انسانی زندگی کی مشکلات اور مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان اس دنیا میں جب قدم رکھتا ہے۔ تو اس کے والدین، بہن، بھائی، چچا، ماما، پھوپھو، خالہ اور باقی رشتہ دار سب بہت خوش ہوتے ہیں۔ سب لوگوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ اور بالکل خوشی کی بات ہوتی بھی ہے۔ اس دنیاء میں کتنے ہی لوگ ایسے ہیں، جو اولاد جیسی نعمت سے محروم ہیں۔ اب اس بچے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسان کو ہاتھ پاوں مارنے پڑتے ہیں۔ حالانکہ وہ بچہ تو ابھی بہت چھوٹا ہے۔ اسے کسی چیز کی کیا سمجھ ہو گی۔

مسائل اس کے والدین کو ہوتے ہیں۔ کہ وہ کیسے اپنی معمولی آمدن سے جس سے گھر کا نظام میاں بیوی اور بچے مشکل سے ضروریات زندگی پوری کر رہے ہیں۔ اب اس کے لیے بھی پیمپرز اور دودھ کا بندوبست کرنا ہے۔ یعنی انسانی زندگی پیدائش سے ہی ضروریات کے لیے مسائل کا شکار ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اور موت تک مشکلات اور مسائل سے گھری رہتی ہے۔ ضروریات اور مسائل عمر کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔

مشکل کا مطلب ہے۔ کہ انسان کو کوئی ایسا معاملہ درپیش ہو۔ یا ایسی کوئی صورت حال پیش آ گئی ہو۔ جس کا اسے گمان نہیں تھا۔ یا اس نے اس وقت سوچا نہیں تھا۔ اور نہ ہی تیاری کر رکھی تھی۔ اور اب جو اچانک مشکل سے واسطہ پڑا ہے تو اس سے مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ اور ان حالات میں وہ خود کو اپنی منزل سے دور پاتا ہے۔ ایسی مشکلات یا مسائل کسی بھی عمر میں کسی کو بھی پیش آ سکتے ہیں۔ مشکلات کی قسمیں ‌ کئی ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر انہیں ان پانچ حصوں میں بانٹ‌ لیں تو مزید سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی، 1۔ معاشی مسائل، 2۔ سماجی مسائل، 3۔ تعلیمی مسائل، 4۔ فکر و فلسفہ، 5۔ جسمانی و نفسیاتی مسائل۔

انسانی زندگی میں عموماً انسان کو دوطرح کے حالات کا سامنا ہوتا ہے۔ کبھی انسان خوشی و مسرت کے خوشگوار لمحات سے دوچار ہوتا ہے۔ اور کبھی اس پر رنج و غم، بے چینی اور مایوسی کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ زندگی کی ان نازک گھڑیوں میں اسلام مسلمان کو اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔ کہ خوشحالی اور فراوانی میں قلب و دماغ کو شکر و احسان سے معمور رکھو اور مصائب و مشکلات میں صبر و استقامت اور ہمت وحوصلہ سے کام لو۔

ہم مصنوعی زندگی اور عیش و عشرت کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں۔ کہ سادہ اور فطری زندگی گزارنا کتنا دشوار ہو گیا ہے۔ زندگی اور زندگی کے مطالبات نے الجھا کر رکھ دیا ہے۔ ہر وقت خواہش نفس کی تسکین کے لئے پریشان اور پر اگندہ رہتے ہیں۔ لیکن حقیقی سکون اور اطمینان قلب میسر نہیں آتا۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے۔ کہ اگر مشکلات اور مصائب نہ ہوتے تو شاید انسان سوچنا چھوڑ‌ دیتا۔ ایک دوسرے کا خیال نہ رکھ پاتا۔ کوئی ایجاد بھی نہ ہوتی۔ اور نہ ہی اس دنیا کو ترقی نصیب ہوتی۔ اس لیے زندگی میں حرکت اور برکت کے لیے مشکلات کا ہونا لازمی جزو ہے۔

انسانیت کی تاریخ بتلاتی ہے۔ کہ کامیابی اور قربت خداوندی، مصائب و آزمائش کے بعد ہی حاصل ہوتی ہے۔ جو لوگ انسانی زندگی سے بے زار ہو کر موت کی تمنا کر تے ہیں۔ در حقیقت اپنی ناعاقبت اندیشی اور کوتاہ چشمی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ یہ جان اللہ کی امانت ہے۔ اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ مگر انسان کو زندہ رہنے کے لیے اور حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے جدو جہد جاری رکھنی چاہیے اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے :

ترجمہ: اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہونا۔

دعاء ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشکلات میں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ان کے دینی و ملی، دنیاوی اور اخروی مسائل کو آسان فرمائے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •