نواز شریف کے بیانیے کے شیخ رشید پر اثرات دکھائی دے رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا ایک دوست ہے، درویش، اسے ہر کہاوت اور ضرب المثل سے خوا مخواہ کا بیر ہے۔ وہ نہ صرف ضرب الامثال اور محاوروں کو الٹ دیتا ہے بلکہ اس بنیاد پر اچھا خاصا تھیسس قائم کر لیتا ہے۔ کہتا ہے ’‘ فکری مغالطے ”دورکرنے کا یہی طریقہ ہے۔ اسے دیکھ کرسکول کے زمانے میں نصاب میں شامل ڈی جے اینرائیٹ کی نظم باغی یاد آجاتی ہے۔ ہر بات کے الٹ رخ پر سوچنا ایسے لوگوں کا وتیرہ ہوتا ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ وہ شرارتاً یہ کام کرتا ہے بلکہ وہ بڑی عرق ریزی اوردیانت داری سے یہ دانشورانہ نکات بیان کرتا ہے اورمیرے جیسے کم علم عقیدت مندوں سے یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ اس کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں۔ ہزار اختلافات رکھنے کے باوجود کبھی کبھاراس درویش کی باتیں مجھے حیران کردیتی ہیں۔

اگلے دن اسی طرح اپنے موڈ میں کہنے لگا، کون کہتا ہے انسان دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔ اب تم یہی دیکھو کہ کیا تمہاری شکل اس قابل ہے کہ تمھاری وجہ سے میں پہچانا جاؤں۔ میں نے درویش کے چہرے پر کسی شرارت کا عکس ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہوئے گزارش کی کہ بھائی اپنے خاص فارمولے کے مطابق اسی بات کو الٹوگے تو تمہیں بات سمجھ آجائے گی۔ وہ یہ بات بیچ میں چھوڑتے ہوئے فوراً اصل بات کی طرف آگیا اور کہنے لگا میں شرط لگا سکتا ہوں کہ انسان دوستوں سے نہیں اپنے دشمنوں سے پہچانا جاتا ہے۔ پہچان نہ بھی ہو تو کم از کم خود کو پہچاننے کا یہ آزمودہ نسخہ ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ اس میں فارمولادوستی کے فارمولے کے بالکل الٹ ہے۔

اگر آپ کے اچھے دوست ہوں گے تو آپ کو اچھا سمجھا جائے گا۔ آپ کی محفل اور صحبت اچھی نہیں ہو گی توآپ کا امیج بھی برا بنے گا، لیکن دشمنی کے ذریعے اپنا معیار جانچنے کا معاملہ بالکل الٹ ہے۔ آپ کا دشمن جتنا نیچ اور گھٹیا ہے، آپ سمجھیں آپ کا معیار اتنا بلند ہے۔ شاید اسی لیے بڑے بزرگ دعا مانگتے تھے کہ خدایا نیچ دشمن سے بچانا۔ سو، آپ کا ذکر کرتے ہوئے دشمن کے لہجے کی شدت سے یہ اندازہ ہوگا کہ آپ اس کے دل میں کتنا کھٹکتے اوراس کی نظر میں کتنے اہم ہیں۔

وہ جس تواتر سے آپ کا ذکر کرے گا اس سے حساب لگایا جا سکے گا کہ آپ اس کے اعصاب پرکس قدر سوار ہیں۔ اس کے رتجگوں سے یہ اندازہ ہوگا کہ آپ اس کی نیندوں پر کس حد تک حاوی ہیں۔ وہ آپ کی غیر موجودگی میں جس حقارت سے آپ کا ذکر کرے گا اس سے پتہ چلے گا کہ آپ اس کی نظر میں کتنے معتبر ہیں۔ آپ کا دشمن آپ کو جس قدر بے وقعت کرنے کی جدوجہد کرے گا آپ کے وقار میں اتنا اضافہ ہوگا اور آپ کو اگر اس بات کا علم ہے تو آپ غصے میں بپھرنے کی بجائے مزید باقار ہوتے چلے جائیں گے۔

غرض یہ کہ آپ کی پہچان آپ کے دشمن سے ہوتی ہے۔ وہ منافق ہوگا تو آپ کا مقام اور بلند ہو گا کہ وہ آپ کے سامنے بات کرنے کی جرات نہیں رکھتا اور بقول غالب آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں خنجر کھلا والا معاملہ ہوا تو بھی آپ کا پلڑا بھاری رہے گا۔ کبھی کبھار تو اس حسد اوردشمنی کی آگ میں دشمن خود ہی جل کر راکھ ہو جاتا ہے اور غالب کے پرزے اڑنے کی خبر محض خبر ہی رہتی ہے۔

ہم حیران و پریشان درویش کی اس منطق کی داد دینے کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ درویش نے مزید حیران کرتے ہوئے کسی کا قول دہرایا کہ انسان جو کام کر نہیں سکتا یا جس مقام پر پہنچ نہیں سکتا اس کا مخالف ہو جاتاہے۔ اور بعض اوقات بے وقوفی میں اپنے دشمن کے ’بیانیے‘ کو تقویت پہنچانے لگتا ہے۔

تمہید طویل ہو گئی، بات یہ ہے کہ شیخ رشید صاحب نے عید کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی ایک پریس کانفرنس فرمائی۔ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح موصوف بھی نوازاور زررداری دشمنی میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ریلوے کے وزیرہیں اور پریس کانفرنس میں داخلہ و خارجہ معاملات سے لے کر احتساب اور عدلیہ جیسے اداروں تک سب کی پالیسیوں کا احاطہ کرتے ہیں اورکچھ دیگر اہم اداروں کی نمائندگی اور ترجمانی بھی کرتے ہیں اور انھیں مفت مشورے بھی دیتے ہیں۔ لیکن جب تک بلاول پر کوئی گھٹیا جگت بازی نہ کرلیں اور نواز شریف کی کرپشن کا ذکر نہ کرلیں تب تک انھیں بڑے دربار میں اپنی پریس کانفرنس کی قبولیت کے بارے میں شک ہی رہتا ہے۔ وہ خدا جانے اپنی وزارت کی کارکردگی بہتر بنانے پر اتنی توجہ کیوں نہیں دیتے۔

انھوں نے گزشتہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ نواز شریف میرے مشوروں پر عمل کرتا تو اس کا آج یہ حال نہ ہوتا، چوہدری نثار بھی کچھ ایسا ہی فرماتے ہیں۔ چوہدری نثار اور شیخ رشید میاں نواز شریف کو دیے گئے اپنے ان مشوروں کا اکثر ذکر کرتے ہیں کہ وہ نواز شریف کو اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سے روکتے رہے لیکن نواز شریف نے ایک نہ سنی اور انھیں اب اسی کی سزا مل رہی ہے۔ ان دونوں نے کبھی، کہیں بھی یہ نہیں کہا کہ ہم نواز شریف کو کرپشن کرنے سے روکتے تھے اور وہ بات نہیں سنتا تھا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ کم از کم شیخ رشید اور چوہدری نثار کے بقول نواز شریف کا گناہ کرپشن نہیں بلکہ اداروں سے محاذ آرائی ہے۔ یعنی وہ نواز دشمنی میں اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ اب نواز شریف کے بیانیے ہی کی تشہیر کر رہے ہیں۔ یعنی رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی۔ نواز شریف کے بیانیے کے اثرات اتنے گہرے اور دور رس ہوں گے اس بارے میں توشاید خود انھوں نے بھی نہیں سوچا ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •