عمران خان کو این آر او کون دے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارتی حکومت نے پاکستان کی طرف سے وزیراعظم نریندر مودی کی پرواز کے لئے ائیر سپیس کھولنے کی اجازت ملنے کے بعد اس سہولت سے استفادہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب نریندر مودی وسطی ایشیا کے ملک کرغستان کے دارلحکومت پہنچنے کے لئے اومان اور ایران پر سے پرواز کرتے ہوئے جمعرات کو بشکک پہنچیں گے۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی طرح بھارتی وزیر اعظم بھی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے بشکک جارہے ہیں۔

اس سے پہلے بھارتی وزارت خارجہ اس امکان کو مسترد کرچکی ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران دونوں ہمسایہ ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات ہو سکتی ہے۔ بھارتی حکومت یہ رویہ پاکستان اور اس کے وزیر اعظم کی طرف سے بار بار خیر سگالی کے اظہار کے باوجود اختیار کررہی ہے۔ عمران خان نے اپریل میں بھارت کے عام انتخابات سے پہلے یہ امید ظاہر کی تھی کہ نریندر مودی کی انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات میں کامیاب ہو جائے تو دونوں ملکوں کے درمیان تنازعات آسانی سے حل ہوسکیں گے۔ ان کے خیال میں کانگرس کی حکومت ہندو انتہا پسندانہ ماحول میں پاکستان کے ساتھ پیشرفت کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔ پاکستانی وزیر اعظم کی خواہش یا پیش گوئی کے عین مطابق بی جے پی کو توقع سے بھی زیادہ کامیابی حاصل ہوئی اور نریندر مودی دوسری مرتبہ بھارت کے وزیر اعظم بن چکے ہیں۔

تاہم عمران خان کی توقع اور خواہش کے برعکس نریندر مودی نے اپنے عہدے کا دوبارہ حلف اٹھانے کے بعد پاکستان کی خیرسگالی اور وزیر اعظم کی نیک خواہشات کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا ہے۔ نریندر مودی نے اپنی تقریب حلف برداری میں عمران خان کو مدعو نہیں کیا تو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس کی بھی یوں وضاحت دی جیسے وہ نریندر مودی کے ذاتی ترجمان ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم پاکستان مخالف فضا پیدا کرکے انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس لئے وہ فوری طور سے پاکستان سے رجوع کرنے سے گریز کریں گے۔ اسی لئے وزیر اعظم کو تقریب حلف برداری میں مدعو نہیں کیا گیا۔ تاہم صورت حال کو خوشگوار بنانے کے لئے شاہ محمود قریشی نے بھارت کا وزیر خارجہ بننے پر ایس جے شنکر کو تہنیتی خط کے ذریعے باہمی خوشگوار تعلقات کا پیغام بھیجا۔

وزیر اعظم عمران خان نے نریندر مودی کو ٹوئٹ پیغام کے ذریعے اور فون پر مبارک باد دینے کے بعد مزید گرمجوشی دکھانے کے لئے تحریری مراسلہ میں بھارتی وزیر اعظم کو دوبارہ عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد بھی دی اور ہر قسم کے باہمی تنازعات ختم کرنے کے لئے مذاکرات اور علاقے میں امن و خوشحالی کے وسیع تر مقاصد کے لئے مل کر کام کرنے کی دعوت بھی دی۔ ان دونوں مراسلوں کا نئی دہلی کی طرف سے کوئی جواب دینا یا ان پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔

فروری میں پلوامہ سانحہ اور اس کے بعد بھارت کی فضائی جارحیت سے پیدا ہونے والے سنگین ماحول میں پاکستان نے اپنی فضائی حدود کو تمام بھارتی پروازوں کے لئے بند کردیا تھا۔ اس کے باوجود جب گزشتہ ماہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جانے کے لئے وزیر خارجہ سشما سوراج کے طیارے کو پاکستان پر سے پرواز کرنے کی درخواست کی گئی تو اسلام آباد نے اسے خوش دلی سے قبول کرلیا۔

اب نئی دہلی سے نریندر مودی کے طیارے کے لئے اجازت طلب کی گئی تو ضابطے کی کارروائی کے بعد آج اس کی اجازت دے دی گئی لیکن اس کے فوری بعد نئی دہلی نے وزیر اعظم کے طیارے کے لئے متبادل طویل روٹ اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ بھارت کے اس رویہ کو ’سفارتی جھڑکی‘ کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ نئی دہلی اگر نریندر مودی کی طویل پرواز کا ہی منصوبہ بنا رہا تھا تو اسے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت طلب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

بھارتی درخواست اور پاکستان کے مثبت جواب کے بعد نئی دہلی کی وزارت خارجہ کی طرف سے نریندر مودی کے متبادل روٹ کا اعلان کرنا بجائے خود ایک سفارتی چال کے مترادف ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس شروع ہونے سے فوری پہلے اس قسم کا فیصلہ اور اس کا اعلان دراصل پاکستان کی سبکی کرنے کی شرمناک کوشش ہے۔ حالانکہ نریندر مودی اگر کسی بھی وجہ سے متبادل فضائی روٹ اختیار کررہے تھے تو متعلقہ حکام کے علاوہ کسی کو اس کے بارے میں اطلاع دینے کی کوئی اہمیت نہیں ہو سکتی۔ لیکن جو ملک کرکٹ جیسے کھیل کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی ناروا کوشش کرچکا ہو، اس سے دیگر معاملات میں کسی نیکی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

اس فیصلہ کا اعلان کرنے کا ایک مقصد تو داخلی لحاظ سے اپنے انتہا پسند حامیوں کو پیغام دینا ہے کہ نریندر مودی پاکستان کے ساتھ ’سخت گیر مؤقف‘ اختیارکیے ہوئے ہے۔ اس کا دوسرا مقصد پاکستانی وزیر اعظم کو یہ براہ راست پیغام پہنچانا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بشکک میں قیام کے دوران بھارتی وزیر اعظم سے کسی غیر رسمی ملاقات کی امید نہ رکھیں۔ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ بھارتی حکومت دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1286 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali