ایف بی آر کو پانچ لاکھ روپے سے زائد کے لاکھوں بنک اکاؤنٹس کا ڈیٹا موصول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد ( مہتاب حیدر، تنویر ہاشمی ) ایف بی آر کو ملک بھر کے بنکوں سے پانچ لاکھ روپے سے زائد کے مالیت کے لاکھوں بنک اکاؤنٹس کا ڈیٹا موصول ہو گیا ہے بنک اکاؤنٹس کے ڈیٹا کو ایف بی آر کے مرکزی ڈیٹا سے منسلک کیا جارہا ہے، 21 جون کو عوام کو ایف بی آر کوموصول ہونیوالے بنک اکاؤنٹس کے ڈیٹا تک رسائی ہو جائے گی اور شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے اپنے بنک اکاؤنٹس کی معلومات حاصل کر سکیں گے۔

دوسری طرف چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے دی نیوزکو بتایا کہ ہمیں اب تک ود ہولڈنگ کی بنیاد پر ہزاروں بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات ملی ہیں، ہم نے اب تک ٹوٹل نمبر کو چیک نہیں کیا، ہر بینک نے الگ الگ ڈیٹا شیئر کیا ہے، تا ہم ایف بی آر حکام کے مطابق نادرا انفارمیشن شیئرنگ کا سسٹم لانچ کرنے والا ہے جس کے لئے پانچ سو روپے فی کس وصول کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایمنسٹی سکیم میں بہت بڑی گنجائش ہے، ایک فرد نے چار لاکھ پینتالیس ہزار ڈالر کے اثاثے ظاہر کیے ہیں، ایف بی آر کے معتبر ذرائع نے جنگ کو بتایا کہ 31 دسمبر 2017 کے بعد کے بنک اکاؤنٹس کا ڈیٹا موصول ہو چکا ہے جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس کا ڈیٹا بھی 30 جون سے قبل موصول ہو جائے گا، انہوں نے بتایا کہ ملک کے 80 فیصد بنک اکاؤنٹس کا ڈیٹا موصول ہوچکا ہے جبکہ باقی ڈیٹا بھی جلد موصول ہو جائے گا، اسی طرح 21 جون تک

ایف بی آر کو نادرا سے بھی 40 لاکھ سے زائد افراد کا ڈیٹا موصول ہوجائے گا، 30 جون تک اثاثہ جات کو ڈکلیئر کرنے سے متعلق ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے قبل اپنے بنک اکاؤنٹس اور اثاثہ جات کی معلومات حاصل کر کے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ استفادہ کریں جس کے بعد بنک اکاؤنٹس اور نادرا کی موصول ہونیوالی معلومات کی بنیاد پر کارروائی شروع کی جائے گی۔ ایف بی آر کے حکام نے ”دی نیوز“ کو تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بینک اکاؤنٹس کی رازداری کو یقینی بنائیں گے، ہم آن لائن رسائی دیں گے تا کہ افرد اپنے تفصیلات کو چیک کر سکیں۔
بشکریہ جنگ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •