پاکستانی ٹیم کی عبرتناک شکست اور لندن والے پیر صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

گزشتہ ون ڈے میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو بہت بری طرح دھو دیا ہے اور ون ڈے کا زیادہ ترین سکور کرنے کا ریکارڈ بنا دیا ہے۔ اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ٹیم نکمی ہے، کچھ کہتے ہیں کہ یہ نجم سیٹھی صاحب کی غلطی ہے، کچھ سلیکشن پر اعتراض اٹھا رہے ہیں، اور جو زیادہ دلگرفتہ ہیں وہ کہتے ہیں کہ ٹیم پیسے لے کر ہاری ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، لیکن ایسے علمی معاملات میں دماغ استعمال کرنا بہتر ہوتا ہے۔ اب سطحی باتوں سے ہٹ کر غور کیا جائے تو شکست کی وجہ سامنے ہی ہے۔

انگلینڈ کا سکور دیکھیں۔ کوئی ایلکس ہیلز نامی گمنام سا بلے باز ہے۔ پینتیس میچوں میں تین سینچریاں اور چھے ففٹیاں بنا سکا تھا۔ ایوریج اس کی تیس پینتیس کی تھی۔ پھر کل اس نے ایک سو اناسی سکور بنا ڈالے، اور وہ بھی ایک سو چالیس کے سٹرائیک ریٹ سے؟ ریگولر بیٹسمین تو چھوڑیں کہ انہیں پیسے ہی اسی کام کے ملتے ہیں کہ سکور کریں، انگلینڈ کی ٹیم کے باورچی کو ہی دیکھ لیں کہ کیا کر گیا ہے۔ جوس بٹلر نے نوے سکور بنا ڈالا، اور وہ بھی صرف پینسٹھ بالوں پر۔

اور کس ٹیم کے خلاف؟ جس کے باؤلنگ اٹیک کو بہترین مانا جاتا ہے۔ انگلینڈ کی گیلی فضائیں تو فاسٹ باؤلروں کی جنت کہلاتی ہیں۔ وہاں گیند ایسے سوئنگ کرتی ہے کہ اگر کسی بچے کو بھی بال پکڑا دی جائے تو وہ بھی سوئنگ کے کرتب دکھا دیتا ہے۔ پھر ایسے میں محمد عامر جیسے بہترین باؤلر کو 72 سکور کیسے پڑ گیا؟ وہاب ریاض کا گزشتہ ورلڈ کپ کا وہ بہترین اوور تو سب کو یاد ہو گیا جس پر برائن لارا تک نے خوب داد دے کر اس کا جرمانہ بھرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ کل وہاب ریاض کو دس اووروں میں ایک سو دس سکور پڑ گیا؟

\"england-pak-Trent-Bridge\"

کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ بیٹنگ وکٹ تھی اس لیے باؤلروں نے مار کھائی۔ اگر ایسی بات تھی تو پھر پاکستانی بیٹسمین کیوں ناکام ہوئے؟ ایسا کیوں ہوا کہ انگلینڈ نے تو پاکستان کے بہترین باؤلروں کو تقریباً نو سکور فی اوور کے حساب سے مارا، اور پاکستان صرف ساڑھے چھے سکور فی اوور کی ایوریج دکھا سکا، اور وہ بھی انگلینڈ کے نکمے باؤلروں کے سامنے؟ ابھی حال ہی میں تاریخ میں پاکستانی ٹیم پہلی مرتبہ ٹیسٹ کی نمبر ون ٹیم بن چکی ہے۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کہ چند دن کے اندر اندر ہی اس ٹیم کو ایسی بری مار پڑی کہ ان کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ گوروں نے ان کو قربانی کا دنبہ سمجھ رکھا ہے؟

صاحبو، اگر آپ روحانیت میں درک رکھتے ہیں تو معاملہ واضح ہے۔ لیکن اصل بات بتانے سے پہلے ایک قصہ سن لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ محبوب الہی حضرت نظام الدین اولیا رحمت اللہ علیہ دلی میں قیام پذیر تھے تو ان کے علم و فضل اور عوام میں ان کی مقبولیت دیکھ کر درباری علما ان سے جلنے لگے۔ علما باقی کسی بات پر تو گرفت کر نہ سکے، کہنے لگے کہ حضرت محبوب الہی کی بارگاہ میں قوالی ہوتی ہے جو کہ خلاف اسلام ہے۔ اس لیے بادشاہ دہلی مبارک شاہ نے حضرت محبوب الہی کو دربار میں طلب ہو کر صفائی پیش کرنے کا حکم دیا۔ لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ جس صبح حضرت محبوب الہی نے دربار میں پیش ہونا تھا، اسی رات مبارک شاہ کو اس کے غلام خسرو خان نے قتل کر دیا اور یوں کیس کی تاریخ پڑ گئی۔

اس کے بعد جب غیاث الدین تغلق ہندوستان کا بادشاہ بنا تو علما نے اس کے کان بھی بھرے۔ دربار میں مناظرہ ہوا کہ موسیقی جائز ہے یا نہیں۔ حضرت محبوب الہی کے شرعی دلائل کے سامنے درباری علما ڈھیر ہو گئے۔ مگر بادشاہ نے کہا کہ جو بھی ہو، آپ کو دہلی سے نکل جانا چاہیے۔ میں ذرا بنگال فتح کر کے آتا ہوں، اور واپسی پر اگر آپ کو دہلی میں پایا تو قتل کر ڈالوں گا۔ حضرت محبوب الہی کے مرید پریشان ہوئے مگر حضرت نے مطلق پروا نہ کی۔ خبریں ملیں کہ بادشاہ نے بنگال کو فتح کر لیا ہے اور واپس دہلی آ رہا ہے۔ مرید پریشان ہوئے تو حضرت نے فرمایا کہ ہنوز دلی دور است۔ بادشاہ کے قریب پہنچنے کی خبر ملی۔ حضرت نے فرمایا کہ ہنوز دلی دور است۔ بادشاہ دہلی کے نواح میں ایک محل میں اترا، مرید سر پر خاک ڈالنے لگے مگر حضرت نے فرمایا کہ ہنوز دلی دور است۔ اور پھر اسی رات بادشاہ کا محل گر پڑا اور وہ دب کر مر گیا۔

اب آپ سب کو یہ علم ہو گیا ہو گا کہ اللہ والوں کی آہ لگتی ہے تو بڑے بڑے تخت الٹ جاتے ہیں اور محل گر جاتے ہیں۔ تو یہ معاملہ جان کر اب لندن واپس چلتے ہیں۔

\"altaf-hussain-pray\"جس وقت ٹیسٹ وغیرہ چل رہے تھے تو لندن والی سرکار کی دعائیں پاکستانی ٹیم کے ساتھ تھیں اور وہ فاتح ٹھہری، مگر جب یہ کل والا ون ڈے کھِیلا گیا، تو لندن والے پیر صاحب کو گستاخوں نے خوب ستا مارا تھا۔ وہ ناراض تھے۔ ایک طرف سے ان کو غدار کہا جا رہا تھا، اور دوسری طرف سے ان کے خلاف ان کے مریدین ہی بغاوت کر بیٹھے تھے، حالانکہ پیر صاحب تو قوالی بھی نہیں کرتے، بس صرف حال ہی کھیلتے ہیں۔ بہرحال، پیر صاحب کی بد دعا ایسی لگی کہ پاکستانی ٹیم کو اس سے چند دن پہلے بری طرح پٹے ہوئے گوروں نے مار مار کر دنبہ بنا دیا۔

اب پتہ نہیں کہ کوئی میچ باقی ہے یا نہیں، لیکن اگر باقی ہے تو اظہر علی اور بقیہ ٹیم والے اب اٹھیں اور نجم سیٹھی صاحب کی گاڑی میں بیٹھ کر سیدھے لندن والی سرکار کے دربار میں پہنچیں، ان کو نذرانہ پیش کریں، اور دعا کی درخواست کریں۔

اگر پیر صاحب راضی ہو گئے اگلے میچ میں انگلینڈ کی آپ ویسی ہی درگت بنتی دیکھیں گے جیسی کہ پاکستانی ٹیم کی بن چکی ہے۔ ہمارے پیر صاحب صرف کراچی ہی نہیں، لندن میں بھی اپنی کرامات دکھاتے پکڑے جا چکے ہیں۔ وہاں بھی ان کا فیض جاری ہے اور پولیس بار بار ان کو بلا کر ان کی کرامات کا حال جاننے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply