سروں پہ یہ بادشاہ بہت دیر تک رہیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا آخر کیا جھگڑا ہے؟ بے شک شجرے کھنگال لیے جائیں دور سے بھی کوئی عزیز داری نہیں! کوئی پگڈنڈی، کھیتوں کے درمیان، سانجھی نہیں۔ ہمارے صحن میں ان کا کوئی پر نالہ نہیں گرتا۔ کوئی کاروبار مشترک تھا نہ کسی شعبے میں مقابلہ نہ معاصرت! ہم جیسے عام پاکستانی کا شریف فیملی سے کیا مقابلہ! ہمارے تو پورے علاقے میں، ایک آدھ بار کے سوا وہ بھی مجبوراً، ان کا کبھی گزر ہی نہیں ہوا۔ ہماری ان سے کیا دشمنی! ہم رعیت وہ بادشاہ!

ہم غریب وہ کھرب پتی، لندن کے جس علاقے میں ان کی جائیدادیں ہیں، ہم وہاں سانس لینے کا بھی سوچ نہیں سکتے۔ یو اے ای اور سعودی عرب میں جہاں ان کے کارخانے ہیں، ہم وہاں جوتے چٹخانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہم نے پوری زندگی کی جمع پونجی جمع کر کے جو گھر بنایا، وہ ان کے محلات میں سے کسی ایک محل کے پورچ ہی میں سما جائے۔ ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم جیسے کروڑوں عام پاکستانیوں کے ادا کردہ ٹیکسوں سے جو پیسہ انہوں نے نچوڑا ہے، وہ واپس کر دیں اور شرافت کی جو نقاب اوڑھی ہوئی ہے، اسے اتار دیں!

یہ جو مشتاق چینی نے عدالت میں ان کے حوالے سے بیان دیا ہے، وہ فوج نے دلوایا ہے نہ عمران خان نے۔ بزعمِ خود شریف خاندان کے دو ہی دشمن ہیں۔ پاکستانی مسلح افواج اور عمران خان! اس بیان سے دونوں کا تعلق نہیں، مشتاق چینی شریف خاندان کے سکہ بند قدیم وفاداروں میں سے ہے۔ اس کا بیان ہے کہ ”حمزہ اور سلمان شہباز کے ساتھ 2005 ء سے کاروبار کر رہا ہوں۔ سلمان شہباز نے ٹرانزیکشنز کو قانونی بنانے کے لیے دو فرضی معاہدے کیے۔

ایک معاہدہ میرے، دوسرا میرے بیٹے کے ساتھ کیا گیا۔ معاہدوں کے مطابق سلمان شہباز کو 61 کروڑ روپے قرض دیا گیا۔ وعدہ معاف گواہ مشتاق چینی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ جو رقم سلمان شہباز کو ٹرانسفر کی، وہ انہی کی تھی۔ دونوں معاہدے فرضی تھے۔ حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا سلمان شہباز نے دس کروڑ ہماری کمپنی کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے۔ ہم پیسہ وائٹ ہو جانے کی لالچ میں کام کرتے رہے، 2014 ء میں شہباز شریف کے سی ایف او محمد عثمان نے سلمان شہباز کے لیے 60 کروڑ کی رقم کے لیے کہا۔

میں نے کہا اتنی بڑی رقم نہیں دے سکتا۔ جیسے جیسے رقم میرے اکاؤنٹ میں آتی رہی سلمان شہباز کے چیک کاٹ کر دیتا رہا۔ “ لوٹ مار۔ ۔ ۔ اندھی بے رحم لوٹ مار کا اس سے زیادہ ثبوت کیا ہو گا؟ جن دانش مندانِ گرامی نے اس خاندان کے عہدِ اقتدار میں فوائد سمیٹے، ان کی بات الگ ہے۔ بیرونی دوروں میں رفاقت کا اعزاز، ہیلی کاپٹروں کی سواریاں، اخبارات کے اشتہارات! کچھ کو عہدے، مناصب اور رکنیتیں مل گئیں۔ کچھ کو پلاٹ۔

ان حضرات کا مسئلہ تو سمجھ میں آتا ہے۔ یہ شریف خاندان کے لیے لڑائی نہیں لڑیں گے تو کون لڑے گا! مگر ان بزرگانِ محترم پر حیرت ہے جنہوں نے فائدہ کوئی نہیں اٹھایا پھر بھی ان کے سحر میں ایسے گرفتار ہیں کہ کھلی، واضح اور برہنہ کرپشن پر بات کرتے ہیں نہ لکھتے ہیں۔ رہا وسطی پنجاب کا معاملہ تو اس میں شک نہیں کہ یہ شریف خاندان کا گڑھ ہے۔ اس کے اسباب تین ہیں۔ اوّل۔ ان علاقوں کے لیے شاہی خاندان نے بہت کچھ کیا ہے۔

شاہراہیں بنوائیں، ہسپتالوں کی حالت بہتر کی، نوکریاں دیں۔ آلِ شریف کا پنجاب اصلاً وسطی اضلاع پر مشتمل ہے۔ فیصل آباد سے لے کر سیالکوٹ تک۔ اور شیخوپورہ گوجرانوالہ سے لے کر قصور تک! یہی ان کا پنجاب ہے۔ یہی ان کا پاکستان ہے۔ دوم۔ ان علاقوں میں برادری ازم عروج پر ہے۔ یہ لوگ ارائیں، جاٹ، کشمیری اور راجپوت برادریوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ شریف خاندان طویل تجربہ کی بنیاد پر اس برادری ازم کے تاروپود اور بُنت سے اچھی طرح واقف ہے اور پیادے اور شاہ، برادریوں کی شطرنج سامنے رکھ کر چلاتا ہے۔

سوم۔ ان علاقوں میں سیاسی شعور، شاید، پاکستان بھر میں سب سے کم ہے۔ یہ ”زندہ دل“ لوگ ہیں۔ ہلّے گلّے پر یقین رکھتے ہیں۔ سوچنے والے لوگ کم ہیں! بہت کم! اگر کسی ذہن میں رمق بھر متانت ہے اور کسی دل میں حب الوطنی کا ایک قطمیر بھی ہے تو شریف خاندان سے متاثر نہیں ہو سکتا۔ لکڑ ہضم، پتھر ہضم، جیسا عامیانہ محاورہ ان پر بدرجۂ اتم صادق آتا ہے۔ جھوٹ بولتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں اور پلک تک نہیں جھپکاتے۔

اقوامِ متحدہ کا دورہ ہوتو بیٹی تو بیٹی ہے، نواسی بھی ہمراہ ہو گی۔ باورچیوں کی فوج ظفر موج ساتھ ہو گی۔ قومی ایئرلائن کا جہاز ہفتوں، بے دردی کے ساتھ، لندن ایئرپورٹ پر کھڑا رکھیں گے۔ بچوں کا نکاح حرم شریف میں پڑھوانا ہے مگر حکومتی خرچ پر۔ امریکہ میں مسافر انتظار کرتے رہیں مگر قومی ایئر لائن کے جہازوں کا رُخ حجاز کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ ”نیب کی ٹیم نے سابق وزیر اعظم سے خیریت دریافت کرنے کے بعد بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے متعلق سوالات کیے۔

استفسار کیا گیا کہ بلٹ پروف گاڑیاں کب، کیسے اور کتنی رقم سے خریدی گئیں؟ نیب کی ٹیم نے یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ کو معلوم تھا کہ خریداری میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے؟ سابق وزیر اعظم نے مؤقف اپنایا کہ تین مرتبہ وزیر اعظم رہا۔ قوم کی خدمت کی۔ ملک کو لوڈشیڈنگ کے اندھیروں سے نکالا اور ایٹمی قوت بنایا۔ جو کچھ بھی کیا وہ ملک و قوم کے مفاد میں کیا۔ نیب کی ٹیم نے پھر پوچھا کہ الزام یہ ہے کہ آپ نے بلٹ پروف گاڑیوں کو اپنے ذاتی استعمال میں لا قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا۔

سابق وزیر اعظم کا جواب تھا کہ قوم کے ایک ایک روپے کی حفاظت کی ہے۔ موٹروے بنائی اور ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ نیب کی ٹیم نے پھر کہا کہ آپ پر لگنے والے الزامات کی حقیقت تک پہنچنا ہے۔ جو بھی آپ کا جواب ہے وہ ہمیں بتا دیجیے تا کہ قانون کے مطابق کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔ نواز شریف نے جواب دیا کہ مجھے اطلاعات مل رہی ہیں کہ عوام کو ریلیف کی تلاش ہے مگر حکمران ریلیفی دینے کے بجائے الزامات لگا رہے ہیں۔

“ ایک اور فلم ہے جو بار بار چلائی جاتی ہے۔ کبھی پیپلزپارٹی کے سربراہ زرداری صاحب رائے ونڈ پہنچتے ہیں۔ وقت کے وزیر اعظم ان کے ڈرائیور بنتے ہیں۔ ستر سے زیادہ پکوان پیش کیے جاتے ہیں۔ چھوٹے بھائی صاحب سامنے نہیں آتے کہ سڑکوں پر گھسیٹنے والی بات نہ یاد آ جائے۔ اب بلاول رائے ونڈ تشریف لے گئے ہیں۔ مریم صفدر صاحبہ نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیے گویا ؎ آ عندلیب! مل کے کریں آہ و زاریاں تو ہائے گُل پکار میں چلاؤں ہائے دل!

یہی صورت احوال پیپلزپارٹی کی ہے۔ الزامات کا جواب کوئی نہیں دیتا۔ اثاثے ساری دنیا کو معلوم ہیں۔ دونوں خاندانوں کا شاہانہ طرزِ زندگی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں! عوام سے دور کا بھی تعلق نہیں! ووٹ دینے والے سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں۔ علاج کی سہولیات نہ پینے کے لیے صاف پانی، چھتیں ٹپکتی ہوئیں، گلیاں کیچڑ سے لت پت، بنیادی سہولیات عنقا۔ تعلیم پست ترین سطح پر، مگر نسل درنسل حکمرانی کرنے والے، پاؤں سرخ قالین سے نیچے نہیں دھرتے۔

زنداں میں بھی خدام کی فوج ظفر موج ساتھ! مہذب، ترقی یافتہ دنیا کے کسی بھی صدر، کسی بھی وزیر اعظم، کسی بھی بادشاہ کا معیار زندگی جانچ لیجیے، مریم صفدر صاحبہ اور بلاول صاحب کے معیارِ زندگی سے کئی درجے کم ہو گا۔ بہت سوں کے پاس سبزی گوشت خریدنے کے لیے ملازم تک نہیں۔ کھانا ان کی بیویاں پکاتی ہیں۔ کوئی پوسٹ آفس کی کھڑکی کے سامنے کھڑا پایا جاتا ہے، کوئی ٹرین میں کھڑا نظر آتا ہے۔ مگر آفرین ہے ہم پر! ہمیں بادشاہ چاہئیں جن کے سامنے ہم دست بستہ کھڑے ہو سکیں۔ رکوع میں جا سکیں ؎ رہیں گے جسموں پہ سربہت دیر تک سلامت سروں پہ یہ بادشہ بہت دیر تک رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •