زرداری کے خلاف میگا منی لانڈرنگ کیس کے ثبوت کتنے پکے ہیں؟
آٹھارہویں ترمیم ایسے "سنگین جُرم” کی کارستانی بھی آصف علی زرداری کی ہے۔ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی کمال دانائی سے ہر اہم معاملے کے فیصلے کو پارلیمنٹ کی منظوری سے نتھی کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے جَمُورا حکومت اور مقتدر قوتوں کی من مانیوں پر قدغن لگتی ہے۔ سب سے بڑھ کر جمہوریت کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ زرداری ہی اِسے اِرتقائی طریقے سے مضبوط سے مضبوط تر کیے جا رہا ہے۔ اِس لیے مقتدرین اور اِن کے حواری ہمیشہ کی طرح آج بھی آصف علی زرداری کو پہلے سے زیادہ سخت سزا دینے کے لیے بے چین ہو رہے ہیں۔
گو کہ اس وقت محترمہ بے نظیر بھٹو آصف علی زرداری کی رہنمائی کرنے کے لیے اِس دنیا میں موجود نہیں ہیں، لیکن اب حالات بدل چکے ہیں، جس کی وجہ سے مندرجہ ذیل عوامل کی وجہ سے مقتدرین کی ناکامی کے آثار نوشتہ دیوار ہیں:
· اس وقت بلاول بھٹو زرداری عوام کی اُمید کی واحد کرن بن چکے ہیں، جنھوں نے آصف علی زرداری کی گرفتاری پر واضح طور پر چتاونی دی ہے:
"آپ اُسے کیسے گرفتاری یا جیل کی دھمکیوں سے ڈرائیں گے، جس نے اپنے والد کو ساڑھے گیارہ سال تک جیل میں دیکھا اور جِس کی والدہ سکھر جیل میں قید رہیں؟
آپ اُسے تشدد سے کیسے ڈرائیں گے، جس کی نانی پر آپ نے قذافی اسٹیڈیم میں کھلے عام لاٹھیاں برسائیں۔ جس کے والد کی زبان اور گردن کاٹی گئی اور جس کی والدہ پر اُس وقت بھی تشدد کیا گیا، جب وہ پریگننٹ تھیں؟
آپ اُسے موت سے کیسے ڈرائیں گے، جس کے نانا کو آپ نے پھانسی پر چڑھا دیا، جس کی والدہ کو بم دھماکے میں شہید کروا دیا، ایک ماموں کو زہر دے کر شہید کر دیا اور دوسرے کو ٹارگٹ کلنگ میں شہید کر دیا تھا؟
ہم نے جب ایوب خان، یحیٰی خان، ضیاءالحق اور پرویز مشرف کی آمریتوں کا مقابلہ کیا، یہ (موجودہ جمُورا) تو ایک بُزدل کی کٹھ پتلی ہے۔”
· آصف علی زرداری کے خلاف کوئی مقدمہ ثابت کیے بغیر عمر قید جتنا عرصہ پابند سلاسل رکھ کر بار بار وہی گِھسے پٹے مقدمات چلائے گئے، پھر بھی عوام کے سامنے رتی برابر ثبوت پیش نہ ہو سکے، اُلٹا سبھی مقدمات بنانے والے آصف علی زرداری سے معافیاں مانگ چکے اور اقرار کر چکے کہ دراصل وہ سب مقدمات مقتدرہ قوتوں کے دباؤ پر بنائے گیے تھے۔ اب شاید ایک ہی طریقے سے عوام کو بار بار بے وقوف بنانا آسان نہ ہو گا۔
· تاریخ میں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ پچھلے اور حالیہ جمُورے کی محبت میں تقسیم ہے کیونکہ دونوں کا تعلق پنجاب سے ہے، جس کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے اہم کردار ایک دوسرے کی ضد میں اسٹیبلشمنٹ کے پردے چاک کر کے عوام کے لیے معلومات کے نئے دریچے کھول رہے ہیں۔ جس سے عوام پہلی بار حقائق سے روشناس ہو رہے ہیں۔
· اِس وقت میٖڈیا پر سخت ترین سنسر شپ کے باجود سوشل میڈیا کی موجودگی کی وجہ سے حقائق عوام تک پہنچ جاتے ہیں۔
· سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی آمریت سے پاکستان کو اس نہج پر لے آئی ہے، جہاں پر وہ خود یا اپنے جمُوروں کے ذریعے ملک چلانے سے قاصر ہوتی جا رہی ہے۔
کلام آخر یہ ہے کہ آثار یہ بتاتے ہیں کہ ماضی کی طرح اس بار بھی آصف علی زرداری کے خلاف جمہوریت دشمن قوتوں اور ان کے پاکٹ بچوں کے عزائم قطعاً پورے نہیں ہوں گے کیونکہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ایک بار پھر ذلت و رسوائی ان کا مقدر بننے والی ہے کیونکہ لاکھ پروپیگنڈوں کے باوجود سچ دیر سویر آشکار ہو کر ہی رہتا ہے اور یہی تاریخ کا سبق ہے۔


