جہیز ایک لعنت ہے۔۔۔ کیا واقعی؟


جہیز کی لعنت کے موضوع پر بے شمار مضامین اور سوشل میڈیا پر پوسٹ پڑھنے کو ملتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ مسلم سماج میں اس کے خلاف خاطر خواہ بیداری نظر نہیں آتی

’ بیٹیوں کے جہیز کے لئے ایک باپ جتنی کوشش کرتا ہے اگر وہی کوشش ان کی تعلیم کے سلسلے میں کردے تو جہیز کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی‘ ۔ اس طرح کے انقلابی جملے وہی لوگ لکھتے ہیں جو زمینی حقیقت سے شاید واقف نہیں ہیں۔

جہیز کا مطالبہ کوئی رسم نہیں ہے بلکہ یہ ایک منافقت بھری سوچ اور ایک حرص بھری ہوس ہے۔ اس کا تعلق لڑکی کی سیرت صورت تعلیم اور خاندان سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق لڑکا والوں کی غربت ضرورت اور اخراجات سے بھی نہیں ہے۔ اس کا تعلق لڑکا والوں۔ خواہ کتنے ہی امیر کبیر ہوں۔ کے مائنڈ سیٹ لالچی مزاج سے ہے۔ اس کا تعلق اس سماج کے منافق طبیعت لوگوں سے ہے ہاں وہی سماج جو جہیز نہ لینے پر لڑکا والوں کو طعنے دیتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے اسی محلے میں پان فروش کے بیٹے کو فور وہیلر ملی لیکن اس متوسط گھرانے کے پڑھے لکھے لڑکے کو ٹو وہیلر بائیک تک نہیں ملی۔ ۔ لڑکے میں ضرور کوئی عیب ہوگا۔ گھر میں پہلے سے ہی دو کاریں اور آسائش کے سارے سامان موجود ہیں پھر بھی بیٹے کے لئے فور وہیلر چاہیے اس لئے نہیں کہ ضرورت ہے بلکہ اس لئے کہ اپنے خاندان اور پڑوسیوں میں نمائش کرنی ہے اپنے بیٹے اور خاندان کی وقعت اور ’قیمت‘ کا مظاہرہ کرنا ہے۔

جہاں تک لڑکیوں کی تعلیم کا تعلق ہے تو بسا اوقات اس کی وجہ سے جہیز کی رقم اور بڑھ جاتی ہے اس لئے کہ اس کی تعلیم کے ہم پلہ لڑکوں کی ”قیمت“ زیادہ ہوتی ہے۔ میں نے کئی ایسے والدین کو دیکھا جنہوں نے بڑے شوق سے بیٹیوں کو پی ایچ ڈی / ایم ایس سی /ایم فل / ایم اے کرایا مگر بغیر جہیز کے پڑھے لکھے لڑکوں کے ساتھ رشتے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔ ظاہر ہے اعلی تعلیم اٹھارہ بیس برس کی عمر میں حاصل نہیں ہوتی اس لئے کہ ڈاکٹریٹ کم و بیش 28 سال ایم فل اور پوسٹ گریجویشن 24 سال۔

لڑکے والوں کی منافقانہ رویے میں جوڑ بیٹھانا مشکل ہوجاتا ہے ایک طرف مطالبہ یہ کہ لڑکی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو اور دوسری طرف مرد فطرت کی خواہش کہ لڑکی کمسن ہو خواہ لڑکے کی عمر پینتیس چالیس ہو۔ اسی لئے تعلیم یافتہ لڑکیوں کے والدین ان کی تعلیم کے فورا بعد مناسب رشتہ کے لئے جدوجہد شروع کر دیتے ہیں مبادا ان کی لڑکی کو ’عمر رسیدہ ہے‘ ’عمر کچھ زیادہ ہے‘ ، چہرے پہ نمک نہیں ہے ’وغیرہ کہ کر ناپسند نہ کردیں۔ کچھ ایسے بھی والدین ہوتے ہیں جو فجر بعد لڑکی والوں کے گھر جو کسی دوسرے شہر میں ہے وہاں کسی بہانے بغیر اطلاع پہنچ جاتے ہیں تاکہ دوبارہ بغیر میک اپ کے دیکھ سکیں۔ ‘ جی وہ جام میں پھنس گئے تھے ادھر سے گزرنا ہوا تو سوچا آپ کے یہاں فجر کی نماز ادا کر لیں ’!

۔ دوسری بات یہ کہ پوسٹ گریجویٹ لڑکی کی شادی میٹرک پاس سے کرنے سے ذہنی ہم آہنگی کی کمی ہوگی۔ ایسی شادی اگر ہو بھی گئی تو لڑکا کے گھر والے بہت خوش ہوں گے ہر طرف اسی کا چرچا ہوگا کہ پڑھی لکھی بہو لائے ہیں۔ ۔ مگر بیڈ روم میں کسی روز شوہر بیوی کے درمیان تو تو میں میں ہو اور بیوی کی زبان سے غصہ میں ہی سہی اگر یہ جملہ نکل گیا کہ ”میرے تو نصیب پھوٹے تھے کہ میرے ماں باپ نے تم جیسے جاہل میٹرک پاس سے شادی کرادی“۔ اس دن کے بعد سے شوہر نہ صرف احساس کمتری میں مبتلا ہو جائے گا بلکہ بیوی سے کسی نہ کسی طرح انتقام لینا چاہے گا اور اس کی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کا سبق سکھانا چاہے گا۔

جہیز کی لعنت ختم کرنے کے لئے سماج کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اپبے گھر والوں کے سامنے اڑنے کی ضرورت ہے وہ اپنے والدین سے صاف صاف کہ دیں کہ جہیز لیں گے تو نکاح نہیں پڑھیں گے۔ قاضی صاحبان نکاح خواں حضرات کو اعلان کرنے کی ضرورت ہے کہ جس عقد میں جہیز سامان یا نقد یا فلیٹ یا بیٹے کو ڈاکٹر انجنیئر بنانے پر جو خرچ ہوا وہ رقم لی جائے گی تو اس کا نکاح ہم نہیں پڑھائیں گے۔ علماء اور شرفاء کو اعلان کرنے کی ضرورت ہے کہ جہیز والی شادی کی دعوت ولیمہ میں وہ شریک نہیں ہوں گے۔

معاشرے کا مزاج ایسا بگڑ گیا ہے کہ میرے دوست اور ان کے لڑکے نے سختی سے منع کردیا کہ وہ جہیز نہیں لیں گے۔ پھر بھی لڑکی والوں نے یہ کہ کر فور وہیل ڈرائیو پہونچا دیا کہ لڑکی کی والدہ کی بہت خواہش تھی کہ فور وہیل اپنی بیٹی کو ضرور دیں گے اور یہ بھی کہ ہم نے جب بڑی بیٹی کو لڑکا والوں کے ڈیمانڈ پر کار دی تھی تو اس بیٹی کے ساتھ نا انصافی کیوں۔ جو کچھ ہم نے بڑی کو دیا وہی سب اس چھوٹی کو بھی دے رہا ہوں۔ ان باتوں کا عینی و سمعی شاہد میں ہوں۔

عموماً یہ بات کہی جاتی ہے کہ علماء بھی اس سماجی برائی میں ملوث ہوتے ہیں۔ ہاں ملوث ہوتے ہیں اس لئے نہیں کہ اس جہیز کی لعنت کو نعمت سمجھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ بھی اسی سماج کا حصہ ہیں۔ تاہم اس سے انکار نہیں کہ دیندار طبقے میں بھی اس ذہنیت کے لوگ پائے جاتے ہیں جو بیٹیوں کی شادی میں فضول خرچی سے بچنے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسراف سے اللہ نے منع کیا ہے، رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیٹیوں کو جہیز میں چٹائی اور دو تین خانہ داری کے دو تین سامان اور بستر دیا تھا کا حوالہ دیتے ہیں مگر بیٹوں کے رشتے ایسے گھرانوں میں چاہتے ہیں جہاں بغیر مطالبہ وہ سب کچھ جہیز میں مل جائے جو رائج ہے۔

یہ کہنا بہت آسان ہے کہ علماء طبقہ بھی اس میں ملوث ہے۔ مگر کبھی آپ نے یہ سوچا کہ اس دیندار کی بیٹی بھی دن بہ دن عمر کی اس دہلیز کی طرف بڑھ رہی ہے کہ اگر بر وقت اس کے ہاتھ پیلے نہیں ہوئے تو عمر رسیدہ کہ کر کوئی لڑکا اس سے نکاح کرنے کے لیے راضی نہیں ہوگا۔ جب بگاڑ پورے معاشرے میں ہو تو دیندار غیر دیندار امیر غریب ہر ایک کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ معاشرے میں جو رواج سوشل پریسٹج social prestige کا حصہ بن جائے تو اس کی بیخ کنی کی ذمہ داری معاشرے کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے۔

جہیز کا مقاطعہ کرکے دیندار طبقہ اپنی بیٹیوں کو گھر نہیں بٹھا سکتا۔ صورتحال یہ ہے کہ شرفاء لڑکی والوں کے یہاں پیغام کرنے سے قبل ان کی مالی حالت کا جائزہ لیتے ہیں کہ بغیر ڈیمانڈ کتنا دے سکتا ہے۔ غیر شرفاء باضابطہ ڈیمانڈ کرتے ہیں کبھی خود اور کبھی یہ کہ کر کہ لڑکے کا چچا یا ماموں یا بہنوئی چاہتے ہیں کہ یہ فلاں فلاں کمپنی کے یہ یہ سامان لڑکے کو جہیز میں دیا جائے۔ لڑکوں کی غیر معلنہ درجہ بندی ہے : ڈاکٹر، انجنئیر، کمپیوٹر سائنٹسٹ، بیرون ملک فیملی اسٹیٹس کے ساتھ اچھے عہدے پر فائز یا سرکاری ملازمت SDO SDM BDO CO وغیرہ کے لئے ایک فرنشڈ تمام اسباب راحت سے آراستہ 3 BHK فلیٹ مع دس پندرہ لاکھ روپے کی کار مع سونے ہیرے جواہرات کے زیورات۔

بعض لوگوں کی طرف سے ولیمے کا خرچ اور بارات پارٹی کے لئے گاڑیوں کا کرایہ بھی لیا جاتا ہے۔ اسی درجہ بندی کے تحت اوپر آئی اے ایس آئی ایف ایس آئی آر ایس جج اور نچلے سرکاری درجے میں ہیڈ کلرک اور کلرک تاجروں میں بھی کارپوریٹ سے لے کر محلے کے چھوٹے دکاندار تک کی قیمت سے ہر برادری کے لوگ کم و بیش واقف ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS