وزیراعظم کا ”زبردستی“ خطاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا جو منگل اور بدھ کی تاریخوں میں سنا گیا۔ وزیراعظم نے منگل کی رات تقریباً 11 بج کر اڑتالیس منٹ پر خطاب شروع کیا جو کہ بدھ کی صبح ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہا۔ اس طرح رات گئے قوم سے خطاب اور دو تاریخوں پر مشتمل خطاب کو ایک ریکارڈ ہی کہا جاسکتا ہے۔

وزیراعظم نے اس سے پہلے اپنے لانگ مارچ کے آغاز میں علی الصبح اسلام آباد پہنچ کر نماز فجر کے وقت خطاب کیا تھا۔ کسی بھی سیاسی رہنما کا یہ بھی انوکھا اور بے وقت خطاب تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے یہ بات مشہور ہے کہ وہ نہ تو شادی کے لئے مناسب وقت دیکھتے ہیں اور نہ ہی علیحدگی کے اثرات کا فکر کرتے ہیں۔ ان کے دل میں جو آجائے وہی کر گزرتے ہیں وزیراعظم کی یہی سوچ سیاسی اقدامات میں بھی بالکل واضح ہے کیونکہ وزیراعظم نے جو دو تاریخوں پر مشتمل خطاب گزشتہ روز کیا اگر وہ اس خطاب کی نوک پلک درست کروا کر منگل کی دوپہر نشر کرواتے تو اسے عوام بھی زیادہ سنتے اور اس پر ٹی وی چینلز کو مبا حثے کا وقت بھی زیادہ مل جاتا لیکن ایک زبردست خطاب کے ساتھ جو ”زبردستی“ کی گئی اس سے یہ خطاب نشر ہونے کی بجائے اس کا ”حشر نشر“ ہوگیا۔

یہ خطاب بدھ کی رات پرائیویٹ کمپنی کے جدید ترین کیمروں میں محفوظ کیا گیا چالیس منٹ کے اس خطاب کی پھر ایڈیٹنگ ہوئی اور وزیراعظم کے حکم کے مطابق جب نشر کرنے کے لئے اسے پی ٹی وی پہنچایا گیا تو پی ٹی وی حکام نے ایک نیا کٹا کھول دیا اور اس پرائیویٹ کمپنی کو بتایا گیا کہ جدید ترین آلات کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے اس انٹرویو کو نشر کرنے کے لئے ہمارے پاس مطلوبہ معیار کا سسٹم نہیں ہے لہذا اسے پی ٹی وی کے معیار پر لانے کے لئے اس کو ”غیر معیاری“ کیا جائے۔

چنانچہ وزیراعظم کے اس معیاری خطاب کو ”غیر معیاری“ کرنے کے لئے دوبارہ کوشش کی گئی اور گیارہ بج کر 48 منٹ پر پی ٹی وی حکام نے اس انٹرویو کو نشر کرنے کے لئے تلاوت کلام پاک شروع کی۔ وزیراعظم کا قوم سے خطاب شروع ہوئے تقریباً تین منٹ ہوئے تھے کہ قوم نے دیکھا کہ ان کا دبنگ وزیراعظم اچانک اشاروں کی زبان میں قوم سے خطاب کرنا شروع ہوگیا ہے لوگ ابھی گومگو کا شکار تھے کہ آخر وزیراعظم کی قوت گویائی کو کیا ہوا ہے؟

اس کے تھوڑی دیر بعد ہی وزیراعظم دوبارہ روانی سے بولنا شروع ہوگئے اور قوم خطاب میں خرابی کو بھول کر وزیراعظم کی تقریر میں کھو گئی اور وزیراعظم دوبارہ اشاروں کی زبان میں باتیں کرنے لگے اس طرح تقریر کے حوالے سے مزید بے چینی نے جنم لیا۔ پی ٹی وی میں موجود لوگوں نے اس بے چینی کی حالت میں صورتحال پر قابو پا کر وزیراعظم کی ویڈیو کو زبان بخشی اور خدا خدا کرکے یہ خطاب مکمل ہوا۔

اخبارات میں اس بے وقت تقریر کو مناسب جگہ دینے کے لئے کام رکا ہوا تھا۔ جونہی یہ تقریر مکمل ہوئی تو اخبارات کی اشاعت شروع ہوگئی۔ وزیراعظم کے اس خطاب کے کئی پہلو ہیں مثال کے طور پر جس قوم پر پہلے ہی یہ الزام ہے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد میں سورہی ہے اس سوئی ہوئی قوم سے وزیراعظم نے عین وقت خطاب شروع کیا جب اس کی اکثریت عملاً اپنے ٹی وی چینلز بند کرکے سو چکی تھی۔

وزیراعظم کے مشیروں میں یقیناً کوئی ایسا بندہ ضرور تھا جس نے وزیراعظم کو یقین دلایا ہوا تھا کہ قوم جاگ چکی ہے اور قوم کے جاگنے کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں اول یہ کہ وزیراعظم اپنے انقلابی خطاب میں کیا پیغام دینے والے ہیں اور دوئم یہ کہ قوم مہنگائی اور بدامنی کے اس دور میں سوہی نہیں سکتی اس لئے وزیراعظم نے اس یقین کامل کے ساتھ یہ تقریر کر ڈالی کہ قوم ہر صورت جاگ ہی رہی ہوگی اور پھر ”پٹی ہوئی نیوز“ کے نام سے مشہور پی ٹی وی نے وزیراعظم کی خواہش کو ملیامیٹ کردیا۔

وزیراعظم کے بے وقت خطاب سے یہ راز بھی کھل گیا کہ پی ٹی وی کے پاس اب بھی ریکارڈنگ کے لئے 80 ء کی دہائی کے آلات ہیں۔ پی ٹی وی کا جو بھی سربراہ آتا ہے وہ اپنی کمر تو سیدھی کرلیتا ہے لیکن پی ٹی وی کی ریڑھ کی ہڈی کو مزید کمزور کردیتا ہے۔ کسی بھی پی ٹی وی کے سربراہ نے اس میں جدت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی ہے گزشتہ روز جو وزیراعظم کا خطاب تھا وہ ایچ ڈی سسٹم پر ریکارڈ کیا گیا لیکن پی ٹی وی کے لئے یہ ایسا ہی تھا جیسے کسی 80 سالہ بوڑھے شخص کو دیسی گھی کھلا دیاجائے اور اس کی حالت غیر ہوجائے۔

پی ٹی وی حکام وزیراعظم کے خطاب میں نشریاتی کمزوری کو تسلیم کرنے کی بجائے پرائیویٹ کمپنی کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں کہ اس نے جدیدسسٹم پر یہ خطاب کیوں ریکارڈ کیا؟ وفاقی وزیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان کو پی ٹی وی کی کمزوریوں بارے ایک رپورٹ مرتب کرکے وزیراعظم کو پیش کرنی چاہیے تاکہ وزیراعظم بھی یہ طے کرلیں کہ انہوں نے گھٹیا آلات کے ذریعے ہی ریکارڈنگ کروانی ہے یا پھر وہ پی ٹی وی میں جدت لانا چاہتے ہیں۔

پہلے قوم کہا کرتی تھی کہ گاہک اور موت کا کچھ پتہ نہیں کہ کب آجائیں لیکن اب قوم کو یہ بھی یقین ہوگیا ہے کہ کپتان کی شادی، طلاق اور خطاب کا بھی کچھ پتہ نہیں کہ کب سرزد ہوجائیں۔ محترمہ فردوس عاشق اعوان سمیت وزیراعظم کی میڈیا ٹیم میں شامل کوئی بھی شخص یہ وجہ بتانے سے قاصر ہے کہ اس ”مڈ نائٹ خطاب“ کی مجبوری کیا تھی؟ البتہ محترمہ فردوس عاشق اعوان نے یہ کہہ کر جان چھڑالی ہے کہ وزیراعظم کا حق ہے کہ وہ جب جی چاہے قوم سے خطاب کریں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اگر اپنی مدت پوری کی تو پوری امید ہے کہ وزیراعظم کسی نہ کسی دن اپنا ”حقِ خطاب“ تہجد کے وقت بھی پورا کرتے ہوئے نظر آئیں گے بہرحال وزیراعظم کا ”زبردستی“ خطاب کئی حوالوں سے زبردست بھی تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 52 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat