خود مختار فیمینسٹ اہلیہ کا معصوم خاوند۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیمینیزم یا تحریک نسواں کا مقصد عورتوں کو سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر برابر کے حقوق اور مواقع دینا، خواتین کو ان کے حقوق اور ان کے سامنے موجود آپشنز کے بارے میں آگاہ کرنا، تاکہ کوئی مرد ان کا استحصال نا کر سکے۔ تحریک فیمینزم خودمختار آزاد پسند خواتین کی ایک ایسی پناہ گاہ ہے جو انہیں سماجی و اقتصادی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو پار کرتے ہوئے انہیں نئی امید دیتی ہے۔

خودمختار فیمینسٹ کی اکثریت اپنی زندگی کے تمام چھوٹے بڑے فیصلے کرنے میں مکمل آزاد ہوتی ہے اور آزادی کے ساتھ اپنی پسند کی شادی کرنے کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ وہ یہ خواہش رکھتی ہے کہ میرا ہونے والا ہمسفر مجھے اور میرے فیمینیزم کے قاعدے قانون کا مکمل طور پر پابند ہو۔ جب اسے اندازہ ہوجاتا ہے کہ کون سا مرد میرے قاعدے قانون کی مکمل طور پر پابندی کرے گا تب وہ اس مرد سے شادی کی خواہش کا اظہار کر دیتی ہے۔ فیمینسٹ عورت جانتی ہے کہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں مگر ساتھ میں یہ بھی جانتی ہے کہ بچے زمین پر ہی پیدا ہوتے ہیں۔

چنانچہ معصوم مرد اپنی ہونے والی فیمینسٹ اہلیہ کے قاعدے قانون پر رضامندی ظاہر کرتا ہوا خوشی کے ساتھ شادی کے لیے ہاں کر دیتا ہے اور پھر ایک نئی اور خوشحال زندگی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ خالص فیمینسٹ کی زندگی میں عام عورتوں والے مسائل نہیں ہوتے، یعنی روز گھر پر جھاڑو پوچا مارنا، نازک ہاتھوں سے رگڑ رگڑ کر برتن اور کپڑے دھونا، اپنی زندگی کا زیادہ وقت کچن میں گزارنا، خاوند، ساس اور سسر کی خدمت کرتی رہنا یا دیگر معاشی پریشانیاں وغیرہ، خالص فیمینسٹ کو ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا کیونکہ اس کے پاس اپنے ہی بہت مسائل موجود ہوتے ہیں، جیسا کہ وقت پر شاپنگ کرنا، وقت پر بیوٹی پارلر جانا، وقت پر من پسند اشیا یا خوراک کا استعمال کرنا، اپنی زندگی میں سکون حاصل کرنے کے لیے ہر جائز ضرورت کو وقت پر حاصل کرنا وغیرہ۔

اگر خودمختار فیمینسٹ اہلیہ کی جائز ضرورت اس کے من پسند مقررہ وقت پر پوری نہیں ہوتی یا اگر وہ ضرورت پوری ہو بھی جاتی ہے مگر درست طریقے سے نہیں ہوتی تو اس کے معصوم خاوند کو شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر احتجاج کے بعد بھی مطالبات پورے نہیں ہوتے تو فیمینسٹ اہلیہ اپنے خاوند کو ایک بار پھر سے یاد دہانی کے طور پر فیمینزم کے قاعدے قانوں سے آگاہ کرتی ہے کہ ”فیمینسٹ معاشی و سماجی طور پر اپنی راہ پر حائل رکاوٹوں کو پار کرنے کے لیے ہر قسم کے موجود آپشن کو استعمال کرنے کا بخوبی علم اور اہلیت رکھتی ہے“۔

کیونکہ عقلمند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے، اہلیہ کی ایسی بات سنتے ہی معصوم خاوند میڈیکل اسٹور کی جانب جنسی ادویات کی فروخت کے لیے پہنچ جاتا ہے، وہ جانتا ہے کہ میڈیکل اسٹور والا ایسی ادویات اتنی آرام سے نہیں دیتا، مگر بہت منت سماجت کرنے کے بعد معصوم خاوند جنسی ادویات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ چونکہ اس دوا کے نقصانات بھی ہوتے ہیں، ایسی تمام جنسی ادویات جو گولیوں کی شکل میں ہوتی ہیں ان سے سر درد، معدے میں درد کے ساتھ بد ہضمی، روشنی سے بہت زیادہ الرجی، کمر کے نچلے حصے یا پٹھوں میں مختلف قسم کے درد ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ مگر معصوم یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اپنی زندگی کی پروا کیے بغیر اپنی آزاد و خودمختار فیمینسٹ اہلیہ کی خوشی اور اپنے رشتے میں مضبوطی اور محبت زندہ رکھنے کی خاطر جنسی ادویات استعمال کرلیتا ہے کیونکہ وہ اپنی فیمینسٹ اہلیہ سے بہت پیار کرتا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان ایک موقع پر واضح طور پر بیان کر چکے ہیں کہ فیمینزم کی تحریک نے ماں کے کردار کو نقصان پہنچایا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •