معصوم حکومت، بدمعاش قوم، کرپشن کا سرمہ اور اسٹوڈنٹ سیاست


پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وزیر اعظم عمران خان کی وجہ سے ہی چلتی ہوئی نظر آ رہی ہے ورنہ تو پی ٹی آئی حکومت کی ترجمانی کرنے والوں ترجمانوں کی پھرتیاں اور دانش وریاں سابقہ جمہوری اور غیر جمہوری ادوار میں یہ قوم دیکھ چکی ہے۔ بقول مرزا غالب کہ ہر بات پہ کہتے ہو کہ ”تو کیا ہے“ ملک میں بنگلہ دیش ماڈل کے طرز پر کام کرتی ہوئی حکومت امپورٹیڈ اور دیسی ٹیکنوکریٹس کی دانشوریوں پر قوم، ملک اور سلطنت کا ترانہ چلا کر 22 کروڑ عوام کا تیل نکالنے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔

ملک کے معصوم وزیر اعظم قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے نظر آتے ہیں کہ سدھر جاؤ ایماندار بن جاؤ ورنہ تم سارے جیل میں جاؤ گے اور دوسری طرف معصوم وزیر اعظم پر اپوزیشن کی طرف سے ٹیکس چوری اور اپنوں کو ایمنیسٹی اسکیم سے نوازنے کے الزامات لگ ریے ہیں۔ محترم ایف بی آر چیئرمین پوری عمر ٹیکس کے بچاؤ کے طریقے سکھاتے رہے اور اب وہ اس قوم سے ٹیکس کیسے نکالا جائے گا کے نت نئے طریقے آزما کر نان فائلر کو فائلر بنا کے کبوتر سے مرغی کا انڈا نکالنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف تو مہنگائی کی سونامی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں تو دوسری طرف خان صاحب کے دست راست جہانگیر ترین کی چینی کی 22 ملین ٹن ذخیرہ اندوزی کے باعث کمائے جانے والے سود سمیت سو ارب کے قصے کہانیاں سامنے آ رہے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے 2008 سے لے کر 2018 تک اعلیٰ سطح کے کمیشن کے قیام کا تو اعلان کر دیا ہے تاکہ ملک پر چڑھے قرضوں کا حساب لیا جائے مگر اس سے پہلے کی حکومتوں سے حساب کون لے گا؟ اس کا جواب خان صاحب کے پاس بھی نہیں دوسری طرف معصوم حکومت کی کابینہ میں اکثر و بیشتر امپورٹیڈ اور دیسی ساخت کے وہ لوگ ہیں جو مختلف ادوار میں جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کا حصہ بنے رہے اور گاڑیوں پر جھنڈے لہراتے بادشاہ وقت کی پاک دامنی اور سچائی کے گیت گاتے رہے کیا ان کا احتساب پی ٹی آئی کی ڈرائی کلین مشین سے ہو گیا ہے؟

احستاب کے چیئرمین صاحب بہادر کی ویڈیو کہانی اچانک منظر نامے سے غائب ہو جاتی ہے اور الٹا پیمرا کی طرف سے ویڈیو چلانے والے ٹی وی چینل کو دس لاکھ کا جرمانہ کر دیا جاتا ہے اور سیاستدانوں کی کرپشن اور ریفرنسز کی کہانی زبان عام ہو جاتی ہے۔ اس ملک میں یہ رواج عام ہے کہ کل کے ہیرو آج کے غدار ہیں بس اب مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی گرفتاری کا انتظار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت احتساب کے ذریعے انصاف کا بول بالا کر کے ملک میں مدینہ کے طرز کی فلاحی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے مگر اس مہنگائی کے دور میں تو شاید یہ صرف سرمایہ دارانہ ریاست ہی قائم کر پائیں اور یہ معصوم حکومت اگر اپنی ان سرمایہ دارانہ پالیسوں پر قائم و دائم رہی تو شاید وہ وقت دور نہیں جب لوگوں کو جنت کے ڈائریکٹ ٹکٹ مل جائیں۔

اپوزیشن کی اس بات میں بہت وزن ہے کہ ان کے خلاف ریفرنسز بننے سے پہلے میڈیا ٹرائل اور گرفتاری اور حکومتی لوگوں پر ریفرنسز ہوتے ہوئے بھی فائلیں سرد خانوں کی نذر ہو جاتی ہیں اب بابر اعوان کے ندی پور اسکینڈل کو ہی لیں جس پر احتساب عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کیا ہے مگر سب جانتے ہیں کہ وہ اس کیس سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے مکھن سے بال۔ احتساب عدالتوں کے فیصلے شروع سے ہی غیر مقبول رہے ہیں ان فیصلوں کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ فیصلے تو پہلے سے ہی لکھے ہوئے ہوتے ہیں جج صاحبان تو صرف ہونٹ ہلاتے نظر آتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر سابق صدر آصف علی زرداری کے احستاب عدالت میں سگریٹ پینے کے حوالے سے ذکر چل رہا ہے کہ جس پر کہ جج صاحب نے ان سے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ عدالت میں سگریٹ پینا منع ہے جس کے جواب میں زرداری صاحب نے یہ جواب دیا کہ جب تک جج عدالت میں نہ ہو تو سمجھو وہ صرف ایک عام کمرا ہے، عدالت نہیں۔ ملک کے عدالتی نظام، نیب کی گرفت اور آسمانی فرشتوں کی باتیں تو ہوتی رہی ہیں ماضی بعید سے لے کر حال قریب میں ملک کی سیاسی تاریخ میں گٹھ جوڑ حکومتیں بنانا اور گرانا جیسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان صاحب کی معصوم اور لاچار حکومت اپوزیشن کی تمام تر جماعتوں کو سبق سکھانا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے بیانیے کو درست ثابت کر سکے ساتھ ہی اپنے پسندیدہ لیڈر جنرل ایوب خان کی (ای بی ڈی او) پر عمل درآمد کر کے تمام سیاسی حریفوں کو سیاست سے خارج کرنا چاہتے ہیں۔ باقی بقول فیض ہم دیکھیں گے ظاہر ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ اگر دوبارہ مرشد کی دعا سے حکومت ملی تو بنگلہ دیش کے گرامین بینک کے ڈاکٹر یونس کے ترقی کے لیے چھوٹے چھوٹے قرضے، مرغے اور انڈے والے فارمولے پر عمل درآمد کیا جاسکتا ہے اور اس کے اگلے سال مہاتیر محمد کا فارمولہ بھی چلاکے دیکھیں گے۔

باقی تو اس ملک میں جنرل ضیاء کے اسلام سے لے کر جنرل مشرف کے فارمولے آزمائے گئے ہیں مگر لوگ تو خان صاحب کو بھی ماضی کی طرح ایک فارمولہ ہی سجھ رہے ہیں جو جلد ہی غیر مفید ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ خان صاحب کے غم و غصے اور قوم کو دھمکی آمیز لہجے اور دباؤ کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ خان صاحب بہت ہی تکلیف میں ہیں اور کرنے پر آئیں تو وہ کچھ بھی کر ڈالیں گے ویسے بھی حکومتیں تو آنی جانی ہیں۔

اس ملک میں سیاستدانوں پر مقدمے، ٹربیونل، ریفرنسز اور سزائیں کوئی نئی بات نہیں ہیں حکومت اپنے ساری پتے کھیل چکی ہے آصف زرداری اور میاں نواز شریف پہلے بھی جیل جا چکے ہیں اور سیاسی ساز باز اور کچھ دو کچھ لو لے کر آزاد ہونے کا بھی طریقہ آزمایا جا چکا ہے اور اب بھی کچھ وقت کے بعد وہ آزاد ہو جائیں گے اور بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف بھی اگر جیل جائیں تو بھی خان صاحب کی لوٹی ہوئی دولت کبھی واپس نہیں آئے گی نہ ہی حکومت زیادہ وقت اس قوم کو کرپشن کا سرمہ بیچنے میں کامیاب ہو سکتی ہے اس لیے پاکستان تحریک انصاف کی اسٹوڈنٹ سیاست میں رجنی کانت اسٹائل بہت جلد ہی ختم ہونے والا ہے۔

اکثر و بیشتر اسٹوڈنٹ سیاست میں اپنے مخالف کو اگر حادثاتی طور پر بھی چوٹ لگ جاتی ہے تو یہ مشہور کر دیا جاتا ہے کہ اسے ہم نے مارا ہے اور وہ شرمندگی سے بچنے کے لیے کسی کو نہیں بتا پا رہے۔ اسی طرح نئے آئے ہوئے شاگردوں پر اپنی دھونس جمانے کے لیے جب رجسٹرار کمرے میں نہیں ہوتا تو تب اس کے کمرے کو لات مار کر کھولا جاتا ہے اور یہ نئے اسٹوڈنٹس حیران و پریشان ہو جاتے تھے کہ کس طرح ہمارے لیڈر نے دھڑلے سے رجسٹرار کا کمرا لات مار کر کھولا۔

ٹھیک اسی طرح پی ٹی آئی الطاف حسین کی گرفتاری سے لے کر آصف علی زرداری، میاں نواز شریف، حمزہ شہباز شریف، بلاول بھٹو زراری اور مریم نواز شریف کی گرفتاری کا کریڈٹ بھی اپنے نام لینا چاہتی ہے اور ساتھ ساتھ معصوم وزیر اعظم چیختے چلاتے بھی نظر آتے ہیں کہ میں این آر او کسی کو نہیں دوں گا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس گریٹ گیم میں معصوم حکومت ایک پیادہ کا کردار ادا کر رہی ہے اور شطرنج جیسی بساط پر پیادے، ہاتھی، گھوڑے اور وزیر تک بادشاہ سلامت کو بچاتے بچاتے مارے جاتے ہیں اور کہا یہی جاتا ہے کہ سپاہی لڑتے ہیں اور کامیابی کا سہرا بادشاہ کے سر بندھتا ہے۔

Facebook Comments HS