کاش رقاصہ علینہ کی کہانی فرضی ہوتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچ صرف دفنانے کے لئے ہوتے ہیں۔ سچ تو یہی ہے کہ بہت سارے ولیوں اور پیغمبروں کو چھوڑ کر، کیا انسانی تاریخ میں ایسے لوگ بھی ہوئے ہیں جن کے بارے میں وثوق سے کہا جا سکے کہ انہوں نے ساری مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر سب سچ اگل ڈالا، لکھ ڈالا؟ میکسم گورکی کی کتاب ”ماں“ اس کا شاہکار ہے یا اس کی زندگی کی سچائیاں؟ کیا جوش ملیح آبادی کی یادوں کی بارات، جوش صاحب کی زندگی کے سارے حقائق ہیں؟ کیا شکاگو والے افتخار نسیم افتی کا ایک سچ اس کی زندگی کے تمام سچ تھے؟

کیا کوئی آدمی سارے داغ دل نہاں کر سکتا ہے؟ میرے خیال میں نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہرآدمی کی زندگی کے تین حصے ہوتے ہیں، یا یوں کہئے کہ ہرآدمی ان تین پاٹوں میں جی رہا ہوتا ہے، اس کی ایک زندگی اس کے گھر اور خاندان کے لئے ہوتی ہے، ایک زندگی وہ دنیا کے لئے گزار رہا ہوتا ہے اور انسان کی زندگی کا تیسرا حصہ اس کے اپنے اندر ہوتا ہے، اس تیسرے اور اہم ترین حصے کی پرتیں وہ نہ گھر اور خاندان کے سامنے کھولتا ہے نہ کبھی سماج وہاں جھانک سکتا ہے۔

انسان کی زندگی کے سارے سچ اسی تیسرے خانے میں پنہاں ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنے ساتھ قبر میں لے جاتا ہے، اور ہاں مرد کے مقابلے میں عورت اور بھی زیادہ بیکس و بے بس ہے، عورت تو زندگی کے تیسرے گوشے کو پنہاں کرکے ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکتی، آئے دن دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ظلم بھی عورت پر ہوتا ہے اور انصاف کی بجائے سزا بھی اسی کو بھگتنا پڑتی ہے، ستم رسیدہ عورتیں فرسودہ روایات کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں، اپنے ہی بھائیوں، باپ، بیٹے یا شوہر کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہیں۔

دنیا کے کئی معاشروں میں، کئی مذاہب میں، تواریخ کے صفحات پر، قرون اولی میں، قرون وسطی میں ”مکمل سچ“ کے بے نقاب ہونے کے کون کون سے اور کتنے راستے موجود ہیں؟ کیا انسان مکمل سچ بولنے پر قادر بھی ہے؟ اس سے پہلے کہ آپ سب دوست اس موضوع پر میری راہنمائی فرمائیں، میں اعتراف کرتا ہوں کہ میری ذاتی زندگی میں بھی کچھ کہانیاں، بلکہ بہت سی کہانیاں ایسی ہیں جو سنائی یا لکھی نہیں جا سکتیں، میری اپنی آدھی سے زیادہ زندگی کی کہانیوں سے میرے قریبی لوگ تک واقف نہیں، اور یہی حال ہم سب کا ہے۔

ہم کسی دوسرے سے بھی پوری طرح واقف نہیں ہوتے کیونکہ دوسروں نے زندگی کی آدھی سچائیاں قبر تک ساتھ لے جانے کے لئے محفوظ کر رکھی ہوتی ہیں، میں یہ بھی واضح کردوں کہ ضروری نہیں کہ ان کہانیوں کا تعلق کسی گناہ و ثواب، قبر کے عذاب یا آخرت کی آسانیوں سے بھی ہو ”ایک بار میں نے ایک کہانی لکھنا شروع کی“ عنوان رکھا ”یہ جو وزیر اعظم پاکستان ہیں“ آٹھ دس سطریں لکھیں تو قلم رک گیا، کئی مہربانوں کے نام آتے تھے اس کہانی میں، کچھ دنیا چھوڑ جانے والوں کے نام بھی تھے اس داستان میں، ان چلے جانے والوں کے وارثوں کی حیاء کا بھی سوال تھا، مجھے کیا لکھنا ہے، کیا نہیں لکھنا ”فیصلہ تو میں نے خود ہی کرنا ہے، عزم ہے ابھی بے شمار کہانیاں لکھنے کا، لیکن آپ کی مشاورت بھی درکار ہے، ایسی کہانیاں پڑھنے والوں سے سوال ہے کہ کیا کچھ کہانیوں کو اپنی زندگی میں دفن کر دینا ہی بہترنہیں؟

پندرہ سال قبل علینا کو میں نے پہلی بار علامہ اقبال ٹاؤن میں بولان ایوارڈز والے خلیق احمد کے دفتر میں دیکھا تھا، اسے وہاں ایوارڈ تقریب میں پرفارمنس کی دعوت دینے کے لئے بلوایا گیا تھا، میرے جیسے کئی دوستوں کو شاید اس کا دیدار کرانے کے لئے جمع کر لیا گیا تھا، اس واقعہ کے کچھ ہی عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ شہر کے کلچرل فنکشنز، مخصوص گھروں میں ہونے والی پارٹیوں، ناچ گانے کی کھلی تقریبات اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں بھی محو رقص نظرآنے لگی، اس نے بڑی بڑی رقاصاؤں کی چھٹی کرادی تھی۔

اچھا ناچتی ہی نہیں بہت اچھی دکھتی بھی تھی، لوگوں نے بتایا تھا کہ اسے سرکار، دربار تک پذیرائی مل رہی ہے، لوگ اس کی سمندر کی لہروں کی طرح چڑھتی جوانی، اس کی اداؤں اور اس کی پازیب کی جھنکار کے دیوانے ہونے لگے تھے، وہ مختار بیگم سے تربیت پانے والی مرحومہ رانی کی طرح مجسم رقص تھی، خمار بھری آنکھیں، کمان جیسے ابرو، گھنیرے بال، مسکراتا ہوا چاند سا چہرہ، بہت ہی ملنسار اور سخی، نام تھا، علینا، پرویز کلیم نے اسے اپنی فلم، پہلا سجدہ، میں ہیروئن لے لیا، شوٹنگز کے دوران اسے شمیم آراء کی، منڈا بگڑا جائے، سمیت دو چار فلمیں اور مل گئیں۔

پہلا سجدہ فلاپ ہوئی تو بھی امید بندھی رہی کہ شمیم آراء کی فلم ضرور کامیاب ہوگی، لیکن وہ بھی ڈبہ ہی نکلی، علینا کے ساتھ ایک قدرے جوان عورت رفعت اس کا سایہ بن کر چمٹی رہتی تھی جسے وہ باجی کہا کرتی تھی، لوگ کہتے تھے وہ علینا کی ماں ہے، کچھ لوگ کہتے تھے کہ علینا رفعت کی بہو ہے، مجلسیں سجانے والوں سے رفعت زیادہ بھاؤ تاؤ نہیں کیا کرتی تھی، کئی گاہک ایسے بھی تھے جو جاتے ہوئے اسے ایسے چیک بھی دے جاتے، جو کبھی کیش نہیں ہوتے۔

علینا، رفعت کے ساتھ سبزہ زار میں رہتی تھی پھر رفعت نے ڈیفنس میں بنگلہ خرید لیا، 2007 ء میں ایک دن خبر ملی کہ علینا مر گئی ہے، اس کے جنازے اور اسے دفنانے کا کوئی گواہ نہ تھا، رفعت سب سے کہہ رہی تھی کہ وہ اچانک بیمار ہوئی، اسے شوکت خانم اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ مر گئی، علینا کے مرنے کی کہانی ڈیفنس والی کوٹھی سے نہیں اس کے پہلے والے چھوٹے سے گھر سے نکلی تھی، لوگ علینا کے پرسے کے لئے وہیں جا رہے تھے، جتنے منہ اتنی باتیں، کوئی کہتا تھا، زہر کھا لیا ہوگا، کسی کو اس کے قتل کا شبہ تھا، کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے سنے گئے کہ رفعت نے اس کا بے تحاشا جسمانی استحصال کیا استعمال کرایا، اس نے علینا کے دبئی کے بھی مسلسل چکر لگوانے شروع کر دیے تھے، اسے ایڈز ہو گئی ہوگی۔

دردانہ رحمان پھوڑی پر بیٹھی سوال اٹھا رہی تھی کہ لوگوں کو اس کے مرنے کی خبر کیوں نہ دی گئی؟ اسے جنازے کے بغیر کیوں دفنا دیا گیا؟ رفعت کی طرف سے کسی سوال کا کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔ پھر شوبز کی کئی عورتیں سنگیتا اور دردانہ رحمان کی قیادت میں پرچہ کٹوانے نواں کوٹ تھانے پہنچ گئیں، بہت شور شرابہ کیا مگر پرچہ نہ کٹا، پولیس کو مری ہوئی علینا کے مقابلے میں زندہ رفعت زیادہ عزیز تھی۔ جن لوگوں نے علینا کی موت کے حوالے سے انوسٹی گیشن کی، ان کا کہناتھا کہ علینا کو کسی دوسرے نام سے اس وقت شوکت خانم اسپتال لایا گیا جب وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی، اس کا سب کچھ ختم ہو گیا تھا، وہ کسی چھوٹے سے بچے کی لاش کی طرح نظرآ رہی تھی، علینا کی بیماری سب سے چھپائی گئی تھی تو مری ہوئی علینا کا چہرہ کسی کو کیسے دکھایا جاتا؟

مرتی ہوئی علینا کو اس کی کمائی سے بننے والے ڈیفنس کے بنگلے سے بھی دور کر دیا گیا تھا تاکہ اس کی موت کی نحوست سے پاک رہ سکے، اس کی لاش رات کی تاریکی میں دو آدمی قبرستان لے گئے تھے، علینا کی موت کو ابھی چار ہفتے بھی نہیں گزرے تھے کہ رفعت نے اپنے گاہکوں کو نئی مشین کے آجانے کی اطلاع دینا شروع کردی، وہ نئی مشین بھی اب تک ناکارہ ہو چکی ہوگی، اور نہ جانے کتنی علینائیں اب تک وہ قبروں میں اتار چکی ہوگی؟ لیکن رفعت ایک کردار کا نام نہیں، ایک مافیا کا نام ہے، جس کا تعلق ہمیشہ حکمران اور بالادست طبقات سے جڑا ہوتا ہے، ایسی علیناؤں کے لئے تو سالانہ بجٹ میں ان کے کفن دفن کے لئے پیسے بھی نہیں رکھے جاتے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •