کہیں ملک میں دمادم مست نہ قلندر ہوجائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں کم ہی ایسا ہوا کہ جمہوری حکومتوں نے اپنی مدت پوری کی ہو۔ کبھی آمریت جمہوریت پر غالب آجاتی ہے اور منتخب نمائندوں کو گھر جانا پڑتا ہے، کبھی نا اہلی کی تلوار کسی منتخب نمائندے کی عوامی سلیکشن کا سر قلم کردیتی ہے تو کبھی اپوزیشن کا احتجاج ایوان وزیراعظم کو خالی کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت آئی تو بلا شبہ اسے کئی چلینجز کا سامنا تھا۔ کپتان جی کی کابینہ میں شامل وزرا کی کثیر تعداد ناتجربہ کار تھی، کپتان جی ان مشکلات کے سمندر سے نکلنے میں 9 ماہ میں کامیاب نہ ہوسکے۔

ملک میں مہنگائی کا عروج ہے۔ ڈالر کی پرواز کھلاڑیوں کے کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باعث کبھی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ تو کبھی بجلی مہنگی۔ ڈیم کا افتتاح تو ہوگیا لیکن اہلیان پاکستان پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ صحت کارڈوں کا اجرا تو ہوگیا لیکن ملک کے کئی سرکاری اسپتال ایسے ہیں جہاں سہولیات کا فقدان ہے۔ حکومت نے مدارس کو کنٹرول میں لینے کا ارادہ تو کرلیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ اب بھی حکومتی کنٹرول سے باہر ہیں۔ کپتان جی نے ہر تقریر میں میرٹ کی بات تو کی لیکن ان کے وزرا نے اپنی من پسند شخصیات کی من پسند عہدوں پر تقرریوں کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ ہر ادارے میں کرپشن تاحال ویسی ہی ہے جیسے پہلے تھی۔

اپوزیشن میں موجود جماعتوں نے حکومت کی تمام ناکامیوں کا فائدہ اٹھانے کا بھرپور فیصلہ کرلیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما جن کو اس وقت قانونی مسائل کا شدید سامنا ہے نے اپنے مسائل کے حل کا واحد راستہ احتجاج کو ہی تصور کیا ہے۔ اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے رمضان سے قبل مولانا فضل الرحمن کو اپوزیشن اتحاد کا سربراہ بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے عید کے بعد احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ تحریک انصاف کے لئے پریشان کن بات یہ ہے کہ ان کی اتحادی جماعت کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بھی اپوزیشن اتحاد کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

جیل میں موجود میاں محمد نواز شریف نے مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے پی سی میں شرکت کریں جبکہ آصف زرادری اور بلاول بھٹوبھی احتجاجی تحریک کے لئے خاصے متحرک ہیں۔ تحریک انصاف کی سابقہ اتحادی پارٹی جماعت اسلامی اپوزیشن اتحاد کا حصہ تو نہیں بن رہی لیکن اپنے طور پر حکومت اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کا اعلان کر رہی ہے۔ نومولود سیاسی جماعتیں بھی میڈیا پر حکومتی جماعت کی بھرپور مخالفت کر رہی ہیں۔ ان جماعتوں میں گلوکار جواد احمد کی برابری پارٹی اور جنرل حمید گل کے فرزند عبداللہ حمید گل کی تحریک جوانان سر فہرست ہیں۔ ان جماعتوں کو نظر انداز اس لئے نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ کبھی عمران خان بھی غیر مقبول سیاسی رہنما اور تحریک انصاف بھی نومولود سیاسی جماعت تھی لیکن آج صورت حال کچھ اور ہے۔

ادھرججز کے خلاف ریفرنس پر وکلا برادری ایک بار پھر سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس کے خلاف ملک بھر کے وکلاء 14 جون کو ہڑتال کریں گے۔ ہمارا احتجاج ججزکے لیے نہیں اداروں کی مضبوطی کے لیے ہے۔ رہنماؤن کا کہنا تھا کہ سیکشن 176 کے تحت پہلے نوٹس دیا جاتا ہے لیکن جج صاحبان کوکوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ میرٹ کے لحاظ سے بہت کمزور ریفرنس ہے، کامیاب نہیں ہو گا۔

وکلاء رہنماؤں کایہ بھی کہنا ہے کہ مشیر اطلاعات کو سوچ سمجھ کر بیان دینا چاہیے، ریفرنس اور حکومت کے خلاف ہمارا احتجاج ہو گا۔ ریفرنس مس کنڈنکٹ اورسپریم جوڈیشل کے دائرہ کارمیں نہیں آتا۔ حکومت اس ریفرنس کوواپس لے۔ اگر ماضی کے دریچوں میں جھانکا جائے تو وکلا برادری نے مشرف جیسے آمر کا تختہ الٹنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

کپتان جی کو اب اپنے وزیروں اور مشیروں کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ یقینی طور پر سابقہ حکومتوں نے کرپشن کی ہوگی لیکن عوام نے تحریک انصاف کو ان کے وعدوں کی بنیاد پر ووٹ دیا تھا۔ عمران خان کو اب کرپشن کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ عوام کی اکثریت کو شاید اس بات سے غرض نہ ہو کہ میاں صاحب جیل میں کس حال میں، شاید عوام کی اکثریت ان کے جیل جانے کے حق میں ہی ہو۔ عوام کی اکثریت یہ بھی چاہتی ہے کہ جن دیگر افراد پر جرم ثابت ہو انہیں بھی جیل بھیجا جائے۔

لیکن عوام کو اس لوٹی ہوئی رقم کا انتظار ہے جو کپتان جی نے واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ عوام کو اس دن کا انتظار ہے جب مہنگائی میں کمی ہوگی۔ عوام کو اس دن کا انتظار ہے جب غریب کی زندگی آسان ہوگی، جب سرکاری اسکولوں کا معیار پرائیویٹ اسکولوں جیسا ہوگا، جب انہیں سرکاری اسپتالوں میں سہولیات میسر ہوں گی۔ عمران خان کو چاہیے کہ اب وہ ادھر ادھر کی باتوں میں الجھنے کے بجائے، چاند اور عید کے مسئلے پر فکر مند ہونے کے بجائے، مودی جی کو خط پر خط لکھنے کے بجائے ملکی حالات کی بہتری کے لئے کوششیں کریں اگر عوام سے کیے وعدے اس بار بھی وفا نہ ہوئے تو شاید عوام اپوزیشن اتحاد کی احتجاجی کال پر نکل آئیں، پھر شاید کپتان ہمارے کپتان کی حمایت نہ کرے اور ملک میں دمادم مست قلندر نہ ہوجائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •