لڑکیاں شادی کب کریں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ خیال میں اپنی دونوں بیٹیوں، یسریٰ فاطمہ اور نور فاطمہ کے نام کرتا ہوں۔ مجھے ابھی تک باپ-بیٹی سے زیادہ خوبصورت رشتے کی تلاش ہے۔ اس تلاش میں، میں ناکام ہوں اور سوچ کا اک گوشہ کہتا ہے کہ میں ناکام ہی رہوں گا۔

ہمارے معاشرے کے بہت دلدر ہیں۔ بہت۔ شاید ہر اس معاشرے کے رہے ہوں گے جس نے زرعی قبائلیت سے صنعتی جدت کی طرف ہجرت کی۔ وہ جو صنعتی جدت کی جانب اکثریت سے ہو گئے، فلاح پا گئے اور جو بھرپور زرعی رہے، انہوں نے بھی صنفی کرداروں کے حوالے سے اپنی تاریخ جاری رکھی اور وہ چونکہ جدت کے تقاضوں سے زیادہ آگاہ نہ رہے، لہذا اپنے اسی ماڈل میں خوش و مطمئن ہیں۔ اس طرز کی معاشرت آپ کو برصغیر پاک و ہند کے چھوٹے دیہات میں اک خوفناک اکثریت سے دکھائی دیتی ہے۔

نقصان میں وہ معاشرے اور لوگ رہتے ہیں جو ان دونوں ضدوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں۔ اور اس درمیان میں پھر تشریحاتی مذہب کا چاٹ مصالحہ بھی ڈل جاتا ہے۔ تاریخ کے کسی مقام پر چونکہ مرد نے یہ دریافت کر لیا کہ وہ عورت سے جسمانی طور پر زیادہ طاقتور ہے، تو لہذا اک قبائلی زرعی معاشرہ جس میں سردار عورت ہوا کرتی تھی، آہستہ آہستہ تشدد کی بنیاد پر مرد کے ہاتھوں میں آتا چلا گیا۔ مردوں کی آپس کی لڑائیوں میں عورت محض اک “چیز” کے طور پر ہی موجود رہی، اور یہ تسلسل حال کی گھڑی تک ہمارے معاشرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

خاندانی نظام کے ارتقا کے ساتھ ساتھ، اپنے گھر میں موجود خواتین چونکہ “چیزوں” کے طور پر ہی پالی اور رکھی جاتی رہی ہیں، اور اک خیال یہ بہت شدت سے موجود ہوتا ہے کہ یہ کسی دوسرے شخص کی امانت ہیں۔ مجھے تو یہ خیال، ذاتی طور پر انسانی تاریخ میں عورتوں کے مالِ غنیمت کے طور پر لانے اور لےجانے کی محض اک منظم شکل محسوس ہوتی ہے، جس پر مختلف قبائلی اور پھر بعد میں مذہبی نظریات کی مہر بھی ثابت کر دی گئی۔

اپنے آس پاس نظر جو ڈالیے تو جان جائیے گا کہ قرآن پاک میں بھلے جو بھی لکھا ہوا ہے، معاشرے میں ہو وہی رہا ہے جو قبیلے اور ذاتوں کے رواج ہیں۔ حتیٰ کہ قرآن پاک جس دھرتی پر نازل ہوا، وہاں کی قبائلیت آج بھی ہمارے خطے کی قبائلی جہالت سے کہیں بڑھ کر ہے۔ بحرین کا پُل ایسے ہی تو “مشہور” نہیں، صاحبو!

اگر آپ یہاں تک پڑھ چکے ہیں تو لکھے جانے والے خیال کی اک پتلی بنیاد رکھی جا چکی ہے اور اب بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں روایتی گھروں کی مائیں بچوں، بالخصوص بیٹیوں کی شادیوں کو تمغوں کی طرح اپنے سینوں پر آویزاں کیے پھرتی ہیں۔ باپ اور بیٹی کا باہمی رشتہ، بھلے کئی مرتبہ اک دکھاوے کے طور پر ہی سہی، مگر اک شدت کے احترام اور صنفی فرق کے ستونوں پر استوار ہوتا ہے۔ بیٹیوں کی زندگیوں کے معاملات، اگر کُلی نہیں تو اکثریتی ماؤں کے ہاتھ ہوتے ہیں، باپ عموما باؤنڈری لائن سے باہر بیٹھے کوچ ہی ہوتے ہیں۔ معاشرے کی روایات کے تحت، دونوں کو اپنی “جوان” ہوتی ہوئی بیٹیوں کی فکر اسی دن سے کھانا شروع کر دیتی ہے جس دن بیٹیوں کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کا عمل شروع ہوتا ہے۔

جسمانی ساخت میں تبدیلی ک شروعات کی حتمیت شادی کا رشتہ سمجھی جاتی ہے، اور بیٹیوں کو گویا ذہنی طور پر اسی طرف ہلکے ہلکے سے اور مسلسل دھکیلا جانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ درست نہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں بہت ساری قابل اور محنت کرنے والی بیٹیوں کی زندگیوں کو اسی روایتی ذہینت کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھا ہے، اور چند اک قصوں میں تو بیٹیاں اپنی جانوں سے بھی گئیں۔ معاشرہ بھی اک بار شادی کے رشتہ استوار ہو جانے اور پھر ناچاقی یا طلاق ہو جانے کے بعد، لڑکی کو “استعمال شدہ” کی نظروں سے دیکھتا ہے، اور اس نظر کا بوجھ اتنا شدید ہے کہ لڑکیاں ساری ساری عمر اک غیرمتوازن اور مفلوج کردینے والے رشتے کو سنبھالتے سنبھالتے اپنی زندگیاں ضائع کر دیتی ہیں۔

میں اک لڑکی کو جانتا ہوں جو ڈاکٹری کے چوتھے سال میں زبردستی بیاہ دی گئی۔ وہ آج کل برسلز میں اک قصاب کی دکان پر ملازمت کرتی ہے۔ میں اک لڑکی کو جانتا ہوں جو ایم اے انگلش لٹریچر کے دوسرے سال میں اک ٹائروں کے ڈیلر سے بیاہ دی گئی، اس نے خود کشی کر لی۔ میں اک لڑکی کو جانتا ہوں جس نے ایم بی اے گولڈ میڈل لیا اور اس نے پسند سے اپنے کلاس فیلو سے شادی کر لی، زیادہ تنخواہ پر ملازمت مل گئی تو شوہر صاحب نے اسے ضد کا مسئلہ بنا کر زبردستی گھر بٹھا دیا۔ تین سال بعد طلاق ہو گئی اور خاتون آج تک نفسیاتی اور سماجی مسائل میں گھری ہوئی ہے۔ میں اک لڑکی کو جانتا ہوں جس نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا، شوہر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ملا، اس کے ساتھ باہر چلی گئی، گیارہ برس ہوتے ہیں، آج تک خود پروفیشنل نہ بننے پر پچھتاتی ہے۔ میں اک لڑکی کو جانتا ہوں جو ایم بی اے بینکنگ اینڈ فنانس کی ڈگری رکھتی تھی، شادی ماموں کے بیٹے سے کردی گئی جو گارمنٹس کا کام کرتا تھا، اس نے شوہر کی مدد کرنا چاہی تو ساس نے چولہے ہانڈی میں الجھا دیا، ٹیلنٹ ضائع ہو گیا۔

یہ اوپری چند مثالیں ہیں جو جاننے والے اور آس پاس کے دوستوں، رشتہ داروں کی زندگیوں سے ہیں۔

ہم جیسے معاشروں میں شادی لڑکیوں کے لیے عموما تحفظ کی ضمانت کے طور پر دیکھی جاتی ہے، زبان کی معذرت مگر کہنے دیجیے کہ یہ بالکل اک بکواس خیال ہے۔ شراکت داری سے بھی ممکن ہوتا ہے، مگر بنیادی طور پر فرد خود اپنی ذات کے تحفظ کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ یہی اصول لڑکیوں کی زندگیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

لڑکیوں کو شادی یا اس سے جڑے کسی بھی رومانوی معاملہ میں فیصلہ اپنے ہارمونز کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہئیے۔ انہیں یہ فیصلہ کسی معاشرتی یا خاندانی دباؤ میں نہیں کرنا چاہئیے۔ انہیں یہ فیصلہ عزت، غیرت یا اک منظم زندگی کی دھندلے خواب کی خواہش و کوشش میں نہیں کرنا چاہئیے۔ لڑکیاں سمجھیں کہ شادی بنیادی طور پر اک سماجی کانٹریکٹ ہے اور اسے اسی نظر سے دیکھنا چاہئیے۔ لڑکیوں کو تعلیم اور اپنے کیرئیر پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہئیے اور انہیں معاشی طور پر خود کفیل ہونے کی طرف بڑھنا چاہئیے۔ اصل عزت، صرف کمانے والے ہاتھ کی ہوتی ہے، اس بات کو لڑکیوں کو اچھی طرح سمجھ جانا چاہئیے۔

لڑکیاں شادی تب کریں جب وہ اس کے لیے ذہنی، جسمانی، معاشرتی اور معاشی طور پر تیا ہوں۔ نہ کہ اس وقت کریں کہ جب وہ چاہ رہی ہوں، یا انکے وڈ-وڈیرے چاہ رہے ہوں!

جانتا ہوں کہ اوپر لکھے گئے پر اعتراضات کیے جاسکتے ہیں، مگر یہ فیصلے ہیں جو لڑکیوں کو کرنا ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ فیصلوں کے نتائج ہوتے ہیں، وہ بھلے آپ خود کریں، یا آپ کے لیے دوسرے کریں۔ سمجھ لیجئے کہ آپ اگر فیصلوں کے پراسیس میں دل سے شریک ہوں یا اوپر اوپر یعنی مارے باندھے شامل ہوں، نتائج آپ کو پوری طرح سے خود ہی بھگتنے ہوتے ہیں۔

25 اگست، 2018

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •