آشا بھابھی کی کھڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ایک دفعہ وہ پتھر کے سل پر گیس کے برابر بیٹھ کر اپنی سانولی پنڈلیوں کو کھول کر ان پر انگلیوں سے کچھ لکھنے لگیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ کسی ہسپانوی شاعر کا لکھا ہوا کوئی وصل کا گیت، ان کی دیہاتی پنڈلی میں اتر آیا ہو، جہاں بالوں کا نام و نشان نہ تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا، جیسے سانولی چھت پر چاندنی میں ڈوبے ہوئے پرندے رقص کررہے ہوں۔

دن بہ دن آشا بھابھی کی بے تابی بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ اس لڑکے کے بارے میں جاننا چاہتی تھیں۔ آنکھوں کی اس پھوار نے ان کے سوکھے ہوئے بدن کی بے جان مٹی میں روح پھونک دی تھی۔ اب وہ دن میں کئی دفعہ انگلیاں چٹخاتیں۔ دانتوں سے ناخن کترتیں، گلے پر ہولے ہولے الٹی جانب سے انگلیوں کے پھریرے لگاتیں، سسکیاں لیتیں، آہیں بھرتیں۔ بازار سے ایک دن سودا سلف لاتے وقت وہ اس بلڈنگ کی اسی کھڑکی کے نیچے رک گئیں۔ چلچلاتی ہوئی دھوپ تھی۔

 چیل انڈا چھوڑ رہی تھی، ایسے میں ان کے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ پھاٹک پر جاکر کسی سے پوچھیں کہ دوسری منزل پر کون رہتا ہے، مگر پھر محلے والوں کی بے رخی اور خوف کا خیال کر کے انہوں نے ارادہ ترک کردیا، منہ اوپر اٹھا کر اسی کھڑکی کو حسرت سے ایک دفعہ دیکھا کہ شاید کوئی نظر آجائے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ کھڑکی کے دونوں پٹ دھوپ کی چادر اوڑھے ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے بے خبر سورہے تھے۔ گھر آکر وہ سامان رکھ رہی تھیں کہ ایک خیال نے ان کی آنکھوں کو چونکا دیا۔

آج تک انہیں یہ خیال کیوں نہیں آیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ دودھ ابالنے سے اس لڑکے کے دکھ جانے کا کوئی گہرا تعلق ہو، بچکانہ ہی سہی مگر امید تو تھی۔ وہ سامان کو تتر بتر چھوڑ کر تیزی سے کچن میں گئیں، سامنے والی کھڑکی کا پٹ دھاڑ سے کھولا اور ٹھنڈا دودھ فرج سے نکال کر ایک پتیلی میں انڈیلا اور گیس پر اسے چڑھا دیا۔ دودھ ابلتا رہا اور وہ بے قراری کے ساتھ سامنے والی کھڑکی کو دیکھتی رہیں۔ پتہ ہی نہ چلا کہ کب دودھ ابل کر بہنے لگا، جب تک احساس ہوا، کافی دودھ پتھر پر گر چکا تھا، انہوں نے گیس کو بند کیا، پتیلی کو پاس پڑی ایک ڈھکنی سے ڈھانکا اور غصے میں جاکر یونہی پلنگ پر لیٹ گئیں، بہت دیر تک وہ اس لڑکے کی اس بے وقوفی پر غصہ ہوتی رہیں، خود پر بھی انہیں بے حد افسوس ہوا کہ وہ کس قسم کے جال میں پھنس رہی ہیں۔

انہیں کیا ضرورت ہے کہ وہ ایک ان جانے لڑکے کو اس طرح روز روز اپنے جادوئی حسن کا دیدار کراتی پھریں۔ نامرد کہیں کا۔ صرف دیکھتا ہی رہے گا، اتنی بھی ہمت نہیں کہ ان کا دروازہ کھٹکھالے، ارے کوئی اشارہ ہی کردے، کوئی چٹھی پھینک دے، کوئی پتھر اچھال دے۔ اب آئے کمبخت، میں شام کو جاؤں گی ہی نہیں، ویسے بھی دودھ تو میں نے پکا ہی لیا ہے۔ نہ جانے کب تک اسی غصے میں بڑبڑاتے بڑبڑاتے اور اپنے ان دیکھے دشمن محبوب کو گالیاں اور دھمکیاں دیتے ہوئے ان کی آنکھ لگ گئی۔

جب آنکھ کھلی تو رات ہورہی تھی، وہ پہر بیت چکا تھا، جب وہ روزانہ دودھ پکایا کرتی تھیں اور لڑکا پٹ کھول کر انہیں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتا تھا۔ پھر بھی وہ کچن میں گئیں، پکے ہوئے دودھ کی پتیلی سے ایک گلاس دودھ نکال کر دھیرے دھیرے پیتے ہوئے سامنے والے گھر کی کھڑکی پر نظرجمائے رہیں۔ پٹ اسی طرح ایک دوسرے سے گتھے ہوئے تھی، روشنی بھی نہ تھی۔ دودھ کا گلاس ختم ہونے کے بعد انہوں نے آہستگی سے اٹھ کر کچن میں غیر ضروری کام نمٹائے، ہر کام بے حد تسلی سے کیا۔

برتن دھوتے وقت بھی، ہر تھوڑی دیر میں آکر وہ کھڑکی کو دیکھ جاتیں، بہرحال مجبور ہو کر رات گئے انہوں نے اپنی کھڑکی کو ڈھلکایا اور دن کا لایا ہوا سامان ترتیب سے لگا کر ایک جنسی قصہ پڑھنے لگیں۔ قصہ اتنا دلچسپ تھا کہ ان کی تھرتھراتی انگلیاں کب ناف کے نیچے پہنچ کر شور مچانے لگیں، خود انہیں بھی احساس نہ ہوا۔ تھوڑی دیر میں کتاب ایک طرف پڑی تھی، اور آشا بھابھی کے بدن سے سامنے والی بلڈنگ کا وہی لڑکا لپٹا ہوا تھا، وہ ان کے وجود میں ضم ہوتا جارہا تھا، ایک طرف دودھ ابل رہا تھا، اور اس کے ابال کے ساتھ ہی گرم گرم بھانپ کی رسیوں پر سانسوں اور سسکیوں کے غیر موجود پرندے بیٹھتے، پھڑپھڑاتے اور اڑتے جا رہے تھے۔

 لڑکے کے بازوؤں کی مچھلیاں، آشا بھابھی کی کمر کو اجگر کی طرح اپنے اندر لپیٹ رہی تھی، مگر مچھ کی طرح موت کی چکربازیاں دکھارہی تھیں۔ ان کے بدن کا ہر ایک رونگٹا، لڑکے کی آنکھوں سے نکلنے والے تیزابی لعاب کی چادر میں دھنستا جارہا تھا، دبتا جارہا تھا۔ ان کی ناف، ران اور اندام عریانی پر لڑکے کی تابناک نگاہوں کے گرم گرم بوسوں نے انہیں نڈھال کردیا اور وہ دھب کی ایک عجیب سی آواز کے ساتھ پلنگ سے گر پڑیں۔

صبح بڑی دیر سے ان کی آنکھ کھلی، آشا بھابھی نے ایک بھرپور جمائی کے ساتھ بدن توڑ کر رکھ دینے والی انگڑائی لی۔ وہ کھلے بالوں اور پھٹے لباس کے ساتھ بجائے واش بیسن پر جانے کے کچن میں آئیں، اور ہلکے سے کھڑکی کے پٹ کو انہوں نے انگلیوں سے پرے دھکیلا۔ چیختی ہوئی دھوپ منظر پر بکھری پڑی تھی۔ آسمان اپنی ننگی نیلاہٹیں لیے کسی بے شرم بوڑھے باپ کی طرح سورج کی نافرمانی پر آنکھیں موندیں اوندھا لیٹا تھا، کسی سفید و سیاہ بادل کا دور و نزدیک کوئی نشان تک نہ تھا اور سامنے والے مکان کی کھڑکی کے دونوں پٹ بدستور ایک دوسرے کے گلے لگے سو رہے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3