14 جون۔ چی گویرا کی سالگرہ کا دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ میں سے اگر سب نے نہیں تو بہت سوں نے ایک شخص کی تصویر ضرور دیکھی ہوگی۔ ٹی شرٹوں پہ، گاڑیوں پہ لگے اسٹیکرز کی صورت میں، اخباروں کے صفحات پہ، کسی دیوار پہ بنی گرافٹی کی صورت میں یا کسی کی ٹوپی کے لگے بیج میں کی صورت میں۔ ممکن ہے کہ آ پ میں کچھ ایسے ہوں جنہوں نے اس کی وہ تصویر دیکھی ہو جس میں وہ سگار کا کش لے رہا ہے۔ یا جس تصویر میں وہ ہنس رہا ہے یا محض ایک سنجیدہ چہرے والی تصویر۔ اس کی ان تمام مشہور تصاویر میں ایک قدر مشترک ہے کہ اس نے سر پہ ایک فوجی ٹوپی پہن رکھی ہے جس پہ پانچ کونوں والا ستارہ بنا ہوا ہے۔

اس کے سر کے بال لمبے ہیں اور اس کی لٹیں اس کے کندھوں تک آئی ہوئی ہیں۔ وہ خوبرو ہے اور اس کے چہرے پہ بے ترتیب اگی ہوئی داڑھی اس کی وجاہت میں اضافہ کررہی ہے۔ دنیا کے تما م آزادی پسند جنہیں ریاست، سماج، مذہب حتیٰ کہ عالمی نطام تک سے گلہ ہے، سبھی اسے اپنا متفقہ رہبرو رہنما مانتے ہیں۔ اس کی تصاویر کو اپنے سینے سے لگا کررکھتے ہیں۔ جس طرح اس کے عاشق لاکھوں ہیں ویسے ہی اس کے دشمنوں کی تعداد بھی کم نہیں۔ اس کے عاشق اگر اسے آزادی اور انقلاب کا بے لوث سپاہی سمجھتے ہیں تو اس کے دشمنوں کے لئے وہ ایک نظریاتی لڑاکا اور قاتل ہے۔

اس شخص کا پیدا ئشی نام ارنیسٹو گویرا لاسیرناتھا اور وہ آج ہی کے روز یعنی 14 جون 1928 کو ارجنٹائن کے شہر روزاریو میں پیدا ہواتھا۔ اس کے سبھی دوست دشمن اسے چی گویرا کے نام سے جانتے ہیں۔ چی کا خاندان متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس نے ڈاکٹری کی تعلیم بیونس آئرس کی یونیورسٹی سے مکمل کی تھی۔ دوران تعلیم ہی وہ اپنے ایک دوست البرٹو گرنادو کے ہمراہ لاطینی امریکہ کے سفر پہ نکل گیا اور آٹھ ممالک کا دورہ کرکے واپس لوٹا۔

اس نے اس سفر کے دوران بھوک افلاس اور انسانی تکالیف کا قریب سے مشاہد ہ کیا۔ یہیں اس نے سمجھا کہ دنیا میں تفریق تقسیم اور تکلیف کا خاتمے کا اگر کوئی ذریعہ ہے تو وہ مارکسزم کا فلسفہ ہے اور اس کی کامیابی کے لئے مسلح جدوجہد ہی وہ واحد رستہ ہے۔ اس نے اس سفر کے دوران اور اس کے علاوہ بھی ہمیشہ اپنی ڈائری روزانہ کی بنیاد پہ لکھی۔ اس سفر کی یاداشتوں پہ بنائی گئی ایک فلم دنیا کی بیس بہترین فلموں میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔

اپنی زندگی کو مارکسی انقلاب کے لئے مختص کردینے کے فیصلے کے بعد وہ سن 1954 میں میکسیکو پہنچا جہاں اس کی ملاقات کیوبا کے انقلابی فیڈل کاسترو سے ہوئی۔ دونوں نے مل کر کیوبا کے آمر فلجینکو بیتستا کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کردی۔ محض پانچ ہی سالوں میں عوامی حمایت سے یہ انقلابی تحریک کامیاب ہوئی اور کیوبا میں اشتراکی انقلاب کامیاب ہوگیا۔ کاسترو صدر بنے تو انہوں نے چی گویرا کو کیوبا کے مرکزی بنک کی صدرات سونپ دی اور وہ وزیر پیداوار بھی بن گیا۔

کیوبا کی حکومت کے نمائندے کی حیثیت سے چی گویرا نے دنیا بھر کے اہم ممالک کے دورے کیے۔ وہ پاکستان بھی آیا اس کی ایک تصویر آج بھی قومی آرکائیوز اور اخبارات میں موجود ہے جس میں وہ کراچی ائیر پورٹ پر صدر ایوب کے پہلو میں کھڑا ہے۔ اس نے یو این جنرل اسمبلی سے بھی خطاب کیا۔ اس دوران اس نے کہا کہ ہم دنیا بھرمیں ہو نے والے واقعات سے خود کو دور نہیں رکھ سکتے۔ دنیا بھر میں عوام کے حقوق کی جنگ ہماری جنگ ہے۔ اگر کہیں کوئی انقلابی کامیاب ہوتا ہے تو وہ ہماری جیت ہے اور اگر کہیں کوئی انقلابی شکست پاتا ہے تو وہ ہماری شکست ہے۔

چی گویرا امریکی نظام معیشت کو ایک سامراج کے روپ میں دیکھتا تھا۔ وہ امریکی مفادات اور سیاست کا کھلے بندوں مخالف تھا۔ وہ ایک سیماب طبیعت انقلابی تھا جسے دنیا کی سرحدوں کی پروا نہیں تھی۔ اس نے 1965 میں کیوبا چھوڑ دیا تاکہ دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں کی معاونت کرسکے۔ رخصت کے وقت اس نے کاسترو کو ایک خط میں لکھا۔

” مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے فرض کا وہ حصہ ادا کر دیا ہے جس نے مجھے کیوبا کی سرزمین اور انقلاب سے منسلک رکھا۔ سو میں تم سے، ساتھیوں سے اور تمھارے عوام سے جو کبھی کے میرے ہو چکے ہیں، رخصت ہوتا ہوں۔ کوئی قانونی بندھن مجھے اب کیوبا کے ساتھ نہیں باندھے ہے، جو بندھن ہیں وہ ایک اور نوعیت کے ہیں ایسے بندھن جنھیں اپنی مرضی سے توڑا نہیں جا سکتا“

وہ افریقہ گیا جہاں اس نے کا نگو کے انقلابیوں کی مدد کی کوشش کی۔ وہاں حالات سازگار نہ پا کر وہ موزمبیق پہنچا تاکہ وہا ں کے انقلابیوں کی مدد کرسکے۔ مگر وہاں بھی اسے حالات مشکل تھے۔ کاسترو نے اسے واپس کیوبا آنے کو کہا تو کچھ مہینے کے لئے واپس آیا بھی مگر جلد ہی بولیویا میں انقلابیوں کی مدد کے لئے پہنچ گیا۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اس کی انقلابی سرگرمیوں سے واقف تھی اور اس کے قتل کے درپے تھی۔ با آخر بولیویا میں اس کی پناہ گاہ تلاش کرلی گئی۔ امریکیوں اور ان کے مقامی سہولت کاروں کی مدد سے اسے گرفتار کرلیا گیا۔ اسے گرفتار کرنے کے بعد اس کو قتل کردیا گیا۔ اس کے آخری الفاظ تھے۔ ”گولی چلاؤ بزدلو۔ تم صرف ایک آدمی کو مار سکتے ہو اس کے نظریے کو نہیں“

اس کی موت پہ بیسیویں صدی کے عظیم فلسفی سارتر نے کہا۔
”چی ہمارے عہد کا مکمل ترین انسان تھا۔ “

شاید اسی لئے الہامی کتابو ں میں مکمل انسانوں کوہمیشہ زندہ رہنے کی بشارت دی گئی ہے۔ چی گویرا مر تو گیا مگر آج وہ اپنے نام اپنی تصویر اور اپنی جدوجہد کے سبب لاکھوں حریت پسندوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ ہے۔ انورسن رائے نے اپنے ایک مضمون میں چی گویرا کے خطوط نقل کیے ہیں۔ ان میں سے ایک خط چی گویرا نے اپنے بچوں کے نام لکھا۔ وہ کہتا ہے۔

”یاد رکھنا! تمہارا باپ ایک ایسا آدمی تھا جس نے جو سوچا اس پر عمل کیا۔ یقین رکھنا وہ اپنے نظریات سے مکمل وفادار رہا۔ یاد رکھنا کہ اگر کوئی چیز اہم ہے تو وہ انقلاب ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا وجود ہماری ذات کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •