تاریخ کے ساتھ کھلواڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہی دو طبقے تھے جن کے ہاتھ بہت عظیم اور قابل احترام لوگ آئے اور یہی دو طبقے ہیں جن کے نام پر ہمیشہ وارداتیں بھی کی گئیں۔

میں بات کر رہا ہوں مذہبی طبقے اور بائیں بازو عرف عام میں لیفٹسٹ طبقے کی، ہم اوّل الذکر طبقے پر نگاہ ڈالیں تو مولانا قاسم نانوتوی سے انورشاہ کاشمیری تک اور مولانا عبیداللّہ سندھی سے مولانا محمد طاہر پنج پیر تک، مولانا احمد رضا بریلوی سے شاہ احمد نورانی تک اور مولانا حسین علی سے ابولاعلٰی مودودی تک، جدوجہد اور کارکردگی کا ایک قابل فخر اور لھلھاتا ہوا زرخیز سلسلہ ہے لیکن ہم لوگ آخر کتنا جانتے ہیں کہ ان عظیم لوگوں نے اپنی پُر خلوص جدوجہد کے لئے ذاتی حیثیت میں کتنی صعوبتیں اُٹھائیں اور اُنھوں نے اپنے مشن اور پیغام کے ذریعے کتنی روشنی بانٹی لیکن اس حقیقت سے کون آنکھیں چُرائے گا کہ اس مذہبی طبقے سے وہ کردار بھی برآمد ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے مفادات کے لئے انتہائی بے دردی کے ساتھ نہ صرف مذہب کو استعمال کیا بلکہ بعض اوقات معاشرے کو جہالت، بربادی حتٰی کہ خوں ریزی کی طرف دھکیلا اور یہی وہ چیز ہے جس نے مذہبی طبقے کے خلاف ایک طاقتور رد عمل کو پروان چڑھایا، جس کی زد میں وہ لوگ بھی آئے جن کی کارکردگی انتہائی شاندار اور جدوجہد حد درجہ جینوئن تھی۔

اب آتے ہیں دوسرے طبقے یعنی لیفٹسٹ کی جانب!

اس طبقے کو گزشتہ ایک دو صدیوں میں بے پناہ صلاحیتوں کے حامل بہت جینوئن لوگ اور زرخیز دماغ ملے، بھگت سنگھ سے حسن ناصر تک حبیب جالب سے جام ساقی اور فیض احمد فیض سے ضمیر نیازی تک روشن فکری اور انسان دوستی کا ایک توانا اور دلیر سلسلہ لیکن بد قسمتی سے اس طبقے کے نام پر اس سے بھی زیادہ وارداتیں کی گئیں جس کا شکار اوّل الذکر (مذہبی ) طبقہ رہا تھا۔

گویا تاریخی طور پر مذہب یا روشن فکری کے نام پر اس سماج کو ہمیشہ لوٹا گیا کیونکہ بہروپئے ایک خول بھر کر گھس آئے، حالانکہ دونوں طبقوں کے جینوئن لوگ اپنے اپنے مشن اور مقصد میں حد درجہ کمٹڈ اور مخلص تھے، اور اس کے لئے انہوں نے ذاتی طور پر بہت ظلم بھی سہے لیکن انہیں نہ صرف غلط طور پر پروجیکٹ کیا گیا بلکہ ہمیشہ دیوار سے بھی لگایا گیا جبکہ مذکورہ طبقوں کے نام پر وارداتیں کرنے والوں کو نہ صرف کھلی چھٹی دی گئی بلکہ کہیں نہ کہیں سے انہیں ہمیشہ ایک توانا سپورٹ بھی فراہم ہوتی رہی المیہ تو یہ ہے کہ تحریکیں چلانے اور اذیتیں اٹھانے والے پس منظر میں چلے گئے اور وارداتی گروہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور یہ سلسلہ اب بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔

اگر ہم زمانہ حال کی طرف آئیں تو یہ دیکھ کر ہم چونک جاتے ہیں کہ یہی لوگ مذہب کا لبادہ اپنی شخصیت کے گرد یوں لپیٹ دیتے ہیں کہ کسی مذہبی لبادے میں ملبوس شخصیت سے اختلاف کو مذہب بیزاری اور لادینیت کے مترادف گردانا جا تا ہے حالانکہ مذہب اور شخصیت دو الگ الگ حوالے ہیں لیکن برصغیر کی مذہبی عقیدت پرستی اور جذباتیت کا فائدہ اٹھا کر اپنی شخصیت کو مذہب کا حصہ بنا کر پیش کیا گیا جس کی وجہ سے واردات کرنا سہل ہوا اور پھر اپنے اپنے ایجنڈے کی خاطر ”مذہبی پیشواؤں“ کا ختم نہ ہو نے والا سلسلہ چل نکلا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ بد قسمتی سے تیزی آتی جا رہی ہے۔

اسی طرح دوسری جانب بھی ایک الگ لیکن اس سے ملتے جلتے طریقہ واردات کو اپنایا گیا۔

آج کے کتنے لبرلز اور روشن فکر ایسے ہیں جنھوں نے اس مکتبہ فکر کے اماموں کی مانند ناقابل بیان صعوبتیں کاٹیں یا ان کی طرح عوامی حقوق اور بیداری کے لئے طویل جدوجہد کی لیکن آج جسے دیکھو وہ کوئی فنڈنگ اور ایجنڈا پکڑ لیتا ہے اور لبرل ازم کا لبادہ اوڑھ کر حقائق سے ماورا اور سمجھ سے بالاتر یاوہ گوئی اور زبان درازی پر اتر آتا ہے اور اس مقصد کے لئے الیکڑانک اور سوشل میڈیا کو مؤثر ہتھیار بنا لیتا ہے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ دونوں طبقات (مذہبی اور لبرل ) گو کہ ایک دوسرے کے قدرے متضاد سمت میں کھڑے تھے لیکن دونوں طبقوں کی خلوص صلاحیت اور جدوجہد کی تاریخ غضب کی ہے لیکن المّیہ یہ ہے کہ یہ شاندار تاریخ اور روشن روایات کن ہاتھوں میں آئے اور کون اس کے امین بنے؟

ایک طرف کردار اور جدوجہد سے عاری صاحبانِ جبہ و دستار اس پر جھپٹے جنہوں نے داڑھی اور قبا کو معیار بنا کر اس عظیم سلسلے سے جوڑ دیا جبکہ دوسری طرف ”میراث کی وراثت میں حصہ داری“ کے لئے وطن توڑ لہجہ بد زبان نسائیت اور موم بتی ہی معیار ٹھرے۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ عظیم اسلاف کی تاریخ کے مجاور ہمیشہ تیسرے درجے کے ٹھگ ہی کیوں بنتے ہیں اور روشنی کے یہ عظیم اور قابلِ فخر سلسلے اپنے فطری ٹریک سے بعد میں اتر کیوں جاتے ہیں۔ ورنہ کہاں عبیداللہ سندھی اور ابواعلٰی مودودی اور کہاں طاہرالقادری اور خادم رضوی، کہاں حبیب جالب اور جام ساقی اور کہاں سید عالم محسود اور گلالئی اسماعیل۔

مرحومہ شبنم شکیل بھی کہاں یاد آئی
میں کن لوگوں سے ملنا چاھتی تھی
یہ کن لوگوں سے ملنا پڑ رہا ہے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •