ہیکل سلیمانی کی تعمیر، الاقصیٰ کی بربادی اور خفیہ خزانے کی تلاش
”کیا ان کی جانب سے اس حوالے سے کبھی گفت و شنید کا بھی معاملہ آیا؟ “ میں نے پوچھا۔
”جی ہاں، کئی دفعہ، لیکن ہم انھیں بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ ان کا محض دکھاوا ہے کہ دنیا کو وہ ایک پُرامن قوم کے طور پر اپنا چہر ہ دکھا سکیں۔ ایک صلح جُو قوم کا رُوپ جو اپنے تمام مسائل باہمی گفتگو کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔ دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت کو چونکہ ان مقامات کی زیارت کے لیے اسرائیل آنے پر پابندی ہے لہذا وہ اپنے نشریاتی اداروں، بالخصوص الیکٹرانک میڈیا، اخبارات اور رسائل پر، جن کی اکثریت غیر مسلموں کی ملکیت ہے۔ بہت عے ّاری سے Dome of the Rock (قبّتہ الصخرہ) کو بطور مسجد الاقصیٰ پیش کرتے ہیں۔ “
اس میں کچھ قصور تو اقصیٰ کی اپنی سادگی کا بھی ہے جو دور سے کھینچی گئی تصاویر، بالخصوص ان تصاویر میں جو بلندی سے لی گئی ہوں۔ بے شمارمسلمان یہ جان ہی نہیں پاتے کہ سنہری گنبد سے دور ہٹ کر چپ چاپ کھڑی یہ سفید پلاسٹر والی اُداس سی ایک منزلہ عمارت ہی دراصل ان کا قبلہِ اوّل ہے۔ مکتہ المکرّمہ اور مدینتہ المنوّرہ کے بعد تیسرا اہم ترین مقدّس مقام۔ اُن کی مسجد الانبیاء یعنی مسجد الاقصیٰ ہے۔
”یہ علومِ مخفی اور جادو ٹونوں اور عملیات کے جن صحیفوں کا آپ نے ابھی تذکرہ فرمایا تھا ان میں سے کچھ اب تک کسی بے قرار کھوجی روح کو کسی کھدائی یا اتفاقاً کہیں پڑے ہوئے ملے بھی ہیں؟ “
بالکل ملے ہیں۔ صلیبی جنگوں میں عیسائی افواج میں ایک ایسا فوجی دستہ بھی تھا جو خود کو Order of the Poor Knights of Christکہتا تھا۔ انہیں ساری دنیا The Templar Knightsکے نام سے جانتی ہے۔ یہ ابتدا میں تعداد میں آٹھ تھے اور زائرین کی حفاظت کے لیے 1120 ء میں فرانس سے آئے تھے۔ انھیں نوسال بعد ایک ایک فوجی دستہ بن کر رہنے کی اجازت مل گئی تھی۔ انھیں یروشلم کے حکمران بالڈوین ثانی نے ان کے سرپرست Warmund (جو فلسطین کا بڑا پادری تھا) کی سفارش پر اقصیٰ القدیم میں رہائش پذیر ہونے کی اجازت دے دی تھی۔
”اہلِ اسلام اور اہلِ یہود، جو یہاں آباد ہیں، ان میں سے بہت سے لوگوں کا اور کئی محقّقین کا خیال ہے کہ ان نائٹس کے ہاتھ کچھ ایسے صحیفے آگئے تھے جن میں درج منتر دولت پر قابض جنّوں اور دیگر مخلوقات کو اپنا مطیع بنا لیتے تھے۔ یہی وہ نائٹس تھے جنھوں نے تاریخِ انسانی کا پہلا بنک قائم کیا۔ “
”وہ کیسے؟ “
”وہ ایسے کہ ان نائٹس نے یورپ بھر سے یہاں آنے والے زائرین میں یہ بات عام کردی کہ دورانِ سفر رقم اور قیمتی اشیاء لے کر آنا خطرے سے خالی نہیں۔ آپ ہمارے دفاتراور نمائندوں کے پاس، جو تمام یورپ میں پھیلے ہیں، مطلوبہ رقم جمع کرائیں۔ وہ ایک متبادل پروانہ یعنی Bank Draft جاری کریں گے جو یروشلم میں پیش کیے جانے پر آپ کو، کمیشن نکال کر، مطلوبہ رقم کا حقدار ٹھیرائے گا۔ مگر ہوا یہ کہ جمعہ 13 اکتوبر 1307 ء کو پوپ نے فرانس کے بادشاہ کی مدد سے انہیں برباد کردیا۔
یہ نائٹس ایک عرصے سے فرانس کی وزارتِ خزانہ سے منسلک تھے۔ ان کی بے جا مداخلت سے سار ے یورپ کے حکمران پریشان رہتے تھے۔ یہ اپنے آپ کو اسٹیبلشمنٹ، کنگ میکرز، بین الاقوامی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)، ورلڈ بنک، وزارتِ خزانہ اور جانے کیا کیا سمجھتے تھے۔ انھیں ہرطرح کے ٹیکس اور عدالتی معاملات سے استشنٰی حاصل تھا۔ یہ اپنے معاملات کی انجام دہی میں صرف پوپ کے سامنے جواب دہ تھے۔ ایک زمانہ ایسا آیا کہ انھوں نے فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم کی ہمشیرہ کی شادی اور جنگی اخراجات کے لیے ایک بڑی رقم بادشاہ کو اُدھار دی۔
تب اُسے ان کی دولت کا صحیح اندازہ ہوا۔ فلپ بڑا عیار بادشاہ تھا۔ وہ سال پہلے بھی یہودیوں کی فرانس میں دولت پر اسی طرح قابض ہوچکا تھا۔ اب اُسے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کا موقع ملا جب اُسے وقت کے پوپ کلیمنٹ پنجم کا خط ان ٹمپلر نائٹس کی کرپشن اور بداعمالیوں کے بارے میں موصول ہوا۔ پوپ کی خواہش تھی کہ ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن جس میں اس کے اپنے نمائندے بھی شامل ہوں بنایا جائے جوجانچ پڑتال کرکے انھیں رپورٹ پیش کرے۔ مگر پوپ کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب فرانس کے طول و عرض میں اس کی فراہم کردہ لسٹوں کو سامنے رکھ کر بادشاہ کے حکم پر یہ سارے خفیہ نائٹس راتوں رات پکڑے گئے اور انھیں زندہ جلادیا گیا۔ ”
”ان میں سے کچھ ٹمپلر نائٹس بہت خاموشی سے اسکاٹ لینڈ فرار ہوگئے جو پوپ کے اثرو رسوخ اور پہنچ سے باہر تھا۔ وہاں پہلے سے ہی ایک سوسائٹی تھی جس میں راج معمار یعنی اینٹیں چننے والے شامل تھے۔ انھیں“ Masons ”کہتے تھے۔ یہ بہت منفعت بخش کام تھا۔ انھیں اس میں مہارت بھی بہت تھی اور اس کا یہ معاوضہ بھی بہت لیتے تھے، اس لیے کہ وہاں بڑے کلیسا اور قلعے بنانے کا جنون تھا۔ اس کی سوسائٹی کے ممبران کے پاس بہت رقم تھی۔
یہ اپنے تعمیراتی رازوں میں بھی کسی کو شریک نہ کرتے تھے۔ جب یہ ٹمپلر نائٹس فرانس سے اسکاٹ لینڈ پہنچے تو معماروں کا حال کچھ پتلا تھا۔ ان کی دولت بھی ختم ہوچکی تھی۔ اسی وجہ سے ان نائٹس کو اس سوسائٹی کا ممبر بننے کی اجازت دی گئی کیوں کہ ان کی دولت اور میزبانوں کی ہنر مندی سے ایک نئی دنیا کو، جس میں پوپ اور مذہب کا عمل دخل نہ ہو، وجود میں لانا مقصود تھا۔ سوسائٹی کی ممبر شپ کھول دی گئی اور یہ نئے ممبرز ”فری میسن“ کہلائے۔
قبّتہ الصخرہ اور مسجد الاقصیٰ کے بارے میں جس طرح یہ وثوق سے کہا جاتا ہے کہ یہ دونوں قدیم ترین اسلامی عمارات ہیں اسی طرح دنیا کی قدیم ترین خفیہ تنظیموں میں فری میسن کا بھی شمار ہوتا ہے جو اب باقاعدہ مغربی مہذّب دنیا میں متبادل مذہب کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اس کا بے ضرر مگر ڈھکا چھپا نعرہ یہ ہے۔ ”ہم اچھے انسانوں کو بہت بہتر انسان بناتے ہیں۔ لیکن یہ ایک عرصے سے اقتدار کے بلندوبالا ایوانوں میں اپنے حلف یافتہ کارکن داخل کرتی رہتی ہے۔ میرے لیے حیرت کا صرف ایک نکتہ تھا کہ کیسے آٹھ ٹمپلر نائٹس کا گیارہویں صدی کا ایک چھوٹا سا حفاظتی دستہ ایک بڑے فوجی دستے کی صورت اختیار کرکے آج دنیا بھر کے تعلیمی، معاشی، سیاسی اور حربی اداروں میں اقتدار اور کنٹرول حاصل کرچکا ہے۔
تو قارئین یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ میں نے اس کی صرف ایک چھوٹی سی جھلک پیش کی ہے۔ اسے ”سویرا“ جیسے مایہ ناز ادبی جریدے کے مدیران اعلیٰ جناب سلیم الرحمن اور ریاض احمد چودھری صاحب نے بہت اہتمام اور خوبصورتی سے شائع کیا ہے اور یہ Readings پر دستیاب ہے۔



