ہیکل سلیمانی کی تعمیر، الاقصیٰ کی بربادی اور خفیہ خزانے کی تلاش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچی بات ہے شدید ڈپریشن والی ملکی صورت حال ہے۔ نہ اخبار پڑھنے پہ دل مائل، نہ ٹی وی دیکھنے پر آنکھیں راضی۔ ایسے میں ایک حیرت انگیز کتاب آپ کے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔ ”دیوار گریہ کے آس پاس“ کیا پڑھی کہ میرے تو چودہ طبق روشن ہوگئے۔ تب سوچا کہ یہ تو ”ہم سب“ قارئین سے شئیر کرنے کی ضرورت ہے۔

پہلے مختصر سا تعارف پاکستانی ڈاکٹر کاشف مصطفی کا جو اِس وقت دنیا کے بہترین ہارٹ سرجنوں میں سے ایک ہیں۔ جوہانسبرگ جنوبی افریقہ میں مقیم ہیں۔ نیلسن منڈیلا کے معالج بھی رہے ہیں۔ اُن کا یہ خوبصورت سفرنامہ جس کا ترجمہ نامور ناول، افسانہ نگار، کالم نگار اور سابق بیوروکریٹ اقبال دیوان صاحب نے کیا۔ ایک تو کتاب موضوع کے اعتبار سے منفرد کہ اسرائیل کی سرزمین ایک سربستہ راز کی طرح پراسرار پھر کسی آسمانی صحیفے کی مانند مقدس اس پرطُرّہ کہ مسلمانوں اور خصوصاً پاکستانیوں پر اس کے دروازے بھی بند۔ تو عام قاری کیا اچھے بھلے پڑھے لکھے علم والے بھی اُن اہم باتوں کو نہیں جانتے جنہوں نے مجھے حیرت زدہ کردیا۔ داد دینی پڑتی ہے جناب اقبال دیوان صاحب کے اُردو ترجمے کی کہ ڈاکٹر کاشف کے انگریزی نفس مضمون کو اُردو کے ہیرے موتیوں سے سجادیا۔

تو آئیے میرے ساتھ اور پڑھئیے ڈاکٹر کاشف کو۔ پہلا سنسی خیز انکشاف تل ابیب پہنچنے کے بعد اُن کے یہودی میزبانوں کے ہاں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سارہ جو ڈاکٹر کاشف کی لندن میں کلاس فیلو، افریقہ میں پیشہ ور ساتھی اور اب تل ابیب میں ان کی میزبان ہے کے شوہرسنگر جو مستند ربّی (یہودی پادری) تو نہیں مگر صاحب علم ہیں۔ ڈاکٹر اور سنگرکے درمیان جو گفتگو ہے اُسے پڑھئیے۔

 ”آخر مسجد ِ اقصیٰ تم لوگوں کے ہوش و حواس پر کیوں اس بُری طرح طاری ہے؟ “ دیکھو نہ ہم مسلمانوں نے تمھارے رونے اور گناہ معاف کرانے کے لیے ایک پوری دیوار ِ گریہ چھوڑدی ہے۔ تم اگر مسجدِ اقصیٰ کو چھوڑ دو تو مسلمانوں سے آدھی دشمنی تمھاری فوراً ختم ہوجائے گی۔ ”

 ”اس بارے ہمارا نقطہِ نظر تم سے بہت مختلف ہے۔ دراصل ہماری مقدّس کتاب تلمود (بمعنی ہدایات) میں لکھّا ہے کہ موجودہ عہد کی کل میعاد ہمارے کیلنڈر کے حساب سے 6000 سال ہے۔ اس کے بعد ہمارے مسیح ِموعود ؑ کو آنا ہے۔ اِس وقت 5776 سال بیت چکے ہیں۔ اب کل 224 برس ہی اس وعدے کے پورے ہونے میں باقی ہیں۔ پھر ساری دنیا یہودی بن جائے گی۔ سلطنتِ داؤد ؑ (Kingdom of David) دوبارہ اپنی آب تاب سے قائم ہوجائے گی۔ “

ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں سوالات اور شبہات سے کلبلاتی یہ خلش مجھے بہت مضطرب کیے ہوئے تھی۔ اس ضمن میں جب میری ملاقات سلسلہ شطّاریہ کے شیخ نائف سے ہوئی۔ اور میں نے اُن سے اِس بارے میں پوچھا تو ان کے ہاشمی چہرے پر ایک پُراسرار سی مسکراہٹ جس میں حالات، تجربے کا ٹھہراؤ اور گہرائی نمایاں تھی پھیل گئی۔

9 جون 1967: اسرائیلی یہودی دیوارِ گریہ پر عبادت کرتے ہوئے

 ”کبھی تم نے یہ سوچا“، وہ گویا ہوئے، ”کہ یہودی عین اسی مقام پر، جہاں ہماری مسجد اقصیٰ واقع ہے، اپنا ہیکلِ سلیمانی یعنی Temple of Zion تعمیر کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ “ میرے لیے اس سوال کی رفتار اور کاٹ کو سمجھنا چونکہ ممکن نہ تھا لہذامیں نے خاموشی کو بہتر جواب جانا۔ ”اللہ کی عبادت، میرے مصطفی بھائی، مسجد، چرچ، مندروں اور کنیساؤں یعنی Synagoguesمیں ہوتی ہے۔ یہودی اگر ہم سے یہ کہیں کہ ہم یہاں ایک چھوٹا سا اپناکنیسہ بنانا چاہتے ہیں تو ہم ان سے کوئی مناسب جگہ کی بات کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کریں۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ دنیا بھر میں مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں ایک دوسرے کے پڑوس میں اور ساتھ ساتھ بھی ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر ساتھ ساتھ ہیں تو ہماری عبادت گاہوں کا ایک دوسرے کے پڑوس میں ہونا عین رواداری ہے۔ “

مجھے یقین ہوگیا کہ شیخ نائف مجھے بہت آہستگی سے اسلامی تاریخ کے ایسے موڑ پر لے جارہے ہیں جس کا بہت کم مسلمانوں کو، موجودہ سیاسی تناظر میں اور مغربی پروپیگنڈے کے غلبے کی وجہ سے درست ادراک ہے۔ دراصل ’ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر کی پشت پر اقصیٰ القدیم اور جدید کی بربادی اور ایک خفیہ خزانے کی تلاش ہے۔

 ”خزانہ اور مسجد کے نیچے۔ “

 ”غور سے سنو حضرت سلیمانؑ کے وقت یہاں، اس علاقے میں، بابل اور نینوا تک کالے جادو اور فتنہ پرور خفیہ علوم کا بڑا فروغ ہوچکا تھا۔ یاد آیا کہ اس کا ذکر قرآن الکریم میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 102 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بڑی صراحت سے کیا ہے کہ سلطنتِ سلیمان ؑ میں شیاطین کے پیروکار لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ آپ چونکہ اللہ کے نبی ؑ تھے لہذاآپ کو حکم دیا کہ وہ اس علاقے میں ایک آپریشن کلین اَپ کرکے ایسے تمام قدیم علوم کے خفیہ صحیفے اور ان کی معاونت میں استعمال ہونے والی اشیاء کو قبضے میں لے لیں۔ اِس کام میں مہارت رکھنے والے جادوگروں، عاملوں، ٹونے بازوں، جوتشیوں کو پہلے توبہ کا موقع دیا گیا پھر جنہوں نے اللہ کا حکم نہ مانا اور نبی ؑ سے بغاوت کی ان کو کڑی سزائیں دی گئیں۔ آپ، یعنی حضرت سلیمان ؑ، نے یہ تمام اشیاء، بشمول ان خفیہ صحیفوں کے، ایک جگہ اپنے محل میں دفنا دیں۔ “

سنگر کے بیانیے میں مَیں نے ایتھوپین ربّی شائم آمنوں کا بھی تذکرہ کردیا تھالہذا جواب میں شیخ نائف کو اس کا حوالہ دینے میں کوئی دشواری نہ ہوئی، وہ کہنے لگے۔ ”تمھارا وہ مسافر ساتھی ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ ساری شرارت یہودیوں میں شامل ان صہیونی طاقت ور گروہوں کی ہے جو ہر حال میں دنیا پر قابض رہنا چاہتے ہیں۔ “

اب سوال کرنے کی باری میری تھی۔ ”لیکن یہ صہیونی بھی اپنے مذہبی جھکاؤ کے حساب سے تو بالآخر یہودی ہیں؟ “

 ”ہر سیاسی تحریک کو ایک بہت بڑی جذباتی بیٹری اور روحانی چارجر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ عوام کی اکثریت کو مذہب کے نام پر اس سے جوڑ کر رکھا جاسکے۔ بڑی سیاسی تحریکوں میں اگر مذہب سے جذباتی لگاؤ جوڑ کر نہ رکھاجائے تو وہ بہت جلد کمزور پڑکر اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہے۔ اس کا بڑا ثبوت آپ کو نازیوں کے ہاں ملتا ہے۔ انھوں نے مذہب کی ایک کمزور اور مسخ شدہ شناخت، یعنی آریائی نسلی برتری، کو اپنے حامیوں کے گلے میں باندھ دیا تھا۔ خود تمھارے اپنے جنوبی افریقہ میں بائبل کے اُلٹے سیدھے حوالوں سے سفید فام نسلی امتیاز (Apartheid) کو مسلّط کرنے کی کوشش کی گئی۔ صہیونیت بھی اپنے اقتدار اور کنٹرول کے ایجنڈے کے نفاذ اور اپنے عزائم کو فروغ دینے کے لیے یہودی مذہب کا سہارا لیتی ہے۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •