تبدیلی سرکار آج تھوڑا گھبرانے کی اجازت دی جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشیات ہمیشہ ہمارا پسندیدہ مضمون رہا ہے اور اتنا پسندیدہ کہ اسی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر لی۔ اردو کے پروفیسرز کو ہمیشہ ہم سے یہ گلہ رہا کہ ہم نے ”معاشیات“ میں داخلہ لے کر ”اردو ادب“ پہ بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ ہم نے بصد احترام ہمیشہ یہی جواب دیا کہ سر اگر ہم معاشیات میں ماسٹرز نہ کرتے تو یہ معاشیات پہ ”ظلم“ ہوتا۔

معاشیات کا مضمون جتنا پسندیدہ تھا، سیاسیات سے اتنی ہی الرجی تھی۔ لیکن یہ بھلا کہاں ممکن تھا کہ مائیکرو اکنامکس پڑھی جائے اور میکرو کو چھوڑ دیا جائے؟ پبلک فائنانس پڑھیں اور انٹر نیشنل اکنامکس کو بھول جائیں؟ قصہ مختصر وہ بھی پڑھنا پڑا جس سے کوسوں دور بھاگتے تھے۔ قومی آمدنی، سرمایہ کاری، طلب ورسد، بجٹ سب پڑھا۔

اب عرصہ ہوا ہم معاشیات کو بھول بیٹھے، بس ڈگری کی صورت ”رسید“ باقی ہے کہ کبھی ہم بھی قیمتوں کے تعین میں الجھتے تھے۔ قومی آمدنی بڑھانے کے لئے تجاویز دیا کرتے تھے۔ غریب کی تعریف پڑھ کر، اسباب جان کر غربت مٹانے طریقوں پہ بحث کیا کرتے تھے۔ ہاں ایک دن ایسا ہوتا ہے کہ ہماری کھوئی یاداشت واپس آ جاتی ہے اور وہ ہے سالانہ بجٹ کا دن۔ لیکن آج بجٹ 2019 ء کو دیکھ کر بے ساختہ دل سے دعا نکلی ہے

”خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں، میرے مولا مجھے صاحب جنوں کر“۔

ایسا عوام دوست بجٹ نا کبھی دیکھا نہ سنا۔ بجٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”چکن، مٹن، بیف اور مچھلی کے گوشت کی نیم تیار شدہ اور پکی ہوئی اشیا کی طلب میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ اشیا عمومی طور پر خوشحال افراد کے استعمال میں آتی ہیں۔ تجویز ہے کہ ان اشیا پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا جائے“۔ یعنی اب امیر اور غریب کا تعین کرنا آسان ہو گیا ہے کہ جو شخص پکی ہوئی اشیاءکھاتا ہے وہ امیر ہے اور جو انہیں کچا کھا لیتا ہے وہ غریب ہے۔ (ہم نے جو تعریف پڑھی تھی وہ سراسر غلط تھی) اسی وجہ سے گیس پر درآمدی ٹیکس کو بڑھایا گیا ہے۔ امیر آدمی ہی کھانے کو پکا کر کھاتا ہے۔ غریب تو کچا ہی کھالیتے ہیں۔ یوں گیس مہنگی ہونے سے غریب متاثر نہیں ہو گا۔

چینی پر ٹیکس کو 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کر دیا گیا ہے۔ میٹھے مشروبات مہنگے کر دیے گئے ہیں۔ اشیائے خوردونوش مہنگی کر دی گئی ہیں۔ چھوٹی گاڑیاں جو مڈل کلاس طبقے کی پہنچ میں ہیں ان پر ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پٹرول مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ یعنی یہ بجٹ ”ٹیکس دوست“ بجٹ ہے جس میں حکومت نے ہر قسم کے ٹیکس لگا کے ٹیکسوں کے نظام سے دوستی نبھائی ہے۔

دوسری طرف جہاں تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ ہے وہاں ہماری ”تبدیلی سرکار“ نہایت ہوشیار ہے۔ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ 10 فیصد اور 17 سے 20 تک 5 فیصد۔ ہاں کچھ نور نظر ایسے ہیں جن کی تنخواہ 25 فیصد تک بڑھنے کی تجویز ہے۔ سنا ہے ارکان پارلیمان سے 10 فیصد تنخواہ کٹوتی کر کے واپس لینے کی استدعا ہے۔ لاکھوں میں سے ”ککھ“ نکل بھی گیا تو وہاں کیا فرق پڑنا ہے؟

حضور والا آج ہمیں رئیل ویجز اور نومینل ویجز کے فرق کی اچھے سے پہچان ہو گئی ہے۔ آپ عوام ”دوست بجٹ“ میں تنخواہوں میں جو نام نہاد اضافہ فرمارہے ہیں وہ تو پہلے سے ٹیکس کی نظر ہوا۔ اور جو اضافی ”مہنگائی“ ہے اس کی ادائی تنخواہ دار کیسے کرے گا؟ اس کی بھی کوئی صورت بتا دیتے۔

اس عوام دوست بجٹ کو دیکھ کے ہمی ”ہول“ اٹھ رہے ہیں۔ دل کی دھڑکن ہے کہ بڑھی جاتی ہے۔ سانس ہے کہ ذرا رک رک کے آتی ہے۔ تبدیلی سرکار آپ کا ”فرمان“ تھا کہ گھبرانا نہیں ہے۔ ہم نے آج تک آپ کی بات کی لاج رکھی۔ آج تو اجازت دی جائے کہ ہم تھوڑا سا گھبرا لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •