”خوشیوں کے باغ“ سے گِرا ہوا اداس پُھول۔ ڈاکٹر انور سجّاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک اور کمال کا ذہن، ہماری بے حسی کی بھینٹ چڑہ گیا۔ ہم نے ایک اور ورسٹائل، متنّوع کلاکار گنوا دیا۔ جس نے اپنے فن کے کئی رخوں پر مشتمل رنگوں سے ان گنت اداروں خواہ افراد کے بھاگ سنوارے، ہم نے تو اسے کافی عرصہ قبل، ان کے جیتے جی ہی مار دیا تھا اور اب تو وہ اپنی طبعی سانسیں بھی پوری کر کے ہم سے بچھڑ گئے۔ ڈاکٹر انور سجّاد بھی رخصت ہوگئے۔ وہ اسی پائے کے فکشن قلمکار، افسانہ نویس، ڈراما نگار، ناول نگار، اداکار اور صداکار تھے، جس لیول کے لوگوں کے نام کے ساتھ مغربی دنیا میں ”دی“ کا لفظ لگایا جاتا ہے، جو ”انجمن“ قرار دی جانے والی شخصیات ہوا کرتی ہیں، جن کے جینے کے تمام اخراجات برداشت کرنا، وہاں کی ریاست کے ذمّے ہوا کرتا ہے اور ان کی سانسیں ان پر بوجھ نہیں ہوتیں۔ مگر ہمارے یہاں ہر دوسرا فنکار اپنے جیون کی آخری سانسیں، ڈاکٹر انور سجّاد کی طرح کسمپرسی میں لے کر، بے یارومددگار چلا جاتا ہے۔

اپنے تاریخی اور تہذیبی ورثے کی طرح ادبی اور ثقافتی حوالے سے بھی بے پناہ انفرادیت رکھنے والے، اسی شہر لاہور کے رائے ونڈ روڈ پر واقع اپنے چھوڻے سے گھر میں جمعرات 6 جون کی شام، ڈاکٹر انور سجّاد ہم سے بچھڑ گئے، جس لاہور کی ”چونا منڈی“ کے علاقے میں، تقسیمِ ہند سے لگ بھگ 12 سال قبل، 27 مئی 1935 ء کو، ڈاکٹر سیّد دلاور علی شاہ کے گھر میں وہ پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد، شہر کے نامور طبیب تھے اور معزز شخصیت کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے۔

انور سجّاد نے 1948 ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ایف سی کالج اور تاریخی، گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد وہ بیرونِ ملک چلے گئے اور 1964 ء میں انگلنڈ کی ”لیور پول یونیورسٹی“ سے ”ڈی ٹی ایم“ اینڈ ”پی ایچ ڈی“ کی ڈگری حاصل کرکے وطن واپس آئے۔ طب کے شعبے میں مثالی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے وطن واپس آنے والے ڈاکڻر انور سجّاد، ادب خواھ فن کے مختلف شعبوں میں اپنی نمایاں خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ، لاہور میں 2002 ع تک طب کی ”پریکٹس“ کے طور پر کلینک بھی کرتے رہے اور یہ ان کا کلیدی ذریعہء روزگار رہا۔

اس 38 برس کے عرصے میں انہوں نے ہزاروں مریضوں کو شفایاب کیا۔ جہانِ قلم سے وابستگی والے اپنے اوائلی دور میں انور نے شاعری بھی کی، مگر جلد ہی شاعری کو اپنے بس کی بات نہ سمجھتے ہوئے، وہ مکمّل طور پر فکشن لکھنے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اردو کے کئی اور نوآموز قلمکاروں کی طرح، انور سجّاد کی پہلی ہمّت افزائی بھی احمد ندیم قاسمی صاحب نے اپنے جریدے ”نقوش“ میں ان کا پہلا افسانہ شائع کرکے کی۔ ان کے اس اوّلین شائع شدہ افسانے کا عنوان تھا: ”ہوا کے دوش پر“۔

انور سجّاد بنیادی طور پر ایک افسانہ نویس ہی تھے۔ وہ خود ہی کہا کرتے تھے کہ ان کے اندر کے کامیاب افسانہ نویس ہی نے انہیں ایک کامیاب ڈراما نویس اور عمدہ ناول نگار بنایا۔ ان کے اسلوبِ تحریر میں ایسی جدّت کا رنگ تھا، جو ان سے قبل بہت کم فکشن نگاروں کے پاس ہمیں پڑھنے کو ملتا ہے۔ کئی ناقدین کا تو یہ تک خیال ہے کہ انور کا اسلوب فقط ان کے ہی پہچان تھا، کیونکہ انہوں نے افسانے کے پرانے روایتی معیار تبدیل کرکے، اپنے دور کے مسائل کو نئے استعاروں اور علامات کے لباس میں لکھنے کا ڈھنگ متعارف کرایا، جو ان ہی کی پہچان بنا۔

انہوں نے اپنے قلم سے اردو افسانے کے نئے رجحانات کو قلمبند کیا۔ ان کا تجریدی اظہار، ہر قسم کے تبصروں کی صورت وقت کے نقاد کی بحث کا موضوع رہا۔ ”چوراہا“، ”استعارے“، ”آج“ اور ”پہلی کہانیاں“ انور سجّاد کے اردو افسانوں کی کتابیں ہیں، جو برسوں تک اردو کے باذوق قارئین کی پسند رہیں گی۔ ان کے تین ناولوں میں ”رگِ سنگ“، ”خوشیوں کا باغ“ اور ”جنم روپ“ شامل ہیں، جن کو بھی اردو ادبَ نے دل میں جگہ دی اور ”شاہکار“ کا درجہ دیا۔ خاص طور پر ”خوشیوں کا باغ“ کو ناقدین نے بھی آنکھوں پر رکھا، جبکہ قارئین میں ان کے تینوں ناول مقبول ہیں۔

ادب کے میدان میں نمایاں قلمی خدمات انجام دینے کے ساتھ ساتھ، ادبی تنظیم سازی بھی انور کے ذوق اور شوق کا محور رہی۔ ”انجمنِ ترقی پسند مصنفین“ اور ”حلقہء اربابِ ذوق لاہور“ سے ان کے گہری وابستگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ حلقہء اربابِ ذوق کے تو وہ ایک عرصے تک عہدے دار بھی رہے۔ چونکہ انور سجّاد صرف ایک قلمکار ہی نہیں بلکہ ایک کامیاب ”پرفارمنگ آرٹسٹ“ بھی تھے، لحٰذا ان کی اس تنظیم سازی کا جذبہ، ادبی تنظیموں کے ساتھ ساتھ، فنی خواھ ثقافتی اداروں کے حوالے سے بھی ان کے خون میں شامل رہا۔ وہ لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔ اس کے علاوھ انہوں نے ”آرٹسٹ ایکیوئٹی“ کے نام سے فنکاروں کے حقوق کے حصول کے لئے ایک تنظیم کی داغ بیل بھی ڈالی، جو تنظیم ایک عرصے تک سرگرم بھی رہی۔

یہ ہم سب جانتے ہیں کہ انور سجّاد ایک اداکار اور صداکار کے طور بھی اپنے منفرد پہچان رکھتے تھے۔ پاکستان ٹیلیویزن لاہور مرکز سے، ٹیلیویزن کے لئے لکھے گئے ان کے ڈرامے نشر ہونے کے ساتھ ہی ان کی اداکاری کا سفر بھی شروع ہوا، جو اردو ڈراموں کے عروج والے دور تک جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر انور سجّاد نے ”رات کا پچھلا پہر“، ”جنم دن“، ”روشنی روشنی“، ”صبا اور سمندر“، ”پکنک“، ”کوئل“ اور ”یہ زمین میری ہے“ جیسے کئی لاجواب اور کامیاب ڈرامے لکھے اور لاتعداد ڈراموں میں اپنی فطری اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔

ایک ڈرامے میں واجد علی شاہ کا کردار نبھانے کے لئے انہوں نے، اپنے کردار کو بھرپور طریقے سے ادا کرنے کے شوق میں، معروف کلاسیکی نرتکار، مہاراج غلام حسین سے کلاسیک رقص (کتھک) بھی سیکھا، جو ان کی فن کے ساتھ سچائی اور شوق کی معراج تھی۔ ڈاکڻر انور، ایک کامیاب قلمکار اور اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مصوّر بھی تھے اور ”تاثراتی“ اور ”تجریدی مصّوری“ کو کینوس پر آئل پینٹ کے ساتھ اظہار کرنے کا منفرد ڈھنگ رکھتے تھے۔ وہ مصوّر کی حیثیت میں بھی اس فن کے قدردان حلقوں میں بیحد مقبول رہے۔

یہ امر بھی انتہائی کم لوگوں کے علم میں ہوگا کہ ڈاکٹر انور سجّاد نے عملی سیاست میں بھی حصہ لیا۔ زمانہء طالبِ علمی سے لے کر ان کا جھکاؤ، بائیں بازو کی سیاست کی طرف رہا اور بائیں بازو کے رجحانات کو عملی سیاست کے دھارے میں لانے کے لئے وہ اور ان کے کچھ ساتھی عملی سیاست میں داخل ہوئے۔ ڈاکٹر انور سجّاد کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی کارکنوں اور اراکین میں بھی ہوتا ہے، جنہوں نے 1976 ء میں پارٹی کی ابتدائی تشکیل میں اپنا کردار ادا کیا۔

ایک موقع پر پیپلز پارٹی نے انہیں الیکشن ٹکٹ بھی دینا چاہا، مگر انہوں نے ٹکٹ لینے سے انکار کر دیا۔ بعد میں وہ نظریاتی اختلافات کے باعث پہلے پارٹی سے کنارہ کش ہوئے اور بعد میں تو انہوں نے پارٹی کو باضابطہ طور پر خیرباد بھی کہہ دیا۔ انہیں مارشل لا کے دوران، مارشل لا مخالف سرگرمیوں میں شرکت کی وجوہ پر گرفتار بھی کیا گیا۔ حال ہی میں کچھ برس قبل انہوں نے، عمران خان کی گذارش پر پی ٹی آئی کے ایک جلسے میں شرکت بھی کی تھی، مگر ان کی جانب سے پارٹی میں شامل ہونے کی پیشکش، ڈاکٹر انور نے قبول نہیں کی۔

2002 ع میں پاکستان میں پرائیویٹ چینلز کا انقلاب آیا، تو وہ اردو کے ایک معروف ڻی وی چینل کے ساتھ اس کے اسکرپٹ کے شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے وابستہ ہوگئے، جہاں پر انہوں نے نت نئی طرز کے پروگرامز متعارف کرائے، جن میں سے کئی پروگرام آج تک بھی اس چینل پر، ان ہی ناموں سے اور ان ہی فارمیٹس میں نشر ہو رہے ہیں۔ انور سجّاد کے تخلیق کیے ہوئے پروگرامز کے ساتھ ساتھ، ان کا تخلیق کیا ہوا کارٹون کردار ”مسٹر۔ جیم“ بھی عوام میں بہت مقبول ہوا، جس کی مدد سے اصلاحی پیغامات عوام تک پہنچانے کا سلسلہ صرف اسی چینل کی پہچان بنا۔

”مسٹر جیم“ کے اس کردار پر آواز بھی ڈاکٹر انور سجّاد ہی کی ”ڈب“ کی جاتی رہی، جس سے ہم سب کی سماعتیں بخوبی آشنا ہیں۔ انور سجّاد اس چینل سے کچھ برس قبل، اپنی مستقل علالت کی وجہ سے علیحدہ ہوئے، جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام اپنے آبائی شہر لاہور میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گزارے اور اس عرصے کے دوران اس خوددار آرٹسٹ نے کسی کو مدد کے لئے بھی نہیں پکارا۔ بالآخر انتہائی آخری ایام میں مجبوراً ان کے گھر والوں نے صدرِ پاکستان اور وزیرِاعظم عمران خان کو مدد کی اپیل کی تھی، جن کی جانب سے حکومتِ پنجاب کو انہیں مالی مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، مگر قابلِ اعتماد حلقوں کی جانب سے تصدیق کی جا رہی ہے کہ اس ضمن میں ان کی کوئی خاص مالی مدد نہیں کی گئی، البتہ مدد کے دعوے بہت کیے گئے۔

آخرکار خوشیوں کے باغ کا یہ اداس پھول، فن کو اپنے پوری زندگی دے کر، ادب اور ثقافت کی ڈال سے گِر کر، میڻھی عید کے اگلے روز، پسِ شام، اپنے قارئین اور ناظرین کی ایک بڑی تعداد سے، ”اچے برجوں والے“ لاہور کی کسی گمنام گلی میں، اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے کر، بچھڑ گیا مگر پھر بھی ادب و ثقافت تاریخ ”روشنی روشنی“ کر گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •