منحوس معاشرہ


سید حماد حسنین نقوی

\"Hammadمجھے نہیں معلوم کہ پیدا ہونے کے کتنے عرصے بعد میں نے ہوش سنبھالا لیکن جب سے جتنا یاد ہے \”منحوس\” ایک ایسا لفظ ہے جس کا استعمال آئے دن کسی نہ کسی بہانے سے مجھے سننے کو ملتا رہا۔ توجہ رہے کہ سننے کو ضرور ملتا رہا مگر میرے لئے ہرگز نہیں۔ اور رہی بات کہ اگر مجھے کہا بھی گیا ہوگا سو میں اس بات کا اعلان یہاں تھوڑی کروں گا۔

میں بات کر رہا ہوں ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی منحوس اشیاء اور مخلوقات کا۔ مجھے یاد ہے کہ سب سے پہلی منحوس مخلوق جو میں نے دیکھی وہ بلی تھی۔ وہ منحوس کیوں تھی یہ اس بیچاری کو بھی نہیں پتہ لیکن کیونکہ اپنے رنگ کی وجہ سے وہ ہمیں منحوس لگی سو ہم نے اس پر نحوست کا ٹھپہ لگا دیا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو ایک دن ٹیوشن میں نیند مکمل نہ ہونے کی وجہ سے بار بار جمائی آرہی تھی کہ پاس ہی بیٹھی ٹیچر کی نانی نے کڑک دار آواز میں کہا \”کیا نحوست پھیلا رہے ہو؟؟\” اس دن پتہ لگا کہ جمائی بھی منحوس ہے۔

کچھ دن بعد ہمارے محلے میں ایک غیر عقیدہ فیملی شفٹ ہوئی، جو کہ ہر اعتبار سے خاصا بہتر تھی لیکن پڑوسن آنٹی نے امی کو آ کر بتایا کہ نہایت منحوس لوگ شفٹ ہوئے ہیں تو پتہ لگا کہ غیر مذہب تو مذہب غیر عقیدہ بھی منحوس ہوتے ہیں۔

اسی طرح ایک دن میں اپنے ایک دوست کے ساتھ اس کی گاڑی میں جسے اس کے ابو چلا رہے تھے اسکول سے واپس آ رہا تھا کہ وہ پنکچر ہو گئی۔ یک دم انکل کے منہ سے میں نے سنا کہ عجیب منحوس گاڑی ہے یہ، زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے۔ تب مجھے پتہ چلا کہ گاڑیاں بھی منحوس ہوا کرتی ہیں۔

پھر ایک دفعہ میں دل بہلانے اور رونق کی غرض سے گھر میں کچھ پرندے خرید لایا۔ کچھ دن بعد اتفاق سے ہماری ایک رشتہ دار کا ہمارے ہاں آنا ہوا تو ان کی نظر پنجرے میں بند فاختہ پر پڑ گئی۔ فوراً ہی انہوں نے فاختہ کے منحوس ہونے کا فتوی دے ڈالا اور پھر مجھے انہیں آزاد کرنا پڑا۔ اگر پرندوں کو یہ خبر ہو جائے کہ ان پر یہ نحوست کا ٹھپہ لگا ہونے سے ان کا کتنا فائدہ ہو سکتا ہے تو شاید وہ یہ ٹھپہ شوق سے خود آکر لگوائیں گے۔

پھر وقت کے ساتھ ساتھ میں نے لوگوں کی منحوس زبان بھی دیکھی جس کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ اچھی بات کی نشاندہی کر دیں تو فوراً ہی وہ بات اُلٹ ہوجاتی ہے۔ اور اچھائی برائی میں بدل جاتی ہے۔

ایسا میں نہیں کہہ رہا لیکن اگر آپ اپنے آس پاس کے لوگوں پر نظر دوڑائیں گے تو لا تعداد ایسے لوگ نظر آ جائیں گے جن کا کام لوگوں کی زبانوں پر نحوسیت کا ٹھپہ لگانا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اس کام کو فی سبیل اللہ سر انجام دیتے ہیں۔

اور تو اور میں نے صرف زبان ہی نہیں لوگوں کے قدم بھی منحوس سنے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک خاتون کو دوسری خاتون سے کہتے سنا کہ جب سے میری بہو نے میرے گھر میں قدم رکھا ہے تب سے اس گھر کو پریشانیوں نے گھیر لیا ہے، عجیب منحوس قدم ہیں اس کے۔

اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میں کتنے منحوس معاشرے میں جی رہا ہوں جس کی ہر شے اور ہر مخلوق نہایت منحوس ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو یہ بات بہت ناگوار گزرے کہ میں اپنے معاشرے کو ایک منحوس معاشرہ کہہ رہا ہوں اور اس سے ان کی حب الوطنی کو ٹھیس پہنچے تو میں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ میں ہرگز اس زمین کو اور ملک کو منحوس نہیں کہہ رہا بلکہ اس میں بسنے والے لوگوں کو منحوس کہہ رہا ہوں جن کی سوچوں پر نحوست تاری ہو چکی ہے اور وہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی نحوست پھیلانے کا درس دے رہے ہیں۔

خدارا اگر آپ اس معاشرے کو ایک اچھا معاشرہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ان منحوس باتوں کو پس پشت ڈال کر مثبت سوچ کو جنم دینا ہوگا جو ہر طرح کی تفریق اور تعصب سے پاک ہو۔

Facebook Comments HS