کیا آپ اپنی ایگو کو چھوٹا کرنا چاہتے ہیں یا بڑا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی نفسیات کا طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ دو انسانوں یا گروہوں کے درمیان ایک صحتمند مکالمہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں ایک دوسرے کی زبان اور روایت سے پوری طرح واقف ہوں۔ میں نجانے کتنے سائنس کی روایت کو ماننے والوں کو جانتا ہوں جنہوں نے مذہب کی روایت کا کبھی مطالعہ نہیں کیا اور کتنے روحانیت کی روایت کو ماننے والوں سے مل چکا ہوں جنہوں نے نفسیات کی روایت کو کبھی سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔

اس لیے جب وہ ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے ہیں تو بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میں اپنے موقف کی وضاحت کے لیے دو الفاظ پر اپنی توجہ مرکوز کروں گا تا کہ آپ کو اس مسئلے کی سنجیدگی اور سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔ یہ الفاظ ہیں PSYCHEاور EGOمذہب کی روایت کو ماننے والے سائکی کا ترجمہ روح کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ روح انسانی جسم سے علیحدہ اپنا وجود رکھتی ہے اور عالمِ ارواح میں رہتی ہے۔ وہ روح رحمِ مادر میں بچے کے جسم میں داخل ہوتی ہے ، ساری عمر اس کے ساتھ رہتی ہے اور موت کے وقت جسم سے جدا ہو کر قیامت کا انتظار کرتی ہے۔

ان کا ایمان ہے کہ قیامت کے دن ان کے اعمال کا حساب ہوگا۔ اگر اس شخص نے اپنی زندگی میں نیکیاں زیادہ کی ہیں تو وہ روح جنت میں چلی جائے گی اور اگر اس شخص نے زندگی میں برائیا ں زیادہ کی ہیں تو وہ روح واصلِ جہنم ہوگی۔ بہت سے مسلمان ، عیسائی اور یہودی انسانی روح، یومِ حساب اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں۔ انسانی روح پر ایمان رکھنے والوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جن کا عقیدہ ہے کہ انسانی روح بار بار اس دنیا میں آتی ہے اور پچھلے جنم کے اعمال کی بنیاد پر کسی جانور یا انسان کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔

جب کوئی انسان جنم جنم کے ریاض کے بعد نروان حاصل کر لیتا ہے تو اس کی روح روحِ کل کا حصہ بن جاتی ہے اور دوبارہ دنیا میں نہیں آتی۔ بہت سے ہندو ازم اور بدھ ازم کے پیرو کار آج بھی آواگون پر ایمان رکھتے ہیں۔ مذہب کی روایت کے ماننے والوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو سیکولر اور سائنسی روایت سے جڑے ہوئے ہیں وہ سائیکی کا ترجمہSOUL اور روح نہیں MIND اور ذہن کرتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں ذہن کا تعلق انسانی دماغ ، انسانی جسم اور انسانی شخصیت سے ہے۔

یہ ذہن انسانی جسم سے جدا نہیں جو جسم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ مر جاتا ہے۔ لفظ سائیکی کی طرح دوسرا لفظ EGO ہے جس کے معنی مختلف روایات میں مختلف ہیں۔ بدقسمتی سے اکثرمغربی نفسیاتی روایت کو ماننے والے مشرقی روحانی روایت سے واقف نہیں اور بہت سے مشرقی روحانی روایت کے پیروکار مغربی سائنسی روایت سے نا واقف ہیں اس لیے مختلف روایات کے پیروکاروں میں ایک سنجیدہ اور صحتمند مکالمہ نہیں ہو پاتا۔ مشرق کی روحانی روایت میں ایگو شخصیت کے کمزور اور نابالغ حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔

یہ وہ حصہ ہے جو جذباتی فیصلے کرتا ہے اور انسان کی شخصیت میں غرور و تکبر پیدا کرتا ہے۔ روحانی روایت میں وہ لوگ جن کا ایگو بہت بڑا ہوتا ہے وہ چھوٹے انسان ہوتے ہیں۔ وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی رائے دوسروں پر ٹھونسنا چاہتے ہیں۔ وہ دوسروں کی ذات اور شخصیت کا احترام نہیں کرتے۔ روحانی رہنما اپنے شاگردوں اور پیروکاروں کو یہ نصیحت اور تربیت کرتے ہیں کہ وہ اپنی ایگو کو کم کریں۔ وہ یہ سمجھاتے ہیں کہ انسان اپنی شخصیت میں ایگو کو جتنا مٹائے اتنا ہی بہتر ہے۔

سنت ، سادھو، صوفی اور درویش جب اپنی ایگو کو ختم کرتے ہیں تو ان میں عاجزی ، حلیمی اور کسرِ نفسی پیدا ہوتی ہے اور وہ دوسروں کی نہ صرف عزت کرتے ہیں بلکہ ان کی خدمت کر کے خوش ہوتے ہیں۔ اسی لیے عوام و خواص بھی انہیں اپنے دلوں میں جگہ دیتے ہیں۔ مشرق کی روحانی روایت کے مقابلے میں مغرب کی نفسیاتی روایت میں ایگو کا مطلب اور مفہوم بہت مختلف ہے۔ سگمنڈ فرائڈ کے انسانی ذہن کے تصور کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ اڈ ID ہے جو انسانی شخصیت اور ذہن میں انسانی جبلتوں اور نابالغ حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔

دوسرا حصہ EGO ایگو ہے جو انسانی ذہن اور شخصیت کے صحتمند پہلو کی ترجمانی کرتا ہے۔ تیسرا حصہ SUPEREGO سوپرایگو ہے جو انسانی ضمیر اور سماجی شعور کا آئینہ دار ہے۔ مغرب کے ماہرینِ نفسیات اپنے مریضوں کے علاج میں ان کی ایگو کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں جو لوگ مضبوط ایگو رکھتے ہیں جو اپنے مسائل اور مشکلات کا بہتر مقابلہ کر پاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جن کی ایگو کمزور ہوتی ہے وہ اپنے جذباتی ، خاندانی اور سماجی مسائل کا مقابلہ نہیں کر پاتے اور نفسیاتی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔

میں نے بہت سے مشرق کے روحانی روایت کے پیروکاروں کو مغرب کی نفسیاتی روایت کو چاہنے والوں سے ایگو کے موضوع پر الجھتے دیکھا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کے ذہن میں اس تصور کی مختلف ہی نہیں بعض دفعہ متضاد تعبیریں اور تفسیریں تھیں۔ وہ لوگ جو دونوں روایتوں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ روحانی روایت کی ایگو دراصل نفسیاتی روایت کی اڈ کے زیادہ قریب ہے۔ مغرب کی نفسیاتی روایت اور مشرق کی روحانی روایت کی منزل ایک ہی ہے۔

دونوں روایتیں انسانوں کو ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتی ہیں۔ دونوں انہیں عاجزی ، انکساری، تحمل ، بردباری اور ہمدردی سکھاتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ مشرق کی روحانی روایت خدا، مذہب اور جنت دوزخ کے اعتقادات کا سہارا لیتی ہے اور مغربی نفسیات کے پیروکار یہ جانتے ہیں کہ انسان خدا اور مذہب کے تصورات اور اعتقادات کے بغیر بھی بہتر انسان بن سکتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انسانی اخلاقیات مذہب کے بغیر بھی اپنا وجود رکھتی ہے۔

وہ کنفیوشس کے سنہری اصول پر عمل کرتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جیسا کہ تم چاہتے ہو وہ تمہارے ساتھ کریں۔ میں نے سائیکی اور ایگو کی مثالوں سے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب ہم ایک دوسری کی روایت سے واقف نہیں ہوتے تو ایک ہی لفظ کا غلط استعمال انفرادی اور اجتماعی مکالمے میں سنجیدہ مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ میں چونکہ دانائی کے حصول میں مشرق اور مغرب دونوں روایتوں کا مطالعہ کرتا رہا ہوں اسی لیے میرے لیے دلچسپی کی بات یہ ہے کہ مشرق کے روحانی پیشوا ایگو کو چھوٹا کر کے بالآخر ختم کرنا چاہتے ہیں اور مغرب کے نفسیاتی معالج ایگو کو بڑا کر کے مضبوط بنانا چاہتے ہیں کیونکہ مشرق کے روحانی پیشوا انسانی شخصیت کے کمزور اور بیمار حصے کو اور مغرب کے نفسیاتی معالج انسانی شخصیت کے مضبوط اور صحتمند حصے کو ایگو کا نام دیتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 221 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail