وزیراعظم اپوزیشن کو دھمکانا بند کر کے کارکردگی پہ توجہ دیں


پی ٹی آئی کے بجٹ سے عوام کی وابستہ موہوم سی امیدیں بھی اس کا اعلان ہوتے ہی دم توڑ گئیں۔ وزیر مملکت نے بجٹ تقریر شروع کی تو عوام کو اندازہ پہلے سے ہی تھا کہ ان پر بجلیاں گرنے کا سلسلہ مزید تیز ہونا ہے، ان کے خلاف جاری مہنگائی کی دہشتگردی مزید خطرناک رخ اختیار کرنے والی ہے مگر پھر بھی ایک موہوم سی امید ضرور تھی کہ شاید کپتان کو اپنی قوم کی حالت زار پہ رحم آجائے اور وہ کوئی ایسا ریلیف عوام کو دے دیں جس سے مہنگائی، بیروزگاری، بھوک بدحالی سے جنگ لڑتی عوام کو سکھ کی چند سانسیں نصیب ہو سکیں، مگر ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے والی بات کے مصداق خواہشیں اندر ہی اندر دم توڑ گئیں ویسے بھی برگد کے پیڑ سے پھولوں کی توقع رکھنا فضول ہے۔

پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی مہنگائی اور افراط زر میں اضافے، ٹیکس و ریونیو کلیکشن کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کی جو بنیاد ڈالی تھی وہ وقت گزرتے مزید سنگین صورت اختیار کرتی جا رہی تھی ایسے میں خان صاحب اور ان کے وزراء اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کے بجائے صرف اپنے مخالفین اور اپوزیشن کو احتساب سے ڈرانے دھمکانے میں ہی لگے رہے، انہیں کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ جو وعدے دعوے کر کے وہ اقتدار میں آئے ہیں وہ ان سے بہتر سے بہتر کارکردگی کے متقاضی ہیں مگر خان صاحب شاید اپوزیشن کو زچ کرنے انہیں کرپشن کرپشن کا راگ الاپ کر جیلوں میں دیکھنے کو ہی اپنی کارکردگی سمجھ رہے ہیں۔

عوام کو بجلی گیس پیٹرول کی قیمتوں میں رلیف دینے کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے جبکہ ماضی میں خان صاحب فرماتے تھے کہ جب پیٹرول بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھ لو کہ تمہارا وزیراعظم چور ہے۔ روپے کی قیمت کو ڈالر کے مقابلے میں آسمان چھونے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی صرف خان صاحب کے دس ماہ میں روپیہ ایک سو بیس سے ڈیڑھ سو کی حد کراس کر گیا جو خان صاحب اور ان کے اکابرین کی نا اہلی اور نالائقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پچھلے دس ماہ میں معیشت کی بحالی کی کوششوں کے بجائے صرف اپوزیشن اور سیاسی مخالفین کو پابند سلاسل کرنے کی سر توڑ کوششیں ہی نظر آئیں۔ بجٹ سے ایک دن پہلے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پھر بجٹ والے دن حمزہ شہباز کی گرفتاری اپوزیشن کو پریشر میں لانے ان کی توجہ متوقع عوام دشمن بجٹ سے ہٹا کر صرف اپنے گرفتار رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج پر مرکوز رکھنے کی کوشش ہی قرار دی جا سکتی ہے۔ یہ ان دعوؤں کا بھی تسلسل ہے جو پچھلے کچھ دنوں سے حکومتی اکابرین کرتے آ رہے ہیں کہ اپوزیشن کے بڑے لیڈر گرفتار ہونے والے ہیں اس سارے کھیل میں پہلے سے متنازعہ چیئرمین نیب کا کردار بھی مشکوک نظر آتا ہے کہ جب وہ جاوید چودھری کو انٹرویو دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کے پاس حکومت کے بہت سارے لوگوں کے خلاف کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں اور اگر انہیں گرفتار کرنا شروع کروں تو حکومت ہی گر جائے اور پھر بھی کارروائی صرف اپوزیشن کے رہنماؤں کے خلاف ہو تو دال تو ساری کالی ہی نظر آئے گی۔

اشیاء صرف سمیت ہر چیز پر ٹیکسز کی مد میں ہوشربا اضافے سے مہنگائی کے طوفان کو سونامی میں تبدیل کردیا گیا ایسے میں وزیراعظم عوام سے رات کے اندھیرے میں خطاب کر کے اپنی انتہائی ناقص کارکردگی پر، اپنے دعوؤں اور وعدوں کے شرمندہ تعبیر نہ ہونے پر، پیٹرول بجلی گیس اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو آسمان پہ لے جانے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگتے، یہ فرماتے رہے کہ آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز کی گرفتاری ان کے بیانئے کی جیت ہے اور اللہ کی ان پہ کرم نوازی ہے جبکہ درجنوں کرپٹ، منی لانڈرنگ میں ملوث، نیب کے نجانے کتنے مقدمات مطلوب، ٹیکس چور اور بینکوں کے اربوں روپے کے قرضے ہڑپ کرنے والے ان کے دائیں بائیں بیٹھے نظر آتے ہیں۔

خان صاحب پچھلے کچھ دنوں سے چوروں کو چوری کا مال حلال کرنے کے لئے دی جانی والی ایمنسٹی اسکیم کے فوائد گنواتے اور چوروں کو منتیں کرتے نظر آ رہے ہیں کہ برائے مہربانی اپنی چوریوں اور ڈاکوں کا مال ظاہر کرو ان کی سرکار کو تھوڑا سا حصہ ٹیکس کی صورت میں ادا کرو باقی آپ رکھ لو۔ بجٹ کے بعد رات گئے اپنی تقریر میں بھی خان صاحب پچھلے چند سالوں کا رٹا رٹایا راگ الاپتے رہے کہ چوروں کو نہیں چھوڑوں گا چاہے جان چلی جائے، فلاں اتنے سو ارب کی منی لانڈرنگ کرکے باہر پیسہ لے گیا فلاں پانچ سو ارب لے گیا، زرداری اور نواز خاندانوں کی لوٹ مار کی وجہ سے ملک آج اس مشکل صورتحال سے دوچار ہے، لیکن وہ اس وقت اپنے آپ کو بھول گئے کہ کوئی کاروبار نہ ہونے کے باوجود اربوں روپے کے قبضے کے محل میں رہتے ہیں، اربوں روپے کی جائیدادوں کے مالک ہیں اور ٹیکس کتنا دیتے ہیں یہ عوام کو بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔

وہ خسرو بختیار کو بھول گئے جن کی جائدادیں کروڑوں سے اربوں کھربوں میں پہنچ چکی ہیں، وہ اپنی بہنوں کو بھول گئے جو جائدادیں چھپانے کی پاداش میں کروڑوں کے جرمانے کی سزا وار ٹھریں، وہ جہانگیر ترین، فیصل واوڈا، علیم خان، اور ان جیسے درجنوں اربوں کھربوں کی جائدادیں رکھنے والے اپنے ہم رکاب فصلی بٹیروں کو بھول گئے جو اپنے اثاثے بچانے کی خاطر ان کی چھتری تلے پناہ لئے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم صاحب کو دراصل سوائے نیب کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف انتقامی احتسابی کارروائیوں اور ان کی گرفتاریوں کے اپنی ناقص کارکردگی بدترین طرز حکمرانی کا جواز فراہم کرنے کا کوئی جواب نہیں ہے۔

وہ بڑے دکھ کے ساتھ رندھی ہوئی آواز میں شکوہ کرتے نظر آئے کہ اپوزیشن انہیں اسمبلی میں بولنے نہیں دیتی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی ان کے نزدیک کیا اہمیت ہے وہ بحثیت ایم این اے ان کے پچھلے دو ادوار اور اب بحیثیت وزیراعظم ان کی پارلیمنٹ میں حاضری اور پارلیمنٹ کو قومی معاملات میں اعتماد میں لینے سے ہی ظاہر ہے۔ انہوں نے ہر مہینے میں دو بار پارلیمنٹ میں ارکان اسمبلی کے سوالات کے جوابات دینے کا وعدہ کیا تھا مگر خان صاحب کا وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔

خان صاحب دراصل اپنے متکبرانہ رویوں، ضدی اور ہٹ دھرم فطرت کی وجہ سے اپنی حکومتی کارکردگی پر فوکس نہیں کر پا رہے ہیں انہیں عوام کو اپنے وعدوں اور دعووں کے مطابق مہنگائی، بھوک، غربت و افلاس سے نجات دلانے کی کوششیں کرنے کے بجائے صرف اس بات سے غرض ہے کہ شریف خاندان اور زرداری خاندان کے گرد نیب کا شکنجہ کس کے انہیں جیلوں میں ڈالیں۔ انہوں نے پچھلے دس سالوں میں لئے گئے قرضوں کی آڈٹ کے لئے کمیشن بنانے کا اعلان کرکے اپنی فرسٹریشن اور اپوزیشن کے خلاف اپنے انتقامی عزائم کا کھل کر اعلان بھی کیا، جبکہ ملک کے سب سے متنازعہ ادارے نیب کے بجٹ میں پونے دو ارب کا اضافہ کر کے اس بات کا بھی ثبوت فراہم کیا کہ وہ اب بھی اپنی کارکردگی کے بجائے اپوزیشن کے خلاف انتقام میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں، یہ پونے دو ارب روپے عوام کو اشیائے صرف میں ریلیف دینے کے کام آتے تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن خان صاحب کو اس بات سے کوئی غرض نہیں لگتی کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پستے ہیں تو پسیں، بھوک بدحالی غربت و افلاس کی وجہ سے خودکشیوں پہ مجبور ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں انہیں تو صرف اپنی انتقامی سوچ اور اپوزیشن کی لیڈرشپ کو جیلوں میں دیکھنے کی خواہشات کی تکمیل سے دلچسپی ہے۔

خان صاحب کی حکومت اپنا پہلا بجٹ پیش کرتے ہی گہری کھائی میں گرتی نظر آ رہی ہے کیونکہ اس بجٹ کو ملک کی عوام، کاروباری طبقا سیاسی رہنماء اور غیر جانبدار معاشی و سیاسی تجزیہ نگار ملکی تاریخ کا سب بدترین بجٹ قرار دے رہے ہیں، جبکہ خان صاحب اپنی حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانے کے بجائے اپنی تمامتر توانائیاں صرف اپنے مخالفین کو دبانے انہیں ڈرانے دھمکانے میں صرف کر رہے ہیں جو ان کے سیاسی خاتمے کا سبب ہی بنیں گی۔

Facebook Comments HS