نالائقی ہے یا نیت خراب ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس ملک میں دودھ شہد کی ندیاں تو کبھی بہتی نظر نہیں آئی مگر زیادہ عرصہ نہیں گزرا یہ صرف سال پرانی بات ہے۔ اسی ملک میں اسٹاک مارکیٹ پچاس ہزار پوائنٹس سے زائد پر ٹریڈ کر رہی تھی۔ معاشی شرح نمو یعنی جی ڈی پی گروتھ ریٹ 8۔ 5 فیصد تک پہنچ چکا تھا اور عالمی اداروں کے تخمینے کے مطابق مزید اضافہ متوقع تھا۔ شرح سود چھ فیصد کے لگ بھگ تھی۔ مہنگائی اور افراط زر کے اشاریے بھی کنٹرول میں تھے۔ روپے کی قدر ایک جگہ پر مستحکم تھی۔

ملک میں بجلی کے کارخانے لگ رہے تھے۔ ہزاروں میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوئی۔ دم توڑ چکی صنعتیں واپس بحالی کی طرف گامزن تھیں۔ ملک میں بیروزگار بہت تھے مگر بہرحال نئی ملازمتوں کے مواقع بھی کچھ نہ کچھ پیدا ہو رہے تھے۔ کسان بھی اپنی پیداوار اور ملنے والے معاوضے سے تھوڑا بہت مطمئن ہی تھے۔ بازاروں میں رونق اور کاروباری سرگرمی کی صورتحال بھی گزارے لائق تھی۔

اب ایک سال بھی تمام نہیں ہوا۔ وہی اسٹاک مارکیٹ جو پچاس ہزار سے زائد پر ٹریڈ کرتی تھی، اب بتیس ہزار کے اریب قریب گھسٹ رہی ہے۔ گروتھ ریٹ میں بھی اس عرصے میں تین فیصد ریکارڈ تنزلی ہوئی۔ شرح سود دگنی ہو کر بارہ فیصد ہو چکی ہے۔ افراط زر کی شرح بھی آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی ہے جس کے باعث عوام کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ڈالر جو سو روپے میں ملا کرتا تھا اب ڈیڑھ سو میں ملتا ہے۔ پہلے سے برسر روزگار پندرہ لاکھ افراد ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

زرعی پیداوار بھی مناسب نہیں ہوئی، کھاد اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے نے کاشتکار کا بالکل بھٹہ ہی بٹھا دیا۔ بازار اور مارکیٹیں سنسان ہیں۔ تاجر اور دکاندار مدقوق چہرے لیے بیٹھے خریداروں کی راہ تکتے ہیں۔ یہاں تک کہ عید کے سیزن پر کپڑے اور جوتے کا کاروبار بھی مندی کا شکار رہا۔ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ دوبارہ وبال جان بنتا جا رہا ہے۔ سرمایا دار اور صنعتکار اپنا روپیہ پیسہ لپیٹ کر کھسک رہے ہیں۔

حال ہی میں اقتصادی جائزہ رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق سابق حکومت نے اقتصادی ترقی کی شرح 3۔ 6 فیصد طے کی تھی۔ تاہم جون میں اختتام پذیر ہونے والے مالی سال میں تنزلی کے بعد یہ صرف 3۔ 3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت پہلے سے طے تمام اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہے اور تمام شعبہ جات میں توقعات سے کم نتائج رہے۔ صنعتی شعبہ میں شرح نمو تیزی سے تنزلی کا شکار ہوئی اور مقررہ ہدف 7.6 فیصد کے مقابلے میں صرف 1.4 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔

یہ امر قابل توجہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں متعدد پاور پلانٹس کا اضافہ ہوا اور شعبہ کے دیگر سیکٹر کے منصوبے بھی مکمل ہونے کے باوجود شرح نمو غیر معمولی کم رہی۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں شرح نمو کا ہدف 8.1 فیصد طے کیا گیا تھا تاہم رپورٹ کے مطابق اسمال مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 0.3 فیصد اور بڑے مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 2 فیصد ہی اضافہ ہوسکا۔ سروس کے شعبے میں رواں مالی سال کے اختتام تک شرح نمو کا ہدف 6.5 فیصد کے مقابلے میں صرف 4.7 فیصد رہا جبکہ تعمیراتی شعبے میں شرح نمو 10 فیصد کے مقابلے میں 7.6 فیصد رہا۔

اس کے علاوہ حالیہ عرصے میں حکومت نے ٹیکسز میں ظالمانہ حد تک اضافہ کیا لیکن پھر بھی چار سو ارب کے تاریخی خسارے کا سامنا ہے۔ حکومت کارکردگی بہتر بنانے کے بجائے پچھلوں پر لعن طعن میں مصروف ہے۔ حالانکہ ہر شخص جان چکا ہے اس خرابی کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ حکومت نا اہل ہے اور معاملات سنبھالنے کی صلاحیت اس میں نہیں۔ دوسری وجہ اس قصہ میں پڑھ لیں۔

ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا جسے شکار کھیلنے کا بہت شوق تھا اور وہ اپنے اس شوق کی تکمیل کے لیے لمبے لمبے سفر کرتا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایسے ہی ایک سفر میں تھا کہ اپنے پسندیدہ شکار کا پیچھا کرتے لاؤ لشکر اور مصاحبین سے بچھڑ کر کافی آگے نکل گیا۔ جب تک بادشاہ کو راستہ اور ساتھی کھو دینے کا احساس ہوا بہت دیر ہو چکی تھی۔ بادشاہ کے ہاتھ سے شکار بھی نکل گیا اور بہت کوشش کے باوجود وہ اپنے ساتھیوں کو بھی نہ ڈھونڈ پایا۔

اسی کیفیت میں بھٹکتے بھٹکتے اندھیرا پھیلنے لگا اور سر شام تھکن سے چور وہ ایک گاؤں میں جا پہنچا اور کیا دیکھتا ہے کہ سامنے ایک انار کا باغ موجود ہے۔ بادشاہ باغ میں داخل ہوگیا اور باغ کے مالک سے درخواست کی کہ مسافر ہوں، پیاس بہت لگی ہے پانی پلا دو۔ باغ کا مالک مہمان نواز اور نیک نیت آدمی تھا۔ اسے اپنے مہمان کو خالی خولی پانی پلانا مناسب نہ لگا لہذا اس نے اپنے ہی باغ سے ایک انار توڑا اور اس کا رس نکالنے لگا۔

چند منٹوں میں ہی پورا پیالہ انار کے رس کا بھر گیا اور وہ اس نے بادشاہ کو لا کر پیش کر دیا۔ بادشاہ دور بیٹھا حیرت زدہ ہو کر یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ محظ ایک انار کے رس سے پورا پیالہ بھر گیا ہے اور اس کا ذائقہ بھی کتنا عمدہ اور بہترین ہے۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کے ذہن میں خیال آیا کہ یہ کسان اس بیابان میں ایسے عمدہ اور رسیلے انار اگا رہا ہے۔ ان کی فروخت سے یقینا اچھا منافع بھی کمارہا ہو گا۔ لیکن چونکہ اس کی خبر اب تک ہمیں نہیں تھی تو اس پر ٹیکس بھی نہیں لگتا رہا اور اس کی آمدنی سے سرکار کو آج تک کوئی حصہ نہیں ملا۔

اسی وقت بادشاہ نے دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ واپس جاکر اپنے نمائندے یہاں بھیج کر اس باغ سے ٹیکس وصولی کا انتظام کروانا ہے۔ مزید کچھ دیر گزری تو بادشاہ نے ایک اور گلاس پینے کی فرمائش کر دی۔ کسان نے پھر تازہ انار توڑا اور اسے دبا دبا کر گلاس بھرنے لگا۔ لیکن آدھا گلاس ہی بھرا تھا کہ انار سے رس ختم ہو گیا اور کسان کو ایک اور انار توڑنا پڑا۔ اس بار دو انار بھی بمشکل ایک پیالہ بھر سکے۔

یہ دیکھ کر بادشاہ حیران ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ اس بار انار سے رس اتنا کم کیوں نکلا۔ بادشاہ نے کسان سے یہی سوال کیا کہ ایسا کیوں ہوا کہ پہلے تو ایک انار ہی گلاس بھرنے کو کافی تھا۔ اب کی بار دو انار بھی ایک پیالہ بھرنے میں ناکافی ثابت ہوئے۔ بادشاہ کے اس سوال پر باغ کے مالک نے مختصر جواب دیا کہ ”ہمارے حکمران کی نیت خراب ہو گئی ہے“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •