انور سجاد کا خوشیوں کا باغ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہاوت تو یہی ہے کہ ”آج مرے اور کل دوسرا دن“ ویسے کہنا تو یہ چاہیے کہ ”آج مرے تو کل قیامت“ انور سجاد کو مرے ہوئے آج دوسرا نہیں پانچواں دن ہے۔ میرا دُکھ قدرے کم ہو گیا ہے تو میں نے سوچا رو دھو لیا، جی کو بہت آزار دے لیا تو کیوں نہ پچھلے زمانوں کے کچھ ورق پلٹے جائیں، انور سجاد کو کچھ یاد کر لیا جائے کہ بس یہی موقع ہے کیونکہ ابھی چوٹ تازہ ہے، یہ چوٹ ٹھنڈی ہو گئی تو ہم اسے بھول بھال جائیں گے، جیسے ابن انشاء اور مجید امجد کو بھول گئے۔

فیض اور فراز کو بھلا دیا، اور تو اور ادیبوں میں میرا واحد نزدیکی دوست یعنی وہ جو جگر ہوا کرتا تھا عبداللہ حسین بھی بھولتا جاتا ہے۔ بھٹہ چوک کے قریب سے گزرتا ہوں تو یاد آتا ہے کہ اسے کونے والے قبرستان میں دفن کیا تھا۔ اس کے بعد مجال ہے کہ کبھی چند لمحے نکال کر فاتحہ کے لیے بھی اس کی قبر کا رُخ کیا ہو، پھول چڑھانا تو دور کی بات ہے۔ سچی بات ہے مرنے والوں کے ساتھ وفا نہیں ہو سکتی۔ ایک مختصر کالم میں مشکل ہے، بہت مشکل۔

پچاس برس کی شناسائی اور رفاقت سمیٹنا تو صرف سرسری طور پر اسے یاد کرتا ہوں۔ پچھلے برس ڈاکٹر تبسم کاشمیری کے ہمراہ اسے ملنے گیا تھا تو تب ایک کالم میں اس کے ساتھ دوستی کے کچھ دنوں کو یاد کیا تھا؛چنانچہ بنیادی طور پر کوئی بات نئی بات نہیں، پرانی باتیں ہی دہراؤں گا شاید کوئی نئی بات نکل آئے۔ ٹیلی ویژن پر میری اداکاری کے آغاز کے دن تھے۔ اشفاق صاحب کے دو تین ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے، ہم نے تو دکھائے لیکن کسی اور نے نہ دیکھے اور ہم گمنام ہی رہے۔

ان دنوں ہر جانب انور سجاد کا طوطی بولتا تھا، جانے اس نے اتنا باتونی طوطی کہاں سے حاصل کیا تھا کہ جہاں جاتے تھے، الحمراء کے تھیٹر میں، ٹیلی ویژن پر اداکاری اور ڈرامہ نگاری میں، افسانہ نویسی، مصوری، رقص اور ترقی پسند تحریک میں ہر جگہ اس کا طوطی بولتا ہی جاتا تھا، دیگر لوگوں کے پاس بھی اپنے اپنے طوطی تھے لیکن وہ انور سجاد کے طوطی کے سامنے گنگ ہو جاتے تھے، منہ میں گھنگھنیاں ڈالے چپ بیٹھے رہتے تھے۔ انور سجاد ایک چھلاوے کی مانند ہر جگہ موجود ہوتا تھا۔

اس نے شاید پانچ قسطوں پر مشتمل ایک بہت طاقتور سیریل ”سورج کو ذرا دیکھ“ لکھا اور جیسا کہ ہم لوگ کیا ہی کرتے تھے۔ اس میں اپنے لیے سب سے مؤثر کردار تحریر کیا اور یہ ایک امیر اور عیاش شخص کا کردار تھا اور نہایت ہی کمینہ تھا یعنی سیریل کا وِلن تھا۔ اب ہوا یہ کہ ہیڈ کوارٹر میں اعتراض ہو گیا کہ پچھلے سیریل میں بھی انور سجاد نے مرکزی کردار ادا کیا تھا تو اس نئے سیریل میں کسی اور اداکار کو کاسٹ کیا جائے اور چونکہ میں شکل سے کچھ وِلن سا لگتا تھا؛ چنانچہ محمد نثار حسین نے انور کی جگہ میرا انتخاب کر لیا۔

ہیروحسب معمول محمد قوی تھا اور ہیروئن کے لیے کالج کی ایک ہونہار طالبہ مدیحہ گوہر کو کاسٹ کر لیا گیا۔ میں نوآموز تھا۔ بقول کسے شکل کی کھٹی کھاتا تھا ورنہ اداکاری کی ابجد سے بھی واقف نہ تھا لیکن ایک تو کردار نہایت دھانسو، پھر ہدایت کاری نثار کی اور سونے پر سہاگہ ڈائیلاگ انور سجاد کے۔ یونہی سی اداکاری کرنے کے باوجود ہماری اداکاری کے چرچے ہو گئے بلکہ ایک چھوٹا سا طوطی ہمارا بھی بولنے لگا؛ چنانچہ ہم جو اداکار تسلیم کیے گئے تو یہ انور سجاد کی تحریر کی مہربانیاں تھیں۔

ابھی دو تین روز پیشتر محمد قوی سے بات کی تو اس نے بھی ”سورج کو ذرا دیکھ“ کے زمانے یاد کیے۔ پھر ہم دونوں ٹیلی ویژن اور ادب کے ناتے سے قریب ہوتے گئے یہاں تک کہ انور سجاد نے میرے تحریر کردہ دو تین ڈراموں میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔ بلکہ اس کی وفات پر ماضی کی جو تصویریں منظر عام پر آئیں ان میں سے دو میرے تصویری انباروں میں سے برآمد ہوئی تھیں، ایک میں مسعود اشعر، انور سجاد اور میں فیض صاحب سے مصروف گفتگو ہیں بلکہ گفتگو حسب معمول انور سجاد کر رہا ہے اور ہم دونوں سن رہے ہیں۔

دوسری تصویرمیں احمد ندیم قاسمی اور پروین ملک کے درمیان میں انور سجاد ایک مضمون پڑھنے میں مگن ہے اور میں نہایت دلچسپی سے سننے میں مگن ہوں۔ دراصل کشور ناہید نے نیشنل سینٹر میں میرے ناولٹ ”فاختہ“ کی تقریب کا اہتمام کیا۔ قاسمی صاحب کی صدارت تھی اور بانو قدسیہ، منو بھائی اور انور سجاد نے مضامین پڑھنے تھے اور انور سجاد غائب۔ ۔ ۔ تقریب کے اختتام پر کشور کے دفتر میں ہم چائے وغیرہ پینے میں مشغول تھے جب دھاڑ سے دروازہ کھلا اور انور سجاد نے انٹری دے دی۔

سانس چڑھا ہوا تھا۔ مجھ سے معذرت کی کہ ”ہٹی“ پر دیر ہو گئی اور وہ اپنے کلینک کو ہمیشہ ہٹی کہتا تھا۔ خیر کوئی بات نہیں میں اپنا مضمون اب پڑھے دیتا ہوں۔ کشور کہنے لگی تقریب ختم ہو گئی۔ اب فائدہ! تو انور کہنے لگا، مضمون لکھا ہے تو پڑھ کے جاؤں گا۔ قاسمی صاحب اور منو بھائی کی موجودگی کافی ہے۔ یہ تصویر اس یاد گار لمحے کی ہے۔ ہم دیکھتے تھے کہ انور سجاد ہر ڈرامے میں نہایت نئے نئے کوٹ اور جیکٹیں پہن کر آتا ہے اور ایک ہی مرتبہ پہنتا ہے، اگلے ڈرامے میں نیا وارڈ روب ہوتا تھا۔

اُدھر ہم وہی دو چار کوٹ وغیرہ بار بار ڈراموں میں پہنتے جاتے تھے بلکہ منور سعید کا ایک چیک کوٹ بہت مشہور ہوا اور ہم اس کی منتیں کرتے تھے کہ پلیزاسے ہر ڈرامے میں نہ پہنا کرو تو وہ کہتا کہ یہ کوٹ در اصل مجھ پر سجتا ہی بہت ہے میں کیا کروں۔ انور سجاد نے اپنی خوش پوشاکی کا پردہ خود ہی چاک کر دیا۔ کہنے لگا میرے ایک چہیتے مریض کی لنڈے بازار میں دکان ہے۔ اس کے پاس میرا سائز ہے۔ جب کوئی نئی گانٹھ کھلتی ہے تو وہ بہترین پیس میرے لیے رکھ لیتا ہے۔

میں گویا لنڈن کے کپڑے پہنتا ہوں اور کسی ڈرامے میں استعمال کر کے شکریے کے ساتھ واپس کر دیتا ہوں۔ اسی لیے تو دوبارہ نہیں پہنتا۔ ایک بار بی بی سی لنڈن کی اردو سروس کے لوگ نثر نگاروں کے انٹرویو کرنے کے لیے لاہور آئے۔ انتظار حسین اور انور سجاد کے علاوہ میں بھی ان میں شامل تھا۔ یہ انٹرویو سنگ میل کے پرانے شو روم میں ہوئے۔ میں نے اپنے انٹرویو کے دوران ذرا لاپرواہی برتی اور کہا کہ ان دنوں جو جدید کہانیاں لکھی جا رہی ہیں وہ ”الف سے ے تک“ سمجھ میں نہیں آتیں۔

تحریریں بھول بھلیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ دراصل انہی دنوں ”فنون“ میں انور کی ایک کہانی اسی نام سے شائع ہوئی تھی۔ انور نے اپنے انٹرویو میں بدلہ لے لیا اور کہا کہ تحریری بھول بھلیوں کی بات وہ شخص کر رہا ہے جس نے ”بہاؤ“ جیسا پیچیدہ ناول لکھا۔ میری چند اور تحریروں کے حوالے بھی دیے۔ بعد ازاں میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب ہم آپ کے جونیئر ہیں خطا معاف کر دیجئے لیکن مجھے کم از کم یہ طمانیت ہوئی ہے کہ آپ میری تحریریں بھی غور سے پڑھتے ہیں تو ڈاکٹر نے لب سکیڑ کر مسکراتے ہوئے کہا کہ ”تارڑ تم مجھے جاہل سمجھتے ہو۔

مجھے خوب معلوم ہے تم کیا کیا ترکیبیں بروئے کار لاتے ہو۔ پچھلے برس میں نے خان گوگ کی مشہور تصویر ”سٹارمی نائٹ“ کے اندر اتر کر محسوسات کی دنیا دریافت کرنے کے بارے میں ایک ناولٹ لکھنے کے بارے میں فیصلہ کیا اور جب لکھنے بیٹھا تو یاد آیا کہ انور سجاد نے تو بہت پہلے ایک جرمن مصور کی تصویر ”خوشیوں کا باغ“ کے حوالے سے نہایت شاہکار ناول لکھا تھا جس کا بہت چرچا ہوا تھا۔ مجھ میں انور ایسی تخلیقی قوت کہاں ؛چنانچہ میں نے قلم رکھ دیا۔

ابھی کچھ داستانیں ادھوری پڑی ہیں۔ کبھی فرصت ملی تو انہیں مکمل کر دیں گے۔ اگرچہ اس کا امکان کم کم ہوتا جا رہا ہے۔ باقی اس کی ذاتی زندگی میں جو المیہ ہوا وہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ بس اس کے نصیب برے تھے۔ پچھلے دنوں ٹیلی ویژن کے کسی ڈرامے میں ”اس“ کو دیکھا تو خدا گواہ ہے اس کی شکل پر پھٹکار برس رہی تھی۔ جو اس نے کیا اس کا خمیازہ اس دنیا میں بھگتا جا رہا ہے۔ اچھا بھئی انور سجاد، ہمارے خوشیوں کے باغ، اب تم سے ملاقاتیں تو ہوویں گی۔ کب ہوویں گی۔ شاید جلد ہی، شاید کچھ عرصے بعد لیکن ملاقات بہر طور طے ہے۔ بہر صورت!
روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 180 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar