وہ فرشتہ ہے نہ ساحر

یہ آج نہیں ہو رہا۔ صدیوں سے ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے۔ جس زمانے میں عرب پرتگال کی سرحد سے لے کر ماورا النہر تک چھائے ہوئے تھے جیسے پرزور گھٹا افق تا افق چھا جاتی ہے، اس زمانے سے محاورہ چلا آ رہا ہے من صنّف فقداستھدف۔ جو بھی نیا راستہ نکالے گا،…

Read more

نسل‘زبان اور مسلک کے پھندے

چودہ مزید پنجابیوں کو بلوچستان میں قتل کر دیا گیا ہے۔ سفاکی اور بربریت کا وحشیانہ مظاہرہ! زمین کے کسی خطے کو اگر چند قبائلی سردار‘ چند نواب‘ چند خان‘ چند ملک‘ زیرنگیں رکھنا چاہیں تو اس کا کامیاب ترین طریقہ‘ جو صدیوں سے آزمایا جا رہا ہے‘ یہی ہے کہ مقامی اور غیر مقامی…

Read more

ماتم کرو اے اہلِ پاکستان! ماتم کرو!!

افسوس! کوئی طہٰ حسین اس ملک کی قسمت میں نہیں! بنفشہ اور گلاب کے پودے جڑوں سے اکھاڑ دیے گئے۔ دھتورے کے بوٹے لہلہا رہے ہیں۔کہاں وہ ساون کے آم کے درختوں سے ٹپکا لگتا تھا۔ ہر طرف حنظل‘ نیم اور اندرائن کے پیڑ ہیں اور جھاڑ جھنکار! 1950ء کا عشرہ تھا جب ڈاکٹر طہٰ…

Read more

جیفرلٹ کی پذیرائی سرکاری سطح پر کیوں نہیں کی جا رہی

کرسٹوف جیفرلٹ فرانس کے مشہور دانشور، عالم اور ماہر علم سیاسیات ہیں۔ وہ پیرس میں واقع معروف ’’سینٹر فار سٹڈیز ان انٹرنیشنل ریلیشنز‘‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ بیس برس کی عمر میں ڈاکٹر کرسٹوف جیفرلٹ پہلی بار بھارت گئے اور پھر بھارتی سماج کی تہہ در تہہ اندھیری پرتوں میں یوں الجھے کہ مطالعہ اور تحقیق…

Read more

فیس بک… مشتری ہشیارباش

چند دن پہلے فیس بک پر کچھ نوجوانوں کی ترتیب دی ہوئی ’’پسندیدہ‘‘ شعرا کی فہرست دیکھی! عباس تابش اور اختر عثمان کے سوا کوئی معتبر شاعر اس نام نہاد فہرست میں شامل نہ تھا۔ شعرا پرتو نہیں، شاعری پر برا وقت ہے۔ مشاعرے کیا کم تھے، پست ذوقی کی ترویج کیلئے کہ فیس بک…

Read more

میرا گریبان مجھ سے کتنا دور ہے؟

یہ صرف چار پانچ خاندانوں کی کرپشن نہیں جس کا رونا رویا جائے! ایک عمران خان نہیں ’ایسے دس عمران خان بھی آ جائیں تو تبدیلی نہیں آئے گی! آپ اُس باغ کو کیسے ہرا بھرا کر سکتے ہیں جس میں ہر پودے کو کیڑا لگا ہے۔ جس کی نہر کا پانی زہریلا ہے۔ جس میں طوطے ہے نہ بلبلیں۔ جہاں ہر طرف گدھ‘ کوے اور چیلیں منڈلا رہے ہیں۔ جس کے سبزے میں سانپ سرسرارہے ہیں۔ جس کے درختوں پر لکڑ ہاروں کی یلغار ہے۔ جس کی چار دیواری جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے اور ہر کوئی اندر آ کر چیرہ دستی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

زرداری ’نواز شریف‘ جنرل مشرف ’جنرل ضیاء آسمان سے نہیں اترے تھے۔ وہ ہم میں سے تھے۔ ہم بحیثیت مجموعی جس کردار کے مالک ہیں‘ وہی کردار ہمارے منتخب نمائندوں کا اور ہمارے حکمرانوں میں پایا جائے گا۔ یہ منتخب نمائندے ’یہ حکمران‘ یہ پیپلز پارٹی کے سیاستدان ’یہ نون اور قاف لیگ کے عمائدین‘ یہ تحریک انصاف کی حکومت کے وزراء اور مشیر ’یہ برازیل یا چلی سے درآمد نہیں کیے گئے‘ یہ تھائی لینڈ سے نہیں آئے ’یہ اسی ملک کے فرزند ہیں۔

Read more

غلط کہا وزیر اعظم نے! سراسر غلط!

نہیں! جناب وزیر اعظم! غلط کہا آپ نے! سراسر غلط! اگر آپ کا اندازِ فکر یہی رہا تو دامن کا چاک سلے گا تو کیا! گریباں کے چاک سے آ ملے گا! پیراہن کے بخیے ادھڑ جائیں گے! مانا آپ سکندر ہیں! مقدر کے سکندر! مگر ارسطو سے محروم ہیں! کاش! حواریوں میں کوئی رجلِ رشید بھی ہوتا! وہی یک طرفہ ’ایک طرف سے مُڑی ہوئی‘ ترچھی ’اپروچ ہے آپ کی جو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تھی! وہی Lop Sidedسوچ!

پھر فرق کیا ہوا آپ میں اور آپ کے پیشرو میں! لگتا ہے حکمران اندر سے وہی ہیں۔ دکھانے کے لئے کوئی نواز شریف کی کھال اوڑھ لیتا ہے کوئی عمران خان کی! کھال کے اندر وہی ایک فرد! حکمت سے محروم! اپنے آپ کو عقل کل گردانتا! چاپلوسی کرنے والے بونوں میں گھرا ہوا! وہی بادشاہ کے ”لباس“ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے بصارت اور بصیرت سے محروم درباری! اے زمین و آسمان کے خالق! کوئی بچہ بھیج جو پکار اٹھے کہ بادشاہ سلامت برہنہ ہیں!

Read more

جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے

جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔ یہ اُصول، جو زمانوں سے چلا آ رہا ہے، اہلِ پاکستان کی اکثریت کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔ آخر کون سا کام راتوں رات ہو جاتا ہے؟ معجزوں کے زمانے گزر گئے جب پلک جھپکنے میں ملکہ سبا کا تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے موجود تھا۔ وقت لگتا ہے۔ وقت لگنے سے مراد وہ وقت نہیں جو نیکوکار پوچھتے ہیں ”کیا وقت لگایا ہے“؟ بلکہ کام ہونے میں، نتیجہ حاصل ہونے میں، ظفریابی میں وقت لگتا ہے۔

وہ عظیم شاعر سنائی، جس کے مزار پر اقبال نے اپنی وہ لافانی غزل کہی جس کے یہ اشعار ضرب المثل ہو چکے ہیں۔ وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے غبارِ راہ کو بخشا فروغ واد ئی سینا نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طٰہ سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہ ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے لالا وہی سنائی جس کی یاد میں رومیؔ جیسے عبقری نے کہا تھا ع ما از پئی سنائی و عطّار آمدیم ہاں!

Read more

تحریک انصاف کی درویشی

یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس پر بھی ردعمل خاموشی کی شکل میں ہوا تو یہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہو گا!! اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان ایک اور نازک موقع پر خاموش رہے ہیں۔ اور اُس خاموشی کو ، معاف فرمائیے گا۔ نرم ترین لفظوں میں بھی مجرمانہ خاموشی…

Read more

مسلمان تارکین وطن کا مستقبل

ساڑھے چھ فٹ طویل مصری عالم دین جناب اعلیٰ الزقم میلبورن کے محلے ہائیڈل برگ کی جامع مسجد میں خطبہ دے رہے تھے۔ فصیح و بلیغ آسان عربی میں اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد مافی الضمیر انگریزی میں ڈھال رہے تھے۔ سننے والے دم بخود تھے اور ہمہ تن گوش۔ اس مسجد کی انتظامیہ مصریوں…

Read more