زندگی میں کچھ نیا کرنے کے لیے صلاحیت اور محنت کا عمل دخل یقیناً ہوتا ہے مگر مردوں کے معاشرے میں ایک خاتون کے لیے کچھ منفرد کرنا، جو مردوں کے لیے چیلنج کی مانند ہو، کے لیے قابلیت اور جستجو کے علاوہ بے پناہ ہمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ شاہدہ پروین ان گنی چنی باہمت اور با صلاحیت خواتین میں سے ایک ہے جو چترال جیسے پسماندہ اور رجعت پسند معاشرے میں ریستوران کھولنے جیسے انٹرپرینرشپ کام کا کامیابی سے آغاز کر چکی ہے۔
اپنی ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد دوسرے نوجوان لڑکیوں کی طرح ٹیچنگ کے شعبے میں، جسے خواتین کے لیے سب سے موزوں جانا جاتا ہے، ملازمت حاصل کرنے کے لیے ریس میں لگنے کی بجائے شاہدہ نے کچھ مفرد کرنے کا سوچا۔ ایسے میں روایتی چترالی کھانوں پر مشتمل ریستوران قائم کرنے کا آئیڈیا اسے سب سے زیادہ موزوں لگا۔ شاہدہ کے بقول اس کی سب سے بڑی انسپیریشن اس کی ماں ہے جنھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر سکول میں کنٹین چلا کر اپنے تمام بچوں کو یونیورسٹی تک پڑھایا جو کہ ایک پسماندہ اور روایتی علاقے میں بذات خود ایک بہت بڑی ایچومنٹ ہے۔
Read more