وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے ساتھ صحافیوں کی بیٹھک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عید الفطر کے ایام میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صحافیوں کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کیا۔ جس کا بنیادی مقصد گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کے تعین کے لئے قوم کو یک زباں کرنے میں میڈیا کا کردار، آئندہ بجٹ کے حوالے سے تجاویز اور آئینی حقوق کے حصول کے لئے ایک غیر سیاسی پلیٹ فارم کی تشکیل پر آراءطلب کرنا تھا۔ وزیراعلیٰ کی گفتار اور صحافیوں کے سوالات و جوابات نے اس ہنگامی نشست کو ساڑھے چار گھنٹے تک طول دیدیا۔

صحافیوں میں راقم کے علاوہ ریذیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ اوصاف ایمان شاہ، صدر پریس کلب خورشید احمد، صدر یونین آف جرنلسٹس خالد حسین کے علاوہ شبیر میر، امتیاز علی تاج، محمد اشرف عشور، منظور حسین، محمد عیسیٰ حلیم، وجاہت حسین، نزاکت علی، ثاقب عمر، ندیم خان، طاہر رانا، عبدالرحمن بخاری ودیگر شامل تھے جبکہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے ہمراہ مشیر اطلاعات شمس میر بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے تینوں موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی بلکہ صحافیوں کو بریف بھی کیا۔ اس غیر رسمی اجلاس میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ گلگت بلتستان میں آج تک کسی بھی پارٹی نے بشمول پاکستان مسلم لیگ ن اس بات پر تحقیق نہیں کی ہے کہ سیاسی سیٹ اپ کے حوالے سے علاقے کی ضرورت کیاہے۔ جو لوگ آرڈر 2018 کے مخالفت میں کھڑے تھے وہ آرڈر 2019 کی حمایت میں بھی کھڑے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں آرڈرز کے بنیادی فرق کو وہ آج بھی محسوس نہیں کررہے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مجوزہ آرڈر کے لاگو ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہم آئندہ معمولی سی ترمیم کے لئے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کریں گے، جبکہ 2018 کے صدارتی آرڈر میں ہم نے اختیارات حاصل کرلئے ہیں۔ اس نشست میں وزیراعلیٰ نے حتیٰ الامکان کوشش کی کہ معاملے کو سیاسی مخالفت کی طرف نہ لے جایا جائے ( لیکن پھر بھی۔ ) اور اسی وجہ سے انہوں نے متعدد مقامات پر مسلم لیگ ن حکومت جی بی کی خامیوں پر بھی ردعمل نہیں دیا بلکہ دبے الفاظ میں خامیوں کا اعتراف بھی کرلیا۔

وزیراعلیٰ اس بات پر ’فکر مند‘ تھے کہ اگر گلگت بلتستان میں اپنی اپنی بولیوں پر مشتمل مطالبات کرتے رہیں گے تو حقوق اور حیثیت کا معاملہ دور ہوتا جائے گا، اسی وجہ سے ان کا کہنا تھا کہ علاقے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے سیاسی ’بیانیے‘ کے لئے ایک فورم تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ جس میں سب سے بڑا کردار سول سوسائٹی کا ہواور یہ فورم سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر پاک صاف ہو۔ اس کے علاوہ تیسرا موضوع گلگت بلتستان کا آئندہ بجٹ تھا، جو کہ مسلم لیگ ن کا پانچواں سالانہ بجٹ ہے۔

مسلم لیگ ن چھٹا بجٹ بھی پیش کرے گی تاہم اس کے استعمال اور ترمیم کا فیصلہ اگلی حکومت کرسکے گی، یوں عملدرآمد کے لحاظ سے یہ بجٹ مسلم لیگ ن حکومت جی بی کا آخری بجٹ تھا۔ اس بجٹ کے حوالے سے حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ رواں بجٹ میں گلگت شہر پر توجہ مرکوز کی جائے گی کیونکہ اس سے قبل گلگت شہر کی سڑکوں پر کام نہیں ہوسکا ہے، گلگت شہر کی سڑکوں پرتوجہ نہ دینے کی وجہ دو اہم منصوبے تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ ایل پی جی ائیر مکس گیس منصوبہ اور نکاسی آب منصوبے کے تکمیل کے بعد شاہراہوں کو میٹل کریں گے لیکن بدقسمتی سے دونوں میگا منصوبے تعطل کا شکار ہوئے۔ ایک منصوبہ وفاقی حکومت کی وجہ سے جبکہ دوسرا گلگت بلتستان میں مقامی طور پر کچھ تنازعات کی وجہ سے التوا کا شکار ہو گیا۔

میرے لئے صرف بجٹ کا موضوع نیا تھا کیونکہ اس نے آئندہ دنوں جی بی اسمبلی میں پیش ہونا ہے۔ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق پر تمام جماعتوں کو یک زباں ہونے اور غیر سیاسی بنیادوں پر ایک تنظیم کے تشکیل کے موضوعات پر راقم نے الگ کالم بھی رقم کیے ہیں۔ بجٹ کے موضوع پر بھی صحافی دوستوں نے اپنی آراءاور تجاویز پیش کیے اور باقی دونوں موضوعات پر بھی گفت و شنید ہوئی۔ راقم نے اس موقع پر چند ایک معاملات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان کے نظام کے ساتھ مذاق رواں رکھا ہے۔

صرف گزشتہ دس سالوں کے اندر گلگت بلتستان چوتھے صدارتی آرڈر کی طرف جا رہا ہے، جو کہ گملے سے پودے کو اٹھا کر اس کے جڑوں کی مضبوطی ماپنے کے مانند ہے۔ پیپلزپارٹی نے امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے ذریعے لیگل فریم ورک کا نظام ختم کردیا لیکن اس آرڈر پر چھ سال پورے ہونے سے قبل ہی مسلم لیگ ن نے نئی کمیٹی قائم کردی۔ خوش قسمتی سے سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی نے دلجمعی کے ساتھ کام کیا اور اچھے تجاویز مرتب کرلئے تاہم میاں محمد نواز شریف کی برطرفی اور نا اہلی کے بعد یہ کمیٹی ٹوٹ گئی لیکن مسلم لیگ ن نے شاہد خاقان عباسی کے دور میں انتہائی عجلت سے کام لیتے ہوئے گلگت بلتستان آرڈر 2018 لاگو کردیا جس میں سرتاج عزیز کمیٹی کے اصلاحاتی تجاویز شامل نہیں کی جا سکیں۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ اور وفاقی حکومت کو ایک اور آرڈر تجویز کرنے کی نوبت آگئی کیونکہ یہاں بات اچھے اور برے شقوں سے زیادہ کریڈٹ پر اتر آگئی۔ اس بات کا بھی امکان رد نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اسی تسلسل میں چلتے ہوئے آئندہ کی حکومتیں بھی اپنا لیبل متعارف کرائے گی حالانکہ ترمیم کا آپشن موجود ہے۔

اگر صوبائی حکومت علاقے کی سیاسی قیادت کو ایک پیج پر لانا چاہتی ہے اور سردمہری کا خاتمہ چاہتی ہے تو بڑا پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ اگرحکومت مشیر اطلاعات سے حزب اختلاف اور اپوزیشن پارٹیوں پر بمباری کرتے ہوئے یہ توقع رکھے کہ وہ ہمارے قریب آئیں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن چار سالہ دور میں اطلاعاتی نظام کو درست نہیں کر سکی، محکمہ اطلاعات کا کردار اچھی خبروں کے تراشے بنا کر سوشل میڈیا میں لگانے تک محدود ہوکررہ گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے معاملے میں مسلم لیگ ن اپنا بیانیہ اور موقف عوام کے سامنے واضح نہیں کرسکی۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے اس پر کہا کہ میرا معمول ہے کہ روزانہ صبح سب سے پہلے اخبارات کا مطالعہ کرتا ہوں اور جہاں ضرورت پڑتی ہے اس پر نوٹس لے کر احکامات جاری کرتا ہوں، اخباری خبروں پر نوٹس لیتے ہوئے متعدد مریضوں کا اسلام آباد اور پنجاب میں علاج کرایا ہے، البتہ محکمہ اطلاعات صرف اشتہارات کی تقسیم تک محدود ہے اور اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہے کہ وفاق اور دیگر صوبوں میں بھی محکمہ اطلاعات کا کردار اشتہارات کی تقسیم سے زیادہ نہیں ہے جس میں بہتری لانے کی گنجائش موجود ہے۔

وزیراعلیٰ نے آئینی حقوق اور حیثیت کے معاملے پر پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے انتہائی اہم موڑ میں قوم کو یک زباں کرنے اور اہم معاملات میں بریفنگ دینے کے لئے ایک کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا جس میں پیپلزپارٹی کی قیادت نے شرکت سے انکار کرتے ہوئے رکن اسمبلی جاوید حسین اور اسلم ایڈوکیٹ کو بھجوادیا۔ دونوں رہنماؤں کا آپس میں ہی اتفاق نہیں ہوسکا اور دونوں نے ایک دوسرے سے الگ تجاویز دیے جبکہ بعد میں سابق ڈپٹی سپیکر نے مکمل لاتعلقی کا اظہار کردیا۔ وزیراعلیٰ نے جماعت اسلامی کی جانب سے اے پی سی کو بھی اچھا قدم قرار دیا۔

یہ بات گزشتہ سال یعنی 2018 کے مارچ میں لکھے گئے کالم میں بھی لکھی گئی تھی کہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے معاملے پر سنجیدگی دکھانا وقت کی ضرورت ہے اگر اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد بناتے ہوئے خود کو سیاسی طور پر زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی تو جی بی کے لئے اس سے زیادہ نقصاندہ اور تکلیف دہ امرکوئی بھی نہیں ہوگا۔ ایسے نہیں چلے گا کہ ہم آئے روز مطالبات کریں کہ یہ نہیں مل سکتا ہے تو وہ دیدو اور وہ نہیں مل سکتا ہے تو یہ دیدو۔ گلگت بلتستان کے لئے سیاسی ضروریات کا تعین ایک غیر سیاسی جماعت ہی کرسکتی ہے جس کے ذاتی مفادات کچھ بھی نہ ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •