ضرورت ہے بھارت جیسی برداشت کی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"wisi-baba\"

بھارت کی برداشت بے مثال ہے ناقابل علاج بھی۔ اس کمنٹ نے چونکا دیا ، اس لئے بھی کہ کہنے والا کشمیری تھا۔ اس لئے بھی کہ اس کا تعلق عسکری تنظیم سے تھا۔ شائید میری حیرت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میں بھارتی ظلم و ستم کی داستان سننا چاہتا تھا۔ کشمیری دوست نے میری بے چینی بھانپ لی۔ اس نے اپنی بات واضح کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے ملک کو توڑنے کے لئے سرگرم لیڈروں کو بھی آخری حد تک برداشت کرتا ہے۔

سچی بات ہے سمجھ نہیں آئی تھی۔ یہ میرے میزبان کو بھی احساس ہو گیا تھا۔ اس نے کہا دیکھو پاکستان میں نواب اکبر بگٹی کو مار دیا گیا۔ نواب کبھی پاکستان کا وزیردفاع رہا تھا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی ساری علیحدگی پسند عسکری اور سیاسی قیادت کو مارنے سے گریز کیا ہے۔

یسین ملک نیم مردہ حالت میں گرفتار ہوئے تھے۔ سید علی گیلانی بیمار پڑتے ہیں تو انکا علاج بھارت کے بہترین ہسپتال میں ہوتا ہے۔

بھارت اس لیڈر شپ کو قدرتی اور سیاسی موت مرنے دیتا ہے۔ اس ریاستی برداشت کی وجہ سے ایک کھڑکی بہرحال کھلی رہتی ہے۔ یہ کھلی کھڑکی تب بھی معاملات کو بھارت کے حق میں کر دیتی ہے جب وہ قابو سے باہر چلے جاتے ہیں۔

یہ سب یاد رہا تھا۔ مدت بعد ڈھونڈ کر ان دوست سے بات کی۔ ایک ہی سوال پوچھا کہ پاکستان کی ریاستی برداشت اب کیسی ہے۔ انکا جواب مختصر تھا سیاسی قیادت کی برداشت اب بھارت سے بھی بہتر ہے۔ یہ بہتری ادارہ جاتی برداشت میں بھی آئی ہے۔ آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ کہانی الطاف حسین کے حوالے سے سنائی جا رہی ہے۔ سوچتے رہیں۔ اس دوست کی کچھ مزید باتیں سنیں۔

دوست نے کہا مذاکرات، افراد اور معاملات یہ سب کسی سیاستدان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ بے نظیر برسراقتدار تھیں، کہیں پر یہ غور ہو رہا تھا کہ ان کو جاری کشمیر پالیسی کے بارے میں کتنا بتایا جائے۔ بے نظیر بھٹو کو ایک ملاقات میں کشمیرکی صورتحال بتائی گئی۔ انہوں نے ایک مختصر جواب دیا کہ پاپا کے لئے کشمیر بہت جذباتی مسئلہ تھا آپ احتیاط کریں اور جاری رکھیں۔

یہ تو انہوں نے کہہ دیا لیکن سیاستدان بہت سے آپشن کھلے رکھتا ہے۔ یہ محترمہ تھیں جنہوں نے مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کمیٹی کا چئیرمین بنایا۔ انہوں نے ہی افضل خان لالہ کو امور کشمیر کی وزارت دی تھی۔ ایک تقسیم ہند کی مخالف مزہبی جماعت کا مسلمہ سیاسی قائد تھا۔ دوسرے کا تعلق کانگریس کی اتحادی باچا خان کی عدم تشدد پر یقین رکھنے والی تحریک سے تھا۔

بھارت کے لئے پیغام واضح تھا کہ بندوق بھی حاضر ہے۔ بات چیت کرو گے تو ہم بھی انہی کو آگے کریں گے جو کبھی متحدہ ہندوستان کے لئے سرگرم رہے تھے۔

مذاکرات کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ پاکستان میں سیاسی حکومتوں کا تسلسل ہی نہ رہا۔ کشمیر کا مسئلہ ہم کیا حل کرتے اپنے لئے اندرونی مسائل ہی بہت کھڑے کر بیٹھے۔ شیخ مجیب نے وہ سب نہیں کہا تھا جو کچھ آج بلوچستان میں کہا جا رہا۔ جو اب الطاف حسین کہہ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ آج بہت آرام سے ہینڈل ہو رہا ہے۔ ڈنڈا اور سیاست دونوں مل کر راستے بنا رہے ہیں۔

الطاف حسین کے خلاف ایک ریفرنس برطانیہ بھجوایا گیا ہے۔ اس ریفرنس میں پاکستان مخالف نعرے لگانے کی کوئی بات نہیں کی گئی۔ یہ کہیں کوئی کیس ہے بھی نہیں۔ اظہار رائے کی جیسی آزادیوں پر دنیا کا اتفاق اور معاہدے ہیں۔ اس میں ان نعروں پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ البتہ لوگوں کو تشدد پر اکسانا، نفرت پھیلانا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ اس کیس کی نوعیت بہت خطرناک ہو جاتی ہے جب ایسی باتوں پر واقعی تشدد کا مظاہرہ بھی ہو جائے۔

الطاف حسین کے خلاف یہ کیس چلے یا اس پر ڈیل ہو وہ پھنس چکے ہیں۔ انہیں اب بی ہیو کرنا پڑے گا۔

ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ ہم ایک عالمی نظام کا حصہ ہیں۔ کوئی بھی ملک آزاد نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی صورت میں دنیا کو چلانے کا ایک مشترکہ نظام ہے۔ اس نظام پر عملدرآمد کرانے کو عالمی ادارے ہیں ، سلامتی کونسل ہے ویٹو پاورز ہیں۔ ہم اس عالمی نظام سے بھارت کی طرح زیادہ سے زیادہ حصہ وصول کر سکتے ہیں۔ شرط بس ایک ہی ہے کہ ہم اپنے ہاں سسٹم کا تسلسل برقرار رکھیں۔ ہمارا موجودہ نظام عالمی قوانین کے مطابق اور سب کو قابل قبول ہے۔ اس پر کوئی اعتراض کرنا مشکل ہے کہ عدالتیں اور میڈیا آزاد ہیں حکومتیں ووٹ سے بدلتی ہیں۔ ہم اگر کچھ مسائل پر بلیک میل ہو سکتے ہیں تو انہی مسئلوں سے بہت آرام سے بچ بھی سکتے ہیں۔ اپنی ریاستی برداشت بڑھا کر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 393 posts and counting.See all posts by wisi

Leave a Reply