وہ پاگل جو سماج سے ٹکراتے ہیں
صدیوں سے انسانوں کا یہ المیہ رہا ہے کہ جو کوئی ان کے بنائے ہوئے اقدار و روایات سے ذرا ہٹ کر سوچے یا کچھ کرے تو اسے نا جانے کیسے کیسے القابات اور آزمائشوں سے گزارا جاتا ہے۔ تاریخ ایسے پاگلوں سے بھری پڑی ہے جو نظریے کے نام پر نغرے بلند کرکے سولی پہ چڑھ گئے، گولی سینے پہ کھائی یا زہر کا گھونٹ پی لیے، مگر ظالم سماج کی جاہل اقدار کا طوق پہننا ان کو گوارا نہ ہوا۔
یہ سچ مچ پاگل تھے۔ نہیں تو کیا کوئی سقراط جیسا بنتا ہے جو دن رات سہل پسندی کی بجائے پڑھ پڑھ کر اور سوچ سوچ کر زمانے سے مختلف سوچنے کا جرم ارتکاب کر بیھٹتا ہے، پھر انہی فضولیات کی خاطر زہر کا جام پی لیتا ہے۔ کوئی پاگل ہی ہو گا جو سرمایہ دارانہ نظام سے فائدہ اٹھا کر شاہانہ زندگی بسر کرنے کی بجائے الٹا سرمایہ داراوں سے ہی ٹکرا جاتا ہے غریبوں کے نام پر۔ وہ پاگل مارکس ہی تھا جو غریبوں کی خاطر غریبی کو گلے سے لگا لیتا ہے۔ آزادی و انقلاب کی خاطر نغرے لگا کر مرنے والا کوئی پاگل بھگت سنگھ ہی ہو گا، نہیں تو کوئی تیئس سال کی عمر میں پھانسی پہ چڑھتا ہے کیا؟
زمانے کے جبر، نا انصافی، دوہرے معیار، مساوات کا فقدان، جاہلانہ رسم ورواج وغیرہ مل کر ان پاگلوں کے جنم کا موجب بنے۔ یہ سماج سے ٹکراتے رہے اور سماج بھی اپنے طریقوں سے ان کا علاج کرتا رہا۔ یہ پاگل سماج کے بنائے ہوئے نظام کو من و عن تسلیم کرنے کی بجائے اس پہ سوال کرتے رہے۔ اس بیماری میں مبتلا شخص جواب پا کر بھی مطمئن نہیں ہوتا بلکہ پہلے سے سزا یافتہ پاگلوں کو پڑھتا اور اپنے پاگل پن والے انداز میں جواب دیتا ہے۔ ایسے جواب جو سوالوں کی طرح سماجی ہاضمے پر گران گزرتے ہیں۔
دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح یہ پاگل ہمارے ہاں بھی بہت پیدا یوئے، جس طرح ہم نے ان کا علاج کیا وہ بھی اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے۔ آزادی ملتے ہی منٹو جیسا پاگل ہمارے حصے میں آیا۔ عجیب پاگل تھا جو طوائف جیسی ناپاک خبیث مخلوق سے ہمدردی جتاتا تھا اور ان کے کوٹھے پہ جانے والے عزت دار شرافاء کی پگڑیاں اچھالتا تھا۔ عدالتوں میں خوار ہوتا رہا، دو بار پاگل خانے گیا مگر پھر بھی ہوش ٹھکانے نہ لگے۔ آخر شراب جیسی ناپاک چیز پیتے پیتے بے موت مر گیا۔ ان کے نقش و قدم پر جون ایلیا نکلا جو محنت کش جیسے کمتروں کی جوتیاں منبر پر رکھنے کی باتیں کرتا تھا۔ فیض نکلا جو سرخ ملحد انقلاب کا خواب دیکھتے دیکھتے چل بسا۔ حبیب جالب کو مرض لگ گیا جو پنجاب کو جگانے کی چکر میں نغمے لکھتا رہا۔ پنجاب کو نا جگا سکا البتہ خود کی سکون برباد کر گیا۔
یہ پاگل آج بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں جنھیں دیواروں سے سر ٹکرانے کا جنون ہے۔ کچھ نوم چومسکی بن کر سپر پاور کے چہرے سے پردہ ہٹاتے ہیں تو کچھ ملالہ بن کر گولی کھاتے تو کچھ مشال بن کر پھر بجھ جاتے ہیں۔
ان کے پاگل پن سے بچنے کے دو ہی طریقے ہیں ایک وہ جو ترقی یافتہ ممالک کرتے ہیں کہ پاگل چومسکی کو بولنے دیا جائے۔ دوسرا جو ان کا اصل علاج ہے کہ ان کو دلائل اور شواہد کی طاقت سے مارا جائے۔ مگر ہمارے پاس دلائل ہیں نہ ہی شواہد۔ رہی بات ان پاگلوں کو سننے اور برداشت کرنے کی تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی لیے ان کی شر سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اوباش لڑکوں کو ان کے پیچھے لگا دیا جائے، جملے کسا جائے، سنگسار کیا جائے اور پھر راستوں میں گھسیٹ گھسیٹ کر مارا جائے۔


