انڈین جادوگر کرتب دہراتے ہوئے دریا میں ڈوب گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی جادوگر ہیری ہوڈینی اس لیے مشہور تھے کہ وہ دریا میں پیر اور ہاتھ باندھ کر اترتے تھے اور پھر بھی زندہ بچنے میں کامیاب ہو جاتے تھے لیکن انڈیا کے ایک جادوگر کو ہیری کا یہ مشہور کرتب دہرانا مہنگا پڑ گیا۔

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں موجود دریائے ہوغلی میں جادوگر چنچل لہری کو ہاتھ پیر باندھ کر جادوئی کرتب دکھاتے ہوئے بحفاظت تیر کر کنارے تک پہنچنا تھا لیکن اس کرتب میں ممکنہ ناکامی کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

پولیس کے مطابق لہری کی تلاش ابھی جاری ہے اور ان کو اس واقعے کی اطلاع ان تماشائیوں نے دی جنھوں نے ان کو دریا میں ڈبکی لگاتے دیکھا تھا۔

مندریک کے نام سے بھی جانے جانے والے لہری کو دریا میں ایک کشتی کے ذریعے اتارا گیا تھا۔

انھیں دو کشتیوں میں بیٹھے تماشیوں کی موجودگی میں چھ تالوں اور ایک زنجیر کی مدد سے باندھا گیا تھا۔ان کے اس کرتب کو دیکھنے بہت سارے لوگ دریا کے کنارے بھی جمع تھے اور کچھ کولکتہ کے ایک یادگار پل ہوراہ پر کھڑے تھے۔

پولیس اور غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے اس جگہ پر انھیں ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن اتوار کی شام تک وہ بازی گر لہری کو ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ایک افسر نے مقامی اخبار ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ لہیری کی موت کی تصدیق اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک ان کی لاش نہ مل جائے۔

لہری

Getty Images
لہری کو کرتب کے لیے دو کشتیوں میں بیٹھے تماشیوں کی موجودگی میں چھ تالوں اور ایک زنجیر کی مدد سے باندھا گیا تھا

ایک مقامی اخبار کے فوٹوگرافر جےیانت شا کا کہنا تھا کہ وہ اس جگہ موجود تھے جہاں لہری یہ کرتب کر رہے تھے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرتب سے پہلے انھیں لہری سے بات کرنے کا موقع ملا۔

جے یانت کا کہنا تھا کہ ’جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ جادو کے لیے اپنی زندگی داؤ پر کیوں لگا رہے ہیں تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ اگر میں نے کوئی غلطی نہ کی تو یہ جادو ہے،ورنہ ایک سانحہ بن جائے گا۔‘

لہری نے انھیں بتایا کہ وہ یہ کرتب اس لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ ’لوگوں کی جادو میں دلچسپی بڑھائی جا سکے۔‘

یہ پہلی مرتبہ نہیں تھا کہ لہری نے زیر آب یہ پرخطر کرتب کیا ہو، وہ پہلے بھی ایسا کر چکے ہیں۔

20 سال قبل انھیں ایک شیشے کے ڈبے میں بند کر کہ اسی دریا میں اتارا گیا تھا لیکن تب وہ بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

جے یانت نے اس وقت بھی ان کا کرتب دیکھا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس بار پانی سے باہر نہیں آئیں گے۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9642 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp