شہزور ہموی سے مردانگی کی تسکین (ڈیو بیری)۔


\"dave-barry\"

اب وقت ہوا چاہتا ہے ہمارے مقبول فیچر کا، یعنی ”وہ چیزیں جو کہ مردوں کی ضرورت ہیں“۔ اور ہمارا آج کا موضوع ہے ”ہم وی“۔

بہت سے امریکی ہموی (Humvee. Military shorthand for HUgely Masculine VEEhickle) سے اس وقت آشنا ہوئے جب خلیج کی جنگ کے دوران امریکی دستوں نے میزائل بردار ہموی دوڑاتے ہوئے عراق کا بھرتا بنا دیا اور صدام حسین کو ایسا سبق دیا جو کہ وہ کئی ہفتوں تک نہیں بھلا پایا۔

جنگ کے بعد ہموی کیلیفورنیا کے چند دولت مند امریکیوں کے ہاتھ آ گئی۔ اس کی وجہ سے کچھ حادثات بھی ہوئے، جن میں سے قابل ذکر وہ حادثہ ہے جس میں آرنلڈ شوارزنیگر نے اپنے گیراج کا دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے غلطی سے ایک میزائل چلا دیا۔ لیکن خوش قسمتی سے وہ ایک میزائل ایسے علاقے میں گرا جہاں مشہور لوگ نہیں رہتے تھے۔

لیکن جب ایک مرتبہ یہ ”غلطیاں“ نکال دی گئیں، تو ہموی کو عام شہریوں کو فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا۔ گزشتہ دنوں میں نے اپنے کولیگ ٹیری جیکس کے توسط سے ایک ہموی چلائی۔ ٹیری جیکسن، میامی ہیرالڈ کا گاڑیوں کا فیچر رائٹر اور ٹی وی پروگراموں کا نقاد ہے۔ جی میں نے درست کہا ہے، یعنی اس شخص کو نئی نکور گاڑیاں چلانے اور ٹی وی دیکھنے کے پیسے ملتے ہیں۔ دنیا میں ایسی موج والی نوکری کرنے کے بعد اگر وہ کبھی بھی فوت ہوا اور جنت گیا تو اسے وہ کافی روکھی پھیکی لگے گی۔

\"Dark-Yellow-Hummer-H2\"

جب میں ٹیری کے گھر پہنچا تو وہاں شوخ پیلے رنگ کی ہموی کھڑی تھی جو کہ قریب سے گزرتے ہوئے مردوں کی بہتی ہوئی رالوں سے بھیگی ہوئی تھی۔ سٹائل کی بات کی جائے تو ہموی اتنی زیادہ مردانہ ہے جتنی کہ ایک گاڑی اپنے ٹائروں پر داڑھی مونچھ اگائے بغیر ہو سکتی ہے۔ یہ ایک بڑی سی ڈبہ نما شے ہے جس کے بے تحاشا بڑے بڑے ٹائر ہیں اور اس میں بہت سے میکانکی ابھار نکلے ہوئے ہیں۔

ٹیری نے مجھے بتایا کہ اس ماڈل کی قیمت ایک کروڑ روپے ہے، جو کہ اس وقت تک بہت زیادہ قیمت لگتی ہے جب تک کے آپ اس کے فیچرز نہ دیکھ لیں۔ مثال کے طور پر اس کے ڈیش بورڈ پر بٹن لگے ہوئے ہیں جن کو دبا کر آپ دوران ڈرائیونگ بھی اس کے ٹائروں میں ہوا بھر سکتے ہیں یا نکال سکتے ہیں۔ کیا یہ کمال کی چیز نہیں ہے؟ ایک مثالی قسم کی مردانہ دنیا میں، ہموی کا یہ فیچر خواتین کو بے حد امپریس کر دے گا۔

مرد: دیکھو، میں گاڑی چلاتے چلاتے ٹائروں میں ہوا بھر سکتا ہوں۔
خاتون: گاڑی کنارے لگا دو، مجھے تم سے شدید محبت ہو چکی ہے جس کا فوری اظہار کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔

لیکن بدقسمتی سے حقیقی زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ مجھے اس بات کا علم ہے کیونکہ میں اپنی بیگم کو اس میں بٹھا کر سیر کرنے لے گیا تو ہمارے درمیان کچھ ایسی گفتگو ہوئی:۔

میں: دیکھو، میں گاڑی چلاتے چلاتے ٹائروں میں ہوا بھر سکتا ہوں۔
بیگم: لیکن کیوں؟

\"HUMVEE-2\"

فنچ، یعنی مکینکی ہک، ایک اور ایسا بہترین فیچر ہے جو کہ میری بیگم کی نگاہ میں قطعی غیر اہم تھا۔ اس ہموی کے سامنے ایک کمال کا فنچ لگا ہوا تھا ( ”یہ تو اتنی طاقتور ہے کہ ایک گھر کو بھی کھینچ سکتی ہے“ ٹیری نے بتایا)۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی احساس ہو سکتا ہے کہ آپ ٹریفک میں گھرے ہوں اور یہ جانتے ہوں کہ آپ ارد گرد موجود کسی بھی شخص سے بڑی فنچ کے مالک ہیں؟

اس سے بڑھ کر یہ کہ کسی بھی ایمرجنسی میں یہ فنچ بہت کارآمد ثابت ہو گی۔ مثال کے طور پر کوئی بیہودہ شخص آپ کی گاڑی کو ٹکر مار کر سڑک سے نیچے پھینک دیتا ہے، تو جیسے ہی کرین آپ کو باہر نکالے گی، آپ اس بیہودہ شخص کے گھر کا پتہ معلوم کریں گے، اور اس فنچ کی مدد سے اس کے گھر کو کھینچ گرائیں گے۔

یاد آیا، اس ہموی میں ایک انجن بھی لگا ہوا ہے۔ ٹیری نے مجھے یہ انجن دکھانے کی پیشکش کی مگر میں نے انکار کر دیا۔ میں سختی سے انجن نہ دیکھنے کی پالیسی پر عمل کرتا ہوں کیونکہ جب بھی میں بونٹ کھول کر انجن پر نظر آتا ہے تو کہیں سے ایک مکینک نمودار ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کی گاڑی کی خرابی دور ہو گئی ہے اور مجھ سے ساڑھے سات ہزار کی مزدوری جھاڑ کر چلتا بنتا ہے۔ لیکن بہرحال میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ ہموی کے انجن کا بہت زیادہ شور ہے۔ میں چشم تصور سے دیکھ سکتا ہوں کہ بونٹ کے نیچے بے شمار آدمی کھڑے اس میں کوئلہ ڈال رہے ہیں اور لیونارڈو ڈی کیپریو اور کیٹ ونسلیٹ موج مستی کرتے ہوئے اس کے ارد گرد بھاگ رہے ہیں۔

جہاں تک آرام کی بات ہے، تو اس سارے کھردرے مردانہ پن کے باوجود جب یہ ہائی وے پر دوڑ رہی ہوتی ہے، تو اس کی سواری کرتے ہوئے بالکل یہی محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک بہترین قسم کی لگژری کار میں بیٹھے ہوئے ہیں جس کو اس کی چھت کے بل پتھروں پر گھسیٹا جا رہا ہے۔

لیکن ایک سچے شہزور مرد کو آرام نہیں چاہیے ہوتا ہے۔ اس کے آرام کے لیے یہی علم بہت ہے کہ وہ اپنی گاڑی کو مشکل ترین سطح زمین پر چلا سکتا ہے۔ اور میں نے اس ہموی کو امریکہ میں کسی بھی کار کے لیے موجود مشکل ترین چیلنج دے دیا۔ جی ہاں، میں درست کہہ رہا ہوں، میں اسے کرسمس کے سیزن میں ایک شاپنگ مال میں لے کر چلا گیا۔

\"parking\"

شاید آپ یہ سوچیں گے کہ میں احمق ہوں۔ لیکن لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پرتگالی جہازراں واسکوڈے گاما بھی احمق تھا، اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اس نے کیا کارنامہ سرانجام دیا؟ مجھے بھی اس کا علم نہیں ہے مگر اس نے وہ نہ کیا ہوتا تو مجھے شک ہے کہ پرتگال آج اس مقام پر نہ ہوتا، یعنی کارک بنانے والا سب سے بڑا ملک نہ ہوتا۔

اور یوں میں نے خود کو شاپنگ مال کی پارکنگ میں ہموی چلاتے ہوئے پایا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں وہاں گھومتی ہوئی بیس ہزار گاڑیوں سے صرف ایک گاڑی کی خالی پارکنگ کی جگہ چھِیننے کا مقابلہ کر رہا ہوں۔ لیکن میں یہ جانتا تھا کہ یہ بیس ہزار لاچار ڈرائیور اپنی اپنی گاڑی روکنے پر مجبور ہو جائیں گے، اگر انہیں اس کی ہوا نکالنے یا بھرنے کی ضرورت پڑ جائے۔

”مچھر پہلوان کہیں کے“، میں یہ سوچ کر شہزوروں والی ہنسی ہنسا۔ میری بیگم مجھے دیکھ کر مایوسی سے سر ہلا رہی تھی مگر بخدا میں بخیر و عافیت وہاں شاپنگ مال میں داخل ہونے اور نکلنے میں کامیاب ہو گیا، اور میرا خیال ہے کہ میں نے اس دوران ایک ہزار لیٹر سے زیادہ پیٹرول نہیں خرچ کیا ہو گا۔

تو صدام، اگر تم یہ پڑھ رہے ہو تو برائے مہربانی مزید ہموی بھیج دو۔

طبع زاد ترجمہ: عدنان خان کاکڑ

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar