اسلام کریموو کے بعد کا ازبکستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"mujahid

آج یکم ستمبر کو وسط ایشیا کے تزویری طور پر ایک انتہائی اہم ملک ازبکستان کا یوم آزادی ہے۔ تین روز پہلے 1991 سے اب تک ازبکستان کو آہنی ہاتھ سے چلانے والے وہاں کے صدر اسلام کریموو کو ”برین ہیمریج“ ہوا تھا۔ افواہ یہ ہے کہ وہ انتقال کر چکے ہیں اور ان کی رحلت کو یوم آزادی کی تقریبات کی وجہ سے خفیہ رکھا گیا ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ آج کسی بھی وقت یا کل ان کی رحلت کی خبر آشکار کر دی جائے گی۔

وسط ایشیا کی ریاستوں میں جو شروع سے برسر اقتدار آیا وہ آج بھی برسر اقتدار ہے ماسوائے کرغیزیا کے صدر عسکر اکائیو کے جنہیں ایک احتجاجی تحریک کے ذریعے 24 مارچ 2005 میں اقتدار چھوڑ کر بھاگ جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا یا 31 اگست 1991 سے 7 اکتوبر 1992 تک تین بار بدلے جانے والے تاجکستان کے دو صدور کے جو کمیونسٹ پارٹی سے تھے جن کے بعد ایک خانہ جنگی کے نتیجے میں روس کی مداخلت سے 20 نومبر 1992 کو برسراقتدار آنے والے صدر اموم علی رحمون ہیں جو اب تک صدر ہیں اور یا ترکمانستان کے صدر ترکمان باشی سپرمارات نیازوو کے 21 دسمبر 2006 میں انتقال کر جانے کے بعد برسراقتدار آنے والے ان کے ذاتی معالج گوربان گولو بردی محمدو کے۔

وسطی ایشیائی ریاستوں کزاخستان، کرغیزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان میں آخر الذکر ریاست تزویری طور پر اس لیے سب سے اہم ہے کہ یہ چاروں طرف سے تمام ہمسایہ وسطی ایشیائی ریاستوں سے جڑی ہونے کے ساتھ ساتھ جنوب میں افغانستان کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ افغانستان سے سوویت فوج کی واپسی اسی راستے سے ہوئی تھی۔

\"karimov\"

ویسے تو تاجکستان کی بھی افغانستان کے ساتھ سرحد ہے لیکن تاجکستان میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد سے لے کر اب تک روسی فوج موجود ہے اور وہاں روس کا فوجی اڈہ بھی ہے۔ تاجکستان میں افغانستان کی بنیاد پرست قوتوں کے زیر اثر اسلامی بنیاد پرستی کا ابھار بھی ہوا تھا۔ خانہ جنگی ہوئی تھی جبکہ ازبکستان میں اسلام کریموو نے اسلام پسندوں کے خلاف انتہائی سخت رویہ روا رکھا تھا۔ وہاں سر ابھارنے والی بنیاد پرست جنگجویانہ تنظیم ”حزب التحریر“ کو بری طرح کچل دیا تھا۔ ازبک جنگجو افغانستان کوچ کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

دوسری جانب اسلام کریموو نے روس کے ساتھ یگانگت کے ضمن میں بھی نرمی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ ازبکستان روس کی شہہ پر بنائی جانے والی آزاد برادری کے ملکوں کے تنظیم سی آئی ایس اور اقتصادی معاونت کی تنظیم شنگھائی تنظیم تعاون میں باقی وسطی ایشیائی ریاستوں کی شمولیت کے خاصی دیر بعد شامل ہوا تھا۔

ازبکستان کے تعلقات ہمسایہ ریاستوں تاجکستان اور کرغیزستان کے ساتھ کشیدہ رہے ہیں اور ساتھ ہی اس کی روس کے ساتھ براہ راست سرحد نہیں ہے یوں اسلام کریموو اپنے ملک کی سرزمین کی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغربی ملکوں اور روس کے ساتھ شطرنج کے مہروں کا سا سلوک کرتے رہے تھے۔

ان سے متعلق افواہوں اور حقائق کا کریملن بغور جائزہ لے رہا ہے لا محالہ دوسرے ملک بھی لے رہے ہونگے۔ افغانستان میں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں بہت ضروری خیال کیا جاتا ہے کہ ازبکستان میں برسر اقتدار آنے والی اگلی قیادت اسلام کریموو سے کم سخت نہیں ہونی چاہیے جبکہ نرم اور کمزور قیادت تو قطعی ناقابل قبول ہوگی۔ کریملن کی ایک اور خواہش یہ بھی ہوگی کہ نئی قیادت سابق حکمران کی طرح روس کے ساتھ گرگٹ کا سا انداز اپنانے سے گریزاں رہے۔

\"karimov-2\"

ازبکستان کے لوگ تاریخی طور پر باقی وسط ایشیائی ریاستوں کے لوگوں کی نسبت اسلام کی جانب زیادہ مائل رہے ہیں۔ سمر قند و بخارا کے دینی مدارس کمیونسٹوں کے عہد میں بھی فعال رہے تھے۔ ستر بہتر برس کے بعد مذہب کی ترویج کے ساتھ ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان سے بنیادپرستی کے رجحان کے در آنے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نہ ہی تاجکستان کی مانند داڑھی والوں کو بلاوجہ حراست میں لیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں داڑھیاں رکھنے کی ریت پرانی ہے۔ یہاں کی خفیہ ایجنسی ہی بنیاد پرستی کو قابو میں رکھنے کا کام سرانجام دے سکتی ہے جبکہ بنیاد پرستی کو پھیلنے سے روکنے کی خاطر وسطی ایشیائی ریاستوں کے علاوہ جنوبی ایشیائی ریاستوں اور روس کی خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ روابط اور معاونت کا ہونا بھی اشد ضروری ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اسلام کریموو کے بعد وزیراعظم ازبکستان شاوکت مرزیائیو اقتدار سنبھالیں گے جنہیں وہاں کی خصوصی ایجنسی کے سربراہ روستن انو یتوو کی معاونت حاصل ہے۔

ازبکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کے ساتھ روس کے بہت سے مفادات وابستہ ہیں اور اسی طرح ازبکستان کے روس کے ساتھ جیسے روس کی ضخیم سرکاری گیس کارپوریشن گازپروم اور روس کی دوسری بڑی آئل کمپنی لوک آئل ازبکستان میں کئی بڑے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ روس اور ازبکستان کی باہمی تجارت کا حجم ڈھائی تین ارب ڈالر سالانہ ہے۔ ازبکستان کے تقریبا“ ساڑھے سترہ لاکھ تارکین وطن روس میں کام کرتے ہیں جو اچھی بھلی ترسیلات زر کرتے ہیں۔

یوں ازبکستان اور روس کے اقتصادی اور سیاسی وابستہ مفادات ہیں جن کے برقرار رہنے اور بہتر ہونے کی خاطر ازبکستان میں نئی قیادت کے بہتر ہونے پر نگاہیں گڑی ہوئی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments