سلیبریٹی گدھا، لیاری اور انگلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں اپنے تایا کے ساتھ لیاری میں رہا کرتا تھا۔ ہمارے گھر کے ساتھ موجود چھوٹے سے سرکاری قطعہِ زمین پر نیم کے درخت کے نیچے شیدی فقیر محمد عرف بجلی کا ”راکٹ“ بندھا رہتا تھا۔ شیدی فقیر محمد جوانی میں مشہور فٹ بالر اور باکسر تھے۔ اپنی طاقت، پھرتی اورمخالف پر برساتے برق رفتار گھونسوں کی وجہ سے ”ماما بجلی“ کے نام سے شہرت پائی ماما نے عمر ڈھلنے کے بعد سپورٹ سے وابستہ زندگی کا حق ادا کرتے ہوئے دنیا کو ایک نئی گیم متعارف کروائی۔

اِس سے قبل حب ریور روڈ پر چند من چلے نوجوان یہ گیم کھیلا کرتے تھے مگر اِسے یوں نیشنل و انٹرنیشنل پزیرائی حاصل نہ تھی۔

ماما بجلی نے ہلکی آرام دہ اور سبک گدھا گاڑی ایجاد کی اور کراچی میں پہلی بار لمبی ریس کے گدھوں کی باقاعدہ خوراک اور روزانہ پریکٹس کا شیڈول متعارف کروایا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے کراچی کے ہر بلوچ باڑے میں چھریرے اور شوخ بدن ریس کے گدھے نظر آنے لگے۔

ماما بجلی اپنا راکٹ ہماری بیٹھک کے دروازے سے چند قدم دور نیم کے درخت تلے باندھا کرتے تھے دن بھر اُسے اصلی گھی، بادام اور نا جانے کون کون سے مربہ جات خوراک کے گولے میں ڈال ڈال کر کھلایا کرتے۔ کراچی بھر سے استادانِ خر اُن سے ریس، خوراک اور علاج کا مشورہ کرنے نیم کے درخت کے نیچے لگی بنچ پر براجمان رہتے۔

اِس سے قبل شدید گرمی اور بجلی کے بریک ڈاؤن کے دوران میں اور تایا اُس درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں چارپائیاں ڈالے پسرے رہتے تھے، مگر راکٹ کے آجانے، لید گنداور بدبو نے اب وہاں ڈیرا لگانا ہمارے لیے دو بھر کر دیا تھا۔

ایک دو بار بلوچی رسم و رواج کے مطابق محلے کے سفید ریش قبائلی بڑوں کا جرگہ بھی اِس مسئلہ کو بخیر و خوبی حل کروانے کو منعقد کیاگیا مگر ہم چونکہ ڈھاڈر سے لیاری بہت بعد میں منتقل ہوئے تھے اور شیدی فقیر محمد عرف ماما بجلی کی نسلیں دہاؤں سے اُس محلے میں آباد تھیں۔ چاچے، مامے، خواہرزادے دوست یار، پرانے فٹ بالر اور باکسر سب اُس کی حمایت کرتے۔

جرگے میں کئی لوگوں نے یہ گواہی بھی دی کہ محلے میں موجود چند نیم کے تناور درخت ماما بجلی کے والد صاحب نے ہی لگائے تھے تو جرگے نے فیصلہ اُن کے حق میں دے دیا۔

ماما بجلی نہایت ملنسار اور پیار کرنے والے انسان تھے۔ گلی میں آباد مرد و زن حتٰی کے اُن سے عمر میں بڑی خواتین و بزرگ بھی اُنھیں ماما ہی کہہ کر پکارہ کرتے تھے۔

فیصلہ اپنے حق میں آنے کے بعد انھیں اُس درخت اور سرکاری قطعہِ زمین پر پورا حق حاصل ہو گیا تھا مگر اُنھوں نے تایا کو نہ صرف درخت کا سایہ انجوائے کرنے بلکہ مہمانوں کو وہاں لگی بنچ کر بیٹھا کر اکرام کرنے کا مکمل اختیار دیا۔ جس کی وجہ چند ماہ بعد اُنھیں سگریٹ میں کچھ بھرتے دیکھ کر سمجھ آئی۔

اِس اجازت کے باوجود تایا اور میں اب اُس قطعہِ زمین اور درخت سے دور ہی رہتے مگر گدھے کی بدبو اور ہر وقت کی ڈھینچوں ڈھینچوں نے ہماری زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔

گدھا آج بھی اُسے ہی کہتے ہیں، جو بے مقصد اور بے وقت کی راگنی گاتا رہے۔ ہرعام وخاص گدھا یہ حرکت کر کے اپنے جملہ گدھانہ اوصاف درشان کرتا رہتا ہے پھر راکٹ تو ایک سلیبریٹی تھا۔ گڈانی، یوسف گوٹھ، ملیر، چاکیواڑہ، کھارہ در، میٹھا در، ربلوچ پاڑہ اُرونگی ٹاون سے بلوچ پاڑہ جمشید روڈ تک ریس سے جڑا ہر نوجوان اُس کا دیوانہ تھا۔

گرومندر پر تیار ہوتے اکثر ویسپا پر اب ”راکٹ“ لکھوایا جاتا تھا جو رفتار اور مستی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ راکٹ تھا بھی بالکل اسمِ با مسمی گدھا۔ جوں ہی ماما بجلی ایسے بھگانے کو سنگل مین ریڑی پربیٹھ کر بھونپو بجاتا، وہ ایسا راکٹ ہوتا کہ باقی سب گدھے اُس کے سامنے مزید گدھے لگنے لگتے۔

گدھا بے شک سلیبریٹی ہو مگر ہوتا تو گدھا ہی ہے نا۔ بس راکٹ میں بھی یہی ایک خامی تھی۔ رات کو جب ماما بجلی اُس کی مٹھی چاپی کر کے گھر روانہ ہوتا تو راکٹ مالش کے خمار میں زمین پر لیٹ کر کسی ہیرو کی طرح آرام کرتا رہتا، مگر رات کے پچھلے پہر اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر ایسے ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا کہ سارا محلہ سر پر اٹھا لیتا۔

اُن دنوں کراچی اور لیاری ایسا نہ تھا جیسا اب ہو گیاہے۔ کراچی گھومنے آنے والے انگریز سیاح بے خوف و خطر اصلی اور خالص چرس پینے لیاری کا چکر لگاتے رہتے۔ خدا بخشے ہمارے تایا نے چرسیالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی، تو جو انگریز لیاری میں داخل ہوتا بچے اُسے سیدھا ماما بجلی کے بنچ پر لا بٹھاتے۔ ہھر تایا کو نا چاہتے ہوئے بھی وہاں جا کر اُن کی مہمان نوازی کو سگریٹ بھرنے پڑتے۔

بچپن میں مجھے یہ گمان تھا کہ تایا کے ہاتھ میں اللہ پاک نے ایسا لاجواب ذائقہ رکھا ہے کہ لوگ اُن کے دستِ مبارک کے بھرے سگریٹ پینے کو دور دور سے کھنچے چلے آتے ہیں مگر اب احساس ہوتا کہ وہ سب کمال اُن کی واسکٹ میں موجود لفافے میں رکھے ”اصلی بارود“ کا ہوتا تھا جو وہ صرف تعارفی قیمت پر سیل کر کے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کررہے تھے۔

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک روز تایا کے یورپین دوست سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہے تھے، شاید اُنھیں بہت دنوں بعد خالص چرس ملی تھی یا آگے سفر میں ملنے کی امید نہ تھی، تو دوپہر سے شام تک بیچ پر بیٹھے دھواں اڑاتے رہے۔

اچانک راکٹ کو عوام کا ایسا درد جاگا کہ ڈھینچوں ڈھینچوں کر کے سارا محلہ سر پر اٹھا لیا۔ گدھا سلیبریٹی ہو یا عام باربرداری والا، جب بھی منہ کھولتا ہے اپنی، ہماری اور ملک کی بے عزتی کا باعث ہی بنتا ہے تو اُس روز بھی اپنی بے وقت کی راگنی، بے سری ڈھینچوں ڈھینچوں سے یورپین مہمانوں کا سرور ایسا غارت کیا کہ وہ بیزارہو کر نا چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف کے نمائندوں کی طرح اٹھ کرچلتے بنے۔

تایا کو ماما بجلی سے پہلے ہی خدا واسطے کا بیر تھا اور اِس واقعہ کے بعد تو اُنھوں نے مجھے بلوا کر راکٹ کا پکا بندوبست کرنے کے احکامات صادر فرما دیے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •