امیر دشمن، صحت دوست بجٹ پیش کر دیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج پاکستان کی تاریخ کا سب سے بہترین بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جو غریبوں کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرے گا بلکہ امیر افراد سے پیسہ نکلوائے گا۔ اس کے علاوہ اس بجٹ کا ایک بڑا مقصد لوگوں کی صحت کو بہتر کرنا ہے۔ لیکن مزید تفصیل میں جانے سے پہلے ہم یہ طے کر لیں کہ امیر کون ہے اور غریب کون۔ خوش قسمتی سے بجٹ میں یہ بتا دیا گیا ہے اور ہمیں اپنا قیمتی دماغ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بجٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”چکن، مٹن، بیف اور مچھلی کے گوشت کی سیمی پراسیسڈ اور پکی ہوئی اشیا کی کھپت میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اشیا عمومی طور پر خوشحال افراد کے استعمال میں آتی ہیں۔ تجویز ہے کہ ان اشیا پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جائے“۔ یعنی اب یہ تعین کرنا آسان ہو گیا ہے کہ جو شخص بھی پکی ہوئی مرغی، بکرا، گائے بھینس یا مچھلی کھاتا ہے وہ امیر ہے اور جو انہیں کچا ہی کھا جاتا ہے وہ غریب ہے۔ اسی وجہ سے گیس پر درآمدی ٹیکس کو بڑھایا گیا ہے۔ امیر آدمی ہی کھانے کو پکا کر کھاتا ہے۔ غریب تو کچا ہی کھاتے ہیں۔ یوں گیس مہنگی ہونے سے غریب متاثر نہیں ہو گا۔

چینی پر ٹیکس کو 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کے پیچھے دوہری حکمت ہے۔ پہلی تو یہ ہے کہ چینی کم کھائیں گے تو لوگوں کو شوگر نہیں ہو گی۔ اور دوسری یہ کہ لوگ میٹھا کھا کھا کر موٹے نہیں ہوں گے۔ ویسے بھی غریب بندہ کہاں چینی کھاتا ہے۔ چینی بھی صرف امیر ہی کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ چینی والے کولڈ ڈرنکس، جوسز اور شربت کی قیمت پر بھی ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ کولڈ ڈرنک بھی امیر لوگ ہی پیتے ہیں۔ غریب کے گھر مہمان آ جائے تو وہ نلکے سے گلاس بھر کر اسے دے دیتا ہے کہ لو جی بھر کر پیو۔

غریب کے متعلق آپ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ وہ روکھی سوکھی کھا کر صبر شکر کرتا ہے۔ گھی پر ٹیکس بڑھانے کی وجہ بھی یہی ہے کہ گھی صرف امیر افراد استعمال کرتے ہیں۔ اور امیر بھی سوچے سمجھے بغیر اتنا گھی کھا جاتے ہیں کہ بعد میں بلڈ پریشر اور موٹاپے کے مریض بن جاتے ہیں۔ اب گھی پر ٹیکس بڑھانے سے ایک طرف تو روکھی غذا کھانے والے غریب آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور دوسری طرف امیر آدمی کی بھی صحت بہتر ہو گی۔

امیروں کی صحت کو بہتر کرنے کی نیت سے ہی صفر سے ایک ہزار سی سی کی گاڑی سے ٹیکس چھوٹ واپس لیتے ہوئے اس پر ڈھائی فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے، اور ہزار سے دو ہزار تک ڈیوٹی کو بڑھا کر پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔ گاڑیاں لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوں گی تو وہ پیدل چلنے پر مجبور ہوں گے اور ان کی صحت اچھی ہو گی۔

اس امیر دشمن صحت دوست بجٹ کے بعد ایک طرف تو امیروں کے چاؤ چونچلے ختم ہو جائیں گے اور دوسری طرف ان کی صحت بھی محنت کشوں جیسی اچھی ہو جائے گی۔

غریبوں کی آمدنی میں اضافے کے لئے ٹیکس سے چھوٹ والی کاٹیج انڈسٹری کی نئی تشریح کی گئی ہے۔ اب ”کاٹیج انڈسٹری سے مراد وہ صنعت ہو گی جو رہائشی علاقوں میں قائم ہو، جہاں زیادہ سے زیادہ مزدور کام کر رہے ہوں اور سالانہ ٹرن اوور بیس لاکھ سے زیادہ نہ ہو۔ “ اپنے گھر کے آس پاس آپ ایسی کاٹیج انڈسٹری ضرور تلاش کریں جہاں زیادہ سے زیادہ مزدور کام کرتے ہوں اور سال میں وہ بیس لاکھ سے زیادہ کا مال نہ بیچتی ہو۔ حکومت نے کم از کم اجرت سترہ ہزار پانچ سو مقرر کی ہے۔ یعنی ایک مزدور سال کی دو لاکھ سے زیادہ تنخواہ لے گا۔ اس صورت میں بجلی، گیس، کرایہ وغیرہ جیسے باقی اخراجات منہا کرنے کے بعد ”زیادہ سے زیادہ مزدور کام کر رہے ہوں“ کا مطلب غالباً دو یا تین محنت کش بنتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1136 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

––>