پردے میں رہنے دو، پردہ نہ اٹھاؤ…

صاف پتہ چل رہا تھا کہ مریض کی حالت نازک ہے! بہت نازک!منہ اور ناک میں ٹیوبیں لگی ہوئی تھیں، ہاتھ کے راستے، سٹینڈ پر لٹکی بوتل میں سے دوا جسم میں جا رہی تھی۔ سر کی جانب دیوار کے ساتھ متعدد آلات نظر آ رہے تھے جن پر بلڈ پریشر، دل کی رفتار اور…

Read more

سفر اب بائی ایئر یا بائی روڈ کریں؟

چترال سے آنے والا پی آئی اے کا جہاز حویلیاں میں سات دسمبر 2016ء کو گر کر تباہ ہوا۔ تمام کے تمام (47) مسافر لقمۂ اجل بنے۔ تین برس اور تقریباً پانچ مہینے بعد یہ دوسرا حادثہ ہے جو کراچی میں ہوا اور سوسے کچھ کم افراد اس دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئے…

Read more

ہماری ایئر لائن کی تباہی کا احوال

''یہاں جتنے بھی ملازم ہیں‘ آپ انتظامیہ کو ان کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ ان لوگوں کو رکھنے میں یونینیں (Unions)  اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ملازمین کی چھ ایسوسی ایشنز اور یونینز ہیں۔ ائیر لائن کیسے چل رہی ہے؟ اس میں ان کا بڑا حصہ ہے! کیبن کریو کی اپنی ایسوسی ایشن…

Read more

عید جو کھو گئی

سن اس وقت کچا تھا۔
یہ گاؤں تھا، نہ شہر جہاں ہم رہتے تھے۔ قصبہ تھا۔ چھوٹا نہ بڑا۔ بس اتناکہ اس میں بڑا بازار تھا! لڑکوں کا ہائی سکول تھا اور لڑکیوں کا بھی۔ ہسپتال تھا جہاں ایک ہی ڈاکٹر ہوا کرتا۔ ایک معمر شخص وہاں ڈسپنسر تھا جسے قصبے والے ”کمپوڈر“ کہاکرتے۔ وہ زمانہ مکسچروں کا تھا۔ نظام ہضم درست کرنے کے لئے لال رنگ کا ایک مکسچر عام تھا۔ ذائقہ اس کا کچھ کچھ کھٹا ہوتا۔ اگر حافظہ غلطی نہیں کر رہا تو اسے ”28 نمبر“ کہا جاتا تھا۔

Read more

”جب ہسپانیہ پر ہماری حکومت تھی“

حمزہ یوسف 1958 ء میں واشنگٹن میں پیدا ہوا۔ شروع میں وہ ایک باعمل آرتھوڈکس عیسائی تھا۔ قرآن پاک کے مطالعہ کے بعد مسلمان ہو گیا۔ چار برس العین (متحدہ عرب امارات) میں شریعہ کی تعلیم حاصل کی۔ عربی میں مہارت حاصل کی۔ تجوید سیکھی۔ عربی شاعری، منطق، فقہ اور دیگر عوام کی تحصیل کی۔ الجزائر، مراکش اور ماریطانیہ میں بھی علما سے استفادہ کیا۔ 1996 ء میں اس نے برکلے (کیلی فورنیا) میں زیتونہ کالج قائم کیا۔ اس میں اسلامی اور عصری علوم کی تعلیم دی جاتی ہے۔ متعلقہ امریکی اداروں نے اسے باقاعدہ منظور کیا ہوا ہے۔ روزنامہ گارڈین نے حمزہ یوسف کو ”مغرب کا با اثر ترین اسلامی سکالر“ قرار دیا ہے۔

Read more

ہم دلدل میں دھنس گئے ہیں

رات تھی اور جنگل۔ گھڑ سوار چلا جا رہا تھا۔ پگڈنڈی کے دونوں طرف پانی تھا۔ ایک ٹارچ تھی جس سے وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد یقین کر لیتا تھا کہ گھوڑا پگڈنڈی ہی پر چل رہا ہے۔ جیسا کہ ایسے مواقع پر ہوتا ہے، کچھ ہی دیر بعد ٹارچ کے سیل ختم ہو گئے۔ چاند بھی چھپ گیا، گھوڑا چلتا رہا۔ پھر یوں محسوس ہوا جیسے گھوڑا قدم رکھتے وقت زیادہ زور لگا رہا ہے۔ پھر اس کے پاؤں دھنسنا شروع ہو گئے۔ سوار ایک وسیع و عریض دلدل میں پھنس چکا تھا۔

اب معاملہ وہی تھا نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن! کوئی معجزہ ہی بچا سکتا تھا! ہم بحیثیت ملک ایک دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ ٹارچ میں دیانت، احساس اور عزت نفس کے سیل جواب دے چکے ہیں۔ آسمان پر دور دور تک چاند ہے نہ کوئی تارا، اندھیرا ایک افق سے دوسرے افق تک دبیز چادر تان چکا ہے۔ اب کوئی معجزہ ہی ہمیں بچا سکتا ہے۔

Read more

ہم معصوم ہیں! ہم بچے ہیں!

ولیم اور بیگم ولیم ایک اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں۔ کورونا کی وبا نازل ہوئی تو وہ اپنی رہائش گاہ تک محدود ہو گئے۔ کچھ ہی دن بعد ان کے ہاں بیٹی کی ولادت ہوئی۔ مسز ولیم بے تاب تھی کہ اپنے والدین کو نئی نویلی بیٹی دکھائے مگر سماجی فاصلہ رکھنا لازم تھا؛ چنانچہ اس…

Read more

کوئی ہے جو وزیراعظم کو بتائے؟

خاتون عمر رسیدہ تھی! مجھ سے اور میری اہلیہ سے بھی زیادہ معمر! نحیف بھی!

ہم دونوں نے جہاں تک ممکن تھا، اس کا خیال رکھا۔ جہاز بھرا ہوا تھا۔ کبھی کبھی خوش قسمتی سے دو نشستیں ایک ساتھ خالی مل جاتی ہیں مگر اس دن یہ لاٹری بھی نہ نکلی۔ عمر رسیدہ خاتون کو کھانا نہ بھایا۔ ائر ہوسٹس سے کہہ کر دوسرا منگوا کر دیا۔ پندرہ گھنٹے کی فلائٹ تھی۔ کہنا آسان ہے مگر پندرہ گھنٹے اکانومی کی نشست پر بیٹھنا سزا سے کم نہیں! خاتون جب بھی کروٹ بدلنے کی کوشش کرتی اس کے منہ سے ایک خفیف سی ہائے نکلتی! پندرہ گھنٹے بعد جہاز دبئی کے ہوائی اڈے پر اترا۔ یہاں بارہ گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا۔ بارہ گھنٹے یعنی صبح سے شام تک! شاید غالب بھی کسی ایسے ہی ٹرانزٹ میں تھے جب کہا ؎

Read more

بہت کچھ آپ کے اپنے اختیار میں ہے

چوہدری صاحب پرانے دوست ہیں۔ فرسٹ ائر سے لے کر بی اے فائنل تک ہم کلاس فیلو رہے۔ پھر میں مرکزی حکومت کے سکالرشپ پر ڈھاکہ یونیورسٹی چلا گیا اور وہ ایم اے کرنے پنجاب یونیورسٹی۔ ان کے بڑے بھائی کو گردے کا عارضہ لاحق ہوا۔ ڈاکٹر نے خراب گردہ نکالنا تھا مگر لاپروائی کی…

Read more

مزاحیہ کلپ بدستور بھیجتے رہیے!

کالم نوکری کے فضائل پر لکھنا تھا! گاؤں کی بے باک الہڑ دوشیزہ نے تو نوکری کی مذمت کی تھی تیری دو ٹکیاں دی نوکری وے میرا لاکھوں کا ساون جائے مگر اب نوکری وہ نوکری نہیں رہی۔ اب اس میں اعلیٰ درجات کی نوکریاں بھی شامل ہو گئی ہیں۔ ٹھاٹھ باٹ، پرچم بردار لمبی،…

Read more