عمران خان مودی کا عاشقِ صادق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ عشاق کی دو اقسام ہیں ایک وہ ہیں جو ڈنکے کی چوٹ پر اپنے عشق کا اظہار کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو چھپ چھپ کر عشق کرتے ہیں۔ سرِعام عشق اور محبت کرنے والے رسوائیوں سے نہیں ڈرتے بقولِ شاعر

جب پیار کیا تو ڈرنا کیا

جبکہ دوسرے قسم کے وہ عشاق ہیں جو رسوائیوں سے ڈرتے ہیں۔ مگر ہمارے وزیراعظم اور نئے پاکستان کے تخلیق کار عمران خان جس قسم کے عاشق ہیں وہ ان دونوں اقسام میں نہیں آتے۔ وہ عشق کا شغل فرماتے ہوئے کسی سے ڈرتے بھی نہیں ہیں لیکن چھپتے بھی ہیں۔ یہ منفرد قسم کے عاشق ہیں۔ ہمیں تو ایک عرصے تک پتہ ہی نہیں چلا کہ خان صاحب بھارت کے ہندو انتہا پسند وزیراعظم نریندرا مودی کے عاشق ہیں۔ وہ تو ہمیشہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو مودی کا یار کہہ کر مودی اور نواز شریف سے بھرپور نفرت کا اظہار کرتے رہے۔

یہ تو ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ہمارے وزیراعظم عمران خان نریندر مودی کو نہ صرف دل دے بیٹھے ہیں بلکہ اس دل لگی کے باعث ان کو گرفتار شدہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن سمیت بہت کچھ دے چکے ہیں اور مزید بہت کچھ دیتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ جو قمر جلالوی کا ایک مشہور شعر ہے

اب میں سمجھا تیرے رخسار پہ تل کا مطلب

 دولتِ حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہے

نواز شریف سے خان صاحب کی نفرت کی اصل اور بڑی وجہ نریندر مودی کا سابق وزیراعظم نواز شریف سے عشق فرمانا تھا۔ جب کسی سے پیار اور محبت ہو جائے تو پھر مقام و مرتبے اور پروٹوکول وغیرہ کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نریندر مودی نواز شریف کے عشق میں بے چین ہو کر بغیر پروٹوکول اور بغیر کسی دعوت کے نواز شریف سے ملنے لاہور چلے آئے تھے۔ جس کا عالمی میڈیا میں بہت بڑا چرچا ہوا۔ یہ حقیت ہے کہ انسان ہو یا حیوان جب کسی سے محبت کرنے لگتا ہے یا اس کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو پھر وہ کسی اور کو اپنے محبوب اور معشوق سے تعلق رکھنے کو برداشت نہیں کرتا سو ہمارے خان صاحب بھی مودی کو نواز شرف سے پیار اور محبت کرنا اس لئے پسند نہیں آیا کہ خان صاحب مودی کے عشق میں مبتلا ہو چکے تھے جس کا وہ برملا اظہار بھی نہیں کر پا رہے تھے لیکن بالآخر ان کی محبت ظاہر ہو کر رپی۔

جب فروری 2019 کو پاکستان کے ایک بہادر فضائیہ افسر نے بھارت کے جنگی جہاز کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا تو خان صاحب نے چند ہی روز بعد بھارتی قیدی پائلٹ کو بھارت کو واپس کر کے ایک تیر سے 2 شکار کر دیے۔ یعنی ایک یہ کہ خان صاحب کے اس عمل سے اقوامِ عالم میں پاکستان کی امن پسندی اور خیر سگالی کا پیغام گیا اور دوسرا یہ کہ اس سے مودی کی قربت حاصل کرنے کا بھی موقع مل گیا۔ مگر کیا کیجیئے کہ نہ تو بھارت اپنی مہم جوئی اور جارحیت سے باز آیا اور نہ ہی نریندر مودی نے کسی بھی طرح سے خواہ رسمی طور پر بھی خان صاحب کا شکریہ ادا نہیں کیا۔ یعنی بقولِ شاعر

نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

پھر بھی وہ عاشق ہی کیا جو مایوس ہو کر عشق اور محبت سے تائب ہو جائے۔ پھر تو وہ عاشق کہلانے کا حقدار ہی نہیں ہوتا۔ اتنی بڑی قربانی کے باوجود بھی مودی کی جانب سے مثبت ردعمل نہ آنے پر خان صاحب نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اور اپنے دل پر جبر کر کے رسوائیوں کو خاطر میں لائے بغیر مودی سے امن کے بہانے ان سے پیار اور محبت کے چند الفاظ کے اظہار کی خاطر ٹیلیفون کر ڈالا لیکن اس سنگدل محبوب نے اپنے سچے عاشق کی کال اٹینڈ کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ ہمیں یا ہماری قوم کو اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا لیکن خود خان صاحب نے گلوگیر لہجے میں اس بات کا انکشاف کیا کہ میں نے کئی بارمودی سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی کوشش کی مگر وہ میری کال ہی اٹینڈ نہیں کر رہا۔

ٹیلی وژن پر یہ بات کرتے ہوئے خان صاحب کی مایوسی اور بیقراری انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ ظلم تو یہ بھی ہے کہ اگر مودی ہمارے وزیراعظم سے بات کرنا نہیں چاہتا تو نہ کرے کم از کم خان صاحب کا کبھی کبھار نام لے کر کوئی بات ہی کرلے مگر وہ یہ بھی گوارا نہیں کرتا کہ کسی صورت ان کا نام لے کر کچھ لمحوں کے لئے تو ان کو دلی تسکین پہنچے کیوں کہ بقول ادا جعفری ادھر دل کی حالت یہ ہے کہ

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے

آئے تو سہی برسرِ الزام ہی آئے

کہتے ہیں مایوسی گناہ بھی ہے اور کفر بھی ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا امیدوں پر قائم ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خان صاحب امید کے دامن کو سختی کے ساتھ تھامے ہوئے ہیں۔ انہوں نے خود ہی اپنے دل کو تسلی دینے کی غرض سے یہ فرض کر لیا تھا کہ بھارت میں الیکشن کے دوران مودی کی بات اور مذاکرات نہ کرنا ان کی سیاسی مجبوری ہے الیکشن کے بعد وہ ہماری پیش کش کا مثبت جواب دیں گے۔ مگر الیکشن بھی ہو گئے خان صاحب نے مودی کو مبارکباد بھی دی اور اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ وہ جلد مذاکرات کی میز پر آئیں گے مگر وہی قسمت کی خرابی کہ مودی نے نہ صرف مذاکرات نہیں کیے بلکہ اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت بھی نہیں دی حالانکہ ہمارے وزیر اعظم صاحب تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے سو فیصد تیار بیٹھے تھے۔

تقریب حلف برداری گزرنے کے بعد خان صاحب نے پھر یہ فرض کر لیا کہ شنگھائی تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس کے دوران مودی سے ملاقات ہو جائے گی۔ مگر مودی ظالم نے اس امکان کو بھی مسترد کر دیا جس کی وضاحت بھارتی میڈیا نے کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ کہہ کر بھارتی میڈیا نے خان صاحب کی آخری امید پر بھی پانی پھیر دیا۔ حالانکہ کچھ حاسد لوگ یہ پروپیگنڈہ کرتے نظر آئے کہ حال ہی میں سعودی میں او آئی سی کے اجلاس کے اعلامیہ میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے متعلق قراداد مذمت اس لئے شامل نہیں کی گئی کہ اس سے مودی پاکستانی قیادت یعنی وزیراعظم سے ناراض ہو جائیں گے۔

پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان خیر سگالی کے طور پر اب تک سیکڑوں قید بھارتی ماہی گیر رہا کر چکے ہیں جبکہ اس کے مقابل بھارت کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر کے ان کی لاشیں پاکستان بھیجتے رہے ہیں۔ لیکن خان صاحب چونکہ محبت کرنے والے رہنما ہیں اس لئے وہ ہر حال میں بھارت سے تعاون کرتے رہنے کی سوچ پر قائم ہیں۔ ان کا بس چلے تو وہ کلبھوشن کو بھی رہا کر کے مودی کے حوالے کر دیں مگر ان کی مجبوری یہ ہے کہ کلبھوشن نواز شریف کے دور میں گرفتار ہوا تھا اس لئے وہ مودی کو محبت میں یہ تحفہ دینے سے قاصر ہیں۔ پھر بھی ہمیں یقین ہے کہ خان صاحب اپنے اس فلسفے پر ہمیشہ قائم رہیں گے کہ کسی بھی صورت میں تم نے گھبرانا نہیں ہے۔ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •