بلال! تم کو یہی مٹی کھا گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلال تم جہاں چلے گئے وہاں نہ میری آواز پہنچ سکتی ہے، نہ تحریر اور نہ آنسو، لیکن میں پھر بھی تم سے مخاطب ہوں۔ کیا کروں؟ قرار نہیں آرہا۔ قرار بھلا کیسے آئے گا، میں تو اب تک یقین اور بے یقینی کی کیفیات کے درمیان ڈول رہی ہوں۔ اتوار کو تمہارے جانے کی اطلاع پہاڑ بن کر کیسے نہ ٹوٹتی۔ ہفتے کو تو ہمارے درمیان کتنی باتیں ہوئی تھیں۔ ابھی تو اور باتیں ہونی تھیں جو رہ گئیں، بہت سی گتھیاں سلجھانی تھیں اور سب سے بڑھ کر رابطے میں رہنے کا عہد بھی تو نبھانا تھا، جسے باندھتے ہی تم نے فوراً توڑ ڈالا۔

میں آج تک اسی رات کو کوس رہی ہوں جب سارے نظریے ایک طرف دھر کے ایک عام نوجوان کی طرح تم اپنے مسائل بتا رہے تھے۔ ہاں تم تھکے ہوئے تھے۔ اسی دن ایبٹ آباد پہنچے تھے۔ بتا رہے تھے کہ لمبا سفر طے کیا ہے اب سوؤں گا۔ لیکن یہ کب بتایا تھا کہ منوں مٹی تلے جا کے تھکن اتاروگے اور میں میسینجر میں وہ گفتگو پڑھ پڑھ کر روتی رہوں گی جو میں فیس بک کی دنیا کے ایک متنازع بلاگر سے نہیں بلکہ ایک عام سے بلال سے کر رہی تھی۔ وہ بلال جس کے ساتھ زندگی کے بے شمار مسائل تھے، جس کے اپنے رشتے تھے، ِ ذمہ داریاں تھیں، دکھ تھے، خوشیاں تھیں۔ لیکن یہ سب انگلی اٹھانے والوں کو کیسے نظر آسکتا تھا۔

بلال مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے جس دن فیس بک پر تمہاری فرینڈ ریکویسٹ آئی تھی۔ میں اسے قبول کرنے میں کیوں ہچکچا رہی تھی، یہ تم بھی اچھی طرح جانتے ہو اور میں بھی۔ میں نے اس دن ایک بار پھر تمہاری ٹائم لائن کا وزٹ کیا، کچھ دیر سوچا اور ایک کلک کے بعد تم میری فہرست میں ایک دوست کی حیثیت سے شامل تھے۔ بلال، کتنی عجیب بات ہے کہ میں بھی سب کی طرح تم کو لفظوں سے پرکھتی اور دوسروں کی زبانی پڑھتی رہی، تمہارے اندر ایک جنونی مولوی کی کھوج میں لگی رہی تاکہ تنقید کا مزہ اٹھا سکوں، انگلی اٹھا کر مسکرا سکوں۔ میں تمہارے خیالات کو معاشرے کے جدید معیار پر رکھ کر تولتی اور مسترد کرتی رہوں۔

کئی بار تمہاری پوسٹ پر جا کر سخت الفاظ میں طنزیہ تاثرات بھی تحریر کیے اور انتظار میں رہی کہ کب تم عاجز آکر کوئی سخت جملہ اچھالو گے یا میرے لیے کوئی عامیانہ بات کر کے مجھے شرمندہ کرو گے لیکن بلال مجھے ہمیشہ مایوسی ہوئی۔ میرے نشتروں کا جواب دے سکنے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود، ایک مسکراہٹ بھری خاموشی کے سوا تم نے کبھی کوئی جواب نہ دیا۔ اس رویے نے مجھے کم از کم اتنا یقین ضرور ے دیا تھا کہ تمہارا شمار ان مردوں میں ہوتا ہے جو عورت کی عزت کرنا جانتے ہیں۔ پھر بھی اکثروبیشترمیں تمہارے قلم کے ضبط کو آزماتی رہی لیکن ہر بار فتح کا سکہ تمہاری جھولی میں گرتا رہا۔

کل جب اطلاع ملی کہ اس دنیا سے تمہیں جبری طور پر بے دخل کر دیا گیا ہے تو میں جہاں تھی وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ میں اب تک صدمے سے گنگ ہوں اور سوچ رہی ہوں کہ تمام اختلافات کے باوجود تم جیسے پیارے انسان کو بھلا کوئی کیسے مار سکتا ہے۔ بیس بائیس سال کی عمر میں کیسے کسی کے لیے اتنا بڑا خطرہ بن گئے کہ تمہیں راستے سے ہٹائے بنا ان کے لیے آگے بڑھنا محال ہوگیا تھا۔ انہیں یہ بات کیوں سمجھ نہ آئی کہ وقت آگے بڑھے گا تو بلال بھی کچھ ٹھنڈا ہو ہی جائے گا۔

ذمہ داریاں ایک بلا کی طرح جب بلال کی جان سے چمٹیں گی تو اس کے لفظوں کی کاٹ کچھ کم ہو ہی جائے گی۔ لیکن تم نے بھی کیسے بے صبرے دشمن بنائے تھے۔ دوست بنانے کا گر آتا تھا پر دشمن بنانے میں تم سے چوک ہوگئی بلال، اب مان لو۔ اس وقت ہزاروں آنکھیں بہہ رہی ہیں۔ یہ وہ ہیں جو تمہاری جدائی کا دکھ جھیلنے سے انکار کیے جارہی ہیں۔

مجھے جب جب تم یاد آرہے ہو اپنے نظریے اور مشن کی وجہ سے نہیں بلکہ ان بے شمار شخصی خصوصیات کے لیے جن کا ادراک مجھے تمہارے جانے سے ذرا پہلے ہواتھا۔ کیا زندگی جہنم بنانے والی ان قبائلی روایتوں کو ختم کروانا اتنا آسان تھا جتنی آسانی سے تم مجھے بتا رہے تھے۔ یقیناً نہیں، میں اندازہ کر سکتی ہوں کہ اس کے لیے تم نے گھر اور قبیلے کے اندر ہی کتنے محاذ سر کیے ہوں گے۔ تم نتائج کی پروا کیے بغیر ہر جگہ ڈٹے ہوئے تھے، لیکن دنیا کو تمہارا روشن چہرہ نہیں دکھائی دیا بلال۔ تمہاری قدر نہ ہو سکی۔ تمہاری ایک ایک بات رہ رہ کر یاد آرہی ہے۔ سینے میں ایک ہُوک سی اٹھ رہی ہے۔ مانو کسی نے کلیجہ نوچ لیا ہو۔

جب تم نے مجھے بتایا کہ میری ازدواجی زندگی کے ختم ہونے پر مبنی تحریروں اور پوسٹ نے تمہیں ہمیشہ تکلیف دی، تم کبھی مکمل پڑھنے کی ہمت نہ کر سکے۔ مجھے یہ بات سن کر یقین نہیں آرہا تھا۔ تم اس قدر حساس بھی تھے۔ یہ کون سا چہرہ تھا تمہارا جو میں دیکھ رہی تھی۔ یہ دنیا والوں سے کیوں پوشیدہ رہا۔ ذاتی زندگی کے بارے میں عام مردوں کی طرح تڑ سے سوال داغنے کے بجائے تم نے مجھ سے اجازت طلب کی اور مزے کی بات اجازت ملنے کے بعد بھی کچھ نہ کریدا، کوئی تجسس نہ کیا اور دعاؤں سے میرا دامن بھر دیا۔ کاش مجھے تمہاری دعا ہمیشہ کے لیے لگ جائے بلال۔ مجھے جب جب زندگی آسانیاں دے گی میں سمجھ جاؤں گی یہ تمہاری دعاؤں کے صدقے میں ہے۔

تمہاری مسکراتی تصویر بار بار نظروں میں گھوم رہی ہے اور میں اس کے پیچھے چھپے کرب دیکھ رہی ہوں۔ کرایہ دینے کی سکت نہ تھی تو فلیٹ چھوڑ دیا۔ جب پوچھا بلال فلیٹ کیوں چھوڑا، تو کتنی آسانی سے اپنے دکھ پی کر مسکرائے اور کہا ”جب آمدن کچھ نہ ہو اور دینا پڑے تو پھر؟ بے روزگاری میں ایک سال رہ لیا اب اور مشکل ہے۔ “ اتنے مسائل کے باوجود اس مٹی سے وفا کا ایسا جنون کہ ترکی اور سعودی عرب کے ویزے تیار ہونے کے باوجود ایک ہی بات کی رٹ لگائی کہ تقدیر بدلنے کو ”یہی مٹی چھانوں گا۔ “ کل تمہاری یہ باتیں کتنی اچھی لگ رہی تھیں اور اب سینے پہ دو ہتھڑ مار کر بین کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔ دل چاہ رہا ہے چیخ چیخ کر تم سے کہوں، لو چھان لو مٹی۔ چھانو ناں! کیسے چھانو گے؟ اب یہی مٹی اوڑھے لیٹے ہو۔ بلال! مٹی سے تم نے تو وفا نبھا دی لیکن یہ مٹی تم اور تم جیسے کتنے ہی ہیرے کھا گئی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •