موت و زندگی!


انسان اس دنیا میں اپنی مرضی سے آتا ہے نہ ہی اپنی مرضی سے جائے گا۔ اس حقیقت کے باوجود کہ موت و حیات اس کے ہاتھ میں نہیں، موت کا خوف ہمیشہ اس پر محیط رہتا ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ 70۔ 75 سال کی عمر میں اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں اور یہاں سے جانے والا لوٹ کر کبھی واپس نہیں آیا۔ تو پھر غور طلب بات تو ہے کہ وہ کہاں گیا؟ اس دنیا کے بعد اگر کوئی اور دنیا ہے تو کہاں ہے اور اگراس فانی زندگی کے بعد ہمیشہ رہنے والی پائیدار زندگی ہے تو پھر مرنے کا خوف کیوں ہے؟

قانون یہ ہے کہ خوف ہمیشہ ناواقفیت سے پیدا ہوتا ہے۔ ہم سانپ سے ڈرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ ایک موذی جانور ہے بلکہ اس کے کاٹنے کے بعد کے نتائج سے لاعلمی اس کے خوف کی بنیاد بنتی ہے۔ بالکل اسی طرح موت کے بعد قیام کی جگہ کا علم نہ ہونا بے یقینی کی بنیاد بنتا ہے جو ڈر اور خوف کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

مشاہدہ یقین کی بنیاد ہے۔ لیکن آج حال یہ ہے کہ ہر دوسرا انسان موت کے خوف میں مبتلا ہو کر اللہ کی دی ہوئی مہلت کو بھی خوف اور اندیشوں میں ضائع کر دیتا ہے۔ اس کا تو صاف صاف مطلب یہی ہوا نا کہ ہمیں مشاہدہ حاصل نہیں، جب ہم جانتے ہی نہیں کہ فیصل آباد سے آگے لاہور بھی موجود ہے جو یہاں سے قدرے بہتر جگہ ہے تو وہاں دھکیلے جانا ہمارے لیے غم کے علاوہ اور کچھ نہ ہو گا۔ ہمارا تو حساب ایسا ہو گیا ہے کہ موت جو ایک طرح سے ہماری حفاظت کر رہی ہے اس سے ہی خائف ہیں۔ غور طلب بات تو یہ ہے کہ کوئی انسان اپنے وقت سے پہلے اس جہان سے رخصت نہیں ہو سکتا تو پھر اس کا مطلب تو یہی ہوا نا کہ موت زندگی کی حفاظت کر رہی ہے۔

دنیائے طلسمات ہے ساری دنیا
کیا کہئے کہ ہے کیا یہ ہماری دنیا
مٹی کا کھلونا ہے یہ ہماری تخلیق
مٹی کا کھلونا ہے یہ ساری دنیا
”انسان بے وقوف ہے موت سے ڈرتا ہے جبکہ موت انسان کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ “

ملک الموت کی جہاں یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ روح قبض کرے۔ ملک الموت کی یہ بھی ڈیوٹی ہے کہ وقت معینہ سے پہلے کسی آدمی کی روح قبض نہ کرے۔ انسان کی سب سے بڑی محافظ موت ہے جبکہ آدمی موت سے ڈرتا ہے۔ موت سے آپ ڈریں یا نہ ڈریں اگر عمر باقی ہے تو ملک الموت پابند ہے کہ آپ کو دنیا سے نہ لے جائے اور اگر وقت پورا ہو گیا ہے تو آپ ایک سیکنڈ بھی دنیا میں نہیں رہ سکتے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس حقیقت سے دنیا کا کوئی ایک بھی مسلمان انکار نہیں کر سکتا۔

ایک بزرگ نے ایک مجلس میں فرمایا کہ:
”زمانہ گزرا ایک آدم زاد اتنی بڑی عمر کو پہنچ گیا کہ اس کا دنیا میں کوئی بھی نہیں رہا، گزر بسر کے لئے جنگل سے لکڑیاں توڑ کر فروخت کرتے تھے، ایک روز لکڑیاں زیادہ جمع کر کے گٹھڑ تو باندھ لیا لیکن اٹھاتے وقت ہاتھوں میں لرزہ آ گیا، خون پانی بن کر آنکھوں سے بہہ نکلا بڑی ہی حسرت سے آہ بھری اور بولے۔ “

”مجھ سے تو ملک الموت بھی روٹھ گیا ہے اس کو بھی میرے حال پر رحم نہیں آتا، میں اب کیوں زندہ ہوں، میرے سب مر کھپ گئے، مجھے موت کیوں نہیں آتی“؟

ابھی لمحہ کا کچھ حصہ ہی گزرا تھا کہ ایک خوبصورت نوجوان سیدھی طرف آ کر کھڑا ہو گیا سلام کیا اور پوچھا:
میں آپ کی کیا خدمت کروں؟

بزرگ نے پوچھا:
تم کون ہو؟

نوجوان نے کہا:
”میں ملک الموت ہوں، ابھی آپ نے یاد کیا تھا حاضر ہو گیا ہوں۔ “
بزرگ فوراً بولے : ”لکڑی کا یہ گٹھڑ اٹھا کر میرے سر پر رکھ دو“

یہ انسان کی کتنی بڑی بد نصیبی ہے کہ وہ حقیقت کا انکار کرے اور دیکھ کے بھی اندیکھا کر دے۔ بھئی! جو چیز حق ہے وہ ٹل نہیں سکتی اس سے بھاگنا دراصل اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے جبکہ تسلیم کرنے سے قرار ملتا ہے جو آدمی پر نئی راہیں کھول دیتا ہے اور وہ یہ دیکھ لیتا ہے کہ اصل زندگی تو اس عارضی دنیا کے بعد کی ہے جہاں نہ کوئی خوف ہوگا نہ کوئی غم۔

قران مجید میں ہے کہ:
”ہرذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے“

Facebook Comments HS