انہاں فارسیاں گھر پٹیا – ناقابل اشاعت کالم

” ایرانی خفیہ ایجنسی کا نمائندہ حاجی ناصر جو کہ پاکستان میں کاروباری شخصیت بن کر آتا جاتا رہتا ہے، سے رابطہ کیا۔ حاجی ناصر کے ساتھ ایران گیا اور اس نے ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسران سے ملاقات کرائی۔ ایرانی خفیہ ایجنسی نے میری حفاظت کی ضمانت دی۔ اور بدلے میں مجھ سے معلومات دینے کا مطالبہ کیا جس پر میں راضی ہو گیا۔ ایرانی انٹیلی جنس کو میں نے کراچی میں آرمڈ فورسز کے اعلیٰ افسران کے نام اور رہائش گاہوں کی معلومات بھی دیں۔ کراچی میں قائم حساس اداروں کے دفاتر اور تنصیبات کے نقشے دیے اور تصاویر دینے کا وعدہ کیا۔ اہم تنصیبات کے داخلی و خارجی راستوں کی نشاندہی کرائی اور سیکیورٹی پر مامور لوگوں کی تعداد، رہائش اور آمد و رفت کا بھی بتایا۔ کراچی اور کوئٹہ کی آرمی کی تنصیبات سے متعلق معلومات دینے کا وعدہ کیا۔“

جاسوسی اور غداری کے یہ اعترافات کسی سول یا ملٹری ملازم کے نہیں۔ یہ کسی عام پاکستانی کے بھی نہیں۔ ایسا ہوتا تو یہ اعترافات کرنے والا آہنی گرفت میں ہو تا۔

Read more

اس سودے میں کیا نقصان ہے؟

مسلم لیگ نون کے ایک سرکردہ لیڈر نے تجویز کیا ہے کہ عمران خان استعفیٰ دے دیں۔ ۔یہ تجویز کسی ان پڑھ سیاست دان نے نہیں بلکہ پارٹی کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ممبر نے پیش کی ہے، عمران خان صاحب فرشتہ نہیں‘ انسان ہیں۔ غلطیوں پر غلطیاں کیے جا رہے ہیں مگر مسلم لیگ نون کا المیہ دوسرا ہے۔ روز اول سے مسلم لیگ نون نے تحریک انصاف کے حوالے سے رویہ متکبرانہ رکھا۔ کبھی کہا کہ وزیر اعظم

Read more

It is Not The End of The World

عمران خان سے مایوس ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میرے منہ میں خاک‘ یاس پاکستان کے مستقبل کو ڈھانپ رہی ہے! تحریک انصاف کرہ ارض کا آخری کنارہ نہیں! It is Not The End of The World دس ستمبر کے کالم’’سروں کی فصل کوئی اور آ کر کاٹے گا؟‘‘پر پڑھنے والوں نے مایوسی کا شکوہ کیا۔ ہر اچھے برے‘ بڑے چھوٹے‘ کالم نگار کا اپنا حلقہ قارئین ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ نے ٹائم زون کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔

Read more

سیاست براستہ مسلک

’’اسلام آباد میں مرحلہ وار دھرنا ہو گا۔ پہلے مرحلے میں ملک کے لاکھوں کارکن دھرنا دے کر سڑکوں پر مساجد آباد کریں گے۔ درس وتدریس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسرے مرحلے میں جیل بھرو تحریک کا آپشن ہو گا۔ حکومت کے جانے تک اسلام آباد میں موجود رہیں گے۔ لاک ڈائون کا فیصلہ اٹل ہے۔ آزادی مارچ میں علماء کرام، پیش امام، حفاظ کرام قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شریک ہوں گے۔‘‘ یہ اعلان دو دن پہلے

Read more

سر کی فصل۔ کوئی اور آ کر کاٹے گا؟

وہ سامنے دیکھئے! پہاڑ کی چوٹی سے تحریک انصاف کی حکومت لڑھکتے ہوئے نیچے آ رہی ہے۔ دوبارہ دیکھیے! غور سے دیکھیے! سورہ مُلک میں حکم دیا گیا کہ تخلیقِ کائنات کو بار بار دیکھو! فَارْ جعِِ الْبَصَر۔ دوبارہ تلقین کی ثُمَّ الرْجِعِ البَصر! پھر نظر کر! نظر ہر بار ناکام اور تھک کر لَوٹ آئے گی۔ پہاڑ کی چوٹی کو دوبارہ دیکھیے! وزیر اعظم کے عہدوپیمان، ولولے، امنگیں، دعوے، چوٹی سے لڑھک کر نیچے آ رہے ہیں۔ 1258ء میں

Read more

ہم کشتی میں سوار ہیں

اس سے زیادہ قابل رشک زندگی کیا ہو سکتی ہے! ملک ارشاد کو جب بھی دیکھتا، ذہن میں خیال آتا کہ کیا کامیاب شخص ہے! ملک کے تین شہروں میں اپنے گھر! چمکتا کاروبار! ایک فلیٹ دبئی میں! بیٹے دونوں بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے! مالی آسودگی! چہرے پر طمانیت کی روشنی! حسد تو اس سے کبھی نہیں کیا۔ خدا حسد سے بچائے۔ رشک ضرور کیا اور ہمیشہ کیا! پھر ایک دن ایک ریستوران میں چائے پیتے ہوئے ملک ارشاد، دیکھتے ہی دیکھتے ٹوٹنا شروع ہو گیا ٹوٹتے ٹوٹتے ریزہ ریزہ ہو گیا۔

Read more

روس کے صدر نے بھی معذرت کر لی!

پہلی چوائس شمالی کوریا کا سپریم لیڈر کِم جانگ اَن تھا! ملاقات کی درخواست اس نے فوراً منظور کر لی۔ مگر دقت یہ ہوئی کہ دوستوں نے شمالی کوریا جانے سے منع کر دیا ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم لیڈر آف نارتھ کوریا کو تمہاری کوئی بات بری لگی یا اسے تمہارا لباس اچھا نہ لگا یا تمہارا جوتا۔ تو پھر تم واپس کبھی نہ آؤ گے۔ دوبارہ عرض گزاری کی! یہ طے ہوا کہ ملاقات ٹوکیو میں ہو گی۔ ہم دونوں ٹوکیوپہنچے۔ ملاقات ہوئی۔

Read more

وزیر اعظم صاحب!اپنا جواب تیار رکھیے

صلاح الدین تاریک کوٹھری کے ننگے فرش پر پڑا تھا۔ مگر یہ صلاح الدین نہیں تھا! یہ اس کا جسم تھا! صلاح الدین روح کی شکل میں جسم سے نکلا۔ پولیس کی تنگ و تار کوٹھری کے چھت کو چیرتا‘ فضا سے سیدھا اوپر کو گیا۔ اوپر عجیب منظر تھا۔ جس صلاح الدین کو دنیا والے پاگل گردانتے تھے اور جس صلاح الدین کو پولیس بے یار و مددگار سمجھ کر وہ سلوک بدرجۂ اتم کرتی رہی تھی جو بے

Read more

میدانِ حشر اور حسینی ہونے کے دعویدار

صور جب پھونکا گیا ہے تو میں ہڑ بڑا کر اُٹھا۔ سر کے اوپر بہت بڑا شگاف تھا۔ باہر نکل کر دیکھا تو لاکھوں قبروں سے انسان باہر نکل رہے تھے۔ مرد‘ عورتیں‘ بوڑھے ‘ بچے ،جوان! سب نے ایک ہی سمت میں چلنا شروع کر دیا۔ سورج جیسے سوا نیزے پر تھا۔ گرمی اور ایسی گرمی کہ مٹکوں میں پانی نہ جلے‘ مٹکوں کو آگ لگ جائے! چلتے رہے۔ چلتے رہے! وقت کا تصور یہاں دنیا والا نہ تھا۔

Read more

ایسی فضا میں ”ادبی میلے“ کیوں؟

2002 ء کے قتل عام پر ایک نظر ڈالیے۔ اس سال 27 فروری کو گجرات میں گودھرا ریلوے سٹیشن پر ایک ٹرین کو آگ لگ گئی اس میں ہندو زائرین سوار تھے۔ فی الفور اور ذرہ بھر ثبوت کے بغیر مودی نے اعلان کر دیا کہ پاکستان کی سیکرٹ سروس اس کی ذمہ دار ہے۔ پھر اس نے جلی ہوئی لاشوں کو احمد آباد شہر میں پھرایا اور اپنی ہی حکومتی پارٹی سے تین دن کی ہڑتال کرا دی۔ نتیجہ خونریزی کی صورت میں نکلا۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ایک ہزار جانیں قتل ہوئیں۔

Read more

ڈر۔۔۔ جو ہمیں کھا گئے

آپ گاڑی چلا رہے ہیں۔ یہ بڑی شاہراہ ہے جسے ”مین روڈ“ کہتے ہیں سامنے ’بائیں ہاتھ پر‘ ایک چھوٹی سڑک اس بڑی شاہراہ سے مل رہی ہے۔ اس چھوٹی سڑک پر ایک گاڑی عین اس وقت نمودار ہوتی ہے جب آپ موڑ پر پہنچنے والے ہیں۔ آپ کو ڈر لگتا ہے کہ اگر چھوٹی سڑک سے آنے والی گاڑی نہ رکی اور مین روڈ پر چڑھ آئی تو آپ کی گاڑی سے ٹکر لگے گی اس ڈر سے آپ

Read more

وہ شے لائو جس کی منڈی میں ڈیمانڈ ہے

میں اور شوکت ایک ہی گائوں کے تھے۔ اکٹھے گلیوں میں کھیلے۔ کھیتوں میں تتلیاں پکڑیں۔ مقامی پرائمری سکول سے دونوں نے ایک ساتھ پانچویں جماعت پاس کیٖ زمانے کی گردش بھی عجیب ہے۔ آج ہم دونوں ایک ہی شہر میں رہ رہے ہیں۔ مگر باہمی رشتہ گائوں والا نہیں! وہ برابری کا رشتہ تھا۔ آج حالات مختلف ہیں۔ شوکت ایک کامیاب بزنس مین ثابت ہوا۔ میں زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔ پھر معاشی جبر تلے پستا‘ اس

Read more

کیا شائستگی بازار میں دستیاب ہے؟

 ”موسم گرما میں کپڑوں کے نیچے بنیان پہنیں اور خدارا خوشبو کا استعمال کریں۔ دوسروں کو اذیت میں مبتلا کرنا مذہب اور اخلاقیات دونوں کے خلاف ہے۔ کان اور ناک کے بال صاف کریں۔ ناک کے بال اکھاڑنے کے لئے عوامی مقامات مناسب جگہ نہیں۔ ازراہ کریم یہ فریضہ گھر پر سرانجام دیں۔ دوسرے لوگوں کو اس عمل سے گھن آتی ہے۔ یہ الگ بات کہ آپ کو احساس نہیں ہوتا۔ عوامی مقامات پر ناک اور کان میں انگلی گھما

Read more

شیر جس کی دُم ہے نہ کان نہ پیٹ

پرانے زمانے میں بھی جسم پر تصویریں بنوانے کا رواج تھا۔ آج کل اسے TATOOکہتے ہیں۔ یہ اگلے وقتوں کی بات ہے‘ ایک نوجوان جسم پر تصویریں گودنے والے کے پاس گیا اور فرمائش کی کہ اس کے کندھے پر شیر کی تصویر گودے۔ تب یہ کام سوئی سے ہوتا تھا۔ تصویر ساز نے کندھے پر تصویر بنانا شروع کی۔ سوئی بار بار گوشت میں پیوست ہوئی تو نوجوان درد سے چلا اٹھا۔ پوچھا کیا بنا رہے ہو؟ جواب دیا

Read more

بٹنگیاں، کریم رول اور گھڑونچی

کیا کسی کو بٹنگیاں یاد ہیں؟سائز میں اخروٹ سے ذرا زیادہ بڑی! نرم اور کھٹی میٹھی! کہاں گئیں؟ زمین کھا گئی انہیں یا آسمان نگل گیا؟ اور املوک؟ کالے رنگ کا بیر جتنا پھل! بیجوں سے لبریز! پٹھانیاں ڈھیروں ڈھیر سامنے رکھی چھانٹتی صاف کرتی رہتیں۔ ہر دکان پر ہوتے تھے اور ارزاں! کیا غضب ہے اب جاپانی پھیل (Persimmon) کو املوک کہا جا رہا ہے۔ یعنی پھلوں کے نام بھی چوری ہونے لگے۔ مشہور شاعر انوری نے دیکھا کہ

Read more

مرغِ حرم! جو اُڑ ہی نہیں رہا!

اب تو ہوش آ جانا چاہیے معصوم عوام کو جنہیں اُمہّ کے نام پر پڑیاں بیچی جا رہی ہیں اور کُشتے کھلائے جا رہے ہیں۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اُمہ کے وجود سے انکار کر رہے ہیں۔ ہاں امت سیاسی اتحاد کے حوالے سے کبھی سامنے نہیں آئی۔ چودہ سو سال میں ایک دن بھی ایسا نہیں ہوا کہ امت ’سیاسی‘ عسکری یا اقتصادی حوالے سے اکائی ثابت ہوئی ہو۔ یہ ایک روحانی تصورہے۔ انفرادی طورپر ترک عرب سے محبت کرتا ہے، ایرانی پاکستانی سے پیار کرتا ہے۔

Read more

مولانا مودودی کے بیٹے کی کتاب اور انکشافات

‎ ”آفتابِ علم و عرفان سید ابوالاعلیٰ مودودی“ کے عنوان سے مولانا مودودی کے بیٹے سید حسین فاروق مودودی کی تصنیف منظر عام پر آئی ہے۔ مطبع کا نام عفاف پرنٹر اردو بازار لاہور ہے۔ کتاب پر ”ترجمان القرآن پبلی کیشنز 5۔ اے ذیلدار پارک اچھرہ لاہور“ کا نام بھی درج ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر مولانا مرحوم کے خاندان اور جماعت اسلامی کے درمیان نزاع کی تفصیل ہے تاہم اس میں کچھ اطلاعات ایسی بھی ہیں جو ہمارے ملک کی سیاست، نظام اور ہماری قومی اخلاقیات کے متعلق بہت کچھ بتاتی ہیں۔
لکھتے ہیں
‎ ”جماعت کے نظام اور روایات میں بتدریج انحطاط کا اندازہ مولانا (ہمارے والد) کو ہوتا جا رہا تھا۔ قیادت کا ایک معتدبہ حصہ اب انہیں اپنے ہدف کے حصول کی راہ میں رکاوٹ محسوس کرنے لگا تھا۔ جماعت میں امارت کے لئے انتخاب کی غرض سے ہر قسم کی کنوینسنگ انتہائی قابل اعتراض اور ممنوع تھی بلکہ اس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن یہ سب کچھ بھلا دیا گیا۔ جب غلام اعظم صاحب کے کامیاب ہونے کا واضح امکان تھا تو نتائج تبدیل کرنے کے لئے ہر قسم کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح بقول میاں صاحب کے چودھری رحمت الٰہی صاحب کی جگہ قاضی حسین احمد صاحب کی کامیابی ممکن بنائی گئی اوریہ سب انجینئیرڈ انتخاب کا نتیجہ تھا۔ بعدازاں موجودہ امیر جماعت سراج الحق کا انتخاب بھی اسی طرح ممکن ہوا۔)“ (صفحات 138 تا 140 )

Read more

نہیں! عالی مرتبت! نہیں!

کون سا خربوزہ میٹھاہے؟ کون سا تربوز اندر سے پھیکا ہے؟ اوپر سے سب ایک جیسے ہیں۔ تربوز بیچنے والا ایک کو ٹوہتا ہے، پھر دوسرے کو! تیسرے پر ہاتھ مار کر آپ کو دے دیتاہے آپ مطمئن ہو جاتے ہیں۔ شاید اسے یہی گُر بتایا گیا ہے کہ گاہک کی تسلی کے لئے ایک تربوز پر ہاتھ مارو، پھر دوسرے پر، تیسرا گاہک کو پیش کر دو! خوش ہو کر خرید لے گا! انسان باہر سے ایک جیسے ہیں! وہی سر، سر کے اگلے حصے پر پیشانی! پیشانی کے نیچے ناک نقشہ!

Read more

مودی ایک نہیں، دو چتائیں سلگا رہا ہے

بی جے پی کے مودی نے بھارت میں ایک نہیں، بیک وقت دو بھٹیاں سلگا دی ہیں۔ ایک بھٹی کا ہم نوٹس لے رہے ہیں۔ یہ کشمیر کی چتا ہے۔ مودی اس چتا میں مسلسل ایندھن ڈال رہا ہے تا کہ کشمیر کے مسلمان اس چتا میں جل کر راکھ ہو جائیں۔ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ نصرانی ہوتے تو جنوبی سوڈان اور ایسٹ تیمور کی طرح کشمیر آزاد

Read more

ہتھکڑی اور آنکھ

یہ کہانی ہے جس میں دو کردار ہیں۔ ایک کردار لوہا ہے۔ لوہے کو پگھلا کر‘ موڑ کر‘ ایک قفل نما شے بناتے ہیں۔ اس قفل کے ساتھ لوہے ہی کی زنجیر لگاتے ہیں۔ یہ قفل دروازہ بند کرنے کے کام نہیں آتا۔ اسے کلائی پر رکھ کر بند کرتے ہیں۔ یوں کلائی مقفل ہو جاتی ہے۔ رہا زنجیر کا دوسرا سرا‘ تو اس کے لئے کئی آپشن ہیں۔ کبھی زنجیر کا یہ دوسرا سرا چارپائی کے ساتھ باندھ دیتے

Read more

زمانے سے لڑائی مول لے تجھ سے بُرا بھی ہو؟

میاں صاحب محترم! اب یہ نہ سمجھیے کہ سینیٹ الیکشن کے ہنگاموں میں وہ ایشو پس منظر میں چلا جائے گا جس کے حوالے سے ہم غریب کارکن آپ کا دفاع کر رہے ہیں۔ آپ نے جب بھی دعویٰ کیا کہ ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو پھانسی پر لٹکا دو، ہم نے آپ پر یقین کیا۔ مگر یہ بے برکت، بے ثمر یقین کب تک قائم رہے گا؟ ہم غریب کارکن، پیدائشی مسلم لیگی، آپ کے لئے

Read more

سنگِ سُرمہ ہی بتائے گا حقیقت اس کی

میں نے کیکر کا پودا لگایا ہے اسے پانی دیتا ہوں۔ رات دن حفاظت کرتا ہوں۔ پوری امید ہے کہ اس محنت کے بدلے میں اس پر سیب لگیں گے۔ افسوس! یہ درخت بڑا ہوا۔ مگر سیبوں کے بجائے اس پر پھلیاں لگیں۔ کیکر کی پھلیاں! کھاتا ہوں تو کھائی نہیں جاتیں بازار لے جاتا ہوں تو بکتی نہیں! سب یہی سمجھاتے ہیں کہ تم نے سیب کا درخت نہیں ، کیکر کا درخت لگایا تھا۔ اس پر سیب کبھی نہیں لگیں گے۔ قیامت تک نہیں لگیں گے۔ پانی تو کیا، عرق گلاب سے سینچو!

Read more

کیا افغان تاریخ میں یہ معجزہ برپا ہو گا؟

بھارت میں علیحدگی کی سترہ تحریکیں چل رہی ہیں یا سترہ سو! سترہ ہزار بھی چل رہی ہوتیں تو اس پریشانی کا عشیرِ عشیر بھی بھارت کو لاحق نہ ہوتا جو پاکستان صرف اس لئے بھگت رہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ اس کی سرحد ملتی ہے! بازی گر تماشے دکھا رہا تھا۔ وہ تنی ہوئی رسی پر اُلٹا لٹکا ہوا تھا۔ اس کے ساتھی نے زمین سے پوچھا کیا تم تکلیف میں ہو؟ ”ہاں! میں بہت تکلیف میں ہوں“ ”کیا تم اذیت میں ہو؟ “ ”ہاں! میں بہت اذیت میں ہوں مگر اب بھی اس مرد سے کم تکلیف اور کم اذیت میں ہوں جس کی دو بیویاں ہیں۔

Read more

ذرا سیاست سے ہٹ کر

سیاست کا بازار ہمیشہ گرم رہے گا۔ اقتدار کے جھگڑے چلتے رہیں گے۔ اچھے بُرے حکمران آتے رہیں گے۔ کسی کی داستان طویل ہو گی کسی کی مختصر! اپنی اپنی سنا کر سب خاموش ہو جائیں گے۔ مگر اس تخت و تاج کی دنیا میں ’اس مال و زر کے جہان میں۔ ایک اور دنیا بھی آباد ہے محبت کی‘ جذبات کی ’آنسوؤں کی، اُس مسرت کی جو اندر سے پھوٹتی ہے اسی دنیا میں دنیائیں ہماری بھی بنی ہیں روش سے سیڑھیاں مر مر کی پانی میں گئی ہیں ان آنسوؤں کو اور ان مسرتوں کو اظہار کے لئے ہمیشہ شاعری کی ضرورت رہے گی۔

Read more

نا اہلی+کرپشن =ظلم (صرف ایک مثال)۔

پاکستان ترقی کیوں نہیں کر رہا؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر پاکستانی کو پریشان کر رہا ہے! دیہاتی ہے یا قصباتی ’یا شہری‘ ان پڑھ ہے یا نیم خواندہ یا اعلیٰ تعلیم یافتہ ’کلرک ہے یا افسر‘ کسان ہے یا مزدور ’صنعت کار ہے یا وڈیرا‘ بچہ ہے یا نوجوان ’یا عمر رسیدہ جہاندیدہ بزرگ‘ بڑی بوڑھی ہے یا نوبیاہتا دلہن! ہر کوئی درد مندی سے پوچھتا ہے کہ آخر بیماری کیا ہے؟ ہم ترقی کیوں نہیں کر رہے؟

Read more

شکوہ؟ شوبزنس سے؟

شوبزنس ایک پرستان ہے۔ حیرتوں سے چھلکتا!لطافتوں سے معمور! اس زمانے میں عجیب بات یہ ہوئی کہ یہ پرستان ہر گھر کے اندر داخل ہو گیا ہے۔ محل ہے یا مڈل کلاس کوٹھی، یا عام مکان! خاکروب کا گھر ہے یا گھروں میں کام کرنے والی مائی کا دو کمروں کا کوارٹر، شوبزنس کا پرستان ہر جگہ جلوہ نما ہے۔ ریموٹ کنرول کا بٹن دبائیے بمبئی سے کراچی اور لاہور تک کا شوبزنس آپ کے کمرے میں آموجود ہو گا!

Read more

تاجروں کا بائیکاٹ کیجیے

ترقی یافتہ (اور بہت سے ترقی پذیر ملکوں) کے تاجر ریاست کو پورا پورا ٹیکس دیتے ہیں۔ گاہک کا احترام کرتے ہیں اور گاہک کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ پاکستانی تاجر ریاست کو ٹیکس دینے سے بچنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے ساتھ ساتھ گاہک کے حقوق پر رات دن ڈاکہ بھی ڈالتا ہے۔ ناروا تجاوزات اور ملاوٹ ‘ جھوٹ اور وعدہ خلافی کی اس وقت بات نہیں کر رہے۔ گاہک کے صرف ایک حق کا ذکر کرلیتے

Read more

دنیا اپنے چاہنے والوں کے ساتھ یہی سلوک کرتی ہے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ایک شاگرد کو ساتھ لے کر کسی سفر پر نکلے۔ راستے میں ایک جگہ رکے اور شاگرد سے پوچھا کہ تمہاری جیب میں کچھ ہے؟ اس نے کہا میرے پاس دو درہم ہیں حضرت عیسیٰؑ نے اپنی جیب سے ایک درہم نکال کر اسے دیا اور فرمایا یہ تین درہم ہو جائیں گے۔ جا کر شہر سے ان تین درہم کی روٹیاں لے آئو۔ اسے تین درہم کی تین روٹیاں ملیں۔ راستے میں سوچنے لگا

Read more

روک سکتے ہو تو روک لو

یہ میں ابتدا ہی میں واضح کر دوں کہ میرا دین، ایمان، وطن، قبیلہ، خاندان، زبان، ایک ہے صرف ایک۔ اور وہ ہے پیسہ! وہ جو لطیفہ مشہور ہے کہ تاجر کو نزع کے وقت سب کلمہ پڑھنے کی تلقین کر رہے تھے اور وہ ایک ہی بات کہے جا رہا تھا کہ دکان کا تالا چیک کرو۔ دکان کا تالا چیک کرو۔ تو وہ محض لطیفہ نہیں‘ ایک حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ حقیقت کیا ہے؟ اس حقیقت کو

Read more

اقدار کی جنگ – مسلم لیگ (ن) کے سنگ

ایک کتاب کی تلاش تھی۔ لائبریری میں ڈھونڈی تو مل گئی۔ دو نسخے تھے۔ اتفاق سے ممبران نے دونوں لے رکھے تھے۔ ایک نسخہ اپنے لئے محفوظ کرا لیا۔ جس کا مطلب تھا کہ باری آنے پر مطلع کیا جاؤں گا۔ کچھ دن گزرے تھے کہ ای میل موصول ہوئی کہ کتاب واپس آ چکی ہے فلاں تاریخ تک انتظار کیا جائے گا۔ اگر تب تک لائبریری جا کر ایشو نہ کرائی تو کسی اور منتظر رکن کو دے دی

Read more

ت سے تکّبر اور ت سے تاجر

دونوں کو قید کر دیا گیا ایک دبلا پتلا تھا۔ دن میں ایک وقت کھانا کھانے والا۔ دوسرا فربہ تھا۔ پیٹو! سب کا خیال تھا کہ یہ جو دبلا پتلا سوکھا سڑا ہے زنداں نہیں برداشت کر پائے گا مگر معاملہ الٹ ہوا۔ موٹے تازے آدمی کا جیل کے نپے تُلے کھانے پر گزارہ نہ ہو سکا، چل بسا۔ صحت مند وہ نہیں ہوتا جو بسیار خور ہو! اوپر گوشت اور اندر چربی کی تہیں ہوں۔ جسم غبارے کی طرح

Read more

کم سن بچوں اور بچیوں کو ہلاکت میں نہ ڈالیں

بچی گلی میں کھیل رہی تھی۔ گھر والے بے نیاز تھے۔ آئے دن اغوا کی خبریں پڑھنے اور سننے کے باوجود کسی نے فکر نہیں کی کہ باہر جا کر اسے دیکھے یا واپس گھر بلائے یا کسی بڑے کو، کسی ملازم کو، باہر کھڑا کرے کہ جب تک بچی کھیل رہی ہے، اس کا دھیان رکھے! بچی اغوا ہو گئی۔ ڈھنڈیا پڑی۔ مسجدوں سے اعلان کرائے گئے۔ پھر پولیس سٹیشن جا کر رپورٹ درج کرائی گئی۔ تھانے پر دبائو

Read more

دو پاکستان!مگر کب تک؟؟

سپاہی غلام قاسم‘ نائک شیر زمان‘ سپاہی طیب‘ سپاہی زہیب اور صوبیدار صادق نے اس دن بھی کچے گھروں میں کھیلتے اپنے بچوں کو یاد کیا تھا۔ نماز کے بعد اس دن بھی اپنی فتح کی دعا مانگی تھی۔ اس دن بھی شہادت کی آرزو کی تھی۔ پھر دھماکہ ہوا۔ ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ لوہے کے ٹکڑے ہوا میں اڑ اڑ کر برسنے لگے۔ آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ صوبیدار صادق کی میت نیلم کے علاقے جورا کو روانہ

Read more

آگ اور گھر کا چراغ

دوستوں سے قطع تعلق کر سکتے ہیں۔ رشتہ داروں سے نہیں! دور رہنے کی جتنی بھی کوشش کریں۔ موت اور خوشی کے مواقع پر ملنا ہی پڑتا ہے۔ ساتھ بیٹھنا ہی پڑتا ہے۔ پڑوسی، رشتہ دار نہیں ہوتے مگر پڑوسیوں سے بھی جان چھڑانا ناممکن ہے۔ گھر بیچ کر دوسرے محلے، دوسرے شہر دوسرے ملک کو ہجرت کر جائیں گے۔ مگر ملک کو کہاں لے جائیں گے؟ کچھ عرصہ ہوا اس کالم نگار نے ایک تحریر میں دعا کی تھی اور قدرت کی منت زاری کہ افغانستان کو اٹھا کر امریکہ لے جائے یا یورپ کی بے شک کوئی امیر ریاست بنا دے مگر پاکستان کو اس بارڈر سے نجات مل جائے!

Read more

عقل مند چور یا دیانت دار جھلاّ۔؟

وزیراعظم سے ملاقات کرنا، سیاست دانوں کے لئے شجر ممنوعہ نہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان اگر ملے ہیں تو گناہ نہیں سرزد کیا۔ نہ ہی وزیراعظم کے لئے مناسب ہے کہ کسی کو ملنے سے انکار کریں۔ ہاں ! اگر ثناء اللہ کا یہ الزام درست ہے کہ ’’لیگی ارکان کو توڑنے کے لئے خزانے کے منہ کھول دیئے گئے ہیں‘‘ اور ’’وزیراعظم ہائوس میں لوٹا کریسی کے لئے خصوصی سیل قائم کر دیا گیا ہے‘‘ تو یہ یقیناً قابل

Read more

گرم کپڑوں کا صندوق مت کھولنا

سہ پہر ابھی نہیں ہوئی مگر کالی گھٹا نے جُھٹپٹے کا سماں پیدا کر رکھا ہے۔ قطرہ قطرہ بارش بے لباس درختوں کی ٹہنیوں سے ہوتی ہوئی‘ زمین پر گر رہی ہے۔ سڑک پر دور دور تک کوئی ذی روح نہیں! کبھی کبھی کوئی گاڑی زناٹے سے گزرتی ہے اس کے بعد پھر سناٹا چھا جاتا ہے۔ یہ گیند جسے ہم کرہ ارض کہتے ہیں‘ عجائبات کی زنبیل ہے۔ کبھی ایک عجوبہ نکلتا ہے‘ کبھی دوسرا. الاسکا سے لے کر

Read more

اے پی سی کا میلہ بلاول نے لوٹا

اچکزئی صاحب اور اسفند یار ولی صاحب کی بات دوسری ہے، نمایاں پہلو یہ ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں مریم صفدر صاحبہ نے مولانا کی مکمل اور غیر مشروط تائید کی! آخر دونوں میں کیا قدر مشترک ہے؟ جواب کے لئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ دونوں کی عمران خان سے دشمنی ہے۔ صرف دشمنی نہیں! نفرت! شدید نفرت! سیاست میں مخالفت تو عام ہے اور کبھی کبھی دشمنی بھی۔ مگر نفرت کا سکِہ کم ہی چلتا ہے! مولانا کو اور مریم بی بی کو عمران خان سے نفرت ہے!

Read more

دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

آسمانوں سے مدد اتری ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے مثبت نتائج ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ ایف بی آر کے انٹرنیشنل ٹیکس کے شعبے نے بتایا کہ صرف متحدہ عرب امارات سے 346ارب روپے کے اثاثے ظاہر کئے گئے۔ سوئٹزرلینڈ سے 114ارب روپے، برطانیہ سے 89ارب روپے‘ سنگا پور سے 87ارب روپے اور برٹش ورجن آئی لینڈز سے 48ارب روپے تسلیم کئے گئے۔ غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی (ڈاکومنٹڈ) معیشت میں تبدیل کرنے کی طرف یہ ایک اہم اقدام ہے! اہم اور

Read more

آدمی کو انسان بھی ہونا چاہیے

اُس شخص کا تو آپ کو معلوم ہی ہے جو خط لکھ رہا تھا ساتھ ایک مجہول کھڑا تھا اور خط پڑھے جا رہا تھا۔ خط لکھنے والے نے خط میں لکھا۔ ”کچھ اور بھی لکھتا مگر ایک بے وقوف ’میرے لکھنے کے دوران‘ خط پڑھ رہا ہے“ اس پر اُس مجہول شخص نے احتجاج کیا کہ میں تو خط پڑھ ہی نہیں رہا اور آپ نے مجھے بے وقوف کا خطاب دے دیا ”جس طرح ہم سڑک پر تھوکتے

Read more

ظلم کی داستان: سویز کے اُس طرف اور اِس طرف

ظلم کی ایک داستان نے سویز کے اُس طرف، نیل کے کنارے جنم لیا۔ مرسی شہید کر دیے گئے۔ مصر نے اپنی روایت برقرار رکھی۔ حسن البنا۔ پھر سید قطب۔ ان کے بھائی محمد قطب۔ ان کی بہن حمیدہ قطب! مصر کے فرعونوں نے سب دیواریں گرا دیں۔ اپنا راستہ صاف کر دیا۔ مگر تقدیر ہنس رہی ہے۔ راستہ صاف نہیں کیا۔ کانٹوں سے بھر دیا! ظلم کی ایک داستان، سویز کے اِس طرف بھی رقم ہو رہی ہے۔ دریائے سندھ کے مشرق میں! دریائے جہلم کے مغرب میں!

راوی کے بازوؤں میں! نواز شریف اور آصف زرداری زنداں میں ڈال دیے گئے۔ تاریخ مزاحمت کا نیا باب لکھ رہی ہے۔ جنوبی ایشیا کے مسلمان مصر کے مسلمانوں کے مقابلے میں کم خوش قسمت نہیں! اُنہیں آج مرسی جیسا شہید ملا ہے۔ تو ہمارے پاس زرداری اور نواز شریف جیسے مجاہد موجود ہیں! فقیری کا، بے غرضی کا، بے لوث قیادت کا یہ سلسلہ بہت پرانا ہے! کیا تھا حسرت موہانی کے پاس؟ کپڑے کی دھجی سے عینک کی ٹوٹی کمانی باندھی ہوئی۔

Read more

سروں پہ یہ بادشہ بہت دیر تک رہیں گے

ہمارا آخر کیا جھگڑا ہے؟ بے شک شجرے کھنگال لیے جائیں دور سے بھی کوئی عزیز داری نہیں! کوئی پگڈنڈی، کھیتوں کے درمیان، سانجھی نہیں۔ ہمارے صحن میں ان کا کوئی پر نالہ نہیں گرتا۔ کوئی کاروبار مشترک تھا نہ کسی شعبے میں مقابلہ نہ معاصرت! ہم جیسے عام پاکستانی کا شریف فیملی سے کیا مقابلہ! ہمارے تو پورے علاقے میں، ایک آدھ بار کے سوا وہ بھی مجبوراً، ان کا کبھی گزر ہی نہیں ہوا۔ ہماری ان سے کیا

Read more

سروں پہ یہ بادشاہ بہت دیر تک رہیں گے

ہمارا آخر کیا جھگڑا ہے؟ بے شک شجرے کھنگال لیے جائیں دور سے بھی کوئی عزیز داری نہیں! کوئی پگڈنڈی، کھیتوں کے درمیان، سانجھی نہیں۔ ہمارے صحن میں ان کا کوئی پر نالہ نہیں گرتا۔ کوئی کاروبار مشترک تھا نہ کسی شعبے میں مقابلہ نہ معاصرت! ہم جیسے عام پاکستانی کا شریف فیملی سے کیا مقابلہ! ہمارے تو پورے علاقے میں، ایک آدھ بار کے سوا وہ بھی مجبوراً، ان کا کبھی گزر ہی نہیں ہوا۔ ہماری ان سے کیا

Read more

خسارہ ہے اور مسلسل خسارہ

اُن دنوں جس اخبار سے وابستہ تھا۔ شفیق مرزا مرحوم وہاں ادارتی صفحے کے انچارج تھے۔ ایک دن ان کے کمرے میں گیا تو ایک صاحب بیٹھے تھے۔ میچنگ شلوار قمیض اور واسکٹ۔ زریں کُھسّہ زیبِ پا۔ خوش شکل تعارف ہوا تو کہنے لگے ”آپ نے اپنی والدہ کی وفات پر جو کالم لکھا تھا ’رقّت طاری کرنے والا تھا“ یہ رحمت علی رازی تھے۔ دوستی کا ایسا جپھا مارا کہ پھر اپنے حصار سے نکلنے نہ دیا۔ زندہ دل۔ خوش گفتار فون جب بھی کرتے۔ آغاز مزاح سے کرتے اور کمال سنجیدگی سے کرتے!

کتنی ہی بیٹھکیں ان کے گھر پر ہوئیں۔ دستر خوان وسیع تھا۔ کبھی ایسا نہ ہوا کہ لاہور جانا ہو‘ انہیں معلوم ہو جائے اور وہ دعوت برپا کیے بغیر ٹلیں۔ اسلام آباد آتے تو فون کھڑکاتے۔ جہاں قیام ہوتا ’پہنچ جاتا۔ دوستوں کی محفل جمتی۔ دارالحکومت میں ان کی اتنی مصروفیات ہوتیں کہ کھانے کے لئے بمشکل ہاتھ آتے۔ اسلام آباد کلب کا کھانا مرغوب تھا۔ خوش خوراک تھے۔ 2000 ء میں سٹاف کالج لاہور میں کورس کر رہا تھا۔

Read more

وقت آ گیا ہے کہ ہم بھی آسمان کی طرف دیکھیں

مرض تھا اور ایسا کہ ناقابل بیان! طبیب سر جوڑ کر بیٹھے مگر تشخیص نہ کر پائے۔ کئی دن کے بعد ایک طبیب نے کہ ممتاز تھا، کہا بادشاہ کو فلاں بیماری ہے اور علاج اس کا ایک ہی ہے۔ نوجوان شخص کا پِتّہ! اور وہ نوجوان شخص بھی فلاں فلاں خاصیتوں کا حامل ہو! سرکاری گماشتے سلطنت میں پھیل گئے۔ بالآخر ایک دہقان زادہ ملا جس میں مطلوبہ خاصیتیں موجود تھیں۔ اس کے ماں باپ کو سمجھایا گیا کہ رعایا میں سے ایک نوجوان کی قربانی سربراہ ملک کی سلامتی کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔

ساتھ ہی زر وسیم بہت سا پیش کیا گیا۔ ماں باپ راضی ہو گئے۔ عدالت میں قاضی نے فتویٰ دے دیا کہ یہ قربانی جائز ہے۔ جلاد جب نوجوان کی گردن تن سے جدا کرنے کے لئے تلوار اٹھانے لگا تو نوجوان نے فلک کی طرف دیکھا اور ہنسا! بادشاہ نے پوچھا یہ ہنسنے کا کون سا موقع ہے نوجوان نے جواب دیا، اولاد کے ناز ماں باپ اٹھاتے ہیں، میرے ماں باپ نے خود میرا سودا کر دیا۔ انصاف کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ یہاں میرے قتل کا جواز خود عدالت نے تراشا ہے۔

Read more

جناب مفتی منیب الرحمن کے مکتوب گرامی کا جواب

محترم مفتی منیب الرحمن صاحب! سلام مسنون! معذرت خواہ ہوں کہ جو مکتوب آپ نے ای میل کے ذریعے ارسال فرمایا ’میں نے اسے کالم میں شائع کیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ آپ کا موقف‘ بلا کم و کاست ’قارئین تک پہنچ جائے۔ آپ کی شفقت ہے کہ اس بے سواد وکم مایہ کو صاحبِ علم کہا۔ میں فقط طالب علم ہوں! اور آپ جیسے فضلا سے استفادہ کرنے کا متمنی! یہ جو آپ نے فرمایا کہ میری شخصیت کا تضاد ہے کہ اپنا دینی و علمی پس منظر بھی بتاتا ہوں اور لبرل ازم بھی میرے مزاج کا حصہ ہے‘ تو اس سے محظوظ ہوا ہوں۔

لبرل کا لفظ بھی کچھ دوسرے الفاظ کی طرح ایک CLiche سے زیاد کچھ نہیں! ایک پیش پا افتادہ ’فرسودہ طعنہ! بالکل اسی طرح جیسے کسی توحید پرست کو بلا سوچے سمجھے وہابی یا کسی عاشقِ رسولؐ کو بدعتی کہہ دیا جائے! اسلام نے جب لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع کیا‘ خواتین کو ان کے حقوق دیے اور آباؤ اجداد کی گھسی پٹی راہ پر چلنے کی حوصلہ شکنی کی تو جواب میں لوگوں نے جو طعنے دیے۔ آج کی زبان میں انہیں لبرل ازم کا طعنہ ہی کہا جائے گا۔

Read more

رویت ہلال: جناب مفتی منیب الرحمن کا مکتوب

محترم جناب اظہار الحق صاحب السلام علیکم و رحمتہ و برکاتہ! دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ صحت و سلامتی کے ساتھ اپنے حفظ و امان اور عافیت میں رکھے۔ میں آپ کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں، آپ صاحبِ علم ہیں، آپ کی شخصیت کا تضاد یہ کہ آپ اپنا دینی و علمی پس منظر بھی بتاتے ہیں اور لبرل ازم بھی آپ کے مزاج کا حصہ ہے، علماء سے بھی آپ اکثر ناراض رہتے ہیں۔ رویتِ ہلال کے حوالے سے آپ کا موقف میں پڑھتا رہا ہوں، آپ نے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ (ISNA) کے سائنسی کیلنڈر کا بھی حوالہ دیا ہے، یہ کم علم فقیر امریکہ جاتا رہتا ہے اور اس کیلنڈر کا بخوبی علم ہے۔

Read more

ماں صدقے! کیا عقل پائی ہے!

”سستا لے بار بار۔ مہنگا لے ایک بار! “ پروفیسر منہاس صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ان سے پوچھا یہ تھا کہ ڈرائیور کو اتنی زیادہ تنخواہ کیوں دے رہے ہیں؟ کلب پہنچیں گے تو ڈرائیور کو پانچ سو دیں گے حالانکہ وہاں وہ ڈیڑھ سو میں اچھا خاصا معقول لنچ کر سکتا ہے۔ کپڑوں کا ایک جوڑا نہیں ایک وقت میں دو تین جوڑے لے کر دیں گے۔ جوتے لے کر دیں گے تو مہنگے ’اسی معیار کے جس

Read more

یہ ہمارے گھروں کے اندر گھس آئے ہیں

قتل ہو گئیں عید کی خوشیاں قتل ہو گئیں۔انا للہ و انا الیہ راجعون اگر معلوم ہوتا کہ عید کی خوشیاں مفتی صاحب اور پوپلزئی صاحب اور فواد چودھری صاحب اور شوکت یوسف زئی صاحب کے درمیان معلق ہو کر بے بسی سے اپنا تماشہ دیکھ رہی ہوں گی تو پوشاک تار تار کر لیتے اور ان جنگلوں کا رُخ کرتے جہاں انسان تو کیا سورج کی کرن تک تلاش نہیں کی جا سکتی ع نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ

Read more

اس نے تو کارِ جہل بھی بے علما نہیں کیا

رضا ربانی کو مبارک ہو کہ اٹھارہویں ترمیم کی غایتِ اولیٰ پوری ہوئی اور صوبوں نے خود مختاری کی طرف پہلا قدم بڑھا لیا۔ نیک شگون یہ ہوا کہ اس عہد ساز تبدیلی کا آغاز اس صوبے سے ہوا جہاں تحریک انصاف نے سب سے پہلے اقتدار حاصل کیا اور بدستور وہاں حکمران ہے!

صوبے نے وفاق سے کامیاب ٹکر لی اور اپنی عید، سرکاری سطح پر الگ منائی۔ صوبے کے وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ خیبر پختون خواہ نے باقی ملک سے الگ عید، وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد کی ہے! تری آواز مکے اور مدینے! وزیر اعظم نے وفاق میں پانچ جون کو عید منائی اور خیبر پختون خواہ کو اجازت دی کہ چار کو منائیں! اب یہ باقی صوبوں کا بھی حق ہے کہ اپنی اپنی عید الگ الگ منائیں۔ پانچ صوبے ہیں، تو عید پانچ مختلف ایام پر منائی جائے۔ صوبوں کے کیلنڈر بھی اپنے اپنے ہوں۔ ٹائم زون بھی صوبوں کے اعتبار سے الگ الگ بنا لیں۔ اگر امریکہ میں چار ٹائم زون اور روس میں گیارہ ٹائم زون ہیں تو پاکستان میں کئی ٹائم زون کیوں نہیں ہو سکتے۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب، خیبر پختونخواہ، قبائلی علاقہ جات، سندھ، بلوچستان اور وفاق یوں صوبائی خود مختاری کے حوالے سے آٹھ ٹائم زون ہوسکتے ہیں۔

Read more

جوتے اور سائنس و ٹیکنالوجی

بادشاہ تھا یا کوئی اور۔ اسے بتایا گیا کہ درزی کپڑا ضرور چوری کرتے ہیں۔ انہیں کوئی نہیں باز رکھ سکتا۔ اس نے درزی کو کپڑا اور سلائی مشین دے کر کمرے میں مقید کر دیا اور باہر پہرا بٹھا دیا۔ گھر سے درزی کا بیٹا آیا اور کمرے کی کھڑکی سے لگ کر باپ سے باتیں کرنے لگا۔ باپ کو اس کی کسی بات پر غصہ آ گیا۔ اسے کھینچ کر جوتا دے مارا۔ جوتا کھڑکی سے ہو کر ’باہر‘ دورجاگرا۔ بیٹے نے جوتے کے اندر ٹُھنسا ہوا کپڑا نکالا، نیفے میں اڑسا، جوتا باپ کو واپس دیا اور گھر بھاگ گیا۔

جوتے کا یہ استعمال خاص ہے عام نہیں!

Read more

تم اس وقت کیا تھے؟

اس نے تہمد باندھا ہوا تھا۔ سر پر ایک دھجی پٹکے کے طور پر لپیٹی ہوئی تھی بیٹا اسے گلے مل رہا تھا۔ بیٹے نے کیڈٹ کی چمکتی ہوئی دلکش وردی پہنی ہوئی تھی۔
کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ تھی۔ صدر دروازے کے پاس یہ منظر اپنی آنکھوں سے اس کالم نگار نے دیکھا۔ برس بیت گئے آج تک دل میں جیسے کُھدا ہوا ہے۔

سالہا سال یہ پریڈ، سامنے بیٹھ کر دیکھی۔ سالہا سال نوٹ کیا کہ اگر دنیا میں کوئی غیر طبقاتی سوسائٹی ہے تو وہ کاکول سے کامیاب ہو کر نکلنے والے کیڈٹوں کے والدین ہیں۔ پاکستان میں صرف دو ادارے ایسے ہیں جہاں ایک عامی کا بیٹا یا بیٹی میرٹ پر کامیاب گردانی جاتی ہے اول نمبر پر کاکول ہے (اور بحریہ اور فضائیہ کے تربیتی مراکز) جہاں جرنیل کا بیٹا فیل ہو جاتا ہے اور صوبیدار کا فرزند پاس جہاں کسان کا بیٹا لفٹین بن جاتاہے اور چودھری کا بیٹا ناکام ہو جاتا ہے۔ دوسرا ادارہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن ہے جو سی ایس ایس کے امتحان کی بنیاد پر بیورو کریسی کو خوراک بہم پہنچاتا ہے۔ اب اگر کوئی ضیاء الحق نکلے یا پرویز مشرف، یا کوئی عشرت حسین کی طرح جاہ طلب نکلے یا فواد حسن فواد اور احد چیمہ کی طرح ناعاقبت اندیش تو اس میں کاکول کا قصور ہے نہ سی ایس ایس کے امتحان لینے والے ادارے کا! بیٹا ناخلف نکلے تو ماں کی کوکھ کیسے مجرم قرار دی جا سکتی ہے؟

Read more

قمری کیلنڈر اور ذہنوں میں اٹھتے سوالات…2

گزشتہ نشست میں عرض کیا گیا تھا کہ یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ (المجلس الاروبی للا فتاء والبحوث) کا جس کے بانی سربراہ علامہ یوسف القرضاوی تھے۔ موقف یہ ہے کہ رویت یعنی چاند کا دیکھنا مطلوب و مقصود نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے نئے مہینے کے آغاز کو جاننے کا! اور اب نیا مہینہ حساب کے ذریعے جانا جا سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر فقہ کونسل آف شمالی امریکہ نے اگلے پچیس برس کا کیلنڈر بنایا۔

جو گروہ رویت کو لازم قرار دے رہا ہے، ہم اس کے خلوص نیت کی قدر کرتے ہیں۔ بہر طور بطور طالب علم ہمارے کچھ سوالات ہیں جو ہم اس گروہ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

Read more

اگلے پچیس سال کا قمری کیلنڈر جو استعمال ہو رہا ہے

”فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ“ (FCNA) نے مختلف تشکیلی مراحل گزار کر 1986 ء میں موجودہ شکل اختیار کی۔ یہ کونسل ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور کینیڈا کے مسلمانوں کی فکری ،نظریاتی اور فقہی رہنمائی کرتی ہے۔ ڈاکٹر مزمل صدیقی اس کے چیئرمین ہیں، اعلیٰ ترین مذہبی تعلیم کے مالک ہونے کے علاوہ ڈاکٹر مزمل صدیقی مکہ مکرمہ کی کونسل آف علما کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن ہیں۔ آپ مصر کی ”سپریم اسلامی کونسل“ کے بھی ممبر ہیں اور مکہ مکرمہ میں قائم مساجد کی سپریم کونسل کے بھی رکن ہیں۔ ڈاکٹر زینب الوانی فقہ کونسل کی وائس چیئرمین ہیں۔ کونسل کے ارکان میں مساجد کے آئمہ اور دیگر اہل علم شامل ہیں۔

Read more

چھاج بولے سو بولے چھلنی کیوں بولے

دروغ برگردن راوی‘ کہتے ہیں کہ اس وقت کے طبقۂ بالا میں صرف دو شخص شراب سے اجتناب کرتے تھے اورنگ زیب عالم گیر اور مغل سلطنت کے مفتیٔ اعظم! جب کہ حقیقت یہ تھی کہ مفتی اعظم بھی موقع ملنے پر ڈنڈی مار جاتے تھے۔ یہ صرف شہنشاہ تھا جو مکمل پرہیز کرتا تھا۔ اس وقت نیب کا ادارہ ہوتا تو نیب کے ملزمان چیئرمین کی مے نوشی کرتے وقت فلم بناتے اور اس کی معزولی کا مطالبہ کرتے!

Read more

عابدی صاحب

’’یہاں ایک بزرگ ہیں۔ عابدی صاحب! آپ کا پوچھ رہے تھے‘‘ دس برس قبل پہلی بار میلبورن پہنچا تو بیٹے نے عابدی صاحب کے بارے میں بتایا۔ کوئی تقریب تھی جس میں یہ دونوں مدعو تھے بات چیت چل نکلی وہ جو کہتے ہیں ڈاک خانہ مل جانا۔ تو ڈاکخانہ مل گیا۔ عابدی صاحب کو معلوم ہوا کہ اسرار میرا بیٹا ہے تو کہنے لگے’’بھائی! وہ تو ہمارے ساتھ تھے۔پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ میں! ہم بھی بورڈ کے ممبر تھے

Read more

مسئلے کا مستقل حل:آئینی ترمیم

آپ کی ذہانت کا امتحان ہے! پوری مسلم لیگ( ن) میں سے افطار پارٹی میں بلاول نے صرف مریم صفدر کو اپنے ساتھ کیوں بٹھایا؟ یوں تو حمزہ شہباز اور اپنے وزیر اعظم ہونے سے انکار کرنے والے خاقان عباسی بھی وہاں موجود تھے مگر حاشیے پر بیٹھے تھے۔ اصل مہمان مسلم لیگ نون میں سے مریم تھیں۔ پھر، اس سوال کا آپ کیا جواب دیں گے کہ پیپلزپارٹی میں اتنے بڑے بڑے جغادری موجود ہیں۔ خود زرداری صاحب، پھر

Read more

کُتے‘ خُوک زادے اور ہنسانے والا

کیا کیا ارمان تھے خیراں بی بی کے دل میں! ساری عمر کی حسرتیں ! سبز گنبد دیکھنے کا شوق! جالیاں چومنے کی چاہ! ایک ایک پل گن کر گزارا تھا اس لمحے کے لئے! راتوں کو سوتے سوتے تڑپ کر اٹھ بیٹھتی ! یا پاک پروردگار! امجھے مرنے سے پہلے اپنے گھر کی زیارت کرا دے۔ مجھے مدینہ دکھا دے! مجھے مدینہ کی گلیوں میں پڑا رہنے والا ککھ بنا دے۔ نہیں تو اس جھونکے ہی کا روپ دے

Read more

مولانا طارق جمیل: صحرا میں اذان دے رہا ہوں

شبر زیدی نے کہا ہے کہ تین سو کمپنیاں ہیں اور ان میں سے صرف اسی انکم ٹیکس دے رہی ہیں، سمگلنگ دھڑا دھڑ ہو رہی ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے علاوہ بھی سمگلنگ زوروں پر ہے۔ ایف بی آر کے چیئرمین نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ برس ساٹھ ارب ڈالر کی درآمدات کی گئیں۔ ایک سال میں دس ہزار مشکوک بنک سرگرمیاں ہوتی ہیں، بائیس کروڑ کی آبادی میں انکم ٹیکس گوشوارے صرف انیس لاکھ افراد جمع کرا

Read more

کوئی ہے جو اس قتلِ عام کو روکے

یہی کہا ہے نا کہ کمزور ترین کرنسی ہے پاکستان کی؟ مان لیا کمزور ترین ہے! مگر گزارہ ہو جائے گا۔ ایک وقت فاقہ کر لیں گے۔ چُپڑی ہوئی نہ سہی ’سوکھی کھا لیں گے۔ گوشت کے بجائے چٹنی پر قناعت کر لیں گے۔ مگر جس ملک میں ٹریفک دنیا کی بدترین ٹریفک میں سے ہو اس میں کون بچے گا؟ مغربی سیاح کا کمنٹ نہیں بُھولتا۔ People have been left on roads to kill each other! خلق خدا شاہراہوں

Read more

بدبخت کہیں کے!

پھر وہی سیاپا وہی پھوہڑی ! وہی سینہ کوبی وہی ماتم! ؎ آج بھی صید گہ عشق میں حُسنِ سفّاک لیے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا یہ رمضان بھی اپنے نصف کو پہنچنے والاہے مگر نالاں ہے! شاکی ہے! فریاد کناں ہے۔ہم منافقین سے پناہ مانگ رہا ہے! اس کا بس چلے تو کٹر کتا عذاب نازل کر دے! یہ لطیفہ بھی پرانا ہو چکا ہے جو کمال بے شرمی بے حیائی اور ڈھٹائی سے ہم

Read more

اچھے ماتحت

یہ ایک مختصر‘ عام سا بیان ہے جسے ہو سکتا ہے بہت سے اخبار بینوں نے غور سے پڑھا بھی نہ ہو۔ مگر ایک خاص طرز سیاست کا کچا چٹھہ کھول رہا ہے جو اس ملک پر مسلط ہے! ’’مریم نواز ایک سیاسی کارکن ہیں وہ سیاسی میدان میں بھر پور کردار ادا کرتی ہیں لیکن قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتیں‘‘ یہ بیان کس کا ہے؟ یہ اہم نہیں! اس لئے کہ مقصد

Read more

لائل ‘ پوہم ینگ اورکیمپ بیل زندہ ہوتے, تو پوچھتے کہ اب افاقہ ہے؟

یوگی ادتیاناتھ (Aditya nath) یو پی کے ایک گائوں میں 1972ء میں پیدا ہوا۔ باپ محکمہ جنگلات کا ملازم تھا۔ نوے کی دہائی میں ادتیا ناتھ اس تحریک میں شامل ہو گیا جو ایودھیا مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنا چاہتی تھی۔ اسی دوران خاندان سے قطع تعلق کر کے وہ گورکھ پور کے مشہور مندر گورکھ ناتھ سے وابستہ ہو گیا۔ یہیں اسے ’’مہنت‘‘ کا درجہ دے دیا گیا۔ پھر وہ انتہا پسند ہندو کے طور پر سیاست میں

Read more

جو ہو رہا ہے ہم اسی کے مستحق ہیں

کیا آپ کو یاد ہے مہاجن چوکی سامنے رکھے‘ دری پر بیٹھا ہوتا تھا؟ نواب صاحب کا منشی اس کے پاس آتا تھا۔ کہ نواب صاحب نے مزید قرض مانگا ہے۔ وہ کھاتہ دیکھتا تھا کہ پچھلا حساب کتنا ہے۔ پھر کچھ کہے یا پوچھے بغیر مطلوبہ رقم گن کر منشی کے حوالے کر دیتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ قر ض واپسی آنا ہی آنا ہے اور مع سود آنا ہے۔ نواب صاحب کے پاس رقم نہ بھی ہوئی

Read more

بصارت یا بصیرت؟ یا دونوں؟

بہت سی مشینوں پر آنکھوں کا معائنہ ہوا۔ کبھی ہدایت کی گئی کہ نیچے دیکھیں‘ کبھی اوپر‘ کبھی دائیں‘ کبھی بائیں۔ پھر آنکھوں میں کسی دوا کے قطرے ڈالے گئے۔ شاید اس غرض سے کہ پتلیاں پھیلیں۔ اس سے چبھن ہوئی اور جلن! پھر دوبارہ مشینوں میں ٹھوڑی اور پیشانی فِٹ کرا کے بینائی کا امتحان ہوا۔ پھر باہر بیٹھ کر انتظارکرنے کو کہا گیا۔ پھر ڈاکٹر خود باہر آیا اور اپنے کمرے میں لے گیا۔ ان ملکوں میں یہی

Read more

درخواست بخدمت سربراہ آئی ایم ایف

دوست عزیز جناب رئوف کلاسرہ نے کچھ عرصہ قبل وزیر اعظم کے سامنے میانوالی مظفر گڑھ روڈ کی تعمیر کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔ کل انہوں نے لکھا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اس منصوبے کی منظوری دے دی۔ یہ خوش رنگ خبر وزیر اعلیٰ نے کلاسرہ صاحب کو بنفس نفیس دی۔ کلاسرہ صاحب اس حوالے سے خوش بخت ہیں۔ خوش بختی کی دو وجوہ ہیں ایک یہ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ان کے گرائیں ہیں۔ یعنی سرائیکی ہیں۔ سرائیکی

Read more

مادی ترقی کے لئے بھی سچ بولنا پڑے گا

جنوبی کوریا کے شہر رنچن میں مقیم اختر محمود بتاتے ہیں کہ سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنے وہاں کے بازار گئے۔ ایک شو روم میں گاڑی اپنی استطاعت کے حساب سے پسند کی۔ سودا ہو رہا تھا تو شوروم والے نے کہا کہ اس گاڑی میں جو مسائل آپ کے لئے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں وہ بتانے ضروری ہیں۔ اس کے بعد اس نے گاڑی کی خامیاں بتائیں اور اس قدر تفصیل سے بتائیں کہ خریدنے والے پیچھے ہٹ گئے

Read more

کم سنی کی شادی اور ۔۔۔ کتب آن لائن

’’کُتب آن لائن‘‘ کا اس کے سوا اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ آن لائن کتابیں فروخت کی جائیں۔ مگر ٹھہریے! ابھی ایک اور مسئلہ! امیر المومنین عمر فاروق اعظمؓ کا عہد ہے حاطب ابن ابی بلتعہ ایک آسودہ حال شخص ہے۔ اس کے غلام اونٹ چُراتے ہیں۔ امیر المومنین کے سامنے مقدمہ پیش کیا جاتا ہے۔ اقرارِ جرم پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتے ہیں۔ ابھی ہاتھ نہیں کاٹے گئے کہ آپ روک دیتے ہیں۔ پھر وہ غلاموں

Read more

توازن اور ہوش!!

’’تمہاری نہ ختم ہونے والی بغاوت کے پیش نظر اب میرے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ میں طاقت کا استعمال کروں۔ یہ تمہاری شوریدہ سری کو میری آخری وارننگ ہے۔ اب غیر مشروط اطاعت ہی تمہیں میرے عتاب سے بچا سکتی ہے۔ ریاست کی سلامتی ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے گی‘‘ یہ اکبر اعظم کی وارننگ تھی۔ اپنے حقیقی فرزند کے نام! شہزادہ سلیم نے الہ آباد کو مستقر بنا کربغاوت کر دی تھی۔ اپنے نام

Read more

اس سے زیادہ صاف تو مردار کا گوشت ہے

کیا فرق ہے ہم میں اور کسی دور افتادہ‘ جنگل کے درمیان واقع ایک وحشی قبیلے میں! اگر ترقی کا مطلب وسیع شاہراہیں‘ میلوں لمبے شاپنگ مال اور جدید ترین ہوائی اڈے ہوتا تو ایک دنیا شرق اوسط کے ملکوں میں زندگی بسر کرنے کی خواہش مند ہوتی! یہ سب کچھ وہاں موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ!مگر کسی کے دل میں امنگ نہیں اٹھتی کہ وہاں جا کر بسے۔ اس لئے کہ ٹریفک کا حادثہ ہو گیا

Read more

قربان تیرے! پھر مجھے کہہ لے اسی طرح

یہ حقیقت ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ثابت ہو چکی ہے کہ سوقیانہ زبان استعمال کرنے کے لئے جہالت ضروری نہیں!ان سے زیادہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کون ہو سکتا تھا۔ تاہم سیاسی حریفوں کو وہ آلو اور ڈبل بیرل کہہ دیتے تھے۔ عوامی جلسوں میں بھی متانت کی سطح سے نیچے اترنا ان کا معمول تھا۔ عمران خان پر بھی برطانوی تعلیم اور ولایت میں قیام کا ٹھپہ لگا ہوا ہے۔ ایک سیاسی جماعت کے خاندانی وارث کو انہوں

Read more

ایک امیر شہر جسے نوچنے والوں نے فقیر کر دیا

خزاں ہے اور ایسی کہ درخت بجھ گئے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا خزاں دلوں میں جڑیں چھوڑنے کی دُھن میں ہے کہاں گیا مرا پروردگار موسمِ گُل سبزہ پیلا پڑ گیا ہے۔ نامراد عاشق کے رخسار کی طرح رومی نے شمس تبریز کے نام پر پورا دیوان لکھ ڈالا۔ دیوان شمس تبریز! اور عاشق کے زرد رنگ کی طرف معشوق کی توجہ دلائی آخر تو شبی رحمی نہ کُن بر رنگِ رُخِ ہمچون زرِ من ایک رات

Read more

صوبوں کی تقسیم: تاخیر کر سکتے ہیں، روک نہیں سکتے

وہ گاؤں کا غریب آدمی تھا۔ نسل در نسل ایک ہی پیشے سے منسلک جو سماجی ڈھانچے میں زیریں سطح پر تھا۔ معجزہ یہ ہوا کہ اس کے بیٹے نے گریجوایشن کرلی۔ نوکری بھی مل گئی یہ اور بات کہ پکی نہیں تھی۔ یہ وہ زمانہ ہے جب سرکاری کاغذوں میں ایک اصطلاح کنٹریکٹ کی نوکری ہے۔ کام لیتے رہو یعنی لٹکائے رکھو۔ لٹکائے رکھو۔ کام لیتے رہو۔ تنخواہ بڑھانی پڑتی ہے نہ ترقی دینے کا جھنجھٹ، پینشن تو کنٹریکٹ

Read more

وہ فرشتہ ہے نہ ساحر

یہ آج نہیں ہو رہا۔ صدیوں سے ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے۔ جس زمانے میں عرب پرتگال کی سرحد سے لے کر ماورا النہر تک چھائے ہوئے تھے جیسے پرزور گھٹا افق تا افق چھا جاتی ہے، اس زمانے سے محاورہ چلا آ رہا ہے من صنّف فقداستھدف۔ جو بھی نیا راستہ نکالے گا، طنزو تشنیع کے تیروں سے چھلنی کر دیا جائے گا۔ یہی بات اہل ایران نے کہی ؎ ازان کہ پیرویٗ خلق گمرہی آرد نمی رویم

Read more

نسل‘زبان اور مسلک کے پھندے

چودہ مزید پنجابیوں کو بلوچستان میں قتل کر دیا گیا ہے۔ سفاکی اور بربریت کا وحشیانہ مظاہرہ! زمین کے کسی خطے کو اگر چند قبائلی سردار‘ چند نواب‘ چند خان‘ چند ملک‘ زیرنگیں رکھنا چاہیں تو اس کا کامیاب ترین طریقہ‘ جو صدیوں سے آزمایا جا رہا ہے‘ یہی ہے کہ مقامی اور غیر مقامی کی تفریق پیدا کی جائے‘ اس طریقے کا ایک ’’جزو،ب‘‘ بھی ہے۔ یعنی دوسرا حصہ۔ کسی قوم کو اگر معاشی اور سیاسی حوالے سے پس

Read more

ماتم کرو اے اہلِ پاکستان! ماتم کرو!!

افسوس! کوئی طہٰ حسین اس ملک کی قسمت میں نہیں! بنفشہ اور گلاب کے پودے جڑوں سے اکھاڑ دیے گئے۔ دھتورے کے بوٹے لہلہا رہے ہیں۔کہاں وہ ساون کے آم کے درختوں سے ٹپکا لگتا تھا۔ ہر طرف حنظل‘ نیم اور اندرائن کے پیڑ ہیں اور جھاڑ جھنکار! 1950ء کا عشرہ تھا جب ڈاکٹر طہٰ حسین کو مصر میں وزیر تعلیم بنایا گیا۔ ایک نیم حکیم نے اپنی جہالت سے طہٰ حسین کو تین برس کی عمر میں بینائی سے

Read more

جیفرلٹ کی پذیرائی سرکاری سطح پر کیوں نہیں کی جا رہی

کرسٹوف جیفرلٹ فرانس کے مشہور دانشور، عالم اور ماہر علم سیاسیات ہیں۔ وہ پیرس میں واقع معروف ’’سینٹر فار سٹڈیز ان انٹرنیشنل ریلیشنز‘‘ کے ڈائریکٹر ہیں۔ بیس برس کی عمر میں ڈاکٹر کرسٹوف جیفرلٹ پہلی بار بھارت گئے اور پھر بھارتی سماج کی تہہ در تہہ اندھیری پرتوں میں یوں الجھے کہ مطالعہ اور تحقیق کا رخ اسی طرف کر لیا۔ تاہم وہی بات کہی اور لکھی جو دیکھی اور جو سچائی پر مبنی تھی۔ حال ہی میں ان کی

Read more

فیس بک… مشتری ہشیارباش

چند دن پہلے فیس بک پر کچھ نوجوانوں کی ترتیب دی ہوئی ’’پسندیدہ‘‘ شعرا کی فہرست دیکھی! عباس تابش اور اختر عثمان کے سوا کوئی معتبر شاعر اس نام نہاد فہرست میں شامل نہ تھا۔ شعرا پرتو نہیں، شاعری پر برا وقت ہے۔ مشاعرے کیا کم تھے، پست ذوقی کی ترویج کیلئے کہ فیس بک بھی اس جرم میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرنے لگی ہے! محب عارفی یاد آ رہے ہیں ؎ رواں ہر طرف ذوق پستی رہے

Read more

میرا گریبان مجھ سے کتنا دور ہے؟

یہ صرف چار پانچ خاندانوں کی کرپشن نہیں جس کا رونا رویا جائے! ایک عمران خان نہیں ’ایسے دس عمران خان بھی آ جائیں تو تبدیلی نہیں آئے گی! آپ اُس باغ کو کیسے ہرا بھرا کر سکتے ہیں جس میں ہر پودے کو کیڑا لگا ہے۔ جس کی نہر کا پانی زہریلا ہے۔ جس میں طوطے ہے نہ بلبلیں۔ جہاں ہر طرف گدھ‘ کوے اور چیلیں منڈلا رہے ہیں۔ جس کے سبزے میں سانپ سرسرارہے ہیں۔ جس کے درختوں پر لکڑ ہاروں کی یلغار ہے۔ جس کی چار دیواری جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی ہے اور ہر کوئی اندر آ کر چیرہ دستی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

زرداری ’نواز شریف‘ جنرل مشرف ’جنرل ضیاء آسمان سے نہیں اترے تھے۔ وہ ہم میں سے تھے۔ ہم بحیثیت مجموعی جس کردار کے مالک ہیں‘ وہی کردار ہمارے منتخب نمائندوں کا اور ہمارے حکمرانوں میں پایا جائے گا۔ یہ منتخب نمائندے ’یہ حکمران‘ یہ پیپلز پارٹی کے سیاستدان ’یہ نون اور قاف لیگ کے عمائدین‘ یہ تحریک انصاف کی حکومت کے وزراء اور مشیر ’یہ برازیل یا چلی سے درآمد نہیں کیے گئے‘ یہ تھائی لینڈ سے نہیں آئے ’یہ اسی ملک کے فرزند ہیں۔

Read more

غلط کہا وزیر اعظم نے! سراسر غلط!

نہیں! جناب وزیر اعظم! غلط کہا آپ نے! سراسر غلط! اگر آپ کا اندازِ فکر یہی رہا تو دامن کا چاک سلے گا تو کیا! گریباں کے چاک سے آ ملے گا! پیراہن کے بخیے ادھڑ جائیں گے! مانا آپ سکندر ہیں! مقدر کے سکندر! مگر ارسطو سے محروم ہیں! کاش! حواریوں میں کوئی رجلِ رشید بھی ہوتا! وہی یک طرفہ ’ایک طرف سے مُڑی ہوئی‘ ترچھی ’اپروچ ہے آپ کی جو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تھی! وہی Lop Sidedسوچ!

پھر فرق کیا ہوا آپ میں اور آپ کے پیشرو میں! لگتا ہے حکمران اندر سے وہی ہیں۔ دکھانے کے لئے کوئی نواز شریف کی کھال اوڑھ لیتا ہے کوئی عمران خان کی! کھال کے اندر وہی ایک فرد! حکمت سے محروم! اپنے آپ کو عقل کل گردانتا! چاپلوسی کرنے والے بونوں میں گھرا ہوا! وہی بادشاہ کے ”لباس“ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے بصارت اور بصیرت سے محروم درباری! اے زمین و آسمان کے خالق! کوئی بچہ بھیج جو پکار اٹھے کہ بادشاہ سلامت برہنہ ہیں!

Read more

جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے

جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔ یہ اُصول، جو زمانوں سے چلا آ رہا ہے، اہلِ پاکستان کی اکثریت کی سمجھ میں نہیں آ رہا۔ آخر کون سا کام راتوں رات ہو جاتا ہے؟ معجزوں کے زمانے گزر گئے جب پلک جھپکنے میں ملکہ سبا کا تخت حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے موجود تھا۔ وقت لگتا ہے۔ وقت لگنے سے مراد وہ وقت نہیں جو نیکوکار پوچھتے ہیں ”کیا وقت لگایا ہے“؟ بلکہ کام ہونے میں، نتیجہ حاصل ہونے میں، ظفریابی میں وقت لگتا ہے۔

وہ عظیم شاعر سنائی، جس کے مزار پر اقبال نے اپنی وہ لافانی غزل کہی جس کے یہ اشعار ضرب المثل ہو چکے ہیں۔ وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نے غبارِ راہ کو بخشا فروغ واد ئی سینا نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طٰہ سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہ ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے لالا وہی سنائی جس کی یاد میں رومیؔ جیسے عبقری نے کہا تھا ع ما از پئی سنائی و عطّار آمدیم ہاں!

Read more

تحریک انصاف کی درویشی

یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس پر بھی ردعمل خاموشی کی شکل میں ہوا تو یہ اونٹ کی پیٹھ پر آخری تنکا ثابت ہو گا!! اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان ایک اور نازک موقع پر خاموش رہے ہیں۔ اور اُس خاموشی کو ، معاف فرمائیے گا۔ نرم ترین لفظوں میں بھی مجرمانہ خاموشی ہی کہا جائے گا۔ آج تک قوم یہ نہیں جان سکی کہ ناصر درانی پنجاب حکومت سے کیوں الگ ہو کر گھر چلے گئے۔ اتنے

Read more

مسلمان تارکین وطن کا مستقبل

ساڑھے چھ فٹ طویل مصری عالم دین جناب اعلیٰ الزقم میلبورن کے محلے ہائیڈل برگ کی جامع مسجد میں خطبہ دے رہے تھے۔ فصیح و بلیغ آسان عربی میں اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد مافی الضمیر انگریزی میں ڈھال رہے تھے۔ سننے والے دم بخود تھے اور ہمہ تن گوش۔ اس مسجد کی انتظامیہ مصریوں پر اور نمازیوں کی غالب تعداد صومالیہ کے مہاجرین پر مشتمل ہے۔ استاد اعلیٰ الزقم کا سارا زور اس بات پر تھا کہ آسٹریلیا جیسے

Read more

مگرمچھ کے آنسو

کیا آپ نے کبھی مگر مچھ دیکھا ہے؟ اگر آپ کا جواب اثبات میں ہوتا تو اگلا سوال یہ تھا کہ کیا کبھی مگر مچھ کو آنسو بہاتے بھی دیکھا ہے۔ مگر مچھ کے آنسو بہانے کا محاورہ ہمارے ہاں براہ راست انگریزی زبان سے آیا ہے۔ کچھ محاورے فارسی سے بھی آئے ہیں۔ جیسے اپنی شہرۂ آفاق مثنوی ”سکندرنامہ“ میں نظامی گنجوی کہتے ہیں ؎ کلاغی تگ کبک را گوش کرد تگ خویشتن را فراموش کرد یعنی کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ مذہبی گروہوں نے سیاسی پارٹیوں کا روپ دھارنا چاہا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی چال بھی بھول گئے۔ مذہبی رہے نہ سیاسی۔ پارٹی تو کیا بنتے گروہی حیثیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ شورش کاشمیری نے کہا تھا ؎ آج میں تہمتِ بے جا کے سوا کچھ بھی نہیں دس برس کاٹ کے پنجاب کے زندانوں میں یہ جتھے آج تہمت بے جا کے سوا کچھ نہیں۔ صرف تہمت ہونا ہی زمین کا بوجھ ہونے کے لیے کافی تھا۔ تہمت بے جا ہونا تو عبرت کا آخری درجہ ہے۔ بات محاوروں کی ہورہی تھی۔ مگر مچھ کے آنسو ہمارے ہاں براہ راست جزائر برطانیہ سے آئے۔

Read more

پاکستان کا مطلب کیا

افسوس ہم اپنی بنیاد سے بے خبر ہو چکے۔ ہیہات! ہیہات!ہم اپنی تاریخ بھول گئے۔ کیا کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ کوئی قوم اپنی وجہ تخلیق فراموش کر بیٹھے؟ نرم ترین لفظ بھی اس عمل کے لیے خودکشی ہے، بنیاد گئی تو دیواریں گریں، دیواریں گریں تو چھت نیچے آ رہی، انجام موت، درد ناک۔ اے غفلت کیش گروہ، اے حال مست بے فکروں کے انبوہ، سوچو کہ وہ دھان پان پتلا دبلا انسان جس نے تپ دق کی

Read more

خوشی کی خبر

سب سے پہلے خوشی کی یہ خبر صدر ٹرمپ کو وزیراعظم مودی نے ہاٹ لائن پر سنائی۔ صدر ٹرمپ نے اسی وقت اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کو فون کیا۔ یاہو اس وقت اسرائیل کے مذہبی رہنمائوں کے ساتھ خفیہ میٹنگ کر رہا تھا۔ اسے باہر بلا کر بات کرائی گئی۔ یاہو اجلاس میں واپس گیا اور یہودی علماء کو ’’ایک اچھی خبر‘‘ کی مبارک باد دی۔ یہ الگ بات کہ اس نے احتیاطاً خبر کی تفصیل نہ بتائی۔

Read more

سوہنی دھرتی اللہ رکھے

وہ بچپن تھا جب صحن ایک تھا۔ بہت بڑا صحن، سب اس میں مل کر کھیلتے۔ گرمیوں میں ڈیوڑھی ٹھنڈی لگتی اور جاڑوں میں اندر کا نیم تاریک کمرہ گرم ہوتا۔ بڑے اس میں گھنٹوں بیٹھتے۔ بچے اندر جاتے تو انہیں دکھائی کچھ نہ دیتا۔ فوراً باہر نکل آتے۔ پھر صحن تقسیم ہوگیا۔ درمیان میں دیوار اٹھا دی گئی۔ اب یہ دو گھر الگ الگ ہو گئے مگر جن کا بچپن بڑے صحن میں گزرا تھا، وہ چشم تصور سے

Read more

زمیں سے معشوق لیں گے چاند آسماں سے لیں گے

سچ کہا تھا منیر نیازی نے کہ شاعر ہی تصورات پیش کرتے ہیں ’جسے دوسرے عملی شکلوں میں ڈھالتے ہیں۔ یہاں تک کہ چاند پر پہنچنے کا آئیڈیا بھی سائنسدان کو شاعروں ہی نے دیا۔ چالیس سال بنی اسرائیل صحرا میں بھٹکتے پھرے۔ کبھی نخلستانوں کی تلاش میں‘ کبھی سرابوں کے پیچھے ’بہتر برس ہو گئے ہیں پاکستانی قوم کو بھٹکتے ہوئے‘ کبھی سیٹو کے قافلے کا حصہ بنے ’کبھی سینٹو کی گرد راہ‘ ایوب خان کے عہد میں آر سی ڈی کا ڈول ڈالا گیا جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے مگر کوئی تیر نہ مارا گیا۔

کوئی پہاڑ آر سی ڈی (موجودہ ECO) نے نہ کھودا ؎ سر ہو سکی نہ اس کی مدد سے کوئی مہم دیوار دل پہ عشق کے نقشے لگے ہوئے سارک بنا اور بھارت کی کم ظرفی نے اسے ترقی کا زینہ نہ بننے دیا۔ غالب نے گمراہی کا جو تصور پیش کیا ’ہم اسے عملی جامہ پہنانے پر تلے ہیں ؎ چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں کبھی مہاتیر کا ملائیشیا ہمارا آئیڈیل بنتا ہے‘ کبھی ہم سنگاپور کے لی کوآن یو کے پیچھے چلتے ہیں۔

Read more

اور کچھ نہیں تو ساحل کی قدر ہی کر لو!!

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بے گھر انسان پر کیا گزرتی ہے! سعدیؔ کے پاس جوتے نہیں تھے۔ سفرکر رہے تھے شاکی اورنالاں ! راستے میں دیکھا کہ ایک مسافر کا پائوں ہی نہیں تھا! شکر بجا لائے کہ پائوں تو سلامت ہیں! باپ گھر بناتا ہے: پیسہ پیسہ جوڑ کر! جوانی اور بڑھاپے کی ہڈیوں کا سفوف‘ گارے میں مکس ہوتا ہے تب مالِ حلال سے مکان بنتا ہے۔ پھر بیٹے‘ بیٹیاں‘ پوتے ‘ نواسے‘ اس میں

Read more

شالا پردیسیاں نی خیر ہووے

نیوزی لینڈ میں مائوں کے جگر گوشے خون میں نہا گئے۔ باپ مارے گئے۔ بیویاں شہید ہوئیں۔ بیٹیوں کے لہو سے مسجدوں کے خون حنارنگ ہوئے۔ اپنے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور، پردیس میں، قیامت گزر گئی۔ کچھ وہیں آسودۂ خاک ہو رہے ہیں، کچھ کے جسد واپس لائے جا رہے ہیں۔ چشم فلک نے ایسے سانحے کم ہی دیکھے ہوں گے۔ ستارے اس خون آشام منظر پر بجھنے کو ہیں۔ ہوائیں بین کر رہی ہیں۔ زمین تھرا رہی

Read more

نیوزی لینڈ میں دہشت گردی۔ ایک زاویہ اور بھی ہے

”کئی برسوں سے سن رہا تھا اور پڑھ رہا تھا کہ فرانس پر وہ لوگ“ حملہ آور ”ہورہے ہیں جو سفید فام نہیں ہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ مبالغہ آرائی ہے اور اس کا مقصد سیاسی سکور حاصل کرنا ہے مگر فرانس جا کر دیکھا تو یہ سب کچھ نہ صرف سچ نکلا بلکہ یوں محسوس ہوا کہ اصل سے بھی کم ہے۔ “ نیوزی لینڈ کی دو مسجدوں پر وحشیانہ حملہ کرنے والے دہشت گرد نے ٹوئٹر پر اپنا ”منشور“ نشر کیا ہے۔ مندرجہ بالا سطور اسی منشور کا حصہ ہیں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس منشور کا عنوان اس نے کیا رکھا ہے اور یہ عنوان کہاں سے لیا ہے؟ اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں ایک بار پھر فرانس جانا پڑے گا۔ ریناڈکیمو 1946 ء میں پیدا ہوا۔ حصول تعلیم کے لیے برطانیہ اور امریکہ گیا۔ ادب کی طرف رجحان تھا مگر شروع ہی سے متنازعہ ہوگیا۔ اس کا موقف تھا کہ فرانس میں ادب کا تذکرہ ہو تو ترجیح یہودی النسل ادیبوں کو دی جاتی ہے۔ کھلم کھلا ہم جنس پرست بھی تھا۔ اس موضوع پر کتاب بھی لکھی۔

Read more

خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں اس روئے زمین پر سب سے زیادہ حیرت انگیز انسان ہوں؟ سب سے زیادہ عجیب و غریب۔ میرا چیلنج ہے کہ مجھے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ میرا اگلا اقدام کیا ہوگا؟ میں کس طرف مڑوں گا؟ میری پالیسی کیا ہے؟ میرا مستقبل کا روڈ میپ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا میرے دشمن کون ہیں، میرے دوست کون ہیں؟ میں رات دن حرام کھاتا ہوں، تجارت میں، زراعت میں،

Read more

ہرن کی حفاظت کے لیے تیندوئوں کا جلوس

ضمیر جعفری عین ہماری نبض پر انگلی رکھتے تھے۔ ایسا مزاح جس میں آنسو چھپے تھے۔ آبادی بم کے بارے میں متنبہ کیا کہ ؎ شوق سے نور نظر، لخت جگر پیدا کرو ظالمو تھوڑ سی گندم بھی مگر پیدا کرو مغرب نے جن صفات کو بروئے کار لا کر ترقی کی، وہ ہمیں نہیں راس آتیں۔ ضمیر جعفری نے کیا بھگو کر لگائی ہے ؎ نہ بینائی پسند آئی نہ دانائی پسند آئی مجھے سب جرمنی میں ایک نکٹائی

Read more

پنڈی گھیب سے لاہور۔ لاہور سے دہلی

ماسٹر جگت سنگھ 1885 ء میں کیمبل پور (اٹک) کے قصبے پنڈی گھیب میں پیدا ہوئے۔ 1902 ء میں راولپنڈی سے ہائی سکول پاس کیا۔ پہلے پرائمری سکول گولڑہ اور پھر میونسپل بورڈ ہائی سکول جہلم میں مدرس رہے۔ مزید تعلیم کے شوق میں سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے ایس وی کا امتحان پاس کیا۔ واپس پنڈی گھیب آئے اور وہاں خالصہ سکول کے نام سے تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ خود بھی اس میں پڑھاتے رہے۔ 1905 ء میں پنڈی گھیب ہی سے خالص تعلیمی مقاصد کے لئے ایک ماہانہ رسالہ ”رہنمائے تعلیم“ جاری کیا۔ماسٹر جگت سنگھ کے اپنے الفاظ میں۔ ”32 اس کے صفحات ہوتے تھے۔ میں خود ہی اس کے مضمون لکھتا۔ مسودہ خود ہی راولپنڈی لے جاتا کسی کاتب کی منت سماجت کر کے لکھواتا۔ بازار جا کر خود ہی کاغذ لاتا۔ پھر مطبع والوں کی خوشامد کر کے پاس کھڑا ہو کر چھپواتا۔ چھپے ہوئے فرمے سر پر اٹھا کر پنڈی گھیب لاتا۔ خود ہی انہیں فولڈ کرتا۔ خود پیکٹ بناتا۔ ٹکٹ لگا کر ڈاکخانے لاتا یعنی ایڈیٹر بھی میں تھا منیجر بھی میں تھا اور چپڑاسی بھی“ خالص تعلیمی مزاج کا یہ رسالہ ڈسٹرکٹ انسپکٹرآف سکولز میر عبدالواحد کی سرپرستی میں شائع ہوتا۔

Read more

کوئی انت ہے یا نہیں؟

یہ اڑھائی تین سال پہلے کی بات ہے! ایک عزیز کی شادی تھی۔ نکاح مسجد میں پڑھایا جانا تھا۔ یہ کالم نگار اہلیہ کے ہمراہ دیے ہوئے ایڈریس پر پہنچا۔ مین دروازے پر ایک کلاشنکوف بردار سدِّ راہ بنے کھڑا تھا۔ مسجد کے ساتھ فٹ پاتھ، اور سڑک اور فٹ پاتھ کے درمیان کچی جگہ تاروں کی باڑ سے بند کی گئی تھی۔ ہدایت کی گئی کہ عقب سے جائیں۔ عقب میں پہنچے تو جہاں گاڑیاں پارک تھیں، وہاں گاڑی کھڑی کی تو ایک اور کلاشنکوف بردار ظاہر ہوا کہ یہاں گاڑی نہیں کھڑی کی جا سکتی۔

اس سے پوچھا کہ باقی گاڑیاں بھی تو کھڑی ہیں، اس کا ایک ہی جواب تھا کہ یہاں آپ پارکنگ نہیں کر سکتے۔ کسی مبالغہ آرائی کے بغیر اگر یہ کہا جائے کہ یہ مسجد نہیں، قلعہ تھا تو غلط نہ ہو گا۔ چاروں طرف سخت پہرہ! پارکنگ والی جگہیں خاردار باڑ سے بند، کافی دیر کی تلاش، جدوجہد اور مدعو کرنے والے اعزہ کو فون کرنے اور مدد حاصل کرنے کے بعد، ایک UN۔ ASSUMINGقسم کے دروازے سے داخلہ مل سکا۔ نیچے سیڑھیاں جارہی تھیں۔

Read more

حوالدار عبدالرب‘ نائیک خرم اور دوسرا ماڈل

میرے سامنے دو ماڈل ہیں! کس ماڈل کو آئیڈیل قرار دوں؟ کس کو رد کر دوں؟ پاکستان کی آئندہ نسلوں کیلئے ان دو میں سے کون سا ماڈل مشعل راہ ہو گا؟ پہلا ماڈل حوالدار عبدالرب اور نائیک خرم کا ہے! دونوں کی لاشیں لائن آف کنٹرول سے آئی ہیں! دشمن نے حملہ کیا تو پاک فوج نے بھر پور جوابی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں حوالدار عبدالرب اور نائیک شہید ہو گئے۔ گولیاں انہوں نے سینے پر اس وقت

Read more

بیچاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے

اس میراثی کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں جو بیٹے کا رشتہ مانگنے گائوں کے چوہدری کے گھر چلا گیا تھا۔ خوب مار پڑی۔ پگڑی کھل گئی اور زمین پر گر پڑی۔ جاتے وقت پگڑی لپیٹتا جارہا تھا اور پوچھتا جارہا تھا کہ چوہدری صاحب! میں پھر آپ کی طرف سے ’’نہ‘‘ ہی سمجھوں۔ عرب چوہدریوں کے کلب میں جسے او آئی سی (آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس) کہتے ہیں، پاکستان کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں۔ تمام قواعد و

Read more

نہیں! یہ اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں

نہیں! یہ اہل ایمان کا شیوہ نہیں! فتح کے بعد مسلمان کا طرزِ عمل وہ نہیں ہوتا جس کا مظاہرہ ہم اہل پاکستان کر رہے ہیں! بھارت کو اپنی کثرت پر ’اپنے حجم پر‘ اپنی افواج کی طاقت پر بھروسا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ پاکستان ترنوالہ ثابت ہو گا۔ مودی سمجھ رہا تھا کہ گجرات کے مسلمانوں کی طرح پاکستان کے مسلمان بھی آسانی سے اس کی بربریت کا شکار ہو جائیں گے۔ مگر پروردگار عالم نے ہمیشہ کی طرح اہل ایمان کو نوازا۔قلیل ’کثیر سے جیت گئے۔ طاقت ایمان سے شکست کھا گئی۔ بھارت کے دو طیارے مار گرائے گئے۔ یہ ایسی ہزیمت تھی جسے بھارت اپنے لوگوں سے نہ اہل دنیا سے چھپا سکا۔ اللہ نے پاکستان کو فتح سے نوازا۔ بھارتیوں کا غرور خاک میں مل گیا ان کا مورال تحت الثدیٰ تک گر گیا۔ یہ شکر کا مقام تھا۔ کیا تم نے اللہ کا شکر ادا کیا؟ شادیانے بجا! جلوس بھی نکالے گئے۔ نعرہ زن بھی ہوئے مگر شکرانے کے نوافل ادا کیے نہ صدقہ و خیرات کی طرف دھیان گیا۔

Read more

ڈی پی دھر، اسرائیل اور مُودی

بھارت میں بہت سے حلقوں کو یقین ہے کہ پلواما کے واقعہ میں مودی سرکار خود ملوث ہے۔ براہِ راست یا بالواسطہ! ان حلقوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم مودی ’’براہِ راست‘‘ ذمہ دار ہے۔ بنرجی کہتی ہیں کہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی مودی نے اس واقعہ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ’’تمہیں حملے کا پہلے سے

Read more

فرسودہ رسمیں نعمت بھی ثابت ہو سکتی ہیں

جمعہ کی نماز ختم ہوئی تو یوں لگا جیسے میلے کا سماں تھا۔ سب ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ اس مسجد کا انتظام مصریوں کے سپرد تھا۔ اگرچہ علاقے میں آبادی زیادہ صومالیہ کے پناہ گزینوں کی تھی۔ زیادہ تر مصری کوٹ پتلون میں ملبوس تھے۔ کچھ نے نکٹائیاں بھی لگائی ہوئی تھیں۔ مسجد کے احاطے ہی میں ایک کمرہ انتظامیہ نے بیٹھک کے طور پر مختص کر رکھا تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد مصری نمازی اور مسجد

Read more

Grow up انور مقصود صاحب!!

برسوں کا نہیں، صدیوں کا احساس کمتری بھارتی حکومت کو چین کا سانس نہیں لینے دیتا۔ تقسیم کے بعد پہلی بار آر ایس ایس کو حکومت بنانے کا موقع ملا۔ بی جے پی کیا ہے؟ آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے زعم میں ایک ہزار سال کا بدلہ پاکستان سے لینا چاہتے ہیں۔ پاکستان پر بس نہ چلے تو بھارتی مسلمان تو ان کے پنجے میں ہیں۔ وہ بھاگ کر کہاں جائیں گے؟ آر

Read more