معروضی حقیقت‘ افواہیں اور شہبازشریف کی واپسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانوں کے ساتھ شاید روزِ ازل سے ایسا ہی ہورہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر منتخب ہوجانے کے بعد مگر Post Truth Era کی اصطلاح زبان زدعام ہوئی۔ آسان ترین لفظوں میں اسے سمجھنا ہوتو کہہ سکتے ہیں کہ ایک شے ہوا کرتی ہے -’’معروضی حقیقت‘‘- مثال کے طورپر سورج کو میں دیکھوں یا نہ دیکھوں یہ اپنی جگہ قائم ایک حقیقت ہے۔

16ویں صدی سے عقل پرست فلسفیوں نے بہت استقامت اور ثابت قدمی سے یہ پیغام پھیلانا شروع کیا کہ ’’معروضی حقیقت‘‘ سورج جیسی ٹھوس مادی اشیاء پر ہی مشتمل نہیں ہوتی۔ معاشرتی معاملات پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ سیاست اور اقتدار کی کش مکش سے جڑے قصے بھی چند ’’معروضی حقائق‘‘ کے تابع ہوتے ہیں۔ یہ حقائق میرے اور آپ کی انفرادی خواہشات اور ترجیحات سے بالاتر ہوتے ہیں۔

بات لمبی اور گنجلک ہوجائے گی۔ مختصراََ یہ کہہ کر آگے بڑھتا ہوں کہ آج کے دور میں یہ تصور فروغ پارہا ہے کہ ’’سچ‘‘ وہی ہے جو میں یا آپ اپنی انفرادی خواہشات وترجیحات کے غلام ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

فلمی زبان میں Fast Cut کرتے ہوئے اطلاع اب آپ کو یہ دینی ہے کہ گزشتہ دو دن جو لاہور میں گزارے اور وہاں موجود مسلم لیگ کے حامیوں (اس جماعت کے رہنمائوں یا متحرک کارکنوں سے نہیں) سے گپ لگائی تو دریافت ہوا ان کی اکثریت کو کامل یقین ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (نون) کے صدر شہباز شریف سے ’’ڈیل‘‘ ہوگئی ہے۔ اسی باعث وہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات لندن سے لاہور پہنچ گئے۔ شہباز شریف کے ساتھ ہوئی مبینہ ’’ڈیل‘‘ کی بنا پر مجھ سے گفتگو کرنے والوں کو قوی امید یہ بھی تھی کہ موصوف کی لاہور آمد عندیہ دے رہی ہے کہ ان کی جماعت کے ’’اچھے دن‘‘ آنے والے ہیں۔

یقین مانیں میرے جھکی ذہن نے سوالات کی بوچھاڑ کے ذریعے یہ جاننے کی ہر ممکن کوشش کی کہ میرے ساتھ گفتگو کرنے والے مسلم لیگ (نون) کے حمایتی کن ’’معروضی حقائق‘‘ یا ٹھوس شواہد کی بنیاد پرشہباز شریف سے ’’ڈیل‘‘ ہوجانے کی سوچ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ مجھے کوئی معقول جواب نہیں ملا۔

سادہ منطق کے اطلاق سے خود کو یہ سمجھاتے ہوئے اطمینان دلانے کی کوشش کی کہ شہباز شریف کے Pragmatic ہونے کی شہرت ان سے ’’ڈیل‘‘ ہوجانے کی امید جگانے کا واحد سبب ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔

1990 کی دہائی سے یہ بات مشہور ہوئی کہ اپنے بھائی کے مقابلے میں شہباز صاحب سیاست دانوں کی محدودات کو جبلی طورپر سمجھتے ہیں۔انہیں بخوبی علم ہے کہ منتخب سیاست دانوں کو ہمارے ہاں کامل اختیار نصیب نہیں ہوتا۔ انہیں دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ ’’نیویں نیویں‘‘ ہوکر چلنا پڑتا ہے۔

اسی باعث نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں یہ بات مشہور ہوئی کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان اپنی ہی نگرانی میں کروائے انتخابات کے ذریعے قائم ہوئی قومی اسمبلی کو برطرف کرنا نہیں چاہتے۔ ان کی خواہش ہے کہ شہباز صاحب جوان دنوں قومی اسمبلی کے باقاعدہ رکن تھے اپنے بھائی کی جگہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال لیں۔ شریف خاندان اس کے لئے تیار نہیں ہوا۔ اپریل 1993 میں لہذا وہ اسمبلی برطرف کردی گئی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ہوئی بحالی مگر اسے استقامت فراہم نہ کرپائی۔ بالآخر صدر اور وزیر اعظم سے ا ٓرمی چیف جنرل وحید کاکڑنے استعفے لئے۔ نئے انتخابات ہوئے جن کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو دوبارہ اس ملک کی وزیر اعظم ہوگئیں۔اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے ’’فاروق بھائی‘‘ کو ایوان صدر بھیج دیا۔

پیپلز پارٹی کے جیالوں کو قوی یقین تھا کہ ’’اپنا‘‘ صدر منتخب کروالینے کے بعد ان کی قائد نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کے پانچ آئینی سال مکمل کرنے کا ’’پکا بندوبست‘‘ کرلیا ہے۔ یہ حقیقت مگر اپنی جگہ موجود رہی کہ ’’فاروق بھائی‘‘ کے پاس آٹھویں ترمیم کی بدولت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو گھر بھیجنے کا اختیار حاصل تھا۔

میرے وسوسوں بھرے دل کو یہ خدشہ لاحق رہا کہ ’’فاروق بھائی‘‘ اس اختیار کو استعمال کرنے کی راہ پر ’’ڈالے‘‘ جائیں گے۔ میرے خدشات کا پیپلز پارٹی کے شدید ترین مخالفین بھی مذاق اُڑاتے رہے۔ 1996 کی جنوری کی ایک سہ پہر محترمہ بے نظیر بھٹو سے اکیلے میں ملاقات ہوگئی۔پارلیمان میں موجود وزیر اعظم کے چیمبر میں بیٹھی وہ مجھ سے کرید کرید کر پوچھتی رہیں کہ ’’چھوٹا (شہباز شریف)‘‘ ان دنوں کیا گیم لگارہا ہے۔ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو انہوں نے میری رپورٹنگ والی صلاحیتوں کا مذاق اُڑایا۔ میرے کان کھڑے ہوگئے۔ چند دنوں کی بھاگ دوڑ کے بعد مگر دریافت ہوگیا کہ شہباز صاحب محترمہ عابدہ حسین اور شاہد حامد کے ذریعے ’’فاروق بھائی‘‘ سے ’’تھرو‘‘ ہو چکے ہیں۔

شہباز صاحب کی ’’ڈیل میکنگ‘‘ صلاحیتوں کو اجاگر کرتی اس کے علاوہ بھی میرے پاس کئی کہانیاں ہیں۔ میں ان کہانیوں کو دہرانا اس لئے نہیں چاہتا کیونکہ میری دانست میں 2019 کی اپنی حقیقتیں ہیں اور وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ تاریخ بھی خود کو ہر بار دہرانے کی عادی نہیں۔ کرکٹ کبھی پانچ دن تک پھیلا ٹیسٹ ہوا کرتی تھی۔اب T-20 ہوچکی ہے۔

T-20کے دوروالی سیاست میں شہباز شریف کی ’’ڈیل میکنگ‘‘ شہرت کارآمد نظر نہیں آرہی۔ گزشتہ برس ان کے بھائی احتساب عدالت سے سزا پانے کے بعد اپنی قریب المرگ اہلیہ کو چھوڑ کر بیٹی سمیت لاہور پہنچے تو شہباز صاحب ایئرپورٹ تک پہنچ نہ پائے۔نواز شریف ایئرپورٹ سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل چلے گئے۔اس کے باوجود شہباز صاحب کو کم از کم پنجاب میں دوبارہ اپنی حکومت بنانے کی سہولت نصیب نہیں ہوئی۔

اگست 2018 کے انتخابی نتائج کو کڑوا گھونٹ سمجھ کر ہضم کرجانے والے شہباز صاحب قومی اسمبلی میں اپنے ’’نیویں نیویں‘‘ رویے کے باوجود اپنے خاندان اور جماعت کی مشکلات کا مداوانہ ڈھونڈ پائے۔ نواز شریف کے بجائے اب ان کی ذات اور پوراخاندان احتساب کی زد میں ہے۔

میں یہ سمجھنے سے ہرگز قاصر ہوں کہ احتساب کے تناظر میں شہباز صاحب اور ان کے خاندان کے لئے مسلسل بڑھتی مشکلات کے باوجود لاہورمیں مسلم لیگ (نون) کے ووٹروں کی اکثریت کیوں یہ تصور کررہی ہے کہ ’’ڈیل‘‘ ہوگئی ہے۔ شاید جو’’سچ‘‘ وہ دیکھ رہے ہیں اسے میرا ضرورت سے زیادہ جھکی ذہن دیکھ نہیں پارہا۔ میری ’’عقل‘‘ کو لبِ بام تک محدود رہتے ہوئے تماشہ دیکھنے میں محو رہنا ہوگا۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •