ماں صدقے! کیا عقل پائی ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”سستا لے بار بار۔ مہنگا لے ایک بار! “ پروفیسر منہاس صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ان سے پوچھا یہ تھا کہ ڈرائیور کو اتنی زیادہ تنخواہ کیوں دے رہے ہیں؟ کلب پہنچیں گے تو ڈرائیور کو پانچ سو دیں گے حالانکہ وہاں وہ ڈیڑھ سو میں اچھا خاصا معقول لنچ کر سکتا ہے۔ کپڑوں کا ایک جوڑا نہیں ایک وقت میں دو تین جوڑے لے کر دیں گے۔ جوتے لے کر دیں گے تو مہنگے ’اسی معیار کے جس کے وہ خود لیتے ہیں۔ پروفیسر صاحب یہ سارے کام نرم دلی کے سبب یا ثواب کی خاطر نہیں کر رہے۔

یہ چاق و چوبند ڈرائیور سالہا سال سے ان کے پاس ہے۔ اس اثناء میں ان کے دوستوں کے پاس کئی ڈرائیور آئے اور کئی گئے مگر پروفیسر صاحب کے ڈرائیور کے پاس کہیں اور جانے کا کوئی جواز نہیں۔ اچھی تنخواہ اچھی ٹپ‘ اچھا لباس ’اس کے لئے وہی کام کر رہے ہیں جو مقوی قلب خمیرہ گاؤزبان عنبری جواہر والا کرتا ہے۔ یہ نکتہ سنگا پور کے معمار وزیر اعظم لی کوان ییو نے بھی سمجھ لیا تھا اس نے سرکاری ملازموں کی تنخواہیں کئی گنا بڑھا دیں اتنی کہ لوگ حیران رہ گئے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ پبلک سیکٹر‘ خم ٹھونک کر ’نجی شعبے کے مقابلے میں آ گیا۔ بقول شاعر ؎ رخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے ہارورڈ‘ لندن سکول آف اکنامکس اور میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی جیسی صف اول کی درس گاہوں سے فارغ التحصیل ’سنگا پور کے بہترین دماغ سرکاری ملازمت کی طرف کشاں کشاں آئے اور بہترین بیورو کریسی نے مچھروں اور کیچڑ سے بھرے اس خرابہ نما جزیرے کو جاپان کے بعد ایشیا کا دوسرا امیر ترین ملک بنا دیا۔

یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں جو سمجھ میں نہ آئے۔ مگر افسوس‘ پاکستان کے فیصلہ سازوں کو یہ نکتہ نہیں سوجھ رہا سرکاری ملازموں کے ساتھ سوتیلی ماؤں والا سلوک کیا جا رہا ہے ایک زمانہ تھا کہ ملک کے بہترین دماغ مقابلے کا امتحان دے کر سرکاری نوکری کرتے تھے۔ اب نوجوان تعلیم ختم کرتا ہے تو سیدھا نجی شعبے کا رخ کرتا ہے۔ اچھا آغاز! خوشگوار ماحول! کچھ عرصہ کے بعد اس کے پاس چھوٹی سی گاڑی ہوتی ہے۔ پاکستان میں سرکاری ملازم بدترین ماحول میں کام کرتا ہے۔

پرانا ’زنگ آلود فرنیچر۔ کمرے ایسے جن سے ہوا کا گزر ہوتا ہے نہ روشنی کا! کیریر پلاننگ صفر پھر جو ٹاپ پر پہنچ کر سیکرٹری بن جاتا ہے یا محکمے کا سربراہ۔ اس کی ترجیح اوپر والوں کی خوشنودی ہو جاتی ہے! نیچے والے جائیں بھاڑ میں۔ چند ماہ ہوئے ایک وفاقی سیکرٹری کو یاد دلایا کہ آپ کا فلاں افسر ایک ہی جگہ پر بارہ سال سے بیٹھا ہے‘ اسے کہیں اور بھیج دیجیے۔ تجربے میں تنوع ہونا چاہیے یہ صاحب انسان سے فوراً لوہے کا مجسمہ بن گئے بلکہ لوہے کی لاٹھ!

تازہ ترین خبر پڑھ کر سرکاری ملازموں پر تو رحم آیا ہی ہے۔ ریاست کی بدقسمتی پر زیادہ افسوس ہو رہا ہے جو بھی حکمران آیا ’اسے دیوار کے پار تو کیا نظر آتا، دیوار کے اس طرف بھی دیکھنے سے معذور ہے! وزیر اعظم کے ہاں غور اس بات پر ہو رہا ہے کہ گریڈ سترہ اور سترہ سے اوپر کے ملازمین کی تنخواہیں آنے والے بجٹ میں نہ بڑھائی جائیں۔ دوسری طرف‘ عذاب کو دوگو نہ کرنے کے لئے یہ تجویز بھی ہے کہ تنخواہ دار ملازمین کے لئے قابل ٹیکس آمدنی کی حد بارہ لاکھ سے کم کر کے چار لاکھ یا چھ لاکھ روپے کر دی جائے۔

قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ گریڈ سترہ ’اٹھارہ‘ انیس یا بیس کا سرکاری ملازم کروڑ پتی نہیں ہوتا۔ وہ بھی اسی بازار سے سودا سلف لیتا ہے جس سے سب لیتے ہیں ’اسے تنخواہ کے ساتھ پٹرول کا ڈرم مفت ملتا ہے نہ بجلی گیس پانی اور ٹیلی فون کے بل ادا کرنے کے لئے روپوں کی تھیلی الگ دی جاتی ہے اس نے لباس بھی اسی بازار سے لینا ہے جہاں سے سب لیتے ہیں اور کفن بھی۔ اگر ایسا فیصلہ کیا گیا تو یہ ایک احمقانہ فیصلہ ہو گا۔ بہت سے دوسرے فیصلوں کی طرح!

ایماندار سرکاری ملازم‘ حالات سے مجبور ہو۔ دیانت داری کو الماری میں بند کر دیں گے۔ اس لئے کہ ؎ شب جو عقدِ نماز می بندم چہ خورد بامراد فرزندم رات کو نماز پڑھتا ہوں تو دل میں خیال یہ ہوتا ہے کہ صبح اولاد کھائے گی کیا؟ جو ایمانداری پر قائم رہیں گے ان کے دل ٹوٹ جائیں گے۔ بددلی غلبہ پائے گی۔ کارکردگی نیچے آ جائے گی! ریاست ان کا خیال نہیں رکھ رہی ’وہ کیوں ریاست کا خیال رکھیں؟ ایک طرف یہ اندھا پن کہ گریڈ بیس‘ اکیس اوربائیس والوں کو کہا گیا ہے کہ تم سرکاری گاڑی اور سرکاری ڈرائیور استعمال نہ کرو ہم تمہیں ماہانہ ستر ہزار سے لے کر نوے پچانوے ہزار تک الاؤنس (Monetization)دے رہے ہیں۔

حالت یہ ہے کہ کثیر تعداد الاؤنس بھی لے رہی ہے اور سرکاری گاڑیاں مع ڈرائیور بھی استعمال کر رہی ہے۔ دوسری طرف اتنی بے بصیرتی کہ سترہ اٹھارہ اور انیس والوں کی تنخواہیں نہیں بڑھائی جا رہیں۔ انگریز اس اندھے پن کو بلکہ ڈنگر پن کو کہتے ہیں Penny wise، pound foolishیعنی چھوٹی رقوم پر سوچ بچار اور بڑی رقوم پر شاہ خرچی۔ بنیادی ضروریات میں کنجوسی اور اسراف و تبذیر پر خزانے کا منہ کھول دینا! پائی پائی کو ترستے ’ان سرکاری ملازموں کے بچے جب بڑے ہوں گے تو سرکاری ملازمت کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھیں گے جس ریاست نے ان کے والدین کو تڑپایا‘ وہ اس ریاست کے جبڑے میں اپنے آپ کو کیوں پھنسائیں؟

کیوں نہ نجی شعبے کا رخ کریں جہاں کھوتے اورگھوڑے میں اور گندم اور جَو میں فرق روا رکھا جاتا ہے کام چور اور مستعد کو ایک لاٹھی سے نہیں ہانکا جاتا۔ سیٹھ کو معلوم ہے کہ کون اس کے ادارے کے لئے مفید ہے اور کون محض بوجھ! دوسری طرف ریاست کی آنکھوں میں کالا موتیا اترا ہوا ہے۔ ہاتھ میں سفید چھڑی بھی نہیں پکڑتی! لگتا ہے حافظ شیرازی نے یہ شہرہ آفاق سدا بہار اشعار پاکستان کی نوکر شاہی کے حوالے سے کہتے تھے ؎ ابلہان را ہمہ شربت زگلاب و قنداست قوتِ دانا ہمہ از خون جگر می بینم اسپ تازی شدہ مجروح بہ زیر پلان طوق زرین ہمہ در گردن خرمی بینم احمقوں کو خوش ذائقہ شربت پلائے جا رہے ہیں۔

وہ جو عقل مند ہیں اپنے جگر کا خون پی رہے ہیں۔ بہترین نسل کے گھوڑے کی پیٹھ پر گدھے کا پالان ہے اورگدھے کی گردن میں سنہری رسی! قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایک ایک اجلاس پر لاکھوں کروڑوں خرچ ہو رہے ہیں۔ ایک ہی سرکار میں کچھ کو ”ایم پی ون“ اور ایم پی ٹی ”تنخواہوں سے نوازا جا رہا ہے اور باقی کے لئے عام گریڈ۔ یہ جو ریگولیٹنگ اتھارٹیز ہیں۔ پیمرا اوگرا ’نیپرا وغیرہ، ان سفید ہاتھیوں میں کتنی تنخواہیں‘ ذرا عوام کو بتائیے۔ ایک ایک شعبے میں چار چار مشیر وزیر اعظم نے رکھے ہوئے ہیں۔ مگر ع برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر تنخواہیں منجمد کریں گے تو سرکاری ملازموں کی! ماں صدقے! کیا عقل پائی ہے!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •