آشا بھابھی کی کھڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عام سی تنگ گلی میں یہ جو چھجے پر ہرے، نیلے، کالے، پیلے کپڑے سوکھ رہے ہیں، یہ آشا بھابھی کے ہیں۔ آشا بھابھی اس محلے میں پچھلے کئی برسوں سے رہ رہی ہیں۔ سردی، گرمی، برسات ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ پڑوسی ان سے بات نہیں کرتے، ہنستے بستے لوگوں سے لے کر روتے بسورتوں تک وہ سب کے لیے ایک خوفناک شخصیت ہیں۔ نہیں، بدصورت نہیں ہیں۔ یہ دیکھیے، یہ جو لکڑی کے دو پٹ آپس میں بھڑے ہوئے ہیں، ان کے اندر آئیے، اوپر ایک طرف کو جھکی ہوئی شکستہ سی چھت ہے، جس کے کاہی لگے کونے دیکھنے سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکان کم از کم ایک صدی پرانا ہے۔

سیڑھیاں خستہ ہیں، اینٹ اور گارے کے بجائے، پتھر اور لکڑی سے ملا جلا یہ مکان اپنے ہر رنگ میں بوسیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ خوش پیکر بھی معلوم ہوتا ہے۔ اس کی سیمنٹی دیواروں پر روغن نہ سہی، اس کی کاہی کتھئی آنکھوں میں نئے زمانے کی برق ریزی کا سرمہ نہ سہی، اس کے بے ڈول اور بے سمت بدن پر سفید و زرد پلستر کا عمدہ لباس نہ سہی، مگر اس میں آشا بھابھی کی موجودگی بتاتی ہے کہ سب کچھ صحیح ہے۔ یعنی جتنا بھی کچھ ہے۔ ہاں تو ہم گھر کے اندر گھسے ہی تھے کہ باہر آگئے۔

چھت تو آپ نے دیکھ لی، اب ذرا فرش پر غور کیجیے، چلنے سے محسوس نہیں ہوتا؟ کہ یہ فرش چوروں کے تو کیا بلیوں کے قدموں کے لیے بھی ناموزوں ہے۔ ذرا آپ نے ایک قدم اٹھا کر آہستگی سے جمایا کہ دھب کی ایک آواز گونج پڑی، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بھول بھلیاں میں کوئی سرگوشی ہو رہی ہو، قدم کیا کہہ رہے ہیں، یہ جاننا تو ممکن نہیں، مگر ان کی کھس پھس سے ان کی نیتوں کا پیٹ ضرور چاک کیا جا سکتا ہے۔ آگے بڑھیے تو دو بڑے لق و دق کمرے ہیں۔

نہیں نہیں، اس کمرے میں نہ جائیے۔ نہ جانے کیسا کیسا کاٹھ کباڑ یہاں پڑا ہوا ہے۔ پرانے چاندی کے برتن، جن پر پھول پتیوں، موسیقی کے آلات، کلاسیکل شاعروں کے اشعار اور نہ جانے کیا کیا تراشا گیا ہے، انہی کے پاس پڑے ہیں پرانے چینی برتن، جن کے پاس سے گزرتے وقت اگر احتیاط نہ برتی جائے تو کھٹ سے انگڑائی کی طرح ٹوٹ جائیں۔ پھر کہاں کہاں کا کپڑا لتا، گٹھریاں، مخطوطات، تصویریں، ایک کھنڈلا ستار اور نہ جانے کیا کیا الا بلا۔

اس کمرے میں گئے ہوئے آشا بھابھی کو بھی کئی زمانے گزر چکے ہوں گے۔ اسی لیے چوہے اور چھپکلیوں کے کئی خاندان معلوم ہوتا ہے پشتوں سے یہاں چین کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ دروازہ بھڑا ہی رہے تو اچھا ہے، اس طرف دیکھیے، دائیں طرف۔ جی ہاں۔ یہ جو کمرہ ہے، اپنی چوڑائی کے لحاظ سے برابر والے گودام نما کمرے سے چھوٹا ہے، مگر اس کی خوش قسمتی ہے کہ اس میں جو یہ جہازی قسم کا جھرجھر کرتا ہوا پلنگ ڈول رہا ہے، اس پر آشا بھابھی دوپہر اور رات میں آرام فرماتی ہیں، کئی دفعہ لیٹ کر اوندھے سیدھے رومانی اور جنسی قصے پڑھتی ہیں، جن کے لیے انہوں نے قریبی بازار میں دو دکانیں دیکھ رکھی ہیں۔

 ایک چیز جو اور چونکاتی ہے، وہ ہے آشا بھابھی کے کمرے میں جرائم کے قصوں پر مشتمل مختلف پرانے رسالوں کی بھرمار۔ یہ قصے انہوں نے کب پڑھے، آیا وہ انہیں پڑھتی بھی ہیں یا صرف جمع کرنے کا شوق رکھتی ہیں۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ اس بوسیدہ عمارت کی تاریخ بیان کرنے کے لیے میں آپ کو یہاں لایا ہوں تو آپ غلط سوچ رہے ہیں۔ یہ کہانی تو مستقبل کی ہے، یعنی آشا بھابھی کی زندگی کے اس مختصر دورانیے کی، جسے وہ قریب پندرہ سال بعد اصل میں جینے چلی ہیں۔

 یہ تو میں نے آپ کو بتایا کہ لوگ آشا بھابھی سے ڈرتے ہیں۔ یہ نہیں بتایا کہ کیوں۔ وجہ یہ ہے کہ چھ سال پہلے تک وہ اپنے شوہر کے ساتھ اس پشتینی گھر میں آرام سے زندگی بسر کررہی تھیں۔ اچانک ایک رات ان کے شوہر کا ان سے جھگڑا ہوا، محلے والوں نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا کہ آشا بھابھی پران کے شوہر رات گئے ایسے گرج برس رہے ہوں، بلکہ بازار اور پڑوس کے لوگوں کو عام طور پر یہی تجربہ تھا کہ وہ اپنی بیوی سے دبتے ہیں۔

 کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ آشا بھابھی کے پیر کا انگوٹھا چونکہ ان کے شوہر کے انگوٹھے سے بڑا ہے، اس لیے وہ فطری طور پر منہ زور ہیں َ۔ غصہ کس بات پر تھا، یہ بات اہم نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ آشا بھابھی کو مارنے کوٹنے کی آوازیں بھی آنے لگیں، پڑوس کے دو ایک شریف زادوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ دروازہ کھٹکھٹا کر بات کا پتہ لگانا چاہیے مگر ابھی وہ پاجاموں میں پاؤں ڈال ہی رہے تھے کہ شور بند ہوگیا، کچھ دیر تک ادھر ادھر چہ مگوئیاں ہوتی رہیں، مگر بات ختم ہوجانے کی وجہ سے پوچھ تاچھ کے سلسلے کو صبح کے کاندھوں پر ٹانگ کر لوگ لمبی تان کر سو گئے۔

 مگر جب صبح آنکھ کھلی تو یہ جان کر بھونچکا رہ گئے کہ آشا بھابھی کے شوہر کی لاش پولیس کی موجودگی میں نکالی جا رہی ہے، کہیں کوئی خون وون کے آثار نہ تھے، اور بعد کی تفتیش میں معلوم بھی یہی ہوا کہ شوہر صاحب دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے دنیا سے سدھار گئے ہیں، لیکن آس پاس کے لوگوں نے آشا بھابھی کو اس کا قصوروار ٹھہرادیا۔ ان کی نظروں میں وہ ایک قاتل عورت تھیں، رات کو جو لوگ ان سے ہمدردی رکھتے تھے، صبح وہی ان کے مخالفین میں تبدیل ہوگئے۔

 ایک ڈیڑھ مہینے میں مشورے ہونے لگے کہ کس طرح آشا بھابھی کے محلے میں رہنے کی وجہ سے وہ ہر وقت دہشت میں رہتے ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کو آشا بھابھی کے گھر کے نزدیک بھی نہ جانے دیتی تھیں۔ رفتہ رفتہ آشا بھابھی کا گھر بھوت بنگلے کے نام سے مشہور ہوگیا۔ محلے کے دوکان دار بھی ان سے کترانے لگے، وہ سودا سلف لینے جاتیں تو مرد انہیں دور سے دیکھ کر اپنی بیویوں، بیٹیوں کو آگے کر دیتے، جو کہ ان سے معذرت کر لیتیں۔ آشا بھابھی پر پڑنے والی اس مصیبت نے، انہیں خود بھی علیحدگی پسند بنا دیا۔

وہ نفسیاتی طور پر کچھ متاثر بھی ہوئیں۔ بعض دفعہ انہیں اپنی بالکنی میں کھڑے ہوکر لوگوں کو چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا اعلان کرتے دیکھا گیا۔ راتوں کو وہ کئی دفعہ اپنے ہی محلے میں ٹہلتی ہوئی نظر آتیں، انہیں دیکھ کر کچھ ڈرپوک قسم کے نوجوانوں کی گھگھیاں بھی بندھ چکی تھیں۔ مگر رفتہ رفتہ انہوں نے اپنی قسمت کو قبول کرلیا۔ انہوں نے اس محلے کو ’عدم آباد‘ تصور کرکے، پڑوس کے بازار سے رشتہ جوڑ لیا۔ جہاں ان کے بارے میں اڑتی اڑتی الٹی سیدھی خبریں ضرور پہنچتی تھیں، مگر ان کا اثر آشا بھابھی کی زندگی کے معمولات کو روک پانے میں ناکام تھا۔ وہ سودا سلف لاتیں، وقت کاٹنے کے لیے انہوں نے رسالوں اور کتابوں سے ناطہ جوڑ لیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •