیک آ کر رہ جائیں، میں اتنا فرق کیوں ہو جاتا ہے؟ امریکی پروفیسر برائن کیپلن نے اپنی کتاب ’دی کیس اگینسٹ ایجوکیشن‘ میں شماریات سے ثابت کیا ہے کہ صرف ایک سمسٹر رہ جانے والوں کی آمدنی ڈگری ختم کرنے والوں سے کہیں کم رہ جاتی ہے۔

درحقیقت تعلیم کی تکمیل میں کامیابیاں ایک شخص کی پیداواری استعداد یا پروڈکٹیویٹی کو ظاہر کرتی ہیں جو کہ پہلے سے اس میں موجود ہوتی ہیں اور شاید تعلیم اس کو مزید تقویت دیتی ہے۔ ملازمت میں جو مزاج چاہیے، ان سے موافقت کا اظہار کا ایک طریقہ تعلیمی تکمیل میں کامیابی بھی ہے۔ بقول پروفیسر برائن کے، ڈگری ایک شخص کی ذہانت، درست کام کرنے کی صلاحیت اور نظام سے موافقت کو ظاہر کرتا ہے جو کہ کسی بھی ملازمت کے لئے ضروری خوبیاں ہیں۔ ڈگری کو ایک خوبصورت شہزادی کی شادی کے لئے رکھی ہوئی شرطیں سمجھیے جس کا شہزادی کو تو براہ راست کوئی فائدہ نہیں لیکن وہ جن خصوصیات کے حامل شخص سے شادی کرنا چاہتی ہے جو اس کی سلطنت کو احسن طریقے سے چلا سکے گا، یہ شادی کا دعویدار ان کا واقعی حامل ہے۔

اب اگر ڈگری کا زیادہ مقصد اشارہ ہے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب نوکریاں کم ہو رہی ہوں گی تو کچھ امیدوار میٹرک کی شرط والی نوکری پر ایف اے کر کے پہنچ جائیں گے کہ ہم میٹرک والوں سے زیادہ بہتر ہیں۔ جب اس اشارہ پر ان کو ترجیح مل جائے گی تو ایک دوڑ شروع ہو جائے گی جس میں ہر امیدوار دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرے گا اور مزید ڈگری لینے کی کوشش کرے گا۔ ڈگری یہاں پر ایک زیور کی حیثیت رکھے گی جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ میٹرک کی آسامی پر ایم فل درخواست دے رہے ہیں۔ اب انجینئرنگ میں بھی بیروزگاری بڑھ رہی ہے تو بہت سارے انجینیرز ماسٹرز میں داخلہ لے لیتے ہیں اور اب تو ہر شخص نے اسی طرح پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا ہوا ہے جیسا کہ ایک زمانے میں پڑھائی چھوڑ کر گھر بیٹھنے والی ہر باجی انگلش میں پرائیویٹ ایم اے کر رہی ہوتی تھی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کا نقصان کیا ہے؟ پڑھا لکھا شخص شعور رکھتا ہے اور کام کو جلدی سمجھ سکتا ہے ؛ پر آپ یہ بھی یاد رکھیں کہ لکھنے پڑھنے سے بی اے تک کتنے سال ضائع ہوتے ہیں اور کتنا خرچہ آتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •