فحش فلموں کی اداکاراﺅں نے انسٹاگرام کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا


Amber Lynn

فحش فلموں کی اداکاراﺅں، ماڈلز اور خواتین کے حقوق کی کارکنوں نے انسٹاگرام کے ہیڈکوارٹرز کے باہر دھرنا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ خواتین اپنی فحش تصاویر اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹس پر پوسٹ کرتی ہیں، جس پر کمپنی کی طرف سے ان کے اکاﺅنٹ معطل یا ڈیلیٹ کر دیئے جاتے ہیں، چنانچہ اب وہ احتجاجاً سیلیکون ویلی میں واقع کمپنی کے ہیڈکوارٹرز کے باہر دھرنا دینے جا رہی ہیں۔

فحش فلموں کی امریکی اداکارہ امبر لین کا کہنا تھا کہ ”میں نے اپنی ایک تصویر پوسٹ کی جس پر انسٹاگرام کی طرف سے میرا اکاﺅنٹ ڈیلیٹ کر دیا گیا اور مجھے اپنے ایک لاکھ فالوورز سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔ اکاﺅنٹ ڈیلیٹ کرنے سے پہلے کمپنی کی طرف سے مجھے کوئی وارننگ بھی نہیں دی گئی۔“

امریکی شہر لاس اینجلس کی رہائشی ماڈل ریچل کلگسٹن نے بتایا کہ ”میں نے اپنی ایک باتھ روم سیلفی انسٹاگرام پر پوسٹ کی جس پر میرا اکاﺅنٹ بغیر کسی وارننگ کے معطل کر دیا گیا۔ “ ان خواتین کا کہنا ہے کہ ”انسٹاگرام کی طرف سے تصاویر میں عریانی کے متعلق کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی گئی۔ کمپنی کو چاہیے کہ وہ واضح کرے کہ تصویر میں کتنی برہنگی ہونی چاہیے اور اگر کوئی تصویر پالیسی کے خلاف ہو تو کمپنی اس تصویر کو ڈیلیٹ کرے یا صارف کو اسے ڈیلیٹ کرنے کی وارننگ دے۔ وہ خود سے فیصلہ کر کے اکاﺅنٹ ہی ڈیلیٹ کر دیتی ہے جو کہ ہمارے لیے شدید ذہنی پریشانی کا سبب بنتا ہے۔“

https://www.theguardian.com/technology/2019/jun/19/instagram-nude-photo-policy-protest

Facebook Comments HS