اپوزیشن کی مزاحمت کے آثار نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اتوار کو میاں نواز شریف کی حقیقی سیاسی جانشین محترمہ مریم نوازنے پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں جاتی امرا میں ظہرانہ دیا۔ ویسے تو یہ دعوت مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے اعزاز میں بلاول بھٹو کی افطار پارٹی کے جواب میں تھی لیکن اس کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی کہ اس افطار میں شریک دوکلید ی کردار آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز نیب کے طفیل اب جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس افطارپارٹی میں شہبازشریف بیرون ملک ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہوسکے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کے صدر، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پاکستان میں موجود ہونے کے باوجود جاتی امرا کی اس میٹنگ سے عنقا تھے۔

انھیں شرکت کی دعوت دی گئی یانہیں یہ تو واضح نہیں، تاہم رانا ثناء اللہ کے بقول شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی ملاقات ایک روز پہلے ہوگئی تھی لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ویسے بھی اگر ایسا ہوتا تو ملاقات کے موقع پر وہاں میڈیا موجود ہوتا۔ نوازلیگ کے حال ہی میں نامز د کردہ 16 نائب صدور میں سے ایک نائب صدر جن کی تقر ری کو پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں چیلنج کر رکھا ہے کا دعویٰ ہے کہ وہ پارٹی ڈسپلن کی پوری طرح پابند ہیں۔

نہ جانے یہ تاثر اب تک کیوں زائل نہیں ہوسکا کہ آصف زرداری کو سڑکوں پرگھسیٹنے کے دعوے دار میاں شہبا زشریف اپنی لائن پر ہیں اور ان کے بھائی جان اور بھتیجی کی الگ لائن ہے۔ شہباز شریف تاحال کسی بھی ایسی سرگرمی میں شریک نہیں ہوئے جس کا مقصد عمران خان حکومت کو گرانا ہو۔ اسی طرح جب میاں نواز شریف اور مریم نواز مقتدر اداروں اور نام نہاد خلائی مخلوق کے خلاف رطب اللسان تھے تب بھی شہبازشریف مذمتی تحریک میں شریک نہیں ہوئے۔

اگر شہبازشریف نے سیاست میں رہنا ہے تو انہیں اپنی نیم دروں نیم بروں لائن کے بجائے جلد ہی دوٹوک اور واضح حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔ بقول وزیر ریلویز شیخ رشید اب وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی روش کو ختم کرنا ہی پڑے گا۔ شہبازشریف کے مقابلے میں ان کے برخوردار حمزہ شہباز شریف زیادہ دلیر نکلے۔ پرویز مشرف کے دور میں جب پورا شریف کنبہ ڈیل کرکے سعودی عرب پدھار گیا تھا، حمزہ شہباز مشرف دور کی صعوبتیں یہاں رہ کر برداشت کرتے رہے۔ اسی بنا پر مسلم لیگ (ن) میں ان کی پذیرائی والد سے زیادہ ہے۔

حال ہی میں جب پنجاب کے سا بق وزیراعلیٰ دوماہ لندن قیام کرنے کے بعد واپس آئے توانھوں نے ایسی فلائٹ پکڑی جو علی الصبح لاہور پہنچ گئی۔ شاید دانستہ طور پر بطور سیاستدان اپنی واپسی پر طاقت کا مظاہرہ کرنے کی حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ اس کے مقابلے میں حمزہ شہبازشریف کی ضمانت منظور ہوئی تو نیب کے ہاتھوں ان کی گرفتاری پر خاصا ہلّہ گلّہ کیا گیا تھا۔

مریم نواز اور بلاول بھٹو کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری رکوانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ حکمت عملی اختیار کرنے میں بطور لیڈر آف اپوزیشن شہباز شریف کارول کلیدی ہونا چاہیے۔ حسب توقع معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے جو بطور حکومتی ترجمان دن میں کئی مرتبہ نیوز چینلز پر نمودار ہوتی ہیں یہ عندیہ دیا ہے کہ میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے، اپوزیشن کی وکٹیں گریں گی اور سیا سی یتیم ہا تھ ملتے رہ جا ئیں گے۔

محترمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کی منظوری اپوزیشن کا منصبی تقاضا ہے اور یہ منظور ہو جائے گا۔ ایک طرف اپوزیشن سے بجٹ کی منظوری کے لیے تعاون کی اپیل کی جا رہی ہے تودوسر ی طرف حکومتی حلقوں کی طرف سے دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔ محترمہ فردوس عاشق غالباً اس وقت پیپلز پارٹی میں تھیں جب عمران خان نے بطور اپوزیشن نہ صرف بجٹ پاس نہ ہونے دینے کی دھمکی دی تھی بلکہ یہ اپیل بھی کی تھی کہ عوام ٹیکس نہ دیں۔ اپوزیشن کی رکاوٹوں کے باوجود لگتا ہے کہ بجٹ منظور ہو جائے گا۔

جہاں تک اپوزیشن کا سڑکوں پر نکل کر تحریک چلانے کا تعلق ہے اس کے فی الحال آثار نظر نہیں آتے۔ اگرچہ بلاول بھٹو نے 21 جون سے عوامی رابطہ مہم شروع کر نے کا عندیہ دیا ہے، تاہم اتوار کے ظہرانے میں اس ضمن میں کو ئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ سرگرم جمعیت علماء اسلام کے سر براہ مولانا فضل الرحمن جو شہبازشریف اور بلاول بھٹو کے ساتھ ملاقاتیں کر چکے ہیں، اب اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس جون کے آخری ہفتے میں ہو گی۔

ان کی آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر اپوزیشن جما عتیں شرکت سے انکاری نہیں ہیں۔ تاہم اے این پی نے شرکت کے لئے یہ پخ لگا دی ہے کہ پیپلزپارٹی اور نوازلیگ مل کر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا دھڑن تختہ کریں۔ واضح رہے زرداری صاحب کے طفیل ہی وہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے تھے۔ میاں نواز شریف جیل میں حالیہ ملاقاتوں میں اپنی پارٹی کے رہنماؤں سے گلہ کر چکے ہیں یعنی وہ جیل میں ہیں لیکن ان کی پارٹی کے رہنما چوڑیا ں پہن کر بیٹھے ہیں۔

بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کے برعکس مسلم لیگ (ن) مزاحمتی جماعت نہیں ہے۔ اس نے کبھی سڑکوں پر نکل کر کوئی تحریک چلائی ہے اور نہ ہی اس میں حصہ لیا ہے۔ حتیٰ کہ پرویز مشرف کے دور میں جب نواز شریف نے اپنی جلاوطنی ختم کرکے لندن سے اسلام آبا د اور ایک بار لاہور لینڈکیا تو اس کے باوجود کہ لاہور مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے یہاں سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے اپنے بلوں میں چھپ گئے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب پرویز مشرف نے تختہ الٹ کر نواز شریف کو قید کردیا تھا، اس دوران بھی جب کسی نے مزاحمت کا مظاہرہ نہیں کیا تو محترمہ کلثوم نوازنے مسلم لیگ (ن) کے معدودے چند رہنما ؤں کے ہمراہ جن میں زعیم قا دری بھی شامل تھے سڑکوں پر نکل کر مزاحمت کی تھی اور وہ نو ازشریف کے خاندان کو جدہ لے جانے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ لہٰذا یہ معجزہ ہی ہوگا کہ اب مسلم لیگی تحریک چلانے کا فیصلہ کرنے کی صورت میں بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئیں۔

اس صورت میں پیپلز پارٹی کے لئے جس کا پنجاب میں کم ہی طوطی بولتا ہے مسلم لیگ (ن) کی بھرپور شرکت کے بغیر ایسی تحریک مزاحمت یا احتجاج جو با اثربھی ہو چلانا مشکل ہو گا۔ ویسے بھی دونوں جماعتیں کوئی تحریک چلانے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ محترمہ مریم نواز جو چپ کا روزہ رکھنے سے پہلے مقتدر اداروں کو رگیدتی رہی ہیں اب سارا غصہ خان صاحب پر ہی نکالتی ہیں۔ وہ میاں نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد ہی میدان میں نکلی ہیں۔

گویا کہ معاون خصوصی برائے اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان درست ہی کہتی ہیں کہ یہ ’ابو بچاؤ‘ تحریک ہے۔ اس وقت ملک کی اقتصادیا ت اور گورننس کی صورتحال انتہا ئی گھمبیر ہے۔ مہنگا ئی اور ڈالردونوں آسمان سے باتیں کررہے ہیں، بے روزگاری عروج پر ہے اور خود وزارت خزانہ کے مطابق شرح نمو کی مستقبل قریب میں بہتر ہونے کی کوئی توقع نہیں ہے۔ اسی طرح کے احساس محرومی اور نفسا نفسی کے ماحول میں حکومت نت نئے محاذ کھول رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام خود سڑکوں پر نکل آئیں کیونکہ صورتحال ایسی ہے کہ ”سڑکوں پر تیل بکھراہے اور بس تیلی دکھانے کی ضرورت ہے“۔

وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا پہلے ہی یہ دھمکی دے چکے ہیں کہ ملک کو ٹھیک کر نے کے لیے پانچ ہزار افراد کو پھانسی پر لٹکانا ہو گا۔ چند روز قبل ہی وزیر سا ئنس وٹیکنا لو جی فواد چودھری نے ایک تقریب جس میں بہت سے صحافی بھی شریک تھے کے سامنے گالی گلو چ کر کے ایک صحافی کو تھپڑ رسید کرگئے تھے۔ گویا کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ میڈیا کی بھی مزید سختی آنے والی ہے۔ وزیر اعظم نے اچھا کیا صحافی کو فون کرکے ان کی دلجوئی کی۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صورتحال انتہائی گھمبیر ہے جس میں جہاں اپوزیشن کوبردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے وہیں حکومت کو بھی تحمل اور برداشت کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن فی الحال تو حکمران جماعت کے پارلیمانی اجلاس میں وزیر اعظم نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اپوزیشن کو ”پے جاؤ“، بجٹ پاس ہو جائے گا۔ غالباً خان صاحب کو احساس ہو گیا ہے کہ اپوزیشن کے تلوں میں تیل نہیں ہے۔
بشکریہ روزنامہ 92۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •