\”مرد ظالم ہے\” پر ایک مغرب زدہ تبصرہ


محترمہ نوشین حسین لکھتی ہیں\"saleem

\”مدیحہ سسرال میں بالکل خوش نہیں۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی پریشانی اور مشکل سر پرآکھڑی ہوتی ہے۔ آخر صبر اور برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ آئے دن نندیں گھر بیٹھی رہتی ہیں اور بھابھی کو تو وہ نوکر سمجھتی ہیں۔

ساس بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ان کے ہر وقت کے طعنے اس کے دماغ کی رگیں پھاڑنے لگتے ہیں۔

اور جیٹھانی نے تو زندگی عذاب کر دی ہے،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گھر پر صرف اسی کا حق ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے۔ مگر کیا کریں میکہ بھی تو اپنا نہیں رہا۔ وہاں بھی بھابھی آ گئی ہیں۔ وہ بھی تو اس کی موجودگی برداشت نہیں کرتیں۔

سچ ہی کہتے ہیں سب مرد بہت ظالم ہے، یہ صرف مردوں کا ہی معاشرہ ہے\”

عورتوں ہی کو ان جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانا جو ان کے خلاف ہوتے ہیں بہت عام بات ہے۔اس طرح کی صورت حال، سوالات اور تبصروں کا عورتوں کے حقوق پر کام کرنے والے لوگوں کو ہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے مرد اور عورتیں جو انسانوں کے درمیان جنس کی بنیاد پر تفریق کے متعلق گہرائی میں جا کر غور نہیں کرتےوہ مخلصانہ طور پر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے اور یہ کہ عورت اپنی اس حالت زار کی خود ہی ذمہ دار ہے۔ اوپر دیا گیا مختصر سا مضمون بھی اسی مغالطے اور غلط فہمی پر مبنی ہے یا کم از کم اس مغالطے کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ مغالطہ ہمیں مسئلے کی جڑ کی طرف جانے سے روکتا ہے۔ ہم یہ سوچ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ عورت سسرال میں نندوں اور ساس یعنی عورتوں کے ہاتھوں تنگ ہے اور میکے میں بھابیوں یعنی عورتوں کے ہاتھوں تنگ ہے لہٰذہ مردوں کا نہ تو کوئی قصور ہے اور نہ ذمہ داری۔ اصل مسئلہ نظروں سے اوجھل ہی رہتا ہے۔ تواصل مسئلہ ہے کیا ؟۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ عورت کا کوئی اپنا گھر نہیں ہے۔ اس لئے اسےنندوں، بھابیوں، ساس یا دیورانیوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ اپی زندگی کے متعلق فیصلوں کا اس کو اختیار ہی نہیں ہے۔

عورت نے کہاں رہنا ہے، کس کے ساتھ کتنا رشتہ رکھنا ہے اور کس کے ساتھ رشتہ نہیں رکھنا ہے۔ نوکری کرنی ہے یا نہیں، یہ سب کسی نہ کسی مرد کے اختیار میں ہے۔ وہ مرد باپ، بھائی، شوہر، سسر، جیٹھ، دیور یا بیٹا کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ یہ اصول معاشرے نے طے کیا ہوا ہے اور اس کی پابندی کرنا عورت کا فرض ہے اور اگر وہ یہ فرض نہیں نبھا رہی تو وہ اچھی عورت نہیں ہے۔ اور اس کوتاہی کا خمیازہ اس کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ساری زندگی کی بدنامی اور تہمت توبہرحال ہو گی۔

والدین اپنے بیٹوں کے لئے تو گھر، جائیداد، ملازمت، کاروبار، آمدنی اور بچت کا سوچتے ہیں اور اس کا بندوبست کرتے جب کہ بیٹی کے لئے صرف سسرال اور جہیز کا ہی سوچتے ہیں اور صرف اسی کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس لئے عورت کو ہمیشہ کسی اور کے چنے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہنا اور نباہ کرنا پڑتا ہے۔ خوش ہو یا نا خوش، اس بات سے معاشرے کو کوئی سروکار نہیں۔ اس کی اپنی زندگی کے متعلق فیصلے کا حق اس کو نہیں دیا جا سکتا۔

کسی کو جان بوجھ کر تعلیم سے محروم رکھنا، کسی کو روزگار سے محروم رکھنا یا لگا ہوا روزگار چھڑا دینا، کسی کو اس کی جائیداد نہ دینا یا چھین لینا، یہ سب سخت جرائم ہیں اگرمرد کے خلاف کیے جائیں۔ اور یہی سارے جرائم جب آپ عورت کے خلاف کرتے ہیں تو یہ کوئی جرائم نہیں ہیں۔ کوئی عدالت نہیں لگتی اور ہمارا معاشرہ انہیں جرائم نہیں کہتا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ عورتیں اپنے خلاف ہونے والے جرائم اور نا انصافیوں کی خود ذمہ دار نہیں ہیں۔ بلکہ اس کا ذمہدار وہ پدر سری نظام ہے جس کو ہم نے مذہب کا \”چولا\” بھی پہنایا ہوا ہے۔ جس میں صرف مرد انسان ہیں اور باقی سب کچھ، عورت سمیت، مردوں کی ملکیت ہے۔ سب پر مرد کا اختیار اور حق ہے۔ سارے فیصلے مرد کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں اور عورتوں نے اپنی زندگیاں ان فیصلوں کےمطابق گزارتی ہیں۔ عورتوں کے تمام دکھوں کی ذمہ دار عورتیں نہیں بلکہ وہ معاشرہ ہے جس نے انہیں بے اختیار کیا ہوا ہے اور ان کی زندگی کے متعلق فیصلوں کا حق کسی اور کو دیا ہوا ہے۔

 

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “\”مرد ظالم ہے\” پر ایک مغرب زدہ تبصرہ

  • 31/08/2016 at 1:18 صبح
    Permalink

    جب تک عورت کو مرد کے برابر حقوق نہیں ملیں گے اس وقت تک مذہبی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے.

Comments are closed.