اِس موج کے ماتم میں، روتی ہے بھنور کی آنکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقدار کی پاسداری اقوام کا فرض ہُوا کرتی ہے اور اقوام، افراد سے بنتی ہیں۔ فرد کی تربیت میں جہاں حسب و نسب کے ساتھ ساتھ اُس کی سنگت و صحبت کار فرما رہتی ہے، وہیں جس دور میں وہ جی رہا ہوتا ہے، اُس دورکے حالات و واقعات بھی اُس کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ جینیاتی ماہرین تو یہ تک بھی کہتے ہیں کہ کسی بھی فرد کی عادات و اتوار میں کوئی قوی عادت یا جبلّت اُس کے ددھیال یا ننھیال کی بیسویں پُشت تک سے بھی اُس پر بدرجہء اُتم اثر انداز ہو سکتی ہے، تو کبھی اُس کے فوری والدین کی بھی کوئی عادت اُس میں نہ ہو، یہ بھی عین ممکن ہے۔

اقوام کی شناخت میں اُس کے افراد کے مجموعی رّویوں کے ساتھ ساتھ اُن کا انفرادی چلن بھی بہت اہمیت کا حامل ہوا کرتا ہے۔ بہت سارے صاحبانِ کردار، صاحبانِ افکار اور صاحبانِ عمل مل کر یقیناً ایک صحتمند معاشرے ہی کی تعمیر کرتے ہیں اور اس کے برعکس یہ تو ہم سب برسوں سے سُنتے ہی آ رہے ہیں کہ ”ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندا کر دیتی ہے۔ “

ان تمام اور ان جیسے بے شمار طے شدہ اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، اگر ہم اپنے موجودہ معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا۔ صاحبانِ فکر کے لئے تو یہ یقیناً اُن کی نیندیں حرام ہوجانے کا عالم ہے، کیونکہ ذی شعور افراد کی ترجیحات اُن کی ذات سے ہٹ کر بحیثیتِ مجموعی ہوا کرتی ہیں۔ یہ معاشرہ چند ہی لوگوں کی فکری مشقّت سے سنور پاتا ہے اور ویسے بھی اِس دُنیا کوقابلِ دید بنانے کے لئے ”پاگل لوگوں“ کی فکر، عمل اور محنتیں ہی کار فرما رہی ہیں، اور پاگل لوگ ہر دور میں اقلیت ہی میں ہوا کرتے ہیں۔

ہر دور میں بہتات ”عمومی سوچ رکھنے والے لوگوں“ کی ہی رہی ہے، جن کا کام فقط بھیڑ چال کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے، ویسا ہی کرنا ہُوا کرتا ہے، جیسی لکیر اُن کو نظر آئے اور اُس پر قدم رکھ کے چلنے کی آسانی اُنہیں فراہم ہو رہی ہوتی ہے۔ ہم میں سے بیشتر لوگوں پر ”صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے۔ عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے“ والا شعر سو فیصد صادق آتا ہے۔

ایسے ”پاگل لوگ“ (معاشرے کے بارے میں فکر کرنے والے لوگ) اس معاشرے کے نبض شناس طبیب ہوا کرتے ہیں، جو اپنے دور کی بیماریوں کی تشخیص کر کے اُس کا علاج نہ صرف تجویز کرتے ہیں، بلکہ وہ دوا معاشرے کو دیتے بھی ہیں اور معاشرے ان کے علاج سے اپنی روشوں کو بہت حد تک تبدیل بھی کرتے ہیں۔ جب کبھی سیلاب، طوفان، زلزلے جیسی قدرتی آفات یا پھر بم دھماکوں، جنگوں اور قبائلی تکراروں جیسے انسان ساز انسانیت سوز واقعات رونما ہوتے ہیں، تو ہمارے یہاں ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ کی جاتی ہے، اور ڈاکٹروں کی چُھٹیاں منسوخ کی جاتی ہیں، اُسی طرح اگر معاشرہ کسی موذی مرض میں مبتلا ہو جائے، یا اُس کی بیماری پھیل کر خطرے کی لکیر تک پہنچ جائے، اور اُس کا فوری طور پر علاج کرنا ضروری ہو جائے، تو فکر مند اور انقلابوں کے نقیب اپنی چھٹیاں خود بخود منسوخ سمجھتے ہیں، اور وہ اس معاشرے کی بیماری کے مستقل علاج کی غرض سے اپنے ذاتی آرام و آسائش، سہولت و آسانی کو نظر انداز کر کے معاشرے کی صحت کو یقینی بنانے کے کام میں جٹ جاتے ہیں۔

تاریخ کی ورق گردانی سے کئی ایسے انقلابو ں کا پتہ چلتا ہے، جن کی بدولت چند افراد کی کوششوں سے معاشرے یکسر بدل گئے اور جنوب میں جانے والے تیر، رُخ بدل کر شمال کو اور مغرب کی جانب بڑھنے والے روّیے مشرق کی سمت سفر کرنے لگے۔ ایسے واقعات اور انقلابوں کے بارے میں پڑھ کر یہ ایمان تو پختہ بہرحال ہوتا ہی ہے کہ نا ممکن کوئی چیز نہیں ہوتی، اس لئے مایوسی کفر ہے کی حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور تاریخ کے فیصلوں کو ذہن میں اُجاگر کرتے ہوئے یہ خیال اس امر سے روکتا ہے کہ معاشرے کے منفی سمت میں بدلتے ہوئے اتوار کو روکنے کے حوالے سے کوشش نہ کی جائے۔

تاریخ کے ساتھ ساتھ چند اور اہم موضوعات کا مطالعہ ہر فرد کے لئے کرنا اس لئے اہم ہوتاہے، تاکہ ہمیں یہ علم ہو سکے کہ دُنیا کا کون کون سا خطّہ اور اُس میں بسنے والی کون کون سی قومیں وقت کی کس کس کروٹ میں کن کن مراحل سے گزر چکی ہیں۔ کئی اقوام زمانے کی بہت بڑی قلابازیوں میں بھی اپنا تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں، تو بہت ساری قومیں چھوٹی چھوٹی اور معمولی تبدیلیوں سے بھی متاثر ہوئی ہیں۔ کئی قومیں تو معمولی تغیّر سے اپنا وجود ہی کھو بیٹھی ہیں۔

تاریخ کو جتنا زیادہ جانا جائے گا، اُتنی ہی اپنے لئے راہ ہموار کرنے کے حوالے سے رہنمائی کا حصول ہوتا رہے گا۔ یہ ایک مُسمّم حقیقت ہے کہ مسلسل غلام رہنے والی اقوام کی سوچ کا انداز صدیوں اور نسلوں تک غلامانہ ہی رہتا ہے، اور جب ہم لفظ ”غلامانہ“ استعمال کرتے ہیں، تو اُس سے مراد فقط اُس کا جُھکا رہنا، مشکل پسند ہونا، ظلم سہتے رہنا اور اُس پر کچھ نہ کہنا اور اپنے حقوق سے بے خبر رہنا ہی شامل نہیں ہوتا، بلکہ اس قسم کے مجموعی روّیوں کے پسمنظر میں ہم جیسے لوگوں میں اور بھی ان گنت نقُوص اور خامیاں نہ صرف پائی جاتی ہیں، بلکہ صدیوں تک نسلوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں، جن میں ڈر، جھوٹ، غلط بیانی، دھوکا دہی اور عدم دُور اندیشی جیسے سینکڑوں نقائص اور عُیوب شامل ہیں، جن پر تکنیکی حوالے سے عمرانیات اور انسانی روّیوں سے متعلق دیگر علوم کے ماہرین عمدہ انداز میں روشنی ڈال سکتے ہیں۔

ایسی خامیوں کا ہم جیسی اقوام میں موجود ہونا اس لئے فطری ہے کہ غلام اقوام اپنے آقا کے سامنے جھوٹ بولنے، اپنے عُیوب کو چھپانے، اسی وجہ سے غلط بیانی کرنے اور دھوکہ دہی جیسے عوامل میں نہ چاہتے ہوئے بھی ملوث ہو جاتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ایسی معاشرتی بیماریوں کا علاج ممکن نہیں ہے، مگر اُس کے لئے معاشرے کے معالجین کا مناسب تعداد میں ہونا اور اُن کا معاشرے کے افراد کے ساتھ مخلص ہونا بے حد ضروری ہے۔ ایسے معاشروں کو دُنیا کی ترقی کے لئے ضروری سمجھے جانے والے عناصر تک بلا دریغ رسائی سے روکنا بھی اُس علاج کا حصہ ہوا کرتا ہے، جس کے استعمال کے حوالے سے وہ اُس کے فائدے اور نقصان سے واقف نہ ہوں۔

اس کی سادہ سی مثال یوں سمجھی جا سکتی ہے کہ ہم اپنے کسی بھی کم عمر بچے کو کھیلنے کے لئے کوئی ایسا کھلونا بُھول کر بھی نہیں دیتے، جس سے اُسے نقصان کا خدشہ ہو، چاہے وہ کوئی نوکدار کھلونا ہو یا پھر پٹاخے والی پستول۔ ایسے کھلونوں کے لئے بچّے کی اُس عمر تک رسائی کا انتظار کیا جاتا ہے، جب وہ اُس کے نقصان سے آگاہ ہو جائے اور اُس سے کھیلنے یا استعمال کرنے کا ڈھنگ سیکھ جائے۔

ہمارے معاشرے میں کئی ایک ایسے ٹیکنالوجیکل انقلاب کے عناصر نے پہلے سے بھٹکی ہوئی قوم کو راستے سے یکسر ہٹا دیا ہے، گویا ہم نے دو سال کے بچّے کو پٹاخے والی پستول تھما دی ہے۔ نونہال اورنؤجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوا کرتا ہے۔ دُنیا کے تمام عظیم رہنماؤں اور دانشوروں نے اپنے فرمودات اور خطابات براہِ راست نؤجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمائے ہیں اور نوجوانوں ہی میں سب سے زیادہ اُمیدیں وابستہ کی ہیں۔ ایسے میں جب میں اپنے قوم کے نؤجوان کو اپنے پاؤں پر خود کلہاڑا مارتے ہوئے، اپنی راہ سے بھٹکتے ہوئے، اپنا نقصان مسلسل کیے جاتے ہوئے، اور پھر اُس نقصان کے عدم احساس کے ساتھ شب و روز گزارتے ہوئے دیکھا جائے، تو ”مایوسی کفر ہے“ جیسی حقیقت سے آشنا ہونے کے باوجود، حقیقتاً کوئی روشنی دکھائی نہیں دیتی۔

اگر ہم جشنِ آزادی اور نئے سال جیسے دنوں پر حکمرانوں کی جانب سے قوم کو دیے ہوئے ”اسٹیریو ٹائپ“ پیغامات سُن کر اپنی قوم کے روشن مستقبل سے اُمیدیں وابستہ کرنے لگیں کہ ”ہم وطن کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے عظیم سے عظیم تر بنائیں گے اور اقوامِ عالم سے کندھے سے کندھا ملا کر مقابلہ کریں گے اور اب ہم ایک نئے اور روشن پاکستان کی تعمیر کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ“ تو پھر ہماری مثال اُس بلّی یا اُس کبُوتر کی مانند ہوگی، جو آنکھیں بند کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ طوفان نہیں آئے گا۔

حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھیں تو فکری خوردبین سے ہمیں یہ قوم، کئی معاشرتی محلق وباؤں میں مبتلا نظر آتی ہے، جن کا علاج جن کے بس میں ہے، وہ اپنی اختیاری حرص و ہوس میں مگن ہیں، اور جو اس معاشرے کے ”حقیقی طبیب“ ہیں، اُن کو مریض تک پہنچنے ہی نہیں دیا جا رہا۔ مریض کو اپنے مرض کی شدّت اور خطرے کا اندازہ تک نہیں، اور وہ اُن عناصر اور عوامل کے مستقل استعمال میں مگن ہے، جو اُسے فکری پستی کی طرف لے جا رہے ہیں۔

دُنیا کے کئی ممالک کے درمیان ثقافتی جنگیں زور و شور سے جاری ہیں، مگر ہمیں چونکہ بَموں اور مارٹر گولوں کی آوازیں سُنائی نہیں دے رہیں، لہٰذا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ”سب خیر ہے! “ جبکہ خیر ہرگز نہیں ہے۔ دُنیا میں اب کوئی تیسری یا چوتھی عالمی جنگ نہیں لگنے والی! جن جن کے پاس ایٹمی اثاثے ہیں، وہ انہوں نے صرف اپنے دُشمن ملک کو ڈرانے دھمکانے کے لئے رکھ رکھے ہیں۔ اب کوئی امریکا کسی ”ہیروشیما“ یا ”ناگاساکی“ پر ایٹم بم نہیں گرائے گا، کیونکہ جب ثقافتی جنگ سے ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور دشمن کی نسلوں کی نسلیں فکری طور پر برباد کی جا سکتی ہیں، بلکہ کی جا رہی ہیں، تو کسی کو عسکری جنگ کی زحمت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے، ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور ہمارے بارُود خانے میں ”اخلاقیات“، ”اقدار“ اور دیگر مثبت روّیوں کا جو بارُود ہے (جس سے معاشروں کی فلاح ہوتی ہے ) ختم ہوتا جا رہا ہے، اور وہ دن دُور نہیں کہ ہمارے ہاتھ ان تمام خزانوں سے خالی ہوں گے، اور ہم آنے والی نسلوں کو کچھ نہیں دے پائیں گے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •