وائس اوور میں کیریر بنائیے، باوقار آمدنی کمائیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آواز۔ زندگی ہے۔ پرندوں کی چہچہاٹ، برستی بارش کی جلترنگ، سناٹے میں گونجتی ٹرین کی سیٹی کی آواز ”، بے ہنگم ٹریفک کا شور۔ اور اس کرہ ارض پر نہ جانے کتنی آوازیں زندگی کا پتہ دے رہی ہیں۔ لیکن ان سب آوازوں میں سب سے خوبصورت تخلیق“، انسانی آواز۔

ننھے بچے کی قلقاری، ماں کی لوری، اپنے حق کے لیے بلند ہوتی آوازیں ”کسی گلوکار کے چھیڑے ہو ئے سُر“ یا پھر۔ کسی ”وائس اوور آرٹسٹ“ کا فن۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وائس اوور انڈسٹری کو پاکستان میں پنپتے ہوئے ایک عرصہ ہوگیا، لیکن آج بھی ایسے افراد کی کمی نہیں، جو ”وائس اوور“ کو ”گلوکاری“ سمجھتے ہیں۔

” وائس اوور“ کیا ہے؟

” وائس اوور“ کو آف کیمرا یا آف اسٹیج کمینٹری بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا آرٹ ہے جس میں ” وائس اوور آرٹسٹ“ کیمرے کے پیچھے رہتے ہوئے اپنی آواز کی ریکارڈنگ کرواتے ہیں۔ مثلا آپ نے نیوز چینلز پر خبریں دیکھتے ہوئے کئی رپورٹس دیکھی ہوں گی، جس میں اسکرین پر دوڑتے بھاگتے مناظر کے پیچھے ایک آواز آتی ہے، جو اس رپورٹ میں کے موضوع کے حوالے سے معلومات فراہم کرتی ہے۔ یا پھر نیشنل جیوگرافک میں کبھی انگلش تو کبھی اردو ڈبنگ کے ساتھ حیرت انگیز ڈاکیومینٹریز آپ نے بھی دیکھی ہوں گی ”جس میں چونکا دینے والے مناظر کو ایک ڈرامائی تاثر دیتی ہیں وہ آوازیں“ جو ان ڈاکیومینٹری فلمز کی ڈبنگ کرتی ہیں۔ اب بھی نہیں سمجھے؟ ارے بھئی، کبھی کسی بینک، کمپنی یا شکایتی مرکز پر کال کرتے ہوئے غور کیا ہے اس ریکارڈنگ پر؟ جو آپ کو ہدایت دیتی ہے کہ اب آپ کسٹمرز سروس کے نمائندے سے بات کرنے کے لیے فلاں نمبر ملائیں ”یا موبائل کا بیلنس لوڈ کرتے ہوئے تو آپ کا واسطہ ان آوازوں سے ضرور پڑا ہوگا۔

غیر ملکی ڈراموں پر اردو ڈبنگ ہو یا کارٹون کیرکٹرز کی آوازیں۔ چلیے ”سب چھوڑیے“ یہ جو دن رات ٹی وی پر مختلف آوازیں، مختلف پراڈکٹس کی خصوصیات بیان کرتی سنائی دیتی ہیں ”ان تمام ہی آوازوں کا تعلق براہ راست“ وائس اوور ”کیرئیر سے ہے۔ یہ

” وائس اوور“ آرٹسٹ ہی ہوتے ہیں جو ان ڈاکیومینٹریز، نیوز رپورٹس، آئی وی آر اور اشتہارات کو اپنی دلکش آوازوں سے چار چاند لگادیتے ہیں۔

” وائس اوور“ کا معاوضہ

وقت گزرنے کے ساتھ ”وائس اوور“ انڈسٹری کے بارے میں جیسے جیسے شعور پیدا ہوا ہے، یہ شعبہ آہستہ آہستہ اپنی جگہ بنارہا ہے۔ لیکن دلی اب بھی دور ہے۔ آج بھی ایسے کلائنٹس کی کمی نہیں جو اپنی مصنوعات کے اشتہارات یا پروموشنل وڈیوز کے بجٹ میں وائس اوور کو سب سے آخر میں رکھتے ہیں۔ لیکن یہ حربہ تجربے کار وائس اوور آرٹسٹوں پر اب نہیں چلتا۔ البتہ وہ نوجوان جو اس فیلڈ کے بارے میں زیادہ معلومات اور آگاہی نہیں رکھتے، وہ بہ آسانی معاشی استحصال کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ایسے ہی ”نئے“ وائس اوور آرٹسٹوں کو ایک دو ہزار روپے دے کر نمٹا دیا جاتا ہے۔ لیکن تجربے کار ”وائس اوور“ آرٹسٹ اپنے فن کا مناسب معاوضہ وصول کرلیتے ہیں۔ جس میں ایک ”وائس اوور“ کا کم سے کم معاوضہ بھی فی ”وائس اوور“ چھ سے دس ہزار ہے۔ اس کے بعد پراڈکٹ، کلائنٹ اور اسکرپٹ کے ساتھ یہ معاوضہ بڑھتا جاتا ہے۔ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہر آرٹسٹ اپنی آواز کی قیمت خود لگاتا ہے۔ چاہے تو بے قیمت کر دے ”چاہے تو قدرت کے انعام کا جائز معاوضہ وصول کرے۔

” وائس اوور“ اسکوپ؟

ایسے وقت میں جب انڈسٹری بحران کا شکار ہیں، ”وائس اوور“ ایک ایسا شعبہ ہے جس کی پہنچ لامحدود ہے۔ یہ انڈسٹری ٹی وی چینلز تک محدود نہیں ہے۔ ایڈورٹائزنگ ایجنسیز، پروڈکشن ہاوسز، مختلف کاروباری ادارے جو اپنی پراڈکٹس کی تشہیر کے لیے وڈیوز پروڈکشن کرتے ہیں ”ان تمام ہی اداروں میں وائس اوور آرٹسٹوں کے لیے لامحدود مواقع ہیں، جہاں وہ اپنی آواز کو کیش کروا سکتے ہیں۔ بلکہ اب تو کچھ ادارے باقاعدہ “وائس اوور آرٹسٹ ” ہائر بھی کرنے لگے ہیں۔ جب کہ ایف ایم ریڈیوز میں بھی آر جے ز اپنی آوازکا ہی معاوضہ لیتے ہیں۔

” وائس اوور آرٹسٹ“ بننے کے لیے کیا کیا جائے؟

”یار تمہاری آواز بہت اچھی ہے۔ “ زندگی میں کبھی کسی نے آپ کو یہ جملہ کہا ہے؟ تو جواب میں شرما کر مسکرا کر سر جھکانے کے بجائے، فوراً وائس اوور ”کرنے کا سوچیے۔ اللہ نے آپ کو جو آواز کا تحفہ دیا ہے“ اسے رزق حلال کمانے کے لیے استعمال کیجئے۔ اپنی آواز خود ریکارڈ کیجئے، اور سن کر اندازہ لگائیے کہ آپ اس وقت وائس اوور فیلڈ میں کہاں کھڑے ہیں؟ کچھ لوگ اس فن میں قدرت کی طرف سے مالامال ہوتے ہیں، جب کہ کچھ اچھی آوازوں والے اپنی آواز کو پالش کر کے اس انڈسٹری میں جگہ بنا سکتے ہیں۔ ”وائس اوور“ کو ایزی منی تو نہیں کہاجا سکتا، البتہ اس ٹیلنٹ کو کیش کرانے کا آسان ذریعہ ضرور ہے۔

” وائس اوور ریکارڈنگ اسٹوڈیو“

عام طور پر وائس اوور ریکارڈنگز کے لیے ایڈورٹائزنگ ایجنسیز، پروڈکشن ہائسز آرٹسٹ کو اپنے اسٹوڈیو میں بلا کر ریکارڈنگ کرواتی ہیں۔ لیکن جب آپ اس فیلڈ میں اتنے تجربے کار ہوجائیں تو ایک مناسب ریکارڈنگ اسٹوڈیو خود اپنے گھر میں بھی سیٹ کرسکتے ہیں۔ جس کے لیے کچھ سرمائے کی ضرورت ہو گی اور پھر ہمیشہ کی سہولت۔ کیوں کہ عام طور پر ادارے ان وائس اوور آرٹسٹوں سے کام کروانا پسند کرتے ہیں جو خود ریکارڈنگز کر کے بھیج سکتے ہوں۔ کیوں کہ اس طرح ورک فورس اور سروس چارجز کی مد میں اٹھنے والے اخراجات میں کمی آجاتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>