انہاں فارسیاں گھر پٹیا – ناقابل اشاعت کالم
” ایرانی خفیہ ایجنسی کا نمائندہ حاجی ناصر جو کہ پاکستان میں کاروباری شخصیت بن کر آتا جاتا رہتا ہے، سے رابطہ کیا۔ حاجی ناصر کے ساتھ ایران گیا اور اس نے ایرانی خفیہ ایجنسی کے افسران سے ملاقات کرائی۔ ایرانی خفیہ ایجنسی نے میری حفاظت کی ضمانت دی۔ اور بدلے میں مجھ سے معلومات دینے کا مطالبہ کیا جس پر میں راضی ہو گیا۔ ایرانی انٹیلی جنس کو میں نے کراچی میں آرمڈ فورسز کے اعلیٰ افسران کے نام اور رہائش گاہوں کی معلومات بھی دیں۔ کراچی میں قائم حساس اداروں کے دفاتر اور تنصیبات کے نقشے دیے اور تصاویر دینے کا وعدہ کیا۔ اہم تنصیبات کے داخلی و خارجی راستوں کی نشاندہی کرائی اور سیکیورٹی پر مامور لوگوں کی تعداد، رہائش اور آمد و رفت کا بھی بتایا۔ کراچی اور کوئٹہ کی آرمی کی تنصیبات سے متعلق معلومات دینے کا وعدہ کیا۔“
جاسوسی اور غداری کے یہ اعترافات کسی سول یا ملٹری ملازم کے نہیں۔ یہ کسی عام پاکستانی کے بھی نہیں۔ ایسا ہوتا تو یہ اعترافات کرنے والا آہنی گرفت میں ہو تا۔
Read more


